587 total views, 1 views today

قارئین کرام! صحافت محض معاشرے پرطنز کے نشتر برسانے، نظام کی خرابیاں بیان کرنے اور اپنے ہی لوگوں کی خامیوں کے پیچھے پڑنے کا نام نہیں۔ یہ صرف ایک لفظ نہیں بلکہ اس کے اندر ایک الگ دنیا بستی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے بعض نام نہاد صحافیوں نے قومی تہذیب اور فنونِ لطیفہ کو بر باد کرکے رکھ دیا ہے۔ ان کے قلم سے اگلنے والے شعلوں سے اگر ایک طرف سچائی بیان ہوتی ہے، تو دوسری طرف ملکی وقار کو نقصان بھی پہنچتا ہے۔ ہم تصویر کے ایک رُخ کو دیکھنے کے عادی ہیں۔ حالاں کہ اگر دوسری طرف دیکھا جائے، تو ہمارے ملک میں اُردو اخبارات اور رسائل و جرائد نے ہر حوالے سے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ان میں اخبارات کا کردار شاندار رہا۔ ان خبارات میں کالم نویسوں کا کردار اہم رہا ہے۔ ایک کالم نگار کے لیے بقول شاعر
قدم صحرا میں رکھتا ہوں چلن پانی میں رکھتا ہوں
میں اپنی سوچ کا ساحل بھی طغیانی میں رکھتا ہوں
ایامِ گذشتہ کی یاد میں ایک نقش نے دل اور قلم کو اس اہم فریضہ کی طرف راغب کیا۔ ہم اپنے تمام سرکاری محکمہ جات سے ہر طرح سے پریشان رہتے ہیں۔ ایک ادارہ بھی ایسا نہیں جہاں سے ہم ہر طرح سے مطمئن ہوں۔ ایک ادارہ پولیس ہے۔ میں خیبر پختون خوا، باالخصوص سوات ٹریفک پولیس کے جوانوں کی چابک دستی، ان کے لگن اور محنت سے ٹریفک کو کنٹرول کرنے اور عام شہریوں سے محبت کا اعتراف کرتا ہوں۔ میں ٹریفک پولیس کی حالتِ زار تقریباً دو سالوں سے دیکھتا چلا آ رہا ہوں۔ آپ با آسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان دو سال میں گرمی، سردی، خزاں اور بہار کے موسم آئے اور گزر گئے ہوں گے۔ گرمی کی حبس زدہ دھوپ میں ٹریفک پولیس کے جانبازوں کے ایک ہاتھ میں بجانے کے لیے سیٹی اور دوسرے میں کپڑا، جس سے وہ برابر پسینہ پونچھتے رہتے ہیں، ہمیشہ دیکھنے کو ملا ہے۔ جب کہ عوام کو ائیر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں دیکھتا ہوں۔ حتیٰ کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں، جس میں عام طور پر اداروں میں اتنی چہل پہل نہیں ہو تی جتنی غیر رمضان میں ہوتی ہے، بھی انہی جانبازوں کو دن رات ڈیوٹی پر مامور دیکھا ہے۔ یہی نہیں، ہمارے یہ مستعد نوجوان افطاری کے فوراً بعد سڑکوں اور مختلف چوکوں پر نموادر ہوتے ہیں۔ عیدین پہ آپ انہیں ڈیوٹی پر مامور پائیں گے۔ ہم عید مناتے ہیں، نئے کپڑے پہنتے ہیں، رشتہ داروں سے ملتے ہیں، سیر کرنے مختلف صحت افزا مقامات جاتے ہیں اور یہ بے چارے ان مزوں سے بے خبررات گئے دیر تک فرائضِ منصبی ادا کرنے کے بعد تھکاوٹ سے نڈھال اپنے گھروں کی طرف جاتے ہیں۔ شام کے وقت ان کی وردی کی حالت دیکھنے سے ان کی زندگی پررحم آنے لگتا ہے۔ سخت سردیوں میں، بارشوں میں ’’برائے نام برساتی‘‘ میں انہیں فرائضِ منصبی ادا کرتے ہو ئے دیکھ کراللہ گواہ ہے کہ مجھے ان پر بڑا ترس آیا۔
سڑک پر گزرنے والی بے ہنگم ٹریفک کو کنٹرول کرنا، بزرگوں کو سڑک پار کرانا، ہر سمت سے آنے والی گاڑیوں کی مکمل رہنمائی کرنا، ایمبولینس کو راستہ دلوانا، ٹریفک قوانین سے بے خبر سڑک کو اپنے دادا کی جاگیر سمجھ کر انتہائی بے احتیاطی سے موٹر سائیکل چلانے والے بغیر لائسنس ڈرائیوروں کی رہنمائی کر نا، سڑک پر پڑے پتھر، کیل یا دیگر ضرر رساں چیز کو ہٹا نا، تجاوزات کو ہٹانا، ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لیے سڑک کے درمیان میں پڑی رکاؤٹوں کا خیال رکھنا اور ٹریفک اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے چالان تک کی یہ تمام ذمے داریاں جانباز سپاہی بیک وقت بطریقِ احسن نبھاتا ہے۔اس کے علاوہ عام بے خبر شہری ان جانبازوں کے ساتھ اکثر گتھم گتھا ہوتے بھی دیکھنے کو ملے ہیں، اور مجھے ان جانبازوں کے مثبت رویے کو دیکھ کر شاعر کایہ شعر یاد آجاتا ہے۔
دانش وری کا ڈھونگ رچانا تو ہے نہیں
جو اہلِ فکر و دانش ہیں، اصولی بات کرتے ہیں
یہی اُصولی بات ٹریفک کے ان جوانوں کی خوبی ہے۔ قانوں کا احترام نہ کرنے والوں کو منھ کی کھانی پڑتی ہے۔ غلطی پر چالان کے موقع پر ایک ڈرائیور کا ٹریفک سپاہی کو کہنا: ’’میرے چچا زاد بھائی بھی ٹریفک پولیس میں ہیں۔ ‘‘اس بات کی گواہی ہے کہ ہم فضول ’’تبدیلی‘‘ کے نعرے لگانے والی قوم ہیں۔ وہ ٹریفک سپاہی جو ڈرائیور کے ساتھ گاڑی کو ٹائر تبدیل کرنے میں مدد دے، جو چھٹی کے وقت اسکول بچوں کے لیے دونوں اطراف سے ٹریفک روک دے اور انہیں باآسانی سڑک پار کرادے، جو فائر بریگیڈ کی گاڑی کو راستہ دے کر بڑے نقصان سے بچانے میں اہم کر دار ادا کرے اور جو اچانک بند ہونے والی گاڑی کو خود دھکا دے کر روڈ کو ہر قسم ٹریفک کے لیے کھول دے، اگر یہ ڈیوٹی کے ساتھ ثواب کمانے کے ذرائع نہیں تو اور کیا ہیں؟
اس لیے میں پولیس کے اعلیٰ افسران سے گزارش کرتا ہوں کہ ان نوجوانوں کو ان کی بہترین کارکردگی پر نہ صرف اسناد سے نوازاجائے بلکہ انہیں نقد انعاما ت بھی دیے جائیں۔عوام سے یہی اپیل ہے کہ یہ جوان ہمارا قومی سرمایہ ہیں، ہماری عزت ہیں اور ہماری پہچان ہیں،ان پر جتنا بھی فخر کریں کم ہو گا، ہمیں ان کے ساتھ اخلاق کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ نیز فرائض کی ادائیگی میں ان کے ساتھ بھرپور تعاؤن کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ان کو بھی اپنے جیسا انسان سمجھ کران کے ساتھ اچھا برتاؤ کر نا چاہیے۔

…………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے