1,240 total views, 1 views today

میں صبح سویرے ہی ان کے گھر جاکر ان کا آتش دان جلایا کرتا تھا۔ ایک روز اسی طرح میں ان کے گھر گیا۔ اس روز بڑی سردی تھی۔ میں نادانستگی میں فجر کی نماز سے دو گھنٹے قبل وہاں جا پہنچا۔ وہ جائے نماز پر بیٹھے عبادت میں مصروف تھے۔ موم بتی کی روشنی میں ٹھنڈی یخ صبح کے وقت بڑی پُر درد آواز میں دعا کررہے تھے۔ میں جوش میں پورا ڈیڑھ گھنٹا پاؤں پر کھڑا انتظار کرتا رہا۔ اس صورتحال کا کانپتے ہوئے، لرزتے ہوئے نظارہ کرتا رہا۔ بالآخر دور سے اذانوں کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ یہ اُس زمانے کی ترکی زبان میں دی جانے والی اذانیں تھیں۔ انہوں نے پیچھے مڑ کر مجھ سے کہا: ’’امین، تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا ایک وقت ایسا ہوتا ہے جب اگر فرشتے بھی آجائیں، تو میں انہیں بھی کسی بھی حالت میں قبول نہیں کرتا۔ تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا۔ اتنی جلدی مت آنا۔ تم اذان سے پہلے مت آیا کرو۔‘‘ میں نے کہا: ’’جناب، مجھے معاف کردیجیے۔ غلطی ہوگئی ہے۔ چاند کی روشنی کے باعث میں وقت کا صحیح اندازہ نہ لگاسکا۔ جلدی آگیا۔ پھر کبھی اذان سے پہلے نہیں آؤں گا۔‘‘
یہ ترکی میں انقلاب برپا کرنے والی شخصیت بدیع الزمان سعید نورسی کی داستانِ حیات سے ایک اقتباس ہے اور مذکورہ واقعہ ان کے ایک شاگرد کا ہے۔ بدیع الزمان نورسی مشرقی اناطولیہ کے ایک گاؤں ’’نورس‘‘ میں پیدا ہوئے۔ بدیع الزمان نورسی، ترکی کے انقلاب کا وہ زندہ وہ تابندہ کردار ہے جسے کسے بھی صورت بھلایا نہیں جاسکتا۔ آج بھی ترک لیڈر رجب طیب اردگان اسے احترام سے یاد کرتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل ترکی میں فوج کی طرف سے حکومت کا تختہ الٹانے کا جو معاملہ پیش آیا، اس کے خلاف ترک عوام نے بڑی دلیری دکھائی۔ یہ شاید بدیع الزمان نورسی کی اس انقلابی شخصیت کی پرچھائیاں تھیں جن کی وجہ سے ترک عوام میں اتنی ہمت پیدا ہوئی۔ یوں قوم ایک عظیم سانحے سے بچ گئی۔ بدیع الزمان کی علمی تصانیف نے ہی ترکی میں انقلاب کی بیج ڈال دی تھی۔ البتہ مخالفین کے بے تحاشا الزامات نے بدیع الزمان کی حقیقی تصویر زمانے سے چھپائی ہے۔
بدیع الزمان نورسی ایک اعلیٰ ظرف اور مہربان شخصیت کے حامل انسان تھے۔ ان پر الزامات لگائے گئے۔ انہیں دربدر کیا گیا۔ حکومتوں نے ان کے خلاف کارروائیاں کیں، لیکن وہ کہتے ہیں: ’’جو لوگ میرے لیے قیدخانوں میں جگہ تیار کرتے ہیں، جو مجھے ایک عدالت سے دوسری عدالت تک گھسیٹتے پھرتے ہیں، جو مجھے زہر پلاتے ہیں۔ مَیں ان سب کو درگزر کرتا ہوں۔ میرے دوستوں کو چاہیے کہ ان سے میرا انتقام نہ لیں!‘‘
1908ء میں خلافتِ اسلامیہ کے زوال اور سلطان عبدالحمید کی معزولی کے بعد ایک تنظیم ’’جمیعۃ الاتحاد والترقی‘‘ سامنے آئی۔ اس تنظیم کے نظریات لادینیت پر مبنی تھے۔ بدیع الزمان نے اس تنظیم کی پُرزور مخالفت کی اور اس کے مقابلے کے لیے ایک تنظیم ’’الاتحاد المحمدی‘‘ قائم کی۔ بدیع الزمان کو 1909ء میں سیکولر تنظیم کی مخالفت اور اپنی تنظیم کی ترقی کی وجہ سے گرفتار کرلیا گیا۔ آپ کے ساتھیوں کو پھانسی دی گئی۔ آپ کا مقدمہ بھی اس عدالت میں پیش کیا گیا جس میں آپ کے ساتھیوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی، تاکہ آپ ڈر جائیں اور اپنے مشن سے باز آجائیں، لیکن آپ نے بھری عدالت میں بڑی جرأت مندی سے کہا: ’’اگر مجھے ہزار بار بھی زندگی ملے اور مجھے اسلامی حقائق میں سے کسی ایک حقیقت کے تحفظ کی خاطر جاں قربان کرنا پڑے، تو مجھے کوئی تردد نہیں ہوگا۔ مَیں ملت اسلامیہ کے سوا کسی اور چیز کو تسلیم نہیں کرتا۔ مَیں کہتا ہوں کہ مَیں تو برزخ (جیل) کے سامنے کھڑا اس گاڑی کا انتظار کررہا ہوں جو مجھے آخر تک لے جائے گی۔ مَیں نہایت شوق سے آخرت کے سفر کے لیے تیار ہوں اور مَیں بھی پھانسی پانے والوں کے ساتھ کا خواہشمند ہوں۔ تم لوگوں نے میرے لیے جلاوطنی کی سزا تجویز کی جو کوئی خاص سزا نہیں۔ اگر تمہارے اندر طاقت ہے، تو اس سے بڑی سزا دو۔‘‘
آپ کی حق گوئی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ مصطفی کمال اتاترک بھی آپ کے دینی نظریات وافکار کا مخالف تھا۔
بدیع الزمان سعید نورسی نے ایک ایسے دور میں انقلابی تحریک شروع کی کہ جب ایک طرف سلطنتِ عثمانیہ کا زوال ہوا اور دوسری طرف سیکولر جماعتوں نے اسلام کے خلاف محاذ گرم کیا تھا۔ بدیع الزمان تعلیمی میدان میں اچھی استعداد کے حامل تھے۔ انہوں نے کم عرصے میں اپنے ہم عصر لوگوں پر فوقیت حاصل کی۔ ان کا حافظہ بھی انتہائی تیز اور قوی تھا۔
آپ نے تصوف کی راہ سے اپنے چاہنے والوں میں اضافہ کیا۔ تصوف میں ان کے افکار آج بھی ترکی میں تازہ ہیں۔ ان کے تصوف کے ثمرات یہ ہیں کہ تصوف کی وساطت سے حقائقِ ایمانیہ سے واقفیت حاصل ہوجاتی ہے اور انسان کو اپنے وجود کی حقیقت کا علم ہوجاتا ہے کہ اس کو کس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے؟ جس کی وجہ سے انسان کا قلب اللہ تعالیٰ کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ اور انسان اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے اخلاقِ رذیلہ سے چھٹکارا بھی پا لیتا ہے۔ وہ ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کو اپنی یاد میں رکھتا ہے جس کی وجہ سے وہ ایک کامل انسان بن جاتا ہے۔

……………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے