362 total views, 1 views today

سترہ مئی 2018ء جب پہلا روزہ تھا، مَیں بازار گیا تاکہ ایک بلکہ دو بہت ضروری دوائیاں خریدلوں، جو میرے پاس مکمل ختم ہوگئیں تھیں۔ بازار جاکر دوا فروشوں کی سب دکانیں بند دیکھیں۔ پتا چلا کہ دوا فروش لوگوں نے اپنے کچھ مطالبات منوانے کے لیے ہڑتال کی ہوئی ہے۔ گویا کہ ایک حاجت مندانسان کو دوا کی قیمتاً خرید سے محروم کیا گیا۔
معلوم نہیں کتنے لوگوں، جو زیادہ تکالیف میں ہوں گے، کو ذاتی اغراض کے لیے تڑپایا گیا ہوگا۔ کتنی بد دعائیں ان لالچی سود خوروں کو دی جاتی ہوں گی۔ لفظ سود خور میں نے اس لیے استعمال کیا کہ جب ایک شخص کسی بھی قسم کی رعایت یا قربانی دینے کا روا دار نہ ہو بلکہ الٹا ہر قیمت پر اپنا فائدہ چاہتا ہو تو ایسا رویہ اور عمل سود خوری کے دائرہ میں آتا ہے۔ دوا فروش حضرات کی اکثریت مالدار لوگوں کی ہے۔ ان میں غریب لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ان میں نیک افراد بھی ہیں اور ’’دوسرے‘‘ بھی۔

اب تو معاملہ بہت آگے چلا گیا ہے اور ہم لوگ آسانی کے ساتھ یہ بھی نہیں جانتے کہ کونسی دوا اصلی ہے اور کونسی دو نمبر کی نقلی

اب تو معاملہ بہت آگے چلا گیا ہے اور ہم لوگ آسانی کے ساتھ یہ بھی نہیں جانتے کہ کونسی دوا اصلی ہے اور کونسی دو نمبر کی نقلی



ایک سینئر اور دوا فروش دوست نے مجھے بتایا کہ سر! آپ تو دو نمبر والی دوا کی بات کرتے ہیں، اب تو معاملہ بہت آگے چلا گیا ہے۔ اور ہم لوگ آسانی کے ساتھ یہ بھی نہیں جانتے کہ کونسی دوا اصلی ہے اور کونسی دو نمبر کی نقلی ۔ خدا ہماری مساجد میں یہ اہلیت پیدا فرمائے کہ وہ عوام کی رہنمائی جدید مسائل و معاملات میں بھی کرسکیں۔ اصلاح ملا، مدرس اور مبلغ ہی لاسکتے ہیں۔
ہمارے لوگوں میں بغاوت اور خود سری و خود غرضی بہت بڑھ گئی ہے۔ نتیجہ میں مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔ دوا سازوں اور دوا فروشوں کے بھی کافی مسائل ہوں گے، جن کو حل کرنا ضروری ہوگا۔ لیکن عوام کو اس کے بدلے ہلاکتوں سے دوچار کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔ غالباً دنیا کا کوئی قانون، رواج یا اخلاق مسائل کو بے گناہ انسانوں کے قتل عمد پر حل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
مسلمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ اُن کو قرآن و سنت کے بیان کردہ اصولوں اور قوانین سے بے خبر رکھا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ’’ میں نے نہیں پیدا کیا انسانوں اور جنات کو مگر صرف اپنی عبادت کے لیے۔‘‘ عبادت کا ایک وسیع مفہوم یہ بھی ہے کہ جس طرح ایک زر خرید غلام اپنے مالک کے ہر حکم کو مانتا ہے۔ یعنی جس کام کے کرنے کا اُسے کہا جاتا ہے وہ اُسے کرتا ہے اور جس سے منع کیا جاتا ہے وہ نہیں کرتا۔ قرآن میں جتنے احکامات ہیں، اُن سب کا ماننا ہر انسان پر فرض ہے۔ اُن سے انکار اور روگردانی کرنا کفر ہے۔ نماز، روزہ وغیرہ بھی اُن سیکڑوں فرائض اور احکامات میں سے ہیں، جو قرآن میں مذکور ہیں لیکن ہمیں نہیں بتائے جاتے۔ اگر ایک شخص نماز ،روزے کا پابند ہو اور دوسرے احکامات (فرائض) پر عمل نہیں کرتا، تو وہ اپنی پوزیشن علمائے حق سے پوچھے۔ قرآن میں ایک اور حکم ہے جو ہم پر فرض ہے کہ ’’تم اللہ کا حکم مانو، رسول ﷺ کا حکم مانو اور اُن کا حکم مانو جو تم میں حکم دینے والے ہیں۔ حکومت اور اس کے قوانین کو علمائے حق اولی الامر (حکم دینے والوں) میں شمار کرتے ہیں۔ یوں مسلمانوں کی تسلیم شدہ حکومت کا ہر حکم جو شریعت کے مطابق ہو ماننا ازروئے قرآن اُس حکومت کے ہر شہری پر فرض ہے۔

ملک میں ممبرانِ صوبائی اسمبلی و قومی اسمبلی موجود ہوتے ہیں۔ اُن کے ذریعے کسی بھی ناقص قانون کو متعلقہ اسمبلی میں نظر ثانی اور اصلاح کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے

ملک میں ممبرانِ صوبائی اسمبلی و قومی اسمبلی موجود ہوتے ہیں۔ اُن کے ذریعے کسی بھی ناقص قانون کو متعلقہ اسمبلی میں نظر ثانی اور اصلاح کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے

اگر حکومت کا کوئی حکم شریعت کے خلاف ہو تو اُس پر نظر ثانی کے لیے اس انداز سے جدوجہد کرنا چاہئے کہ اُس جدوجہد سے دوسرے مظالم نہ پیدا ہوں۔ ملک میں ممبرانِ صوبائی اسمبلی و قومی اسمبلی موجود ہوتے ہیں۔ اُن کے ذریعے کسی بھی ناقص قانون کو متعلقہ اسمبلی میں نظر ثانی اور اصلاح کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے۔ اگرقانون میں واضح ظلم و نا انصافی تحریر ہو، تو اُسے پارلیمنٹ میں لے جانا چاہئے۔ پاکستان میں دوا سازی اور دوا فروشی میں بے ایمانیوں کی شکایت عام ہیں ۔دو اور تین نمبر کی یا مکمل جعلی ادویہ دوا سازوں کے علاوہ کوئی اور تیار نہیں کرسکتا۔ اس طرح یہ دوا ساز اور مارکیٹنگ والے ہی ہوتے ہیں جو ڈاکٹروں کو کمیشن ادا کرنے، اُن کو دوسری چیزوں کی شکل میں رشوت دینے کے لیے بدنام ہیں۔ بعض دوا فروش جعلی، ناقص اور ایکسپائر ادویہ کی فروخت اور حکومت کی طرف سے خریداروں کو دس بارہ فی صد ڈسکاؤنٹ نہ دینے کے جرم میں ملوث ہوتے ہیں۔ حکومتی ادارے کچھ نہیں کرتے کیوں کہ قوانین میں کمزوریاں تھیں۔
اب اُن کو دور کیا گیا تو مسلمان ’’تاجروں‘‘ نے اُن کو ماننے سے انکار کیا۔ اور اُن لوگوں ،جو قیمت دے کر دوا خریدنا چاہتے ہیں، کو محروم اور اذیتوں کا شکار کیا۔ دوا ساز اور دوا فروشوں میں غریب لوگ بہت کم ہوں گے۔ ان کی اکثریت کھاتے پیتے اور مالداروں کی ہے۔ خدا نے ان کو اختیار دیا ہے اور یہ اُس اختیار کی ہتک کرکے خدا کی ہتک کررہے ہیں۔ اور خدا اپنی ہتک کو کسی صورت میں نہیں بھول سکتا۔
آج بھی یہ موٹے لوگ مختلف مسائل کا شکار ہیں اور خدا کا شدید عذاب جلدی ان کو آپکڑنے والا ہے۔ حکومت کے ساتھ مبینہ اختلاف کی شدید سزا یہ لوگ عوام کو دے رہے ہیں۔ لیکن خدا دیکھ رہا ہے کہ ناکردہ گناہ کی سزا کیوں عوام کو ملتی ہے۔ جھگڑا حکومت اور دوا سازوں کے درمیان اور سزا خریداروں کو۔
نجی سکولوں والے کہتے ہیں کہ ہم حکومت کے قوانین اور عدالت کے احکامات نہیں مانتے (اگر چہ اُس فیصلے میں نظر ثانی کے بہت نکات موجود ہیں) لیکن نظر ثانی کے لیے درخواست کرنا یا معاملے کو اسمبلی میں لانے کی بجائے بغاوت کرنا کسی صورت مناسب نہیں لگتا۔ چوں کہ جدید تعلیم کا حصول مسلمانوں کی ترجیح نہیں، اس لیے اس پر مزید لکھنا غیر ضروری ہوگا۔ البتہ ملاکنڈ ڈویژن کے دوا فروشوں اور دوا سازوں اور نجی سکولز کے مالکان کو یہ تجویز دی جاتی ہے کہ وہ اپنے ایم پی ایز، ایم این ایز اور اپنے وکلا سے پتا کروائیں کہ ان دو قوانین کو صدر مملکت نے گورنر کی سفارش کے بعد ملاکنڈ ڈویژن تک وسعت دی ہے یا یہ تاجر لوگ ایسے ہی ہوا میں اڑ رہے ہیں۔ اگر وسعت نہ دی گئی ہو توپھر ان قوانین کا اطلاق پاٹا پر نہیں ہے۔
علما بھی دیکھ لیں کہ تاجروں اور حکومت کے درمیان مخالفت کی سزا بے گناہ اور غیر ملوث عوام کو دینا ازروئے شریعت کیسا ہے؟ میرے ناقص علم کے مطابق اس قسم کی ہڑتالیں غیر شرعی اور خدا کے قہر کو دعوت دینی والی ہیں۔ قہر شروع ہوچکا ہے لیکن اسے دیکھنے کے لیے بصیرت چاہئے۔ مالدار طبقات کا یہی حقوق العباد سے انکار اللہ کی غضب کو دعوت ہے۔




تبصرہ کیجئے