643 total views, 2 views today

جنابِ والا! امید ہے، آپ بخیر و عافیت ہوں گے۔
جنابِ والا، آپ کے نزدیک کرپشن کی تعریف جو بھی ہو، لیکن میری سوچ اور فہم کے مطابق کرپشن اپنے عہدے یا پوزیشن سے ناجائز فائدہ اُٹھانا، قومی وسائل کو ذاتی مقصد و مفاد کے لیے استعمال کرنا، رشتہ داروں، دوستوں اور من پسند افراد کو فائدہ پہنچانا، قومی دولت کو لوٹنا یا چوری کرنا، منی لانڈرنگ کے ذریعے رقوم بیرونی ممالک منتقل کرنا، ناجائز کمائی، سرکاری اخراجات میں اسراف اور ایمان داری سے ڈیوٹی نہ دینا، یہ سب کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔
جنابِ والا! پاکستان کی سیاسی پارٹیاں یعنی آپ کی تحریک انصاف، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی پارٹیاں کرپشن کے خلاف ہیں اور پاکستان کو کرپشن فری ملک بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے والے نام نہاد دعوے کرنے والوں میں سے اگر کسی پارٹی کے رہنما پر کرپشن کا الزام لگ جائے، تو بجائے اس کے کہ وہ اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرے، اُلٹا اُس پارٹی کے ورکرز اور رہنما آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں۔ جب کہ الزام لگانے والے کے پاس بھی کوئی خاطر خواہ ثبوت نہیں ہوتے۔ جنابِ عالی، پاکستان تحریک انصاف بحیثیت پارٹی اور چیئرمین تحریک انصاف یعنی آپ خود بائیس سالوں سے کرپشن کے خلاف آواز اُٹھا رہے ہیں۔ حقیقت میں آپ کو دوسروں کے کرپشن تو نظر آتے ہیں لیکن اپنی پارٹی میں موجود کرپٹ افراد کی کرپشن نظر آتی ہے اور نہ آج تک ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی ہی عمل میں لائی گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور دیرینہ رہنما ایس اے بابر نے جب آپ سے پارٹی فنڈز کا حساب کتاب مانگا، تو انھیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ بابر صاحب نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کرتے ہوئے تحریکِ انصاف سے فنڈز کا حساب کتاب مانگا، تو اب بھی آپ کی پارٹی ریکارڈ پیش کرنے میں ٹال مٹول سے کام لی رہی ہے۔
جنابِ عالی! کچھ عرصہ پہلے صحافی سلیم صافی نے اپنے پروگرام "جرگہ” میں آپ کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ تین سالوں میں خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد کے سرکاری وسائل سے پارٹی کے رہنما جہانگیر ترین، شیرین مزاری، شاہ محمود قریشی، عارف علوی، اسد عمر، اعظم سواتی، پرویز خٹک، چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الٰہی اور سراج الحق کی مہمان داری پر بیس کروڑ سینتالیس لاکھ چوراسی ہزار روپے (20,47,84,000) غریب عوام کے ٹیکس سے خرچ کیے گئے ہیں۔ سلیم صافی نے اس حوالہ سے چند بِل بطور نمونہ بھی پیش کیے۔ شاہ محمود قریشی، عارف علوی، اسد عمر اور دیگر کا بِل 166585 روپے۔ اعظم سواتی، خیبر پختوا پارٹی صدور کی مہمانداری کا بِل 188000 روپے، اعظم سواتی اور وفد کا 157000 روپے۔ آپ، ایم این اے، ایم پی اے اور وفد کا 163903 روپے۔ شاہ محمد قریشی کا 149999 روپے۔ اسد عمر اور سینٹ ممبرز 154000 روپے۔ آپ، اسد عمر اور شاہ محمد قریشی 149000 روپے۔ آپ، اسد عمر اور صوبائی وزرا 170000 روپے۔ اعظم سواتی پریس کانفرنس 126000 روپے۔ اعظم سواتی کے پی کے صدور اور جنرل سیکرٹریز 224000 روپے۔ جہانگیر ترین، اسد عمر اور شاہ محمد قریشی 322500 روپے۔ جیو نیوز اور اے آر وائی 153983 روپے۔ شاہ محمد قریشی، شیرین مزاری اور وفد 169414 روپے۔ جہانگیر ترین، اسد عمر، سراج الحق وفد 333253 روپے۔ عارف علوی، جہانگیر ترین، اسد عمر، چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی 397809 روپے۔ اکبر ایوب وزیر اور اعظم سواتی 232778 روپے۔ آپ، جہانگیر ترین 258379 روپے اور پارلیمانی وفد 231409 روپے۔ اس کے علاوہ بھی کروڑوں روپے غیر متعلقہ افراد پر خرچ کیے گئے ہیں۔
جنابِ عالی! سلیم صانی نے تو آپ پر بڑے بڑے محلات، وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس وغیرہ کو کالج یونیورسٹی بنانے کا وعدہ پورا نہ کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ معلوم نہیں کہ آپ غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ پارٹی ارکان اور غیر متعلقہ افراد کے اللّے تللّوں پر خرچ کرنے کو کرپشن سمجھتے ہیں یا نہیں؟ حالاں کہ یہ بھی کرپشن کی ایک قسم ہی تو ہے۔ کرپشن صرف یہ نہیں کہ نقد رقوم چوری کرکے اپنی جیب یا اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے۔ اگر آپ پاکستان سے کرپشن کے خاتمہ میں مخلص ہیں، تو کم از کم سلیم صافی نے تحریک انصاف پر خیبرپختونخوا کے غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ بے جا خرچ کرنے کا جو الزام لگایا ہے، اس کی تحقیقات کریں۔ اگر سلیم صافی کا الزام درست ثابت ہوا، تو آپ، عارف علوی، جہانگیر ترین، شیرین مزاری، شاہ محمود قریشی، اسد عمر، اعظم سواتی اور پرویز خٹک سے غریب عوام کا پیسہ سود سمیت وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائیں۔ جب کہ اس قسم کے ہونے والے اخراجات بھی وہ خود ادا کریں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے، تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ عمران خان کرپشن کے خاتمے کے نام نہاد دعوے صرف اور صرف ایوانِ اقتدار تک پہنچنے کے لیے لگا رہے ہیں، جو تحریکِ انصاف کی ساکھ کے لیے انتہائی نقصان دِہ ہوگا۔
جنابِ عالی! اس کے علاوہ آپ سرکاری عمارتوں خیبر پختونخوا ہاؤس پشاور، خیبر پختونخوا ہاؤس نتھیا گلی اور یگر رسٹ ہاؤسز کے اخراجات کی جانچ پڑتال بھی کریں۔ اگر اس میں بے ضابطگیاں ہوئی ہوں، تو ان پر بھی ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔ تب جا کے عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔

………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے