385 total views, 2 views today

کیوٹو یونیورسٹی میں ملاقات کے بعد میں سیدھا کیوٹو ٹرین سٹیشن آیا، جہاں میں نے ٹوکیو کے لیے جانے والی ’’نوزومی ٹرین‘‘ پکڑی اور روانہ ہوا۔ ٹوکیو پہنچنے کے بعد ایک بار پھر پروگرام شیڈول کے مطابق سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ ہمارا پہلا سیمینار فلپائن کے مشہور مؤرخ ’’امبیت آر اوکامپو‘‘ کے ساتھ آئی ہاؤ س کے لیکچر ہال میں منعقد ہوا اور جس میں ہمارے علاوہ نیتوبے لیڈرشپ پروگرام کے فیلوز کے علاوہ باہر سے بھی کئی افراد نے شرکت کی۔’’امبیت آر اوکامپو‘‘ تاریخ دان ہونے کے علاوہ فلپائن کے اخبار وں میں باقاعدہ لکھتے ہیں اور وہاں کی مقبول شخصیت ہیں۔ وہ ہنس مکھ اور طنز کرنے والی شخصیت کے مالک ہیں اور بڑی آسانی سے سامعین کو اپنے نقطۂ نظر سے سمجھا سکتے ہیں۔ ہمارے ساتھ اس کا لیکچر ماضی کو بھول جانے اور یاد رکھنے کے عنوان پر تھا، جس میں اس کا کہنا تھا کہ تاریخ زیادہ تر مؤرخ کی ذاتی پسند و ناپسند کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے جس میں جانبدار ی کا عنصر ہمیشہ غالب رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تاریخ پر من و عن یقین نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ سے سیکھنا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے لوگ اپنی تاریخ کو یاد تو کرتے ہیں مگر اس سے سبق حاصل نہیں کرتے۔ تاریخ کو تنقیدی طور پر پڑھنا چاہیے۔ اپنی ماضی میں قید نہیں ہونا چاہیے بلکہ ماضی کی روشنی میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ جو قوم اپنے ماضی میں قید ہوجاتی ہے، وہ کبھی آگے نہیں بڑھتی۔
میں نے جب پروفیسر ’’امبیت اوکامپو‘‘ کی بات سنی، تو میں نے محسوس کیا کہ ہم پختون بھی اسی مسئلہ سے دوچار ہیں۔ ہم ماضی میں اپنے آبا و اجداد کے تاریخی قصوں کو یاد تو کرتے ہیں، مگر ہم آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم موجودہ زمانے کے ساتھ مل کر زندگی جینے کا سلیقہ نہیں سیکھتے، بس اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ پختونوں کی بہادری کے قصے سنائے جائیں اور ہماری اسی کمزوری کافائدہ اٹھا کر مقتدر قوتیں ہمیں استعمال کر رہی ہیں۔ منافقت کی آڑ میں پختونوں کی بہادری کی تعریف کر کے ہمیں دہشت گردی کی دلدل میں دکھیل دیا گیا ہے۔ ہم بس اشارے کا انتظار کرتے ہیں اور مر مٹنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ پچھلی کئی دہائیوں سے پختون اپنی ہی کم علمی کی وجہ سے آگ و خون کی دلدل میں پھنس چکا ہے۔ ہمیں جدید دور کے تقاضو ں کے مطابق زندگی کا تعین کرنا ہوگا۔ ہمیں ہر حال میں جدید تعلیم کی طرف آنا ہوگا اور قبائیلیت کو مثبت جدیدیت میں بدلنا ہو گا۔ ہمیں اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ ضرور یاد رکھنی چاہیے، مگر اس میں قید بالکل نہیں ہونا ہے۔ کیوں کہ ماضی میں قید قومیں سب سے پیچھے رہتی ہیں۔ لوگ پھر محفلوں میں ان پر پھبتیاں کستے ہیں۔ ہمیں جاپان ہی سے سیکھنا چاہیے، جس پر 1945ء کو ایٹم بم گرا کر پوری دنیا کے لیے اسے مثال بنا یا گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر جاپان کے پاس پیسہ تھا نہ انسانی سرمایہ۔ دنیا میں بس یہی بات چل رہی تھی کہ جاپان آنے والی صدیوں میں اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکے گا، مگر جاپانیوں نے ماضی میں قید ہونے کو ترجیح نہیں دی۔ ہاں، انہوں نے ماضی سے سیکھا ضرور۔ انہوں نے اپنی نفرت کی آگ بھڑکائی نہیں بلکہ اسے عقل سے قابو کیا۔ جدید علوم، تعلیم اور ٹیکنالوجی کی راہ پر چل کر انہوں نے کچھ ہی عرصہ میں جاپان کو ایک بار پھر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کیا۔ جاپانیوں نے اپنی دشمن قوموں کا علم مستعار لیا اور معاشی لحاظ سے ایشیا کا ٹائیگر بن گیا۔ ماضی کی جنگجو قوم نے لڑنا چھوڑ دیا۔ کیوں کہ انہوں نے سیکھا کہ جنگ و جدل سے کچھ نہیں ملتا۔ موجودہ زمانہ سائنس، ٹیکنالوجی اور علم و ہنر کا ہے نہ کہ جنگوں کا۔ اب تو جنگیں بھی عقل و دانش سے لڑی جاتی ہیں۔ یہ علم و دانش، سائنس اور ٹیکنالوجی کی جنگیں ہیں جو تلوار، گھوڑے اور میدان میں نہیں بلکہ دور کسی آرام دہ کمرے میں بیٹھ کر چھوٹے سے بٹن کو دبا کر لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔
ہمارا اگلا سیمینار ایشیا میں صحت اور پھر صنفی مساوات پر تھا جو اچھے طریقے سے انجام پائے۔ صنفی مساوات کے حوالے سے سمینار جاپان کی کام کرنے والی خواتین کو درپیش مسائل کے بارے میں تھا، جن میں تین باتوں پر بحث ہوئی۔ پروفیسر اساوا ماچیکو جو جاپان میں کانڈا یونیورسٹی آف انٹرنیشنل سٹڈیز میں پڑھاتی ہیں، نے کہا کہ جاپان میں کام کے زیادہ تر مواقع مردوں کو ملتے ہیں جب کہ اونچے درجے یعنی اداروں میں لیڈر لیول کی پوسٹ پر خواتین انتہائی کم ہیں۔ خواتین کو ان کی خواہش کے مطابق پوسٹ ملتی بھی نہیں جس کی وجہ سے خواتین میں موجود ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین اس لیے بھی ترقی نہیں کرپاتیں کہ ان کو زچگی کے دوران میں چھٹیاں لینا پڑتی ہیں۔ اس وجہ سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت میں کمی پیش آتی ہے۔ تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ جاپانی مرد، خواتین کے مقابلے میں زیادہ کماتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کام کی جگہوں میں مرد حضرات، خواتین کو ہراساں بھی کرتے ہیں۔
ہمارے پروگرام میں سمینارز کا سلسلہ آخر ختم ہوا، تو مختلف یونیورسٹیوں میں مجھے لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا جانے لگا۔ بعض یونیورسٹیاں دہشت گردی کو سمجھنا چاہتی تھیں، تو بعض پاکستان میں سیاسی صورتحال کے بارے میں آگاہی لینا چاہتی تھیں۔ جب کہ بعض یونیورسٹیاں سوات اور پاکستان میں گندھارا تہذیب کے بارے میں دلچسپی لے رہی تھیں۔ میں نے ان تمام یونیورسٹیوں میں لیکچر دیے، جنہوں نے مجھ سے درخواست کی تھی۔

لکھاری جاپان کی ایک یونیورسٹی میں لیکچر دے رہے ہیں۔

جاپان کی یونیورسٹیوں میں طالب علم انتہائی سنجیدہ اور خاموش ہوتے ہیں۔ وہ لیکچر کو بڑے انہماک سے سنتے ہیں اور آخر میں سوالات پوچھتے ہیں۔ میں جب ٹوکیو یونیورسٹی لیکچر دینے کے لیے جار ہا تھا، تو دل ہی دل میں گھبرا رہا تھا کہ شاید طلبہ شور مچائیں گے، تنگ کریں گے یا شیطانیاں کریں گے، تاہم میں نے جاپانی طلبہ و طالبات کو انتہائی مہذب اور سنجیدہ پایا جس کی وجہ سے مجھے لیکچر دینے میں مزہ آیا۔ میں نے جب ریکیویونیورسٹی میں دہشت گردی کے حوالے سے لیکچر دیا اور سکولوں کی تباہی کا ذکر کیا اور آرمی پبلک سکول کا واقعہ سنایا، تو میں نے جاپانی طلبہ کو انتہائی مغموم دیکھا۔ بعد میں مجھے ان کے پروفیسر صاحبان نے بتایا کہ دہشت گردی کے حوالے سے لیکچر وہ زندگی بھر نہیں بھولیں گے۔ جب میں نے سوات میں موجود تہذیبی ورثہ کے بارے میں لیکچر دیا، تو بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے سوات جانے کی خواہش ظاہر کی۔ کئی دن میرے لیکچرز کا سلسلہ چلتا رہااور مجھے جاپان کی یونیورسٹیوں سے ذاتی لگاؤ سا محسوس ہونے لگا۔
میرے لیکچر زختم ہوئے، تو ہماری سب سے یادگار سیر ’’ہاکونے ‘‘نامی جگہ کو مقرر تھی، جہاں ہم دو دن کے لیے گئے۔ ہاکونے اصل میں سیاحت کے لیے مشہور جگہ ہے، جیسے پاکستان میں سوات یا مری ہو اور یہی وجہ ہے کہ ہاکونے بڑی تعداد میں بین الاقوامی سیاح بھی آتے ہیں۔ ہاکونے اپنے قدرتی حسن، گرم چشموں اور جھیلوں کے لیے مشہور ہے، جو ٹوکیوں سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔سب سے اچھا سفر’’رومینس کار‘‘ (Romance Car) نامی ریل گاڑی کا ہے جو انتہائی آرام دہ اور خوبصورت ہے۔




رومانس کار نامی ریلوے ٹرین جس میں ایک جاپانی لڑکی محو سفر ہے۔ 

ہم جب ہاکونے پہنچے، تو بارش ہو رہی تھی۔ اس لیے ہمیں سیدھا ’’یوموٹو فوجی یا‘‘ ہوٹل جانا پڑا جہاں پہلے ہی سے ہمارے لیے کمرے بُک کیے گئے تھے۔ شام کو ہوٹل میں ہمارے آخری پبلک سمینار کے حوالے سے ورکشاپ منعقد ہوئی جس میں ہم نے مختلف امور، پریزنٹیشن وغیرہ پر بحث کی جس کے بعد رات کے کھانے میں ہمیں ’’ہاکونے‘‘ کی روایتی کھانا پیش کیا گیا۔آئی ہاؤس اور جاپان فاؤنڈیشن کے منتظمین نے ہمیں یہاں کے گرم چشموں میں نہانے کی بھی تاکید کی۔
یہاں بڑی تعداد میں گرم چشمے ہیں اور تقریباً ہر ہوٹل میں موجود ہیں۔ میں جب اپنے کمرے میں گیا، تو جاپانی ’’کیمونو‘‘ جو یہاں کا روایاتی لباس ہے پہن کر باہر نکلا اور ہوٹل میں موجود ’’اون سن‘‘ یعنی گرم چشمے کی طرف گیا۔ مردو ں اور خواتین کے لیے الگ الگ انتظام تھا۔ میں جب مردوں والی جگہ کی طرف گیا، تو استقبالیہ پر ایک خاتون نے مجھے دو تولیے دیئے اور اندر ایک ہال کی طرف جانے کا اشارہ کیا۔ میں ہال میں داخل ہوا، تو وہاں ہرطرف ’’لاکرز‘‘ لگے ہوئے تھے، جب کہ ایک طرف نلکے، صابن او ر شمپو کا انتظام تھا۔ میں نے کپڑے اور قیمتی سامان ’’لاکر‘‘ میں جمع کیا اور ساتھ ہی نلکے کے سامنے بیٹھ گیا۔ صابن سے ہاتھ اور پاؤں دھوکر تولیہ اپنے اردگرد لپیٹا اور اندر کی طرف ایک دوسرے ہال میں چلا گیا۔ جیسے ہی میں اندر گیا، تو تمام مرد مکمل طور پر ننگ دھڑنگ کھڑے تھے۔ بعض گرم پانی کے تالاب میں تھے، تو بعض چاروں طرف لگے پانی کے فواروں کے سامنے بیٹھے نہا رہے تھے۔ میں نے اندر پہلا قدم رکھا ہی تھا کہ ان مردوں کو دیکھ کر رُکا۔ فوراً ہی میرا ذہن انگریزی ہارر فلموں کی طرف گیا جس میں بہت سارے ننگ دھڑنگ آدمی نئے آنے والے کی طرف لپکتے ہیں۔

جاپان کا ’’اون سن‘‘ یعنی گرم چشمے کا ایک منظر۔ (Photo: pintrest.com)

میں تیز قدموں کے ساتھ فوراً باہر آیا، تو استقبالیہ پر موجود خاتون نے مجھے روک کر پوچھا کہ کیوں میں اتنا گھبرایا ہوا ہوں؟ جیسے ہی میں نے انہیں اندر کا حال بتا یا، تو وہ اونچی آواز میں ہنسنے لگی۔ خاتون نے بتایا کہ یہاں لوگ اسی طرح ننگ دھڑنگ ہوکر نہاتے ہیں اور مجھے مشورہ دیا کہ میں بے فکر ہوکر اندر جاؤں اور نہا لوں۔ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ میں نے جیسے تیسے ہمت باندھی اور ایک بار پھر اندر داخل ہوگیا۔ سب سے نظریں چرا کر گرم پانی کے تالاب میں داخل ہوا، تو پانی انتہائی گرم تھا۔ گرم پانی تالاب کے نچلے حصے سے کسی چشمے کی صورت پھوٹ رہا تھا۔میں تھوڑی دیر کے لیے سائڈ والی دیوار سے ٹیک لگا کر لیٹ گیا، تو آرام محسوس کرنے لگا۔
یہ دراصل گرم پانی کا قدرتی چشمہ تھا جس پر ہوٹل کی انتظامیہ نے بڑا ہال بنا رکھا تھا۔ گرم چشمے جاپان کے پہاڑوں میں ہزاروں کی تعدا د میں ہیں۔ جاپانی قوم ان میں نہاتی ہے اور کچھ دیر کے لیے وقت گزارتی ہے۔ میں جب پانی کے اندر تھا، توبہت سارے مرد اس میں لیٹے لیٹے گویا سکون حاصل کر رہے تھے۔ پانی جیسے میرے بدن کو آہستہ آہستہ مالش کر رہا تھا۔ اس کی قدرتی گرمی میرے بدن سے تمام تکالیف پگھلا رہی تھی۔ پانچ منٹ گزارنے کے بعد میں تالاب سے نکلا اور ساتھ والے فوارے کے سامنے بیٹھ گیا، تو نیم گرم پانی سے نہانے لگا۔ تھوڑی دیر بعد پھر گرم چشمے کی تالاب میں نیچے گیا اور لیٹ گیا۔ میں اس موقع پر گویا آرام سا محسوس کرنے لگا۔ تالاب کے اوپر کئی برہنہ مرد ادھر ادھر جارہے تھے۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ یہ جاپانی مرد اپنے برہنہ جسموں کی نمائش کر رہے تھے۔ مجھے جاپانیوں کی یہ حرکت عجیب لگی۔ کیوں کہ عام طور پر جاپان کے لوگ شرمیلے اور خاموش طبع ہوتے ہیں، مگر گرم پانی کے چشموں میں سب کے سب ننگے ہوکر نہاتے ہیں۔ خیر، میں کچھ دیر قدرتی طور پر گرم پانی کے اس چشمے سے لطف اندوز ہوتا رہا اور پھر نکل آیا۔ جب میں ’’اون سن‘‘ سے باہر آیا، تو ہوٹل کی ایک لابی میں آئی ہاؤس اور جاپان فاؤنڈیشن کے منتظمین موجود تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھا، تو خوش ہوئے اور گرم چشمے میں نہانے کا تجربہ پوچھنے لگے۔ میں نے کہا تجربہ تو زبردست تھا، تاہم جاپانی مرد برہنہ مجھے کھٹک رہے تھے، جس کی وجہ سے میں آزادانہ طوپر نہا سکا، نہ پورا مزہ ہی لے سکا۔ یہ سن کر وہاں موجود تمام لوگوں نے زوردار قہقہہ لگایا اور میں اوپر منزل میں اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔ (جاری ہے)

…………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے