583 total views, 1 views today

عوامی مفاد میں سب لوگ باخبر رہیں کہ سوات آتے جاتے ایک گھنٹے کا وقت درگئی چیک پوسٹ اور آدھ گھنٹہ مانیار غالیگے چیک پوسٹ کے لیے سنبھال کر رکھیں۔ کبھی کبھار اس سے بھی زیادہ تاخیر ہوسکتی ہے۔ چیک پوسٹوں کی وادی سے زندہ سلامت نکل کر جان میں جان تو آئی۔ افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے پیشہ ور سپاہی اور افسران جن پر وطن کی سلامتی کی ایک بڑی بنیادی ذمہ داری عائدہے اور جس کے لیے اُن کو مہنگی، طویل اور سخت تربیت سے گزارا جاتا ہے، ملکی بجٹ کا بہت بڑا حصہ دفاعی سرگرمیوں کے نام پر مخصوص ہوتا ہے اور افسران کو بھاری تنخواہیں دی جاتی ہیں، اب ملک کے اندر اپنے عوام کے ساتھ مشت و گریباں ہیں۔ وہ چیک پوسٹوں پر چوکیداری اور ٹریفک کے سپاہی کا کام سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی، ملک کی بد نصیبی اور فوجی بھائیوں کا بے جا استعمال نہیں تو اور کیا ہے؟ کوئی سوچے تو سہی۔ اس عمل کے پیچھے کہیں ملک دشمن قوتوں کی سازش تو نہیں؟ لیکن ہم ہیں کس باغ کی مولی کہ قومی سلامتی کے ادارے کی کارکردگی پر فضول سے سوال اُٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سمندر میں بھی رہتے ہیں اور مگرمچھ سے بیر بھی رکھتے ہیں۔ ہمیں تو خود پر کچھ شک سا ہونے لگا ہے غیر ملکی ایجنٹ ہونے کا۔
سانس لیے بغیر جلدی جلدی آگے دوڑتے ہیں۔ گنے اور تمباکو فصل کے مرکز اور گڑ کی منڈی شیر گڑھ، کباب اور آثارِ قدیمہ کا پایۂ تخت ’’تخت بھائی‘‘ یوسف زئی قبیلے اورمہمان نوازوں کے شہر مردان سے ہوتے ہوئے پشاور موٹر وے پر چڑھتے ہیں، تو عصر کی نماز قضا ہو چکی ہوتی ہے۔ وقت کی بجائے نمازوں کے ٹائم فریم میں اس لیے بات کرتے ہیں کہ الحمد للہ ہمارے قافلہ میں شامل آٹھ کے آٹھ بندے ظاہری شکل و صورت سے لگتے مسلمان ہیں جن میں کوئی ساڑھے بارہ فی صد نمازی ہیں، لیکن پرہیزگار نہیں۔ ساڑھے بارہ فی صدپرہیز گارہیں لیکن نمازی نہیں، جب کہ بقیہ پچھتر فی صد نمازی نہیں، پرہیزگار بھی نہیں۔ پھر بھی اُن کو یہ گھمنڈ ہے کہ ’’پاک دامنی‘‘ کے چکر جیسے چل چلاؤ کی کیفیت میں یہاں ہیں، وہاں بھی ایسے ہی چلے گا، جہاں آخرِکارجانا بھی ہے۔ جس کسی کو فی صد کا حساب کرنا مشکل لگے، تو اُن کی آسانی کے لیے عرض ہے کہ ایک نسبت ایک نسبت چھے کے تناسب سے اعدادو شمار بالا کی جانچ پڑتال کی جائے۔ پشاور کی کیا بات کریں، اس شہر کا حلیہ اب بہت بگڑ چکا ہے۔’’بس ریپڈ ٹرانزٹ‘‘ منصوبے کے نام پر تبدیلی سرکار ایسی تبدیلی لے آئی ہے کہ شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے۔ یہ تبدیلی اہلِ پشاور مرتے دم تک یاد رکھیں گے۔ اس سے سڑکیں تباہ وبرباد ہوئیں، نالیوں، فٹ پاتھوں کا قصہ خلاص ہوا۔ ماحولیات کا کباڑا کیا گیا۔ کاروبار کا ستیا ناس ہوا، لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا گیا اور آمد و رفت کو مشکل سے مشکل تر بنایا گیا، لیکن یہ کیا؟ ہم سفر نامہ لکھ رہے ہیں، یا بہتان نامہ۔ کسی کے ’’کالے دامن‘‘ پر ’’سفید داغ‘‘ لگانے والے سرپھرے ہم ہیں کون؟ اور ہمارے پاس ثبوت کیا ہے صاف ستھرے، پاکباز و نیک دامن عوامی رہنماؤں پر ناپاک الزام تراشی کرنے کا؟ سو اِس باب کو بند کرتے ہیں اور سیدھا سیدھاا پنی راہ لیتے ہیں۔
رِنگ روڈ سے ہوتے ہوئے کوہاٹ روڈ پہ گاڑی کے ٹائر پڑتے ہیں، تو اذانِ مغرب ہوچکی ہوتی ہے۔ سڑک کنارے واقع ایک دوست کے دفتر میں وہی ساڑھے بارہ فی صد لوگ یعنی سردار زیب پارسا ’’سفرانہ‘‘ نماز پڑھتا ہے، سنتوں کے بغیر۔ یاد رہے، پارسا سردار کا تخلص نہیں بلکہ اُس محکمے کا نام ہے، جہاں وہ ملازمت کرتا ہے اور جس کا پُرسانِ حال کوئی نہیں۔ دیگرلوگ ذائقہ دار فرائی مچھلی اور پکوڑوں کے ساتھ نورا کشتی کھیلتے ہیں۔ پھر چائے اور سگریٹ پیتے پائے جاتے ہیں۔ کھاؤ پیو نشست سے فراغت کے بعد جب ڈرائیور لوگ گاڑی کا ’’ایکسی لیریٹر‘‘ دباتے ہیں، تو چشمِ زدن میں کوہاٹ پہنچتے ہیں۔ وادئی کوہاٹ دوستی ٹنل کے کھلنے کے بعد پشاور کا نیا قریبی ہمسایہ بنا ہے۔ پاکستان کی سب سے پرانی چھاؤنی اور ائیربیس یہاں واقع ہے۔ امرود کے باغات کی بہتات ہے یہاں۔ اس ضلع کو دفاعی، جغرافیائی اور زرعی لحاظ سے اہم مقام حاصل ہے۔




وادئی کوہاٹ دوستی ٹنل کے کھلنے کے بعد پشاور کا نیا قریبی ہمسایہ بنا ہے۔

جلدی جلدی کوہاٹ سے نکل کر کرک پہنچنا ہے، کیوں کہ اپنے دوست جاوید خٹک نے ہماری فرمائش پر چنے کے پتوں کا سپیشل ساگ دیسی گھی میں تیار کرکے ایک ریسٹورنٹ کے حوالے کیا ہے۔ یہ ساگ اپنے ’’میرِ کارواں‘‘ افتخار حسین باچا کے لیے ہے، جو ذاتی طور پر ساگ خور واقع ہو نے کے دعوے دار ہیں، تاہم قدرتی طور پر گوشت خور واقع ہوئے ہیں۔ دال خور کالفظ سُنا تھا، آپ نے بھی سُنا ہوگا، لیکن ساگ خور کا لفظ پہلی بار سُنا ہے۔ میرِ کارواں عمومی طور پر باجرے کی روٹیاں، گھر کا پکا ہوا ساگ اور چائے کے لیے گائے کے دودھ کی بھری بوتل ساتھ رکھ کر سفر کرتے ہیں۔ دورانِ سفر جہاں بھی جس بھی ریسٹونٹ میں کھانے کے لیے رُکتے ہیں، بیک وقت مٹن کڑاہی، روسٹ، روش، بھنا گوشت، اُبلا گوشت وغیرہ منگواتے ہیں اور تمام ڈشز کو ملا کر کھاتے ہیں۔ باقی کچھ بھی نہیں کھاتے۔ یہاں تک کہ سلاد بھی نہیں۔ فرماتے ہیں، سلاد بھی کوئی کھانے کی چیز ہے! یہ تو مویشیوں کی غذا ہے۔ تاہم باجرے کی روٹی اور ساگ دسترخوان پر سامنے ضرور رکھتے ہیں، جس کے ذائقے اور اِفادیت بارے جامع لیکچر دے کر دوسروں کو کھلوانے کا کام اپنا دُنیاوی فریضہ سمجھ کر انجام دیتے رہتے ہیں۔
کرک کے مین روڈ پر واقع ہوٹل سے ساگ کا بھرا ہوا ہاٹ پاٹ جیسے ملتا ہے، تو افتخار، شوکت شرار اور افضل شاہ کے ’’معدوں‘‘ میں یکلخت مروڑ اٹھنے شروع ہو جاتے ہیں۔ تندور سے گرم گرم فطیری روٹیاں نکل رہی ہوں اور سُرخ مرچ میں شرابور دیسی گھی کا تڑکا لگاہوا خوش ذائقہ ساگ ہو، تو کون کافر ہو جو کفرانِ نعمت کرے! سو سب یک دم لپک کر ساگ پہ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ (نوٹ:۔ آپ کو یاد ہوگا،ابھی کچھ دیر پہلے پشاور کی کوہاٹ روڈ پر ایک پولیس افسر کے دفتر میں تازہ دم تلی ہوئی مچھلی، گرماگرم پکوڑے، کرارے دار چپس اور دودھ پتی چائے کی ایک خوردنی نشست منعقد ہوئی تھی، جو اکثر دوست بھول بھی گئے تھے ، ہم نے یاد دہانی کرائی، تو سب کو بڑا ناگوار گزرا۔)
’’گردن بھر‘‘ کھانے کے بعدڈیرہ اسماعیل خان کی راہ لی۔ بنوں سے ڈیرہ تک ’’دُھند کاسمندر ہے اور ہم ہیں،دوستو!‘‘ رات بارہ بجے ڈی آئی خان کی صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ بندے کو پاس کھڑا بندہ نظر نہیں آ رہا۔ چشمہ رائٹ بینک کینال کے ریسٹ ہاؤس کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے دو بج جاتے ہیں، لیکن دُھند کی دُنیا میں کوئی انسان نظر آئے یا سائن بورڈ، توآدمی کچھ پوچھ لے، کچھ پڑھ لے۔ چارو ناچار ایک ہوٹل میں رات گزارنی ہے۔
ڈیرہ شہر کبھی سائیکل رکشوں کا شہر ہوا کرتا تھا۔ چار پانچ چھے لوگوں کا بوجھ اُٹھائے یہ رکشے انسانی پاؤں کے طاقت سے چلتے تھے ، یعنی ایک انسان دیگر کئی انسانوں کوکھینچتا چلا جاتا تھا۔ اب ان کی جگہ موٹر سائیکل اور چنگ چی رکشوں نے لے لی ہے اور’’دیکھتا جاشرماتا جا‘‘ والی کیفیت سے دیکھتی آنکھوں کونجات مل گئی ہے۔ صبح صبح کوئٹہ کے لیے براستہ ایف آر ڈیرہ، درہ زندہ، مغل کوٹ، ژوب، قلعہ سیف اللہ، کچلاک اپنی راہ لیتے ہیں۔ ڈیرہ سے کوئٹہ تک کوئی پانچ سو کلو میٹر کا فاصلہ اور لگ بھگ آٹھ نوگھنٹے کا سفر ہے۔ صبح نو بجے بھی شہر اور مضافات دُھند سے اَٹے پڑے ہیں۔ اس موسمی کیفیت کو افضل شاہ صاحب کی ٹریول ایجنسی والی فضائی زبان میں’’بٹر فلائی ویدر‘‘ کہا جاتا ہے۔ (جاری ہے)

………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے