465 total views, 1 views today

کہتے ہیں انگوری شراب کی ابتدا فارس کے بادشاہ جمشید کے دور میں ہوئی۔ کسی مہم میں جانے سے قبل اس نے انگور منگوائے، لیکن کھانے کی نوبت آنے سے پہلے ہی اُسے کوچ کرنا پڑ گیا۔ انگور پلیٹوں میں پڑے رہ گئے۔ جب واپس آیا، دیکھا سارے انگور گل چکے ہیں۔کہنے لگا: ’’یہ تو ’’مے‘‘ (زہر) ہوگئے ہیں۔ انھیں کسی جگہ دفنا دو۔‘‘ قریب کھڑی لونڈی نے انھیں برتن میں ڈالا اور اپنے گھر لا کر دفنا دیا۔ ایک رات جب کہ اس لونڈی کی طبیعت بہت خراب تھی، پاس کوئی بھی نہ تھا جو اسے کنوئیں سے پانی بھر کے لا دیتا۔ اس نے وہی برتن نکالا اور انگوروں کا رس پی گئی۔ حیرت انگیز طور پر اسے اِفاقہ محسوس ہوا۔ صبح اس نے بادشاہ کو بتایا۔ بادشاہ نے چند دیگر لوگوں پر تجربہ کیا، تو سب نے اس کی تعریف کی۔ یوں یہ مشروب بادشاہوں کے دسترخوان کی زینت بن گیا۔
ہندوستان کی تاریخ میں وادئی سندھ کی 4000 سال قبل کی تہذیب میں شراب کا تذکرہ ملتا ہے۔ موہنجوداڑو کی کھدائی کے دوران میں ایسے برتن ملے ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں شراب کشید کی جاتی ہوگی۔ انگریز آنے سے پہلے اس خطے میں شراب نوشی ضرور ہوتی تھی، لیکن اسے صنعت کا درجہ حاصل نہ تھا۔ انگریزوں نے اس کی تجارت کو قانونی شکل دی اور جدید محصول کے نظام میں لے آئے۔ 1860ء میں شراب کا پہلا پلانٹ لگایا جو آج بھی ’’مری بروری‘‘ نامی کمپنی کی صورت میں چل رہا ہے ۔
برصغیر میں تین حکمرانوں نے مے نوشی پر سختی سے پابندی عائد کی: علاء الدین خلجی، اورنگ زیب عالمگیر اور ضیاء الحق مرحوم۔ باقی بادشاہ اگر ذاتی حیثیت میں دین دار تھے، تب بھی انہوں نے اس کی روک تھام میں کچھ خاص دلچسپی نہیں لی۔ سن 1979ء میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد اس کی سزا اَسّی کوڑے مقرر ہوئی، جو اب آئین کے آرٹیکل 73H کا حصہ ہے۔
شراب دنیا کے اکثر مذاہب میں ممنوع ہے۔ ہندوؤں کی ’’رگ وید‘‘ اور ’’اتھر وید‘‘ میں مے نوشی سے منع کیا گیا ہے۔ بائبل کے 23:29،3 0 پروورب میں اور سکھوں کی گرنتھ صفحہ 1377 میں اس سے روکا گیا ہے۔ بدھ مذہب سگریٹ نوشی کو حرام کہتا ہے، چہ جائے کہ شراب نوشی حلال ہو۔ رہ گیا اسلام…… تو شاید وہ مذہب ہے جس نے واشگاف الفاظ میں مے نوشی کی مذمت کی ہے اور اپنے متبعین کو اس سے ہر صورت بچنے کا حکم دیا ہے۔ سورۂ مائدہ میں ہے: ’’اے ایمان والو! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوے کے تیرے، یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہٰذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’شراب نہ پیو، کیوں کہ وہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔‘‘ فرامینِ نبوی پر مشتمل کتاب دارقطنی میں ہے: ’’اللہ تعالیٰ شرابی کی چالیس دن تک نمازیں قبول نہیں فرماتا۔‘‘
ایک نومسلم انگریز ڈاکٹر محمد ہارون (سابق چیئرمین رضا اکیڈمی برطانیہ) اپنی کتاب “Why I accepted Islam?” میں لکھتے ہیں: ’’عصمت دری کے بہت سے جرائم، شراب نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اسلام شراب نوشی کو ممنوع قرار دیتا ہے (جس سے برائی کی جڑ کٹ جاتی ہے )۔‘‘
چوں کہ شراب بہت سے دینی و دنیاوی مضرات و بیماریوں کا مجموعہ ہے، اس لیے اسے اُم الخبائث بھی کہا جاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اڈہامون گیبرس کے مطابق شراب تشدد، ذہنی بیماریوں، کینسر اور فالج کا باعث بن سکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ جگر کی جملہ بیماریوں، سانس کی نالی کی بندش، قوتِ حافظہ میں کمی، رنگ و ہیئت بدلنے، جلد بوڑھا ہونے مدافعتی نظام کی کمزوری، بیری بیری، انجائنا، خون کے سرخ اور سفید ذرات کی کمی کا بھی سبب بنتی ہے۔
گذشہ دنوں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے WHO نے 600 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ہر سال 30 لاکھ لوگ کثرت مے نوشی کے سبب مر جاتے ہیں۔ یہ تعداد ایڈز اور ٹریفک حادثات میں مرنے والوں کی اجتماعی تعداد سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 2 ارب 30 کروڑ لوگ شراب پیتے ہیں، جن میں 13.5 فی صد مے نوشوں کی عمریں محض 20 سے 29 سال کے درمیان ہیں۔
برطانوی شماریاتی ادارے ’’یورومیٹر‘‘ کے مطابق سب سے زیادہ شراب فرانس میں پی جاتی ہے، جہاں ہرشخص 2.15 لیٹر شراب سالانہ پیتا ہے۔ انڈیا میں یہ تعداد 1.24 لیٹر، یو اے ای 1.27لیٹر، چائینہ میں 0.02 لیٹر اور وطنِ عزیز میں 0.04 لیٹر فی کس ہے۔
2010ء کے بعد دنیا بھر میں شراب نوشی میں کمی واقع ہوئی ہے، لیکن افسوس اسلامی جمہوریۂ پاکستان میں اس کے بر عکس 10 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ اسلام کے نام لیواؤں کے اس ملک میں شراب بنانے والی تین قانونی اور سیکڑوں غیر قانونی فیکٹریاں چل رہی ہیں۔ ان میں سے ایک ’’مری بریوری‘‘ کے چیف ایگزیکٹو اسفنیار ایم بھنڈارا کا کہنا ہے کہ وطنِ عزیز میں ہر سال شراب کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف ان کی فیکٹری سالانہ 50 ہزار ہیکٹولیٹر یعنی پچاس لاکھ لٹر بیئر اور 4 لاکھ گیلن لِکر بناتی ہے۔ ڈاکٹر صداقت علی صاحب کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ لوگ شراب نوشی کرتے ہیں جب کہ محکمۂ صحت کا کہنا ہے ، ان کی تعداد 40 لاکھ ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ سابقہ حکومت کا ایک ہندو ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمارو انکوانی شراب کا سب سے بڑا ناقد ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق دو کروڑ رجسٹرڈ لوگ شراب پیتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہندو ڈاکٹر صاحب کی نشان دہی پر کراچی میں شراب کی دکانیں بند کی گئیں، جب کہ ان کے مقابلے میں وہ دکانیں کھلوانے کے لیے دو مسلمان وکلا نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔
ڈاکٹر انکوانی صاحب کہتے ہیں: ’’وطنِ عزیز میں غیر مسلم لوگوں کے لائسنسز پر ننانوے فی صد مسلمان شراب خریدتے ہیں۔‘‘
دنیا کے تین سو کے قریب ممالک میں پاکستان کا شراب نوشی کے حوالے سے 35واں نمبر ہے۔ حالات اتنے دگرگوں ہو رہے ہیں کہ اب چودہ پندرہ سال کے بالغ و نابالغ بچے بھی شراب پیتے ہیں۔
شاید اسی وجہ سے اخلاقیات کا جنازہ اٹھتا جا رہا ہے۔ سیاسی تشدد، بے روزگاری، عدم برداشت اور سماجی رد عمل بڑھتا جا رہا ہے۔خانگی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔کیوں کہ ایک شراب نوش شخص عقل سے عاری ہو جاتا ہے۔ اول فول بکتا اور غل غپاڑا کرتا ہے۔ اسے مذہبی و اخلاقی قدروں کا احساس نہیں رہتا۔
ڈاکٹر برنٹ اپنی کتاب ’’علاج و معالجہ کے چند مقامات‘‘ میں لکھتا ہے: ’’وقتی طور پر سرور پیدا کرنے والی شراب جیسی کوئی اور چیز انسان دریافت نہیں کر سکا، لیکن صحت تباہ کرنے کی جو صلاحیت شراب میں ہے ، کسی اور میں نہیں۔‘‘
اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ مل جل کر معاشرے سے اس لعنت کو ختم کرکے پُرامن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مرضی کے موافق بناتے ہیں، یا پھر یہ جگر مرادآبادی کا یہ شعر گنگناتے ہوئے اسے جہنم کی جانب دھکیل دیتے ہیں
پہلے شراب زیست تھی، اب زیست ہے شراب
کوئی پلا رہا ہے، پیے جا رہا ہوں میں

…………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے