439 total views, 1 views today

کوہِ سلیمان کے سامنے آتے ہی موسم صاف ہونا شروع ہوتا ہے، تو ذہنی پراگندگی کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ مغل کوٹ سے آگے سڑک پر کام شروع ہے۔ بھاری مشنری کا استعمال ہو رہا ہے۔ سڑک کافی حد تک ٹھیک ہے۔ جنوبی پختون خوا کی وادی ژوب، پاکستان کی وسیع و عریض صوبے بلوچستان کا نقطۂ آغازہے۔ یہ صوبہ اپنی وسعت ،جغرافیائی محلِ وقوع، وسائل اور ثقافت اور ہاں ’’بد امنی‘‘ کی وجہ سے دنیا بھرمیں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ غربت اور محرومی کے ڈسے ہوئے یہاں کے لوگ مخلص، سادہ،مہمان نواز اور اپنی روایات کے اَمین ہیں۔ کوئی وعدہ کرتے ہیں، تو اُس کو مرتے دم تک نبھاتے ہیں۔ رسم و رواج میں سادگی بھی ہے اورآسانیاں بھی۔ سونے سمیت دیگرقدرتی وسائل سے لدے پندھے، ساحلوں کی سر زمین، اِس آدھے پاکستان کے زیادہ تر لوگوں کی زندگی بڑی اجیرن ہے۔ ’’اجیرن‘‘ سے اگر لفظ ’’ہولناک‘‘ زیادہ وزن دار ہو، تو اِسے ہولناک بھی کہہ سکتے ہیں۔ اُن میں ستر فی صد سے زیادہ لوگ دو وقت کی روٹی تک کو ترستے ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں کے لوگ پینے کے صاف پانی کو رو رہے ہیں، یہاں والے صاف کیا، گندے پانی کی دستیابی تک کو ترستے ہیں۔ سترفیصد لوگوں خصوصاً ’’بلوچوں‘‘ کے پاس پہننے کو جوتوں کا ایک اور کپڑوں کا دوسرا تیسراجوڑا اگر موجودبھی ہو، تو سمجھو کہ ’’سالا‘‘ خوش حال گھرانے سے تعلق رکھتا ہے، وگرنہ اکثر لوگ تو پا پیادہ ہی چلتے رہتے ہیں اور چلتے چلے جاتے ہیں۔ وہ مٹی کے نکے نکے کچے کچے گھروندوں میں رہتے ہیں، جس کے چھوٹے دروازوں میں حالتِ رکوع میں ’’اِنٹری‘‘ ممکن ہوتی ہے۔ اُس کے کسی کونے کھدرے میں ایک چھوٹا سا دھبا دیکھا جا سکتا ہے، جو روشن دان کے نام پر ایک سوراخ ہوتا ہے۔ یہاں کے باسی دن کو بھیڑ بکریاں چراتے ہوئے صحرا کی خاک چھانتے ہیں اور دشت کی ریت نگلتے ہیں۔ بچوں کی مناسب تعلیم کا کوئی تصور ہے یہاں، نہ بیماری کی صورت میں صحت یاب ہونے کی کوئی اُمید، سوائے موت کے، جس کو ’’ویلکم‘‘ کہنے کے سوا کوئی آپشن ہے ہی نہیں۔ روزگار کا یہ عالم ہے کہ خواتین اور بچے بکریوں کے ریوڑ وں کے پیچھے لگے ہوتے ہیں اور حضرات ایرانی پیٹرول کے ڈرم خالی کرنے اور بھرنے کے پیچھے، لانے کے پیچھے اور لے جانے کے پیچھے۔ امن و امان کی صورتِ حال پر بات ہو، تو بلوچ علاقوں میں ہر تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر فوجی چیک پوسٹیں ہیں۔ یہ اُس صوبہ کے زیادہ ترلوگوں کا احول ہے جو پاکستان کے لیے ’’سونے کی چڑیا‘‘ ہے۔ کہنے کو اور لکھنے کوپاکستانی ریاست پچھلے پون صدی سے یہاں کے لوگوں کی تقدیر بدلنے کے پُرفریب دعوے کر رہی ہے جو ابھی تک پُرفریب اور دور کے سہانے ڈھول ہی ہیں۔ واہ رے پاکستان کے حکمرانو! واہ رے، عجیب منصوبے ہیں تیرے، جو کاغذوں میں تو ضرور ہیں، لیکن زمین پر بالکل نہیں۔
کوئٹہ تک کی باتیں توہم نے اپنے پہلے سفرنامہ ’’وادئی شال کی زیارت تک‘‘ میں بیان کی ہیں، جن کو ’’ری پیٹ‘‘ کرنے کی ضرورت نہیں۔ کوئٹہ سے کراچی روڈ پر نکلیں گے، تو آگے کی بات ہوگی۔ ہاں، کوئٹہ میں حسبِ معمول ڈاکٹر خیر محمد کاکڑ ہماری میزبانی کا شرف حاصل کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ سوبسم اللہ، ہم اتنا بڑا پلاٹون، بلا چوں و چرا، یہ شرف اُن کو عنایت کرہی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر کے علاوہ اور کون ہوگا جو اتنے ’’ڈائی وَرس‘‘ ناز اور نخروں والے مہمانوں کی متنوع ضروریات کی بجا آوری کرسکے؟ کوئی صبح گرماگرم پانی سے شاور لینے کا عادی، کوئی شاور لینے سے پہلے لانگ واک کا شوقین، بالوں کو چمکانے اور رنگنے کے لیے شیمپو اور خضاب چاہیے، کوئی ہیئر ڈرائیر کیے بغیر دن کی روشنی دیکھنے کا روادار نہیں، بیڈ ٹی کے رسیاالگ سے، کافی کے ایڈیکٹ وکرے، بعض اشراف قہوہ مانگیں، توکوئی گائے کے دودھ میں دودھ پتی تیز چائے۔ ڈبل روٹی کھانے والے الگ، سادہ روٹی مع سالن کھانے کی آرزو رکھنے والے الگ۔ کوئی دیسی گھی کا پراٹھا اور زیتون کے تیل میں پکے ہوئے آملیٹ اور کوئی پیرس کے امپورٹیڈ پنیر کے طلب گار۔ غرض ’’جتنے منھ اُتنے ڈیمانڈ‘‘ اور جتنی زُبانیں اُتنے ذائقے۔ شکر ہے کہ میزبانوں کے ہوش و حواس اب بھی بحال ہیں۔




ایران کے ساتھ بارڈر کے طفیل پورے بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی فروخت کا کاروبار عام ہے۔ (Photo: The Express Tribune)

ڈاکٹر خیر نے زراعت کے میدان میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ تین سال پہلے بھائیوں، بھابیوں اور بچوں سمیت اُن کا پورا کنبہ چوہتر نفوس پر مشتمل تھا۔ اب علم نہیں کہ نفری کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوا ہوگا؟ تین سال پہلے یہ سارے نفر ایک ہی گھر میں رہتے اور ایک ہی کچن سے کھاناکھاتے تھے۔ اب انہوں نے ایک چار دیواری کے اندر کئی گھر بنا ئے ہیں، لیکن رہنا سہنا، کھانا پینا اور اُٹھنا بیٹھنا اُسی مشترکہ نظام اور مشترکہ باورچی خانہ کے تحت ویسے کا ویسا ہے۔ ان کے خاندان کے کئی افراد پولیس، عدلیہ، سول ایڈمنسٹریشن، بلدیاتی اداروں اور کئی دوسرے محکموں میں اعلیٰ مناصب پر فایز ہیں۔ آپس میں یوں شیر و شکرکہ بندہ عش عش کر اُٹھے، کتنی پُرسکون اور سہل زندگی ہے، اس پر بات آگے بڑھا ئیں گے، تو سفر کی روداد ادھوری رہ جائے گی۔ بہر حال اُخوت، محبت اور رواداری کے جذبے دیکھنے اورڈھنگ سیکھنا ہوں، تو یہ مرنجانِ مرنج خاندان ایک مثال ہے۔ ’’دَ حاضر گل خو دَخولے برغولے نیشتہ۔‘‘ یہ ہر جگہ ’’سیلف سٹارٹ‘‘ حالت میں رہتاہوتا ہے۔ جیسے اُس کی عقل داڑھ اپنی ’’پریسکرائبڈ‘‘ جگہ سے روگردانی کرکے بیرونِ ہونٹ ڈیرہ ڈالے ہوئی ہے، ایسے ہی وہ باتوں میں بھی کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر روگردانی کرکے بولتارہتا ہے۔ اُس نے ڈاکٹر خیر کی نان سٹاپ زرعی ’’سرمن‘‘ (وعظ) سن کر اُسے ’’زراعت کے ذاکر نائیک‘‘ کا خطاب عطا کیا، تو ہم بڑے چیں بہ جبیں ہوئے۔ بھلا زراعت کے میدان میں دُنیا بھرمیں اور کون ہوگا، جو ہم سے زیادہ عالم و فاضل اور ’’نامتو‘‘ ہوگا؟ یہ تو بھلا ہو سردار کا جس نے ہمارے ٹینشن کو بھانپ کر ہماری لاج رکھی اور بھر ے مجمع میں زیتون کے ذاکر نائیک کے خطاب سے ہمیں بھی سرفراز فرمایا۔ سردار ہمارے ’’زیتون پلس شہد پلس مکھن مکسچر‘‘ فارمولے کی پبلسٹی کے روحِ رواں بھی ہیں اور اس کی ہر سطح پر ’’اِنفارمل ایڈوکیسی‘‘کا بیڑا بھی اُٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ اس پراڈکٹ کے خود بھی بڑے کلائنٹ ہیں، لیکن ’’فری‘‘ میں۔ بدلے میں دوسروں کو اس بارے ورغلانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ یہ دنیا ہے ہی ایسی، کچھ لو کچھ دو پالیسی پر چلتی ہے۔
علی الصباح کوئٹہ شہر سے نکلتے ہیں، تو کچھ ہی دیر میں، کوئٹہ کراچی روڈ پرایک نئی دُنیا سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہم نے گھروں، دیواروں، درختوں اور بازاروں میں سیاسی پارٹیوں کے جھنڈے گاڑے ہوئے دیکھے ہیں، خصوصاً بنوں اور چارسدہ میں۔ لیکن کسی فرقے کی قبروں کے اوپر جھنڈے لگانے کا رواج یہاں دیکھا۔ پتا نہیں یہ نشانی برائے پہچان ہے، کارِ ثواب ہے یا کوئی اور بات ہے۔ پر جو بھی ہے، قبرستان کی ویرانی، خاموشی اور خوف کا توڑ ضرور ہے۔ یہ جھنڈے جیسے جیسے ہوا میں لہراتے دکھائی دیتے ہیں، تو ں توں قبرستان زندہ سا دکھائی دیتا ہے۔ واہ واہ قبرستان اور وہ بھی زندہ؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ دماغ کے ’’کاریڈور‘‘ سے سوچیں گے یا بہ چشمِ خود دیکھیں گے، تو یقین کریں گے۔’’سینگ اِز بیلوینگ۔‘‘ کبھی میراجی کا ایک عجیب مصرعہ نظروں سے گذرا تھا، اس کا مطلب تب سمجھاتھا نہ اب سمجھتا ہوں، لیکن سوچتا ہوں کہ کچھ ایسی ہی صور ت حال کے ساتھ کیسے سجتا ہے؟
کہ مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں
ایران کے ساتھ بارڈر کے طفیل پورے بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی فروخت کا کاروبار عام ہے۔ سستا ہونے کی وجہ سے لوگ اس کی کوالٹی پر کمپرومائز کرتے ہیں۔ عام لوگوں کے علاوہ ٹرانسپورٹر زاور مزدوروں کی ایک بڑی تعداد اس کاروبار سے وابستہ ہے۔ کوئٹہ کراچی روڈ پر عام سی ہٹیوں کی پیشانی پر لگے ’’پیٹرولیم سروسز‘‘ کے سائن بورڈز بڑے عام ہیں۔ پاکستانی پیٹرول پمپس نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہیں بھی، تو وہ زیادہ تر اسی پیٹرول کے سہارے چلتے ہیں۔
کوئٹہ سے کوئی پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر وادی پشین اپنی زرخیزی، پھلوں اور کاریزوں کے لیے مشہور ہے۔ یہاں انگور، خوبانی، سیب اور آڑو وغیرہ کے باغات ہیں۔ پشین والے مائنڈ نہ کریں، اُن کا شہر توہے بہت خوب صورت نظاروں کی آماجگاہ، لیکن یہ کیسی خوبصورتی ہے جہاں صرف مردُم خیزی ہے؟ کسی اور شہر کے بارے میں کسی نے کیا خوب شعر کہا ہے۔ ہمیں کون روکے گا وہ شعریہاں نقل کرنے سے ……!
پہ دغہ خار کے خلک شتہ خو کلی والے نشتہ
بد رنگہ خار دے مورے دلتہ بنگڑی والے نشتہ
معذرت کہ یہ شعر قابلِ ترجمہ نہیں۔ اس کا مزہ لینے کے لیے پشتو سیکھنا پڑے گی۔ (جاری ہے)

………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے