925 total views, 1 views today

وادئی سوات اپنی فطری خوبصورتی، برف پوش چوٹیوں، میٹھے جھرنوں اور تاحد نگاہ مرغزاروں کی وجہ سے مشہور ہے۔ سوات کی اس خوبصورتی میں اضافہ کرتا ایک سیاحتی مقام ’’گبینہ جبہ‘‘ (یا گبین جبہ) بھی ہے، جہاں بیان شدہ خصوصیات بطورِ خاص پائی جاتی ہیں۔
گبینہ کے معنی ہیں ’’میٹھا‘‘ اور جبہ ’’چشمہ‘‘ کو کہا جاتا ہے۔ یہاں آتے ہی گبینہ جبہ کے میٹھے چشمے آپ کا استقبال کریں گے۔ سطحِ سمندر سے نو ہزار دو سو پچاس فٹ بلندی پر واقع گبینہ جبہ تک پہنچنے کے لیے کبل شموزو روڈ پر واقع گاؤں ’’اشاڑے‘‘ سے راستہ جاتا ہے۔ جہاں سے سیدھی سڑک گبینہ جبہ پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ اشاڑے گاؤں کے بازار میں اشیائے ضروریہ کی خریداری کی جا سکتی ہے۔ وہاں سے تقریباً آدھے گھنٹے کی مسافت پر ’’لالکو‘‘ گاؤں آتا ہے۔ جہاں پر گاڑ ی کو پارک کرکے آگے پیدل جانا ہوتا ہے۔ یہاں جگہ جگہ پارکنگ کی سہولت موجود ہے۔ خوراک اور دیگر ضروری سامان بھی یہاں پر واقع دکانوں میں دستیاب ہے۔ اشاڑے گاؤں سے لالکو گاؤں تک ایک پٹرول پمپ بھی ہے، لیکن لالکو گاؤں میں دکانوں پر بھی پٹرول دستیاب ہے۔ یہاں کی انفرادیت یہ ہے کہ دوسرے سیاحتی مقامات پر خریداری کی بہ نسبت اشیا اپنے مقررہ داموں فروخت ہوتی ہیں۔

گبینہ جبہ کے خودرو پھول، جو وہاں ایک بڑی تعداد میں ملتے ہیں۔ (فوٹو: محمد وہاب سواتی)

لالکو میں گاڑی پارک کر کے گبینہ جبہ تک پیدل جایا جا سکتا ہے۔ یہاں پر مقامی لوگ خچروں کے ذریعے بھی سیاحوں یا ان کے ساتھ سفری سامان مناسب داموں گبینہ جبہ تک پہنچاتے ہیں۔ اگر پیدل سفر کیا جائے، تو راستہ میں آنے والے خوبصورت نظاروں سے کما حقہ لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ راستے میں بہتے دریا کے ساتھ گھنے جنگلات سے اَٹے پہاڑوں کی خوبصورتی دیدنی ہوتی ہے۔
لالکو گاؤں سے گبینہ جبہ تک دو راستے ہیں۔ ایک راستہ سیدھا سڑک کے ذریعہ جاتا ہے۔ یہ راستہ قدرے آسان ہے، مگر پیدل جاتے ہوئے وقت زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ دوسرا راستہ ایک پہاڑی کے ذریعے چڑھ کر اوپر جاتا ہے۔ یہ راستہ نسبتاً تھکا دینے والا ہے۔ اس طرح تیسرا راستہ بھی موجود ہے، لیکن وہ سب سے مشکل ہے۔ خوڑ کی سیدھ میں جاتے ہوئے ’’پیازکو آبشار‘‘ پہنچا جا سکتا ہے، جہاں سے دس منٹ میں منزلِ مقصود تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ پیازکو آبشار کے قریب تین گھاٹیوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ تینوں راستوں پر تقریباً دو سے تین گھنٹے میں گبینہ جبہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔




اس مقام پر ایک ٹراؤٹ ہیچری بھی قائم ہے، جہاں تازہ ٹراوٹ مچھلی کا لطف اٹھایا جاسکتا ہے۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

گبینہ جبہ کے نظاروں کو دیکھ کر ساری تھکن اُتر جاتی ہے۔ سرسبز گھاس سے بھرے میدان خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ مرغزاروں میں بڑی بڑی چراہگاہیں ہیں جہاں چرنے والی بھیڑ بکریاں ماحول کا لطف دوبالا کرتی ہیں۔ رہی سہی کسر مہکتی فضائیں، سایہ دار درخت اورچشموں کا میٹھا پانی پوری کردیتا ہے۔
سامنے سرسبز میدان ہوں، میدان میں مختلف چھوٹی نالیوں کی شکل میں ٹھنڈا میٹھا پانی دوڑتا ہو، پانی کے کناروں پر جابجا مال مویشی چر رہے ہوں، اردگرد کے لمبے لمبے درختوں سے ڈھکا ہوا جنگل ہو اور اس کے اوپر برف پوش چوٹیاں ہوں، نیلے آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے رقص کر رہے ہوں اور سورج مصفا شعاعیں زمین پر بھیج رہا ہو، تو یقینی طور آپ ’’گبینہ جبہ‘‘ میں ہیں۔

گبینہ جبہ میں ٹینٹ کرایہ پر بھی ملتے ہیں اور سیاح ساتھ بھی لے جا سکتے ہیں۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

گبینہ جبہ کا موسم سرد ہوتا ہے۔ سردیوں میں یہاں پر جم کر برف باری ہوتی ہے۔ یہ جگہ مقامی لوگوں کی ہے جسے تین سالوں کے لیے ’’لیز‘‘ پر دیا جاتا ہے۔ دو ہزار دس میں پاکستان آرمی نے یہاں تک سڑک تعمیر کی تھی۔ یہ جگہ باقاعدہ ضلعی انتظامیہ کے سپرد ہے۔ رات گزارنے کے لیے یہاں پر ٹینٹ موجود ہیں۔ البتہ اپنے ساتھ ٹینٹ لے جا کر رات گزاری جا سکتی ہے۔ سیاحوں کی سیکورٹی یقینی بنانے کے لیے یہاں پر ہر آنے جانے والے کی رجسٹریشن کی صورت میں ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔
گبینہ جبہ کی خوبصورتی یہاں کے سرسبز میدان اورتاحد نگاہ مرغزارہیں۔ یہاں جا بجا چاقو، چھری یا اس قبیل کے دیگر آلات سے زمینوں اور درختوں پر لوگ اپنے نام درج کرتے ہیں، جو کہ میری نظر میں بڑی گھٹیا حرکت ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ البتہ اگر سیاح بھی علاقہ کی صفائی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا گند واپس اپنے ساتھ لائیں، تو اس سے بہتر بات اور کیا ہوسکتی ہے؟
گبینہ جبہ کے میدان میں ایک خاص قسم کا پودا ہوتا ہے جسے مقامی زبان میں ’’غزمہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح سے ادویائی جڑی بوٹیوں کا حصہ ہے۔ یہاں کا سب سے ٹھنڈا، میٹھا اور صاف و شفاف پانی گبینہ جبہ کے اوپر دس منٹ کی مسافت پر واقع چشمہ میں موجود ہے، جسے ’’چڑسر چینہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
میرے ساتھ اس سفر میں میرے دوست داؤد خان، عبدالکبیر اور عبدالعزیز شامل تھے۔ ایک انفرادی کام جس سے ہم بہت خوش ہوئے، وہ یہ تھا کہ ہم اپنے ساتھ چار پودے لے گئے تھے۔ وہاں کی انتظامیہ کی اجازت سے وہ پودے ہم نے وہاں پر لگا دیے۔ اس طرح اگر دیگر سیاح یہاں آتے ہوئے ہر ٹیم ایک ایک پودا ساتھ لے کر آیا کرے اور یہاں پر لگا کر واپس جایا کرے، تو شجرکاری مہم کی نوبت نہیں آئے گی۔
گبینہ جبہ میں ایک رات گزار کر وہاں کی قدرتی خوبصورتی کو دلوں میں بسا کر واپسی کے لیے رختِ سفر باندھا۔ ہمیں یہ سفر تا دمِ آخر یاد رہے گا۔

……………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے