486 total views, 1 views today

پچھلے دنوں میں اپنے بھتیجے کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ بچے کو بخار تھا۔ وہ معصومانہ اداؤں سے اپنی تکلیف کو چھپانے کی کوشش کررہا تھا۔ مجھے لگا کہ وہ انجکشن سے ڈرنے کے واسطے ایکٹنگ کررہا ہے، لیکن جب میں نے اسے غور سے دیکھا، تو اپنی بیماری اور تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ دوسرے بچوں کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ کئی بچے جو ہسپتال میں کھلونوں سے کھیل رہے تھے، بعض بچے ماؤں کی گود میں اٹکھیلیاں کررہے تھے، کچھ دوائی کی کڑواہٹ اور انجکشن کی سوئی سے ڈرے سہمے اور روتے ہوئے دکھائے دے رہے تھے ۔ یہ بچہ ان سب کو حیرت اور ایک نئے تجربے کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ مجھے بچوں کی نفسیات کا زیادہ تجربہ نہیں، لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جس طرح عام لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد اور تکلیف کو محسوس کرتے ہیں، اسی طرح بچے بھی یہ احساس رکھتے ہیں۔ فرق یہ کہ ہم اسے سنجیدہ لیتے ہیں لیکن بچے اس کو بھی ایک تفریح سمجھتے ہوں گے۔
بچوں کو جس پیار کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اسے مہیا کیا جائے، تو بیماری اور تکلیف کا بیشتر حصہ اپنے آپ ختم ہوجاتا ہے۔ اگر اسے ماں سے بچھڑنے، باپ کے غصے اور دیگر احباب کی بے رُخی کا سامنا ہو، تو ایسا بچہ کبھی ذہنی صحت حاصل نہیں کرسکتا۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ’’بچوں کو استاد کے علم کے دریا کے مقابلے میں اس کی توجہ اور شفقت کے کوزے بھر میٹھے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ توجہ اور تعلق سے بچے کے پڑھنے کا شوق ازخود جاگتا ہے۔ یا کم از کم اسے وہ جذباتی تحفظ اور سکون مل جاتا ہے، جس کی اسے عمر میں سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ڈرا ہوا، خوفزدہ، دھتکارا ہوا پریشان بچہ کیا خاک پڑھے گا! جس پودے کو دن میں دو بار دیکھا نہ جائے، اس میں پھٹ کر پھول نہیں آتے۔
بچوں کی نگہداشت اور پیار اس وقت اور بھی زیادہ ضروری ہوجاتا ہے جب وہ بیمار ہوجائیں۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ بچے بیماری کی حالت میں تنہائی کو بہت شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ بیماری کے دوران میں اگر انہیں زیادہ وقت نہ دیا جائے، اسے پیار نہ کیا جائے، اس کے غذا اور دوا کا خیال نہ رکھا جائے اور اسے بہلایا نہ جائے، تو اس کے لاشعور میں معاشرے اور اپنے رشتے داروں سے نفرت سی بیٹھ جاتی ہے۔ بچوں کی ماں ہی اس کی سب سے بہترین ماہرِ نفسیات ہوتی ہے۔ بچے ایک جیسے طریقے سے توجہ حاصل نہیں کرتے۔ کوئی روکے کرتا ہے۔ کوئی خاموش رہ کر اور کوئی شرارت کرکے۔ ان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور نہ بچوں کی چھوٹی سی بیماری کو آسان ہی لینا چاہیے۔ ہر صورت میں بچوں کا آپ پر شرعی، اخلاقی اور معاشرتی حق ہے کہ ان کی مکمل نگہداشت کی جائے۔




تھیلی سمیا بچوں میں ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے ان میں جینیاتی طور پر خون کی پیدائش کا عمل کسی رکاوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ (photo: The Indian Express)

آمدم برسرِ مطلب، تھیلی سمیا بچوں میں ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے ان میں جینیاتی طور پر خون کی پیدائش کا عمل کسی رکاوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ میڈیکل ریسرچ کے مطابق یہ مرض والدین میں سے کسی ایک یا پھر دونوں کی جینیاتی خرابی کی وجہ سے بچے میں منتقل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے بسا اوقات ڈاکٹر حضرات یہ مشورہ دیتے ہیں کہ شادی سے قبل لڑکے لڑکی کا طبی معائنہ کرایا جائے۔ اگر ایک میں تھیلی سیمیا کے اثرات پائے جائیں اور دوسرے میں نہ ہوں تو چل جاتا ہے، لیکن اگر اثرات دونوں میں ہوں، تو ممکن ہے کہ اس سے ان کی اولاد پر اچھے اثرات مرتب نہ ہوں۔ بعض لوگ میڈیکل ٹیسٹ سے اس معاشرتی خرابی کے ڈر کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر یوں کسی میں بیماری کی تشخیص ہوجائے، تو اس سے تو پھر کوئی بھی شادی نہ کرے، لیکن یہ مفروضہ اس بنیاد پر غلط ہے کہ تشخیص کا نتیجہ فریقین میں ظاہر ہونا ضروری ہے۔ اگر ایک میں بیماری ہے اور دوسرے میں نہیں، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہر بچے میں 23 کروموسومز باپ سے آتے ہیں اور 23 ماں سے۔ اگر ماں باپ دونوں میں ’’تھیلی سیمیا مائنر‘‘ ہوں، تو ان کے 25 فیصد بچے تھیلی سیمیا کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ترکی، قبرص اور ایران میں شادی سے پہلے خون کی سکریننگ لازمی قرار دی جاچکی ہے جس کی وجہ سے وہاں ان امراض میں کمی دکھائی گئی ہے۔
مملکتِ پاکستان کئی طرح کے مسائل میں گھرا ہے۔ بعض چیزیں اپنی مدد آپ اور شعور و آگاہی سے تعلق رکھتی ہیں۔ جہاں جتنا ممکن ہو، شعور وآگاہی کے ذریعے مسائل حل کیے جانے چاہئیں۔ انسان کی حد اس کے بس تک ہے۔ جہاں اس کی طاقت ختم ہوجائے، وہاں سے قدرت اپنی دستگیری کے ذریعے انسان کی مشکلات حل کرتی ہے۔ سو ہمیں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ بچوں کو پیارومحبت سے پالنا چاہیے۔ ماں کو یہ فرض سمجھ کر کرنا ہوگا۔ باپ اسے ذمہ داری سمجھے گا۔ اور معاشرے کا ہر فرد ہر ایک بچے کو اپنا بچہ سمجھ کر اس کی رہنمائی اور اخلاقی تربیت کرے گا۔ یوں ایک صحت مند اور مہذب معاشرہ وجود میں آنے میں کوئی امر مانع نہیں ہوگا۔
نوٹ:۔ اس مضمون میں میرے ساتھ میرے دوست نجم اللہ جان احمدی کی معاونت شامل رہی، راقم۔

……………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے