352 total views, 1 views today

قبیلے کا نام “ایمش” (Amish Tribe) ہے اور یہ امریکہ کا انتہائی دلچسپ قبیلہ ہے۔ یہ لوگ آج سے دو ڈھائی سو سال پہلے کی صنعتی انقلاب کے ردِعمل میں سامنے آئے۔ صنعتی انقلاب نے سائنس کو گہری بنیادیں فراہم کیں۔ شہریوں کا زراعت پر انحصار کم ہونے لگا اور زیادہ سے زیادہ کارخانے، صنعتیں، ملز اور فیکٹریاں لگانے کے رجحان میں اضافہ ہوا۔ اس اضافے نے انسان کو امیر بنا دیا۔ دولت کی ریل پیل ہونے لگی اور “اسٹیٹس کو” برقرار رکھنے کے لیے انسانوں کے بیچ ایک ایسا مقابلہ شروع ہوا جس نے رشتوں کے تقدس کو کافی حد تک پامال کیا۔ یہ انقلاب انسانی تاریخ کی وہ تبدیلی ثابت ہوئی جس نے انسان کو زراعت، بیلچہ اور درانتی سے اُٹھا کر انڈسٹری، آگ اور دولت کے سامنے بٹھا دیا۔ دولت اور انڈسٹری کے ملاپ کا سب سے زیادہ فائدہ سائنس کو ہوا جس نے اتنی ترقی کی کہ آج سائنس بھی اپنی ترقی پر حیران ہے لیکن دولت اور انڈسٹری کے ملاپ کا سب سے زیادہ نقصان انسان کو ہوا۔ انسان معاشرے، اجتماعیت اور دوسرے انسانوں کو کھونے لگا۔ یہ رشتوں کے بوجھ، رشتہ داری کی جھنجھٹ، عبادت خانوں کے تجسس اور تاریخ کے عبرتناک فیصلوں سے توجہ ہٹانے لگا۔ سائنس نے قدیم یونان میں آنکھ کھولی لیکن اسے معراج تک امریکہ نے پہنچایا۔ امریکہ میں سائنس معراج تک پہنچ گیا لیکن انسان اور معاشرہ تاریخ کے پست ترین مقام تک پہنچ گئے۔ امریکہ نے صحراؤں میں گنا اُگا دیا۔ چاند اور مریخ پر پلاٹنگ کی۔ چاند تک ٹرانسپورٹ سسٹم بنا دیا۔ سورج کو ایندھن فراہم کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ قریبی سیاروں میں جنگلات اُگا کر وہاں پولو اور گالف کھیلنے کی تیاری کر رہا ہے اور یہ لوگ بڑھاپے جیسی بیماری کے لیے علاج ڈھونڈ رہے ہیں۔ پھر انسان ستّر اسّی سال تک جوان رہنے کے بعدجوانی کے عالم میں دنیا سے رخصت ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
لیکن ان تمام کارناموں کے باوجود امریکہ میں اس وقت اسّی لاکھ لوگ خودکشی کے بارے میں سوچ رہے ہیں،کیوں؟ کیوں کہ انسان سائنس میں بہت آگے نکل گیا لیکن زندگی کی دوڑ میں یہ لنگڑا بن گیا۔ یہ زندگی اور معاشرت میں بہت پیچھے رہ گیا۔ یہ زندگی کی دوڑ میں قدیم تاریخ سے بھی پیچھے چلا گیا۔ دنیا میں اس وقت چھے ارب انسان رہ رہے ہیں اور یہ چھے ارب لوگ مادہ پرستی کے گھوڑے پر سوار ہیں لیکن انھیں منزلوں کی خبر نہیں۔ یہ لوگ کب تک دوڑ لگائیں گے؟ سرِ دست ہمارے پاس اس سوال کا جواب نہیں۔ ہمیں بس اتنا معلوم ہے کہ دنیا کا صرف ایک قبیلہ اس دوڑ سے باہر ہے اور اُس قبیلے کا نام ہے ’’ایمش‘‘۔
ایمش قبیلے کے لوگ امریکہ کے اوہیو (Ohio) اور انڈیانہ (Indiana) ریاستوں میں رہ رہے ہیں لیکن یہ لوگ دنیا کے چھے ارب انسانوں سے مختلف ہیں۔ ایمش لوگ امریکہ کے شہری ہونے کے باوجود ساینس اور زندگی کی جدید ترین ضرورتوں سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ ایمش لوگ موٹر کار، موٹر بائیک اور ریل گاڑی کی بجائے آج بھی گھوڑا گاڑی استعمال کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جدت پسندی انسان کو انسانیت کے معراج سے گرا دیتی ہے اور سماجی زندگی افراتفری اور بے چینی کی نذر ہو جاتی ہے۔ یہ لوگ امریکہ میں رہ کر بھی بجلی استعمال نہیں کرتے اور نہ ہی امریکی یونیورسٹیوں اور کالجوں سے جدید تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان کے پاس موبائل ہے، لیپ ٹاپ ہے، ٹیبلٹ ہے، ٹی وی سیٹ اور نہ ہی نکولس کِڈمین کی فلمیں۔




ایمش قبیلہ کی خواتین اپنی مخصوص لباس میں۔ (Photo: amishamerica.com)

ایمش لوگ ای میلز، چیٹنگ، سوشل میڈیا اوربینکنگ جیسے شاہکاروں سے بھی خائف ہیں۔ شائد جدید دنیا سے دوری کی وجہ سے یہ لوگ اس سیارے کے وہ چند لوگ رہ گئے ہیں جو درگزر کرنے، صبر کرنے اور ہاتھ ہولا رکھنے میں ہمیشہ پہل کرتے ہیں۔
چند سال پہلے ایمش قبیلے کے فرد کو کسی دوسرے فرد نے قتل کیا۔ ایمش قبیلے کے لوگ شام کے وقت قاتل کے گھر چلے گئے۔ اُسے معاف کیا اور واپس آگئے۔ بہر حال ہم ایمش لوگوں کی تمام خوبیوں اور خامیوں کو ایک کالم میں بیان نہیں کر سکتے، تاہم میں آپ کو ایمش لوگوں کی ایک خامی کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ ایمش لوگ آہستہ آہستہ جدید زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ اِن کے بچوں نے چوری چپکے موبائل فونز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ یہ لوگ اب آہستہ آہستہ سنیما ہالز اور تھیٹر بھی جاتے ہیں اور ای میلز وغیرہ بھی استعمال کرتے ہیں۔ ایمش لوگوں کی یہ تبدیلی امریکی حکومت اور امریکی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ کیوں کہ امریکی حکومت اس قبیلے کے لوگوں کو پُرانے روایتی انداز میں دیکھنا چاہتی ہے۔ یہ چاہتی ہے کہ ایمش لوگ بجلی، ٹیلی فون، موبائل اور انٹرنیٹ سے دور رہ کر اپنی انفرادی خاصیت کو برقرار رکھیں۔
میرا خیال ہے کہ امریکہ کی یہ پریشانی بے بنیاد ہے۔ کیوں کہ جنوبی ایشیا میں ایک ملک “پاکستان” ایسا بھی ہے جہاں کے عوام کو 1947ء سے بجلی کی سہولت میسر نہیں۔ کراچی اس ملک کا معاشی دارالخلافہ ہے لیکن کراچی شہر میں پانی جیسی بنیادی سہولت کے نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں لوگ موت کی وادی میں چلے گئے۔ اس ملک میں لیڈرز ہیں اور نہ لیڈر شپ ہی ہے۔ چنانچہ ہزاروں لاشوں کے اوپر کھڑے ہو کر بھی یہ لوگ سیاست کرتے ہیں اور اپنی کوتاہیاں دوسروں کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں تعلیم حاصل کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور جو لوگ موت کی دعوت سے بچ کر بڑے بڑے عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں، وہ اس ملک کے جاہل ترین لوگ ثابت ہو جاتے ہیں۔ روٹی، کپڑا اور مکان اِس ملک کا مقبول ترین نعرہ ہے لیکن آج تک یہ ثابت نہ ہو سکا کہ یہ نعرہ ان حقوق کو چھیننے کے لیے لگایا گیا تھا یا دلانے کے لیے؟
اہلِ امریکہ! آپ فکر نہ کریں، کیوں کہ اُنیس کروڑ “ایمش” اب بھی جنوبی ایشیا میں زندہ ہیں۔ یہ وہ ایمش ہیں جو کراچی جیسے شہر میں بھی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے جان سے گزر جاتے ہیں لیکن اگر یہ دوبارہ زندہ ہو جائیں، تب بھی یہ الطاف بھائی، آصف بھائی اور نواز بھائی کو ووٹ دیں گے۔ کیوں کہ یہ تینوں وہ سیاست دان ہیں جو کئی صدیوں تک ایمش کو ایمش رکھ کر ثابت کر سکتے ہیں۔ شاید یہ لوگ حلف بھی اِس بات کی لیتے ہیں کہ پاکستانی ایمش کو ہمیشہ ایمش بنائے رکھنا ہے۔ انھیں کبھی پاکستانی نہیں بنانا۔
اہلِ امریکہ! آپ فکر چھوڑ دیں، کیوں کہ جب تک یہ تینوں زندہ ہیں پاکستانی ایمش کو کوئی خطرہ نہیں اور یہ بات تو آپ ہم سے بھی بہتر جانتے ہیں کہ اِس ملک میں عام آدمی کل بھی مر جاتا تھا اور آج بھی مر جاتا ہے، لیکن بھٹو، آصف علی زرداری، الطاف بھائی اور نواز بھائی کل بھی زندہ تھے اور آج بھی زندہ ہیں۔

……………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے