584 total views, 1 views today

ایک صحافی کو سچ کہنے اور لکھنے کی آزادی بھی چاہیے اور یہ بھی کہ اس کو بے جا کام سے نا نکالا جائے۔ بدقسمتی سے ان دونوں باتوں کو شروع ہی سے ایک دوسرے کی ضد بنا کر رکھا گیا کہ پریس پر اپنا غلبہ قائم رکھا جا سکے۔ یہ ایک پُرانا مگر ہر بار استعمال ہونے والا حربہ ہے جس کو طاقت کے ایوانوں سے سچوں کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اخذ یہ ہوا کہ صحافت آج بھی طاقتور کا سب سے آسان حدف ہے۔ بس استحصال کے طریقے وقت کے ساتھ بدل گئے ہیں۔
نائن الیون کے بعد سے صحافیوں پر حملوں کا سلسلہ ایک نئی شکل میں دریافت ہوا۔ صحافی اور میڈیائی ادارے ’’دہشت گردوں‘‘ کا خاص ہدف بن گئے۔ اس میں یہ بات بھی شامل کرلیں کہ پاکستان میں آزاد میڈیا کی شکل میں ایک پرائیویٹ گروپ نے اسی دور میں آنکھ کھولی اور لوگوں کی توجہ کا خاص مرکز بن گیا۔ سو اس طرح عام لوگوں کے ساتھ میڈیا والے بھی ’’دہشت گردی‘‘ کا نشانہ بننے لگے۔ یہ ریاست پر ایسا کڑا وقت تھا کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ نہیں دے پارہی تھی، تو میڈیا کو کہاں سے سیکورٹی دیتی۔ دوسری اہم بات یہ کہ ریاست میڈیا کو اس طرح سے کھلی چھوٹ دینا بھی نہیں چاہتی تھی۔ تبھی ’’پیمرا‘‘ کو ہاتھ میں کرنے والے قوانین مرتب کیے گئے جس سے ایک خاص حد کے بعد صحافیوں کے پر آپ ہی جلنا شروع ہوجاتے۔ ایسے وقت میں ایسی کوئی رائے رکھنا جو ریاست کی کسی بھی مفاد سے تصادم رکھتی ہو، بالکل ناممکن بات ہوگئی۔ اس دور اور بعد کے دور کے صحافیوں جن میں نوجوان صحافی ولی خان بابر اور سلیم شہزاد جیسے زیرک صحافی شامل ہیں، ان کی قربانیوں کو بھلایا نہیں جاسکتا۔
اس طرح بلوچستان تنازعہ نے بھی ہم سے اب تک ڈھیر سارے لوگ چھین لیے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف بلوچستان میں سنہ 2009ء سے 12عیسوی کے دوران میں کل 23 صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ 2001ء سے اب تک 33 سے زائد صحافی موت کی وادی میں اتر چکے ہیں۔ اخبارِ جہاں میں لکھنے والے ولی چشتی کو 2008ء میں بی ایل اے کی طرف سے ایک حملے میں اس بنیاد پر ماردیا گیا کہ انہوں نے بالاچ مری کی موت کے حوالے سے کچھ حقائق پر خامہ فرسائی کی تھی۔ سوات کے موسیٰ خان خیل کی ہی مثال لے لیں، سوات کے علاقے مٹہ میں صوفی محمد کے امن مارچ کے تنازعہ میں انہیں مار دیا گیا۔ ایوب خٹک کو کراچی میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ان سب نے سچ بولنے کی قیمت اپنی جانیں گنوا کر ادا کی اور قوم کو وہ بتایا جس کے جاننے کی ضرورت بھی تھی۔ یہاں یہ بات کھل کر بیان کرنی چاہیے کہ آج کے صحافی کو سرکاری افسران اور سیکورٹی ایجنسیوں سے ہی نہیں بلکہ اور بھی بیشتر عوامل سے دھمکیوں اور بسا اوقات تشدد کا سامنا رہتا ہے، جن میں سیاسی و مذہبی عوامل، فیوڈل لیڈرز، دہشت گرد عناصر اور مافیاز شامل ہیں۔
قارئین، یہاں ہم یہ بات بھی نظر انداز نہیں کرسکتے کہ میڈیائی اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کا سب سے زیادہ استحصال انہی کے اپنے ادارے کا مالک کرتا ہے۔ میڈیا مالک مطلب کہ ’’سیٹھ‘‘ دراصل ان پسے ہوئے طبقے کا استحصال کرتا ہے، جس کو نکالنے کے لیے سیٹھ کو نہ کسی نوٹس کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ تنخواہوں کی ادائیگی کا وہ خود کو ذمہ دار سمجھتا ہے۔
پچھلے دنوں پی ایف یو جے نے حقِ آزادیِ رائے کے فقدان کو محسوس کرتے ہوئے احتجاج کا فیصلہ کیا، تو اس میں میڈیا ورکرز کے معاملے کو بھی اٹھایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ یہی آواز اس وقت کیوں نہیں اٹھائی گئی جب درجنوں افراد کو سیٹھ نکال رہا تھا اور تنظیمیں خاموش تماشائی بنی بیٹھی تھیں۔ آج حکومت کے اور میڈیا مالکان کے معاملات طے ہونے کا وقت ہے، تو یہی تنظیمیں جاگ اٹھی ہیں اور اب رائے کی آزادی کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے، جو کہ واقعی ہے، مگر منافقت کیسی؟ کیا صرف یہ پیسا ہی ہے جس کی خوشبو سے تنظیمیں اپنی سمت کا تعین کرتی رہیں گی؟ ہاں، تو یہ کن لوگوں کے ہاتھ میں ہے حقوق کی جنگ لڑنے والی تنظیموں کے ہاتھ میں؟ عام ورکر کو اب تو جاگ جانا چاہیے اور ان مخوٹوں کو ہٹا کر ان قبضہ گروپوں کا اصل چہرہ سامنے لانا چاہیے۔
یہاں ایک اہم مسئلے کی نشان دہی بھی ہوتی ہے، جس پر توجہ بزرگ صحافی ضیاء الدین صاحب نے دو روز قبل ایک سیمینار سے خطاب کے دوران میں دلائی۔ موصوف طلبہ و طالبات سے مخاطب تھے اور اپنی دہائیوں سے اکٹھے کیے تجربے سے لیے گئے سبق کو ہم سے شیئر کر رہے تھے۔ اسی دوران میں جس چیز کی جانب دھیان گیا، وہ ان طلبہ کے بھیانک مستقبل کے حوالے سے ہے۔ وہ طلبہ جو کہ مختلف جامعات میں ماس کمیونی کیشن میں بڑی تعداد میں داخل ہیں، ہم ان کو سب بتاتے ہیں مگر یہ کیوں نہیں بتاتے کہ انڈسٹری کے حالات کیا جا رہے ہیں؟ آئے روز چینلز سے بے وجہ صحافیوں کو ذلیل کرکے نکالا جا تا ہے۔ تنخواہیں رُلا رُلا کر دی جاتی ہیں۔ میڈیا پر سیاسی معیشت کا راج ہے اور ادارے پر مالک کی اجارہ داری۔
یقین مانئے معاشی بم کسی صحافی کے لیے اتنا ہی سخت ہے جتنا کہ کسی کے سر میں گولی مارنا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صحافت کے ساتھ یہ المیہ آزادی کے ساتھ سے ہی چلتا آرہا ہے، تو کیا یہ کچھ ان طلبہ کو ڈرانے کے لیے کافی نہیں کہ ان کے ساتھ آنے والے کل میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ تعلیمی اداروں اور طلبہ کی ترجیحات اور انڈسٹری کی ضروریات کا فرق ہمارے ہاں ہمیشہ سے ہی رہا ہے اور بدقسمتی یہ کہ ایک سائنسی نوعیت کے اس قدر سنگین مسئلے پر آج تک کسی کا دھیان ہی نہیں گیا۔ بے روزگاری میں اضافے کی ایک خاص وجہ بالکل کلیئر ہے، مگر ہماری ترجیح میں نہیں۔ میڈیا کے اصل کلچر کا ہمیں تب پتا چلتا ہے جب ہم کئی سال اداروں کی دھتکار اور عجیب عجیب ضرورتوں کو پورا کرنے میں صرف کرنے میں آدھے ہوچکے ہوتے ہیں۔ ہمارے نیوز رومز میں گھسنے کی پہلی اور آخری شرط یہ ہوتی ہے کہ اپنی سوچنے سمجھنے اور تخلیق کرنے کی سب صلاحیتوں کو گھر رکھ کر آئیں۔ کیوں کہ اس کی ادارہ میں کوئی ضرورت نہیں۔
قارئین، تب صورتحال زیادہ خرابی کا شکار نظر آتی ہے جب کسی بھی چینل کی وابستگی صاف ظاہر ہو۔ میڈیا کے اندر سیاسی معیشت کے عمل دخل کے انتہائی مضر اثرات دیکھے گئے ہیں۔ یہ بات پوری دنیا کے میڈیا پر اسی طرح صادق اترتی ہے جیسے کہ امریکہ کے میڈیا پر، مگر ہم بات ابھی صرف پاکستان کی کر رہے ہیں۔ یہاں جب کسی صحافی کو یہ پتا چلتا ہے کہ اس کی کارکردگی سے کچھ سیاسی دوست خوش نہیں، تو اس کے لیے یہ سمجھنا کافی ہوتا ہے کہ اب اس کو اپنی نوکری بچانے کے لیے کیا کرنا ہوگا اور مالک اس سے کیا ڈیمانڈ کرے گا؟
صحافی معاشرے کی بہتری کے لیے ہی کام کرتے ہیں۔ معاشرے کے گند پر توجہ دلانا ملک سے دشمنی نہیں، بلکہ یہی دراصل ملک کی خدمت ہوتی ہے۔ آپ شائد یہ جان کر حیران ہوں کہ دوردراز علاقوں کے غریب صحافی تو بغیر اُجرت کے یہ فریضہ انجام دے رہے ہوتے ہیں، تو کیا یہ سماج ان کو معاشرتی طور پر اپنائیت کا احساس بھی نہیں دے سکتا؟ ایک ہی لمحے میں کوئی شخص غدار کیسے بن جاتا ہے؟ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ حالاں کہ اس کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ کب اس کی تنخواہ آنی ہے اور کب اس کو بغیر کسی نوٹس کے نکال دیا جانا ہے؟ آج تک کی تنظیمی جدوجہد سے یہ معاملہ حل کیوں نہیں ہوسکا؟ مطلب تنظیمیں کسی کام کی نہیں یا وہ صرف مالکان کے دھندے کو چلانے والے گروپ ہیں؟
قارئین، میں اس معاشرے کا ایک ’’لوور مڈل کلاس‘‘ صحافی ہوں اور اپنے طبقے کے ان سب صحافیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ براہِ کرم اس سمت بھی سوچئے۔ اپنی آواز خود بنئے۔ ان اپنے اپنے سیٹھ کے وفاداروں نے سیاست آپ کے سر پر اور وفاداریاں کسی اور کے ساتھ نبھانی ہیں۔ ابھی تو میں نیب سے یہ کہہ بھی نہیں رہا کہ ان سب سرکردہ تنظیموں کے نام نہاد لیڈرز کے اثاثوں کی بھی چھان بین کی جائے۔
گزارش صرف یہ ہے کہ عام صحافی ورکر کو جینے دیا جائے۔ ایک جانب عوام جینے نہیں دیتے، تو دوسری طرف سیٹھ صاحب۔اور باقی کی کسر ابتر معاشی حالات نکال دیتے ہیں۔ صحافی پھر بھی بچ جائے، تو ’’غداری‘‘ یا ’’گستاخ‘‘ جیسے الزامات تو کہیں گئے ہی نہیں۔
قارئین، اس موقع پر جون مرشد کی وہ بات یاد آرہی ہے کہ اس خطے میں اکیسویں صدی کو گھسیٹ کر لایا گیا ہے۔ اس بات کے تناظر میں ہم واقعی یورپ کے ان شروع کے سالوں میں ہی بھٹک رہے ہیں، جہاں سوال کرنے والا سزائے موت کا حق دار ہوتا تھا۔
ہم آئین پر سوال بھی اٹھا لیں، تو محترم اوریا مقبول جان صاحب فرماتے ہیں کہ سوال اٹھانے والوں اور آئین رد کرنے والوں میں کوئی فرق نہیں۔ جناب، اس باریک سی لکیر کو تو کوئی بچہ بھی بتاسکتا ہے کہ اختلاف کرنے اور رد کرنے میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے؟ ہم آئین کی شق اُنیس پر سوال اٹھاتے ہیں کہ وہ ایک ہاتھ سے آزادی دے کر دوسرے ہاتھ سے چھین لیتی ہے، تو اس میں عجب کیا ہے؟
ہاں، ہے ایسی بہت سی شقوں میں ترمیم کی ضرورت! سرل المائیڈا پر غداری کا کیس ہونا جیسے معاملات، بات بات پر گستاخِ رسولؐ بنانے والی روایت، مجھے ڈر ہے کہ ہمیں کہیں وہیں نہ لاکھڑا کر دیں کہ جہاں سے ہم نے سفر کا آغاز کیا تھا۔ ویسے ہم اس نکتے سے زیادہ دوربھی تو نہیں کھڑے!

…………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے