602 total views, 1 views today

اس کائناتِ خداوندی میں شوہر ہونا جتنی نعمت ہے، اُتنا ہی باعثِ زحمت بھی ہے۔اگر کسی کو اپنی آزادی سے اُکتاہٹ ہونے لگے، تو وہ ضرور شوہر بننے کا شوق پورا کر لے۔
ہمارے ایک دوست کالج کے زمانے سے ہی شوہر بننے کے لیے انتہائی مضطرب تھے اور اکثر یہ پوچھنے پر کہ بڑا ہوکر کیا بنے گا؟ برجستہ جواب دیتے کہ
’’شوہر بنوں گا۔‘‘
اب اُس بیچارے کو شاید یہ اندازہ ہی نہ تھا کہ بڑا ہو کر شوہر بننا نہیں پڑتا بلکہ شوہر بن کر چھوٹا ہونا پڑتا ہے۔خیر، اب اُس کے ساتھ جو ہوا ہوگا اُس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتاہے کہ
نکاح پڑھا کے مجھے اُس نے یہ اِرشاد کیا
جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا
ہمیں تو فطرت سے یہ شکوہ ہے کہ جتنی جاذبِ نظر یہ صنفِ نازک ہوا کرتی ہے، اگر اُتنی میٹھی بولی بھی عنایت کی گئی ہوتی، تو کیا خوب ہوتا۔ شاید میر تقی میرؔ کو بھی یہی شکایت رہی، تبھی تو فرمایا:
صورت آئینے میں ٹُک دیکھ تو کیا صورت ہے
بدزبانی تجھے اِس منھ پہ سزاوار نہیں
اب تو ہمیں اپنی جوانی کی سوچ پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ اس زمانے میں کسی بھی صنفِ نازک کی قربت کے احساس سے ہی دورانِ خون میں نمایاں تیزی آتی اور اپنے حسین احساسات کے سہارے ان کی معطر سانسوں کے طفیل خود کو رومانوی دنیا کے ہیرو سمجھ بیٹھتے۔ دنیا رہنے کے قابل لگتی، لیکن اب ہمارے بھیجے میں یہ بات آگئی ہے کہ رومانیت کی تو ایسی کی تیسی، اپنی سالمیت برقرار رکھ لیں، تو یہ بڑی غنیمت ہے۔ مبادا کوئی برتن یا جوتے کا وار ہمارے کامل وجود میں کمی کا باعث نہ بنے۔
اب ہم پر یہ راز بھی افشا ہوچکا ہے کہ گھر کے میدانِ کارزار میں ایک ہارے ہوئے سپاہی کی طرح نہ سہی، تو کم ازکم ایک مظلوم قیدی کی مانند رہنے میں ہی بہتری ہے۔
قارئین، شوہروں کی کئی اقسام واقع ہوئی ہیں۔ ان تمام اقسام میں جو قدریں مشترک ہیں، اُن میں سے ایک بیگم کے ساتھ بقدرِحاجت جھوٹ بولنا ہے۔کم از کم اپنے ماضی اور حال کی مصروفیات کے بارے میں سب ہی بامرِ مصلحت اپنی بیگمات کو اندھیرے میں رکھتے ہیں۔
شوہر تابع فرمان ہو، تابع دار ہو یا تابع نما، گھر کے باہر ایک الگ شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔ ہمارے ایک دوست کہتے ہیں کہ شوہر کی مثال ’’سپلٹ اے سی‘‘ (Split A.C) کی مانند ہوتی ہے جس کا اندر والا حصہ خاموش اور باہر والا حصہ شور مچاتا ہے۔




یہی دوست، پریشانی کے عالم میں ایک دن کہنے لگے: ’’یار میں بہت پریشان ہوں کہ میں دوہری مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ اگر بیوی ’میک اَپ‘ کرے، تو خرچہ ناقابلِ برداشت اور نہ کرے، تو بیوی نا قابل برداشت۔‘‘ (Photo: firpost.com)

ہمارے ایک اور دوست زیادہ وقت دوستوں ہی کی محفل میں گزارتے ہیں اور جب گھر کا رُخ کرتے ہیں، تو یہ کہہ کر اُٹھتے ہیں کہ
’’اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ گھر جائیں گے
گھر میں بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟‘‘
یہی دوست، پریشانی کے عالم میں ایک دن کہنے لگے: ’’یار میں بہت پریشان ہوں کہ میں دوہری مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ اگر بیوی ’میک اَپ‘ کرے، تو خرچہ ناقابلِ برداشت اور نہ کرے، تو بیوی نا قابل برداشت۔‘‘
ہم اپنے اس دوست سمیت تمام ایسے مظلوم اور متاثرین شوہروں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ بخدا، اِس لیے نہیں کہ ہمارا درد شریک ہے بلکہ اِس لیے کہ ہم عورت کو وفا، خوبصورتی اور زندگی کا حسین تصور خیال کرتے ہیں۔ہمارا یہ دوست ہمارے ان خیالات سے متفق ہے، لیکن جو اس سے زیادہ صحیح تر خیال کرتے ہیں، وہ یہ کہ جب تک عورت بیوی نہ بنے، یہ تمام تر خصوصیات اُس میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ ہم تو اِس پر اپنی رائے محفوظ رکھتے ہیں۔ کیوں کہ ہم بھی گھر میں ایک عدد بیگم رکھتے ہیں۔
جس بات کی ہمیں آج تک سمجھ نہ آئی، وہ یہ کہ جو لوگ دو شادیاں کرتے ہیں، وہ پہلی کو تو مصیبت قرار دیتے ہیں، تو پھر دوسری مصیبت پالنا تو بڑے دل گردے کاکام ہے۔لیکن جب ہم نے بھی اِس راز کو پانے کے لیے اپنے حلقۂ احباب کو ٹٹولا، تو یہ بات عیاں ہوئی کہ ان کے ساتھ یہ سب دھوکے میں ہوجاتا ہے۔
ایک صاحب روزصبح سویرے اپنے دفتر پہنچ جاتے تھے، تو ایک دن ایک ساتھی نے دریافت کیا: بھئی، آپ اتنے سویرے کیسے تیار ہوجاتے ہیں؟ اُس صاحب نے جواب دیا کہ اُن کی دو بیویاں ہیں۔ ایک ناشتہ تیار کرتی ہے، تو دوسری کپڑوں پر اِستری پھیرتی ہے یا جوتے پالش کرتی ہے۔ یوں فوراً تیاری ہوجاتی ہے۔
سننے والے ساتھی کو بھی بات بھا گئی کہ اُن کی حالت تویہ تھی کہ
جاگ جائے نہ کہیں چاند کی آہٹ سن کر
لوریاں دے کے سمندر کو سلا رکھا ہے
اُس نے بھی دوسری شادی رچائی اور صبح سویرے وہ بھی دفتر پہنچنے لگے، لیکن راز پاگئے کہ علی الصباح دونوں بیگمات میں لڑائی سے تنگ آکر گھر سے نکلنے ہی میں بہتری ہے۔
ایک شادی شدہ جوڑا خود کو باعثِ نصیحت و عبرت سمجھتے ہوئے یوں فرماتا ہے: ’’ہماری حالت دیکھ کر تو کوئی بھی کنوارہ اپنی کنوارے پن کو دوام بخشنا پسند کرے گا۔‘‘
ہم نے تو کئی مرتبہ دل ہی دل میں بآوازبلند یہ اعلان کیا ہے کہ بیگمات کے ستائے ہوئے شوہروں کی انجمن ہو، لیکن کوئی سنتا ہی نہیں۔ ہم نے تو اس لیے ایک نام بھی تجویز کیا ہے: ’’انجمنِ تحفظِ حیاتِ شوہراں۔‘‘
لیکن وہ کیا ہے کہ باقاعدہ اعلان کرنا ہمارے بس میں نہیں۔ کیوں کہ ہم اپنے گھر کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے، یعنی اپنے ماحول میں مزید ناچاقی کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے۔
آخر ہم بھی ایک میاں ہیں، مطیع اور فرمانبردار نہ سہی، تو صابروشاکر اور امن پسند ہی سہی۔

…………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے