473 total views, 1 views today

پشین کے بعد قلات یہاں کا صاف ستھرا، کھلا ڈھلا اور بظاہر پُرسکون شہر ہے۔ تقسیمِ ہند تک قلات ایک خود مختار ریاست کے طور پر نقشے پر موجود تھا، جو بلوچستان کے چار خود مختار ریاستوں میں سب سے بڑی ریاست تھا۔ قصہ مختصر، تیس مارچ انیس سو اڑتالیس کو پاکستانی افواج نے قلات پر حملہ کرکے اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔ بلوچوں کے خلاف یہ پہلی فوجی کارروائی تھی، جس سے بلوچوں اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی شروعات ہی نفرت انگیزی سے ہوئی اور شر انگیزی اور ایک نہ ختم ہونے والی کشمکش پر منتج ہوئی، جو اَب تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ اس سے جو سبق ملتا ہے، کاش متعلقہ ادارے طاقت کے گھمنڈ سے نکل کر زمینی حقائق کو دیکھیں اور پرکھیں اور ’’لیبل‘‘ لگانے کی بجائے عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر اُن کی محرومیوں، پریشانیوں اور مسائل کا کوئی دیرپا حل نکالیں۔ کوئی خواہ مخواہ پاگل تو نہیں۔ اُسی سال یعنی اُنیس سو اڑتالیس کے پندرہ اپریل کو خان آف قلات احمد یار خان کو ’’خانِ خاناں‘‘ کے خطاب سے محروم کیا گیا اور قلات کو پولی ٹیکل ایجنٹ کے ’’نرغے‘‘ میں دیا گیا۔ ماشاء اللہ ایوب خان کے مارشل لا میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ انہوں نے دو قدم آگے بڑھ کر خان آف قلات کو چار سال کے لیے پسِ زِنداں رکھا، ا ور وہ بھی لاہور میں۔

خان آف قلات احمد یار خان، بانیِ پاکستان محمد علی جناح کے ساتھ۔

کہتے ہیں کہ میرنصیرخان نوری 1841ء تا 1857ء (سولہ سال) قلات کے ہر دلعزیز حکم راں رہے ہیں۔ اُن کی طرزِ حکم رانی کو اب بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔ اُن کو خانِ اعظم کا خطاب دیا گیا تھا۔ ہم نے پڑھا کہ انہوں نے مرہٹوں کے خلاف مشہور پانی پت کی لڑائی جس میں لغاری، مزاری، مری اور بگٹی قبائل بھی شامل تھے، میں حصہ لیا۔ کہتے ہیں کہ اس جنگ میں مرہٹوں کا خاتمہ ہو گیا۔ اُن کی طاقت توڑ دی گئی اور ہندوستان پر ان کی حکومت کی خواہش اور شاہی مسجد دہلی کے منبر پر رام کی مورتی لگانے کا خواب بکھر گیا۔
اِس وقت قلات سات اضلاع کا ڈویژنل ہیڈ کورٹر ہے۔ قلات، مستونگ، خضدار، اواران، خاران، وارشک اور ضلع لسبیلا۔ رقبے کے لحاظ سے بھی قلات بہت وسیع ہے۔ اس علاقے میں بلوچی، فارسی اور بروہی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ قلات، پہاڑی علاقوں اور وادیوں پر مشتمل ہے۔ کھیتی باڑی پر لوگوں کا انحصار زیادہ ہے۔ پھلوں کے باغات اور سرسبز فصلات سے پوری وادی ہری بھری نظر آتی ہے۔




قلات میں ڈوبتی شام کا ایک حسین منظر (Photo: Pakistan & Gulf Economis)

ایف سی سنٹر کے آس پاس کے حدودِ اربعہ کے علاوہ لکھنے والوں کو جو بھی در و دیوار ملا، وہاں حکمِ حاکم کے مطابق پبلک کی ’’رضا و رغبت‘‘ سے اور اپنی دل لبھائی کے لیے یہ نعرے درج کیے، تاکہ سند رہیں اور بوقتِ ضرورت کام آئیں۔’’اے وطن تو صدا رہے سلامت‘‘، ’’دل دل پاکستان‘‘، ’’میرا پیغام،پاکستان۔ میرا انعام پاکستان‘‘، ’’جشنِ آزادی مبارک‘‘، ’’ہماری شان، پیارا پاکستان‘‘ وغیرہ، وغے رہ، و غ ے ر ہ۔
چاروں اطراف افسردہ ماحول دیکھ کر ٹوٹے دل اور تر آنکھوں کے ساتھ خان آف قلات کے ویران محل سے نکلتے ہیں۔ کتنی عارضی ہیں یہ خانیاں، یہ نوابیاں، یہ بادشاہیاں، یہ رعب داب، یہ دولت، یہ طاقت۔ قارون کتنے قیمتی خزانوں کا مالک تھا۔ اُس کی دولت کے انبار کا تذکرہ ہوتا، تو لوگ حسرت زدہ ہوتے۔ اُس کے خزانوں کی چابیاں اُٹھانے کے لیے کئی ملازمین دست بستہ موجودرہتے۔ کہیں جاتا، تو ایسے شان و شوکت اور دھوم دھام سے نکلتا کہ دُنیا ایک جھلک دیکھنے کو اُمڈ آتی۔ وہ دولت کے گھمنڈ میں اِترا گیا، تو گھر سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔تب کو ئی بندہ ایسا نہ تھا جو اُسے اللہ کے عذاب سے بچا لیتا۔ قلات کے ساتھ بہت کچھ ہو چکا اور بہت کچھ ہو رہا ہے۔ تاریخ کو یاد رکھنے سے زیادہ تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت شائد زیادہ ہے، لیکن کوئی سنے تو!
اب چلئے خضدار کی جانب، جو قلات سے دو سوا دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ شکر ہے کہ مین سڑکیں تو اچھی ہیں، یہاں اور ہے کیا؟ بھاگم بھاگ کوئی تین گھنٹے کا سفر ہے۔ یہ کراچی سے چار سو اور کوئٹہ سے کوئی تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہی خضدار کبھی قلات کا حصہ ہوا کرتاتھا، اب ترقی کی منازل طے کیے بغیر خود بھی ضلع کے نام پر مسند نشین ہوا اور اپنے بغل بچے آواران کو بھی اسی مسند پر لا بٹھایا۔ یہاں کے اہم قبائل میں مینگل، زہری، بزنجو، خدرانی، ساسولی اورشاہوانی وغیرہ شامل ہیں۔ کوئٹہ پختونوں اور بلوچوں کا مشترکہ شہر ہے ، جب کہ خضدار بلوچوں کا بڑا اور صوبے کا دوسرا بڑاشہر مانا جاتاہے۔ مقابلتاً بہتر منصوبہ بندی کی وجہ سے یہ شہر بڑا پیارا لگ رہا ہے۔ وسیع و عریض سڑکیں، کھلے ڈھلے کوچے، صاف ستھرا بازار، منظم ٹریفک، باوقار چلتے پھرتے راہگیر، شہریوں کی شکلوں اور پوشاک سے خوشحالی عریاں، پاکستان کا پہلا شہر جو باقاعدہ طور پر اپنے سرداروں اور نوابوں کی تصاویر وں سے مزین جیسے چیف آف جھالوان نواب ثناء اللہ زہری کی تصویر بڑے دُور سے اپنے رعب ودبدبہ کا احوال ’’مونچھوں سے نوابی قائم ہے‘‘ کے روپ میں ڈیلیور کر رہا ہے۔ کچھ فاصلے پر عطاء اللہ خان مینگل کی تصویر سنجیدگی کے پہاڑ اپنی پیشانی پر اُٹھائے تلملا رہی ہے کہ ہم کسی سے کم ہیں کیا؟ پھر اللہ تعالیٰ بخیر و عافیت رکھے اپنے بزنجو صاحب کی تصویری بات کی باری آتی ہے، لیکن پتا نہیں وہ کیوں احساسِ کمتری کے حصار میں محصور لگتے ہیں؟ تصویری سلسلہ بخیر وخوبی انجام پاتا ہے جب سرزمینِ نواباں سے ہم جیسے ’’نامی گرامی سیاح‘‘ خالی ہاتھ و خالی پیٹ نکلتے ہیں۔ گئے وقتوں کی بات ہے لیکن مشہور سیاح ابنِ بطوطہ جہاں بھی جاتے، وہاں کے نواب و حکمران اُن کی شان دار مہمان نوازی اور ضیافت کرتے۔ ڈھیروں انعامات و اکرامات سے نوازتے اور بڑے تپاک سے اُس کو رخصت کرتے۔ یہ بلوچوں کے کیسے نواب و سردار ہیں جو تصاویر کے ذریعے دیدار توکرواتے ہیں، لیکن کسی کو ایک وقت کی روٹی دینے کے بھی روادار نہیں۔ اُن کی نوابی ہم تب مانتے جب ان تصاویر کے عین سامنے کوئی دُنبہ، کباب شباب، کوئی روش ووش کی ڈش، کوئی مٹن پلاؤپڑا ہوتا۔ نواب کے کارندے ہاتھوں ہاتھ لے کر ہماری عزت افزائی فرماتے، کچھ کھلاتے پلاتے اور نواب کے ’’گُڈ وِ شز‘‘ کے سائے تلے ہمیں رخصت کرتے۔ بھلا نوابی ایسی ہوتی ہے، جو یہ کرتے ہیں؟ ایسی فری ’’پبلسٹی‘‘ ہمیں منظور نہیں۔ بس جی، خضدار سے ’’اَنڈر پروٹسٹ‘‘ بھوکے پیاسے نکلتے ہیں۔ راستے میں ہائی وے پر واقع چند قصبوں اور شہروں جیسے سوراب، وَڈھ، بیلہ اور اوتھل وغیرہ سے گذرتے تو ہیں، لیکن مسلسل سفر ،شدیدتھکاوٹ اور ’’ہنگر سٹرائیک‘‘ کے باعث اِن سے متعلق کوئی معلومات حاصل کرتے ہیں، دوستوں سے کوئی بات کرتے ہیں اور نہ سڑک پرنظر ہی ڈالتے ہیں۔ آنکھیں بند کرتے ہیں، کبھی کھولتے ہیں، کبھی گردن کو فری موڈ میں چھوڑتے ہیں، کبھی ’’کھوپڑے‘‘ اور ہاتھ پیروں کو۔ خدا خداکرکے ایک جگہ گاڑی کھڑی ہوتی ہے، تو آنکھیں نیم وا کرتے ہیں۔ ایک بڑی چوک کے عین بیچ میں سائن بورڈ پر پژمُردہ سی نظر یں پڑتی ہیں، جس پر جلی حروف میں زیرو پوائنٹ لکھا ہوتا ہے۔ یہاں سے سیدھی سڑک کراچی کو نکلتی ہے جو کوئی سو کلو میٹر دورہے۔دائیں طرف مکران کوسٹل ہائی وے ہے جو تقریباً ساڑھے چھے سو کلومیٹر طویل ہے۔ یہ ہائی وے ہنگول نیشنل پارک، کُنڈ ملیر، اورماڑہ اور پسنی سے ہوتی ہوئی گوادر تک پہنچتی ہے۔

خضدار کے ایک سیاحتی مقام کا منظر (Photo: balochistaninfo.blogspot.com)

رات کے نو بج رہے ہیں۔ ہم سب ابنِ بطوطہ کے بھتیجے بُرے دہشت گردوں کے شر سے پناہ مانگنے ہوئے دل ہی دل میں بسمِ اللہ پڑھ کردائیں طرف مڑتے ہیں۔
اس طویل ’’کوسٹل ہائی وے‘‘ پر پٹرول پمپ نظر آتا ہے، نہ کوئی ڈھنگ کا ہوٹل یا ریسٹورنٹ۔ ہاں سڑک پر مختلف علاقوں کے پہچان کے لیے نام اور فاصلوں کے سائن بورڈز لگے ہوئے ضرور نظر آتے ہیں، جو سیاحوں کو سفر میں آسانی فراہم کرتے ہیں۔ کہیں کہیں چپر ہوٹل موجود ہیں، جہاں کھانے کوچکن یا مچھلی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا۔ اس پکی سڑک پر رات کے وقت ٹریفک رواں دواں تو نہیں، البتہ دو چار بڑے بڑے کوچز گوادر اور تربت کی طرف جاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ کسی گزارہ حال ریسٹورنٹ کی تلاش میں جگہ جگہ رُکتے ہیں، بے جان کوئلہ کے اوپر رکھی ہوئی پتیلیوں میں پڑے ہوئے سالن کا ٹیڑھی نظر سے جائزہ لیتے ہیں۔ طالع مند خان ویسے ہی
دِل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
کے واسطے ’’روش‘‘ کا پوچھتے ہیں، شوکت اورافتخار مٹن کڑھائی ا وردیسی مرغی کا پوچھتے پاچھتے اور چلتے بنتے ہیں۔ آخرِکار ایک ہوٹل ایسا مل جاتا ہے جہاں ایک اونچے تختے پر بیٹھ کرکسی ’’نامعلوم نام‘‘ کے سالن کے ساتھ روٹی زہر مار کرتا ہے اور قافلہ پھر چل پڑتا ہے۔ گوادر میں منتظر میزبان مہربان ایک جگہ کا نام بتاتے ہیں، راستے میں جہاں ہم نے رات گزارنی ہے۔’’کُنڈ ملیر‘‘ خدا خدا کرکے کوئی ایک بجے یہاں پہنچتے ہیں۔ تین گھنٹے کا راستہ رات کے اندھیرے میں طے کرتے ہیں۔ پتا ہی نہیں چلتاکہ کہاں کہاں اور کن علاقوں سے گزرے ہیں۔ ایک گیسٹ ہاؤس میں گاڑیاں پارک ہوتی ہیں، جہاں سمندر کی معیت میں رات گزارنے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ چاند کی پژمُردہ سی روشنی میں کمرے کی کھڑکی سے ہمسائے سمندر کی لہروں کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن لہریں دیدار کی بجائے،شور سے کانوں کو اور ٹھنڈ سے جسم کوگدگداتے ہیں۔ ہم دریائے خیالی میں اس شور سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنی متعین کردہ حدود و قیود سے تجاوز نہ کرے۔ آج کی رات کوئی سونامی لانے سے قطعی پر ہیز کرے۔ یہاں ہم اس لیے نہیں آئے ہیں کہ مچھلیوں کی خوراک بن جائیں بلکہ اس لیے آئے ہیں کہ واپس بھی جانا ہے۔ بھاری بھر کم نیند سے سویرے سویرے سب کو جگاتے ہیں، نیند کا دشمن، یہ میرِ کارواں۔ ہم اُٹھتے ہی آؤ دیکھتے ہیں نہ تاؤ، دوڑ کرساحل کی طرف نکلتے ہیں۔ کنڈملیر، سمندر کنارے ہنگول نیشنل پارک کی گود میں پڑا ہوا لگتا ہے۔ کراچی سے آئے ہوئے سیاح اِس دشت کو اور اس ساحل کو زندگی کا لطف فراہم کرتے ہیں۔ آپ نے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کبھی سُنی ہے؟ کتنی تسکین زدہ سی سرگوشیاں ہوتی ہیں؟ ایسی ہی سرگوشیاں اور کانا پوسیاں ہیں، یہاں کے ’’سراؤنڈنگز‘‘ میں خواتین اور اُن کے ’’سلاطین‘‘ کے درمیان۔ سکول اور کالج کی بسیں آس پاس کھڑی ہیں۔ طلبہ و اساتذہ کی ٹولیاں، اِدھر اُدھر گھوم پھر رہی ہیں۔ کوئی ساحل پر ننگے پاؤں چلنے کا مزہ لے رہا ہے، تو کوئی لہروں کی موجوں میں ہلکان ہونے کے تجربہ سے خود کومعمور کر رہا ہے، کوئی ریزارٹ کے کینٹین میں پیٹ پوجا کر رہا ہے، توکوئی ’’ناجائزجوڑا‘‘ وقتی طور دور کہیں دور نکل کر مستی میں معمور، ’’مرنجاں مرنجی‘‘ میں ڈوب کر بھول جاتا ہے کہ حاضر گل نامی شخص کی تیز دھار اکھیوں کے جھروکے،مائکرو سکوپ سے بھی زیادہ گہرائی کے ساتھ فحاشی کے عمل کی مانیٹرنگ کر سکتی ہیں۔
اکھیوں کے جھروکوں سے
میں نے دیکھا جو سانورے
تم دور نظر آئے بڑی دور نظر آئے
بند کر کے جھروکوں کو
ذرا بیٹھی جو سوچنے
من میں تمہی مسکائے
من میں تمہی مسکائے
(جاری ہے)

………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے