490 total views, 1 views today

جولائی کا مہینہ تھا اورگرم لو چل رہی تھی۔ سورج نے زمین کو گویا تندور بنا رکھا تھا۔ ہر کوئی پسینے سے شرابور تھا لیکن کہیں بھی بد نظمی نہ تھی۔ جلسہ گاہ میں تِل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ قاضی صاحب جلسہ گاہ پہنچ چکے تھے اور سٹیج پر براجمان تھے۔ میں بالکل ان کے قریب ہی موجود تھا۔ کارکنانِ جماعتِ اسلامی کا جوش و خروش عروج پر تھا اور تکبیر کے فلک شگاف نعروں کی گونج دور دور تک سنائی دے رہی تھی۔ جذباتی کارکن اپنے لیڈر کی ایک جھلک دیکھنے کی خاطر سٹیج کی طرف بڑھ رہے تھے اور ذمہ داران ان کو روکنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ ایک کارکن جس نے جماعت کا جھنڈا سر پر باندھ رکھا تھا، نے طویل جدوجہد کے بعد تمام رکاوٹیں توڑدیں اور قاضی صاحب کے قدموں میں عین اس وقت بیٹھ گیا، جب ’’اٹھ باندھ کمر غازی میدان بلاتا ہے‘‘ کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ سب یہ توقع کر رہے تھے کہ قاضی صاحب بھی خوش ہوکر گلے لگالیں گے، لیکن یہ دیکھ کرسب کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب قاضی صاحب غصے سے آگ بگولہ ہوکر اٹھے اور اس کے سر سے جماعت کا جھنڈا اُتار کر کہنے لگے: ’’یہ جماعتِ اسلامی کا جھنڈا ہے، تمہارے سر کی پگڑی نہیں۔ اس پر کلمہ لکھا ہوا ہے۔ کیا کسی نے تمہاری تربیت نہیں کی؟ یاد رکھو! میں سیاست کو جوتی کی نوک پر رکھتا ہوں، لیکن میرے لیے اسلامی اقدار اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔‘‘
یہ کہہ کر انہوں نے جھنڈا اُتار کر اپنی گود میں رکھا اور سٹیج پر موجود ذمہ دارانِ جماعت کی طرف غضبناک نظروں سے دیکھا اور وہ ان سے آنکھیں نہیں ملا پا رہے تھے۔
قارئین، یہ وہ دور تھا جب تحریکِ اسلامی میں اسلامی ذہنیت، نظم و ضبط،اطاعتِ امیر، یقینِ محکم، لٹریچر کا مسلسل مطالعہ، اللہ کی خاطر محبت، نیک سیرت، ہر وقت جواں جذبے، معاشرے کی تعمیر، افراد کی تربیت، علم کا حصول اور ذاتِ پاک کی رضا ہی کامیابی کے لیے ضروری سمجھے جاتے۔ یہ وہ دور تھا جب جماعتِ اسلامی کے امرا اور کارکنان حقیقت میں معاشرے کے تمام افراد کے لیے مشعلِ راہ ہوا کرتے تھے۔ مولانہ مودودی کی تصانیف کا مطالعہ باعثِ عزت سمجھا جاتا اور رات کی تنہائیوں میں لپٹے ارکانِ جماعت سود، خطبات، سنت کی آئینی حیثیت، قرآن کے چار بنیادی اصطلاحات، پردہ اور تفہیم القرآن جیسے شاہکاروں کے بغیر سونا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ ماحول کو مذہب کی روشنیوں سے منور کرنا کارکنانِ جماعت کا ایک ایسا کمال تھا کہ ہر مکتبۂ فکر کے لوگ ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا کرتے۔ رضائے الٰہی کا حصول ان کا نصب العین ہوا کرتا اور پھر جب یہ لوگ شب بیداری میں بیٹھ جاتے، تو اعلائے کلمۂ حق کی خاطر جان نچھاور کرنے کا ان کا جذبہ اور بھی بڑھ جاتا۔ درسِ قرآن اور درسِ حدیث کے پروگرامات میں عام لوگوں کو شرکت کی دعوت ملتی تھی اور عام لوگ پھر عام نہیں رہتے تھے بلکہ ایک نظریہ پلے باندھ دیتے تھے اور معاشرے میں ایک خاص مقام حاصل کرلیتے تھے۔ روحانی فیض حاصل کرنے کی خاطر لوگ جماعت کے اجتماعات میں شرکت کیا کرتے تھے اور تنظیم کو دوام بخشنے کی خاطر جب اجتماعی مطالعہ جات اور سٹڈی سرکلز جیسے پروگرامات میں تعلیم یافتہ طبقے کے لوگ شرکت کیا کرتے تھے، تو علم کی روشنیاں چہارسوں پھیل جاتی تھیں۔
اس طرح تربیت گاہوں کا اپنا ایک ماحول ہوا کرتا، جب چھوٹے بڑے سب دونوں جہاں کی کامیابی کی خاطر ان میں شرکت کرتے اور جب کوئی امیر یا ناظم اجتماع میں شرکت کے لیے آ جاتا، تو کارکنوں کی محبت دیدنی ہوتی اور ان سے مصافحہ لیے ایک اعزاز سمجھا جاتا۔ امیر کی اطاعت اور اطاعتِ نظم میں اتنی شدت ہوتی کہ کبھی کبھی تو اس اطاعت کی انتہا روحانیت تک پہنچ جاتی۔ ایک عجیب دور تھا جس میں ہر طرف تربیت ہوا کرتی اور ایسے میں ’’اسلامی جمعیت طلبہ‘‘ کے سپاہی تعلیمی اداروں میں باطل کے خلاف ہر دم موجود رہتے۔ اتنا منظم کام شائد حکومتی ادارے بھی نہ کر پائے، جتنا اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان کیا کرتے۔ یہ تنظیم حقیقت میں ایک تربیتی ادارے کی طرح کام میں مشغول رہتی اور یہی وجہ ہے کہ منور حسن، سراج الحق، حافظ نعیم، جاوید ہاشمی، خرم مراد اور لیاقت بلوچ جیسے رہنما بھی اسی تنظیم میں پل کر لیڈر بنے۔




"میں سیاست کو جوتی کی نوک پر رکھتا ہوں، لیکن میرے لیے اسلامی اقدار اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔”

مجھے یاد ہے مولانہ مودودی کے لٹریچر سے جماعت کے لوگ راہنمائی لیتے اور اس پر فکر کیا کرتے۔ جماعت کے کسی رکن کے گھر یا حجرے میں جب کوئی جاتا، تو پہلی نظر تفہیم القرآن کے جلدوں پر یا خلافت و ملوکیت پر پڑتی۔ ان ارکان کا اپنے بچوں اور روابط کے لیے سب سے بڑا تحفہ مولانہ صاحب کی تصنیف ہوتا۔ سیاست اور اقتدار کے سائے جب بھی منڈلاتے اور بے راہ روی کا خطرہ موجود ہوتا، تو ’’تنقیحات‘‘ اور ’’تفہیمات‘‘ جیسے شاہکاروں کا مطالعہ کیا جاتا اور پھر ان کے عقائد کبھی متزلزل نہ ہوتے۔ یہ لوگ جب تک خود احتسابی کے عمل سے گزرتے رہے اور جب تک ان کے ہاتھوں میں مولانہ مودودی کی کتابیں موجود رہیں، کبھی کسی میدان میں ان کو اور ان کے نظریات کو کسی نے شکست نہیں دی، لیکن جب یہ لٹریچر بند الماریوں میں مقفل کیا جانے لگا، تو ان کی سیاسی زندگی میں ایک غلط فہمی آگئی کہ اقتدار کا حصول ہی ہمیں ہماری منزل تک پہنچا سکتا ہے اور اسی غلط فہمی کی وجہ سے یہ ہر اُس اصول پر سمجھوتا کرنے لگے، جس کو قائم رکھنے کے لیے شہیدوں کا خون بھی بہا ہے اور کارکنوں نے سالہا سال قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کی ہیں۔ یہ بھول گئے پھر کہ جب قاضی صاحب پر لاہور میں لاٹھیاں برس رہی تھیں، تو وہ پکار پکار کے کہہ رہے تھے کہ
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا
وہ شان سلامت رہتی ہے
ٹیکنالوجی کا یہ دور جب آیا، تو اقتدار کی رسہ کشی شروع ہوگئی اور سیاست میں ایک مقام حاصل کرنا ہی زندگی کا مقصد بن کر رِہ گیا، تو جو سب سے بڑا نقصان ہوا وہ یہ تھا کہ مولانا مودودی کی صدا کو خاموش کیا گیا۔ وہ مولانا جو قلم کی ایک جنبش سے یورپ کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیتے تھے، غائب کردیے گئے۔ وہ اکیلے ایک پوری نسل کے لیے لڑے اور کامیاب بھی ہوئے، لیکن جب اقتدار ہی واحد منزل گردانی گئی، تو گلوبلائزڈ دور کی ایک پوری جماعت منظرِ عام سے غائب ہوگئی۔ سید قطب شہید،حسن البنا اور مولانا مودودی کی ارواح کے ساتھ ایسا مذاق میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ اقتدار کے حصول ہی کو جب تحریک کا مقصد سمجھا گیا، تو تنظیم سے درسِ قرآن،درسِ حدیث، شبِ بیداری، اجتماعِ کارکنان اور اجتماعی مطالعہ جات جیسے پروگرامات خود بہ خود ختم ہوگئے اور پھر امیر اور کارکن کی شخصیت کو ایک ہی پلڑے میں تولا جانے لگا۔ کیا اقتدار کی گدی اتنی ضروری ہے کہ جس کی خاطر ایک ایسی اجتماعیت کو داؤ پر لگایا گیا جس کی خاطر ہزاروں لوگ شہید کردیے گئے ہیں اور جس کی آبیاری اس انسان نے کی تھی، جس نے کبھی بھی اسلامی اقدار پر سمجھوتا نہیں کیا تھا۔ یہ جماعت اسلامی کے اکابرین کی غلطیاں ہیں کہ جس کی وجہ وہ تنظیم اپنی اصل روح کھوچکی ہے، جس نے ایک پورے ڈگمگاتے معاشرے میں جان ڈالی تھی۔
قارئین، ایک دور تھا جب جماعت اسلامی میں ذمہ داریوں سے کارکن بھاگا کرتے تھے، لیکن اب تو سنا ہے امرا بھی کھلم کھلا اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ مجھے الیکشن لڑنا ہے اور کچھ بھی ہو لیکن مجھے کامیاب کرانا ہے۔ وہ امرا جو جب اپنے کارکنوں کے ساتھ احتساب کیا کرتے، تو کارکنان رو پڑتے لیکن آج تو ایسے ایسے لوگوں کو ارکان بنایا جارہا ہے جن کا لٹریچر سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں اور یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر جب یہ ارکان اپنے گلے سڑے خیالات کا اظہار کرتے ہیں، تو ایسا نہیں لگتا کہ مولانا مودودی کی تحریک کا بندہ بول رہا ہے۔ ماضیِ قریب ہی کی بات ہے امیرِ جماعت کے ساتھ نظریں ملانا بھی گویا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ اتنی عقیدت ہوتی تھی، لیکن آج کل تو سوشل میڈیا پر ببانگِ دہل کارکنانِ جماعتِ اسلامی اپنے امرا پر تنقید کے تیر چلاتے ہیں۔ امیرِ جماعت اور عام لوگوں کے درمیان ایک روحانی فرق ہوا کرتا تھا، لیکن برق رفتار ترقی نے روحانیت کو دفن کر ڈالا۔ اب جماعت کے اپنے لوگ اپنے بچوں تک سے بھی رابطے میں نہیں رہتے، تو اور لوگوں سے کیا رشتہ استوار رکھیں گے؟ اب نہ جمعیت کا وہ ڈھنڈورا ہے اور نہ جماعت اسلامی کی دھاک ۔ ایسا ہی ہوتا جب شہیدوں کے خون، علما اور امیروں کے احکامات سے روگردانی کی جاتی ہے۔
جماعت اسلامی کے لیے میرا یہ مشورہ ہے کہ اگر یہ لوگ حقیقت میں اپنے اصل کام کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں، تو سیاست سے آئندہ پانچ سالوں کے لیے کنارہ کش ہوجائیں اور وہ تحریکی کام دوبارہ شروع کریں جس کی وجہ جماعت کو حقیقت میں عروج ملا تھا۔

………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے