325 total views, 1 views today

مجھے جب کہا گیا کہ ایک مریض کو دیکھنا ہے، تو میں معمول کا مریض سمجھ کر چلا آیا کہ مریض بیمار ہوگا، بات چیت کرتا ہوگا، درد کا اظہار کرتا ہوگا یا اپنی بیماری کا حال بتاتا ہوگا، لیکن یہاں میں نے اس کے بالکل اُلٹ دیکھا۔ پورے کمرے میں تعفن زدہ بدبو پھیلی ہوئی تھی۔ اتنی بدبو کہ برداشت سے باہر تھی۔ اُوپر سے ہزاروں کی تعداد میں مکھیوں نے پورے کمرے کو اور بھی بدبو دار بنا دیا تھا۔ میں صبر اور برداشت کی پوری کوشش کررہا تھا، لیکن ایسی بدبو اور غلیظ زدہ منظر کہ جان ہی نکلتی تھی۔ میرے سامنے کالا سیاہ لاش نما انسان ہڈیوں کا ڈھانچہ پڑا تھا اور ہڈیوں کے جال کو سیاہ کمبل میں لپیٹا گیا تھا۔ منھ کھلا تھا جس سے مریض سانس لے رہا تھا۔ مکھیاں آزادی سے اس کے کھلے منھ کے اندر تیز رفتاری سے آجارہی تھیں۔ کسی خوفناک پُراسرار بیماری نے اس کو گھن کی طرح چاٹ لیا تھا۔ لاش نما انسان بے حس و حرکت پڑا تھا اور اس کے درمیان سانس کا رشتہ تھا۔ اگر سانس چل نہیں رہی ہوتی، تو گھر والے کب کے اس بدبودار انسان کو منوں مٹی تلے دفن کرچکے ہوتے۔ مریض کی حالت بتارہی تھی کہ اُس نے بہت بڑا گناہ کیا ہوگا یا اس نے ربِ کریم کو بہت بڑی نافرمانی سے ناراض کیا ہوگا۔ اس شخص کو لوگوں کے لیے باعثِ عبرت بنا کر رکھ دیا گیا تھا۔ خوف اور پریشانی سے خاندان والے بھی چلتی پھرتی لاشیں نظر آرہے تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں اس طرح خوفناک مریض نہیں دیکھا تھا کہ موت بھی اس کو قبول کرنے سے انکاری تھی۔ ہر گھر میں اس کی باتیں ہورہی تھیں۔ میرے اعصاب نارمل ہوئے، تو میں نے گھر والوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ اس کا نام سن کر میں لرز گیا۔ کیوں کہ یہ اپنے علاقے کا نامور زمیندار اور چوہدری تھا۔ اس کی بوسکی کی سوٹ، راڈو گھڑی، اس کی متکبرانہ چال، بدمعاشی اور غرور سے سارا علاقہ واقف تھا۔ بہت ساری زمینوں، دولت اور طاقت پر اس کو انتہائی غرور تھا۔ وہ طاقت اور دولت کے نشے میں بے بس انسانوں کو جانور سمجھتا تھا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دن یہی چوہدری صاحب طاقت اور دولت کے غرور میں فرعون بنا پلنگ پر براجمان تھا۔ اس کے سامنے ایک پچاس سالہ عورت اپنی چودہ پندرہ سالہ بیٹی کے ساتھ زمین پر مجرموں کی طرح سر جھکائے بیٹھی تھی۔ مجبور عورت بار بار ہاتھ جوڑے معافی مانگ رہی تھی۔ اپنے ہاتھ اس فرعون نما شخص کے پاؤں پر رکھتی اور سر سے دوپٹا اُتار اس کے سامنے رکھتی، لیکن رحم کی بجائے وہ غصہ سے اور بھی دھاڑتا۔ میں اور میرے دوست آگے بڑھے، تو وہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا۔ کیوں کہ یہ صاحب میرے والد اور بھائیوں کو جانتا تھا۔ ہمیں دیکھ کر بے بس عورت نے ہماری منتیں شروع کیں کہ چوہدری سے ہمیں معافی دلا دیں۔ ان کا جرم یہ تھا کہ معصوم بچی نے چوہدری کے باغ سے تربوز توڑا تھا۔ اس کی سزا چوہدری نے یہ تجویز کی تھی کہ یہ بچی شام تک اس کے کھیتوں میں کام کرے گی۔ معصوم بچی کا رنگ خوف سے پیلا ہوچکا تھا۔ کیوں کہ یہ غلیظ کتا اس معصوم ننھی پری کو ہوس بھری شیطانی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ معصوم بچی بار بار اپنے ماں کے پیچھے چپ رہی تھی جب کہ یہ بار بار اس کو پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کمینے انسان کی فطرت سے سارا علاقہ واقف تھا اور یہ بہ طورِ شرابی، کبابی اور زانی کے کافی شہرت رکھتا تھا۔
بے بس عورت اور معصوم بچی کی حالتِ زار پر ہمارے کلیجے پٹھے جا رہے تھے۔ ہم دوستوں نے چوہدری سے کہا کہ آپ انہیں چھوڑ دے۔ خربوزے کے پیسے لے لیں یا اس کے حصے کا کام ہم کریں گے۔ چوہدری نے انکار کر دیا۔ ہم نے کہا، ٹھیک ہے۔ ہم رات تک یہاں ٹھہریں گے، تاکہ ہم اس عورت اور اس کی بچی کی نگرانی کریں، لیکن اس نے ہمیں ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی۔ جب اس نے ہمارے ارادے کو دیکھا، تو عورت اور اس کی بچی کو جانے دیا۔ جب وہ جارہی تھیں تو اس نے نہایت تحقیر آمیز لہجے میں کہا کہ ہمارے علاقے کی عورتیں ہمارے بھیڑ بکریاں ہیں۔ آج یہ چلی گئیں، تو بہت جلد ہمارے قبضے میں ہوں گی۔ اس کی آنکھوں میں ہوس اور شیطانی آگ رقص کر رہے تھے۔
وقت گزر گیا، پھر جب رگوں میں دوڑتا خون سرد ہوا اور بڑھاپے اور بیماری نے جسم کو چاٹ لیا، تو آج یہ مردہ لاش کی طرح پڑا تھا۔ گھر والے اور اہل دیہہ اس کی موت کی دعائیں کررہے تھے۔ موت کا عذاب اس پر اس بری طرح اور برق رفتاری سے وارد ہوا کہ اس کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔ وہ جو ساری زندگی مخلوقِ خدا پر ظلم کرتا رہا۔ آج غلیظ مکھیاں اس پر گندگی بکھیر رہی تھیں اور یہ ایک مکھی کو اپنے سے اُڑانے کے قابل نہ تھا اور گھر والے اس کی موت کا وظیفہ پڑھ رہے تھے۔
جوانی، طاقت، اقتدار اور دولت کے نشے میں عموماً انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس سے پہلے بھی اس دھرتی پر اس سے زیادہ طاقتور اور دولت مند حکمران گزرے ہیں لیکن آج ان کے اجسام کے ذرات مٹی میں مل چکے ہیں اور ہڈیاں لوگوں کے پاؤں تلے دھکے کھاتی پھرتی ہیں لیکن درحقیقت موت جب وار کرے، تو بادشاہ کو تخت و تاج سمیٹنے کا بھی موقع نہیں دیتی۔ (ماخوذ)

……………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے