427 total views, 1 views today

طوفان سے پہلے کی خاموشی مہیب ہوتی ہے، جب خاموشی دم توڑنے لگتی ہے، تو ہیبت بدحواسی میں بدل جاتی ہے، پھرخوف اور دہشت کی قیامت برپا ہوجاتی ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے ہم خیبرپختونخوا اور فاٹا کے لوگ ان تینوں کیفیات سے گزرتے چلے آرہے ہیں۔ گھر گھر، شہر شہر، چوک چوباروں، مساجد مزاروں، سکولوں یونیورسٹیوں اور چھوٹی بڑی ہستیوں سب پر بدحواسی، دہشت اور قیامتِ صغریٰ کے عذاب نازل ہوتے رہے ہیں۔ صبر آزما، اعصاب شکن اور جان لیوا حادثات اور غم و اندوہ نے پختونوں اور بالخصوص نوجوان نسل، میں شدید ردعمل کے جذبات کوفروغ دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، مہنگائی اور لاقانونیت نے ان جذبات کو مزید توانائی دی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) ان جذبات اور اس سے ظہور پذیر ہونے والی ’’فرسٹریشن‘‘ کی عکاسی کرتی ہے۔ پہلے پشاور، پھر لاہور اور اب سوات میں جس طرح کے جذبات کا اظہار ہوا ہے، جس انداز میں بچوں اور بچیوں کی آہ و زاری اور گریہ و فریاد سے ماحول کو ’’اکسپلوسیو‘‘ بنایا گیا ہے، فرطِ جذبات میں جس قسم کے زہریلے اور نفرت انگیز نعرے بلند ہوئے ہیں، ان سے مجھ سمیت بہت سے ایسے لوگوں کو تکلیف پہنچی ہے جو پاکستان اور پختونوں سے محبت کرتے ہیں۔ الزام لگانے والے کہہ سکتے ہیں کہ منظور پاکستان مخالف قوتوں کا منظورِنظر ہے۔ اسے ایک ایسے وقت میں لانچ کیا گیا ہے: جب پاکستان کے اندر دہشت گردوں کا قلع قمع کیا گیا ہے۔ جب منظور کے بہت سارے مطالبات پر پہلے ہی ریاستی اداروں نے عمل کیا ہے یا کر رہے ہیں، جب امریکہ اور ہندوستان پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے بلوچ اور پختون نوجوانوں کو ’’اکسپلائٹ‘‘ کرنے کے درپے ہیں،  جب خطے میں رواں جنگ و جدل کے پیچھے عالمی اور علاقائی قوتیں پوری طرح ملوث ہیں، جس میں ریاستِ پاکستان کی داخلی مشکلات میں اضافہ دشمن ہی کے مفاد میں ہے، لیکن سب حقائق اور مفروضوں کے علی الرغم چند سوالات ایسے ضرور ہیں جن پر پختون نوجوانوں کومطمئن کرنا اشد ضروری ہے۔ اس سے پہلے کہ مزید تاخیر ہوجائے اور ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن جائے۔ ریاست کے متعلقہ اداروں کو ان سوالات کا تسلی بخش جواب دینا چاہیے۔




بہت سے کوتاہ نظر افواجِ پاکستان، ایف سی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں سے آنکھیں چرا کر احسان فراموشی کر رہے ہیں۔

مثلاً دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں غائب ہونے والے لوگ کہاں ہیں؟ اگر یہ لوگ ریاست کی قید میں نہیں، تو کئی سال گزرنے کے باجود یہ کہاں ہیں؟ اگر ریاست کے پاس قید ہیں، تو ان کو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10 کے تحت عدالتوں میں کیوں نہیں پیش کیا جاتا؟ اگرریاست کا دعویٰ ہے کہ یہ لوگ اس کی تحویل میں نہیں، تو علی الاعلان یہ بات مشتہر کیوں نہیں کرتی؟ کیا رشتہ داروں کی آہ و فریاد اتنی بھی قابل اعتناء نہیں کہ ایک جوڈیشل کمیشن بناکر ان کی شکایات کا ازالہ کیا جاسکے؟ کیا جو مطالبات پی ٹی ایم پیش کر رہی ہے، وہ آئین اور قانون کے دائرے میں ہیں یا ان سے متصادم؟ اگر آئین اور قانون کے اندر ہیں، تو پھر ان پر اب تک کیا ضروری کارروائی ہوئی ہے یا مزید ہونے جا رہی ہے؟ اور ہاں ہسپتالوں میں دکھی انسانیت کے لیے سرگرداں چیف جسٹس صاحب ان فریادی بچوں، بچیوں، ماؤں اور بیویوں کی فریاد پر سووموٹو ایکشن نہیں لے سکتے؟ کیا پچھلے سترہ اٹھارہ سالوں سے ملک اور قوم کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانے والوں کا احتساب نہیں ہونا چاہیے؟ ان لوگوں کے خلاف کیا قانونی کارروائی ہوئی جو کل تک ریاست پاکستان اور اہلِ پاکستان کے خلاف برسرِپیکار تھے، لیکن آج ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں؟
یہ معاملہ اب غیر ضروری حد تک طول پکڑ گیا ہے۔ بہت سے کوتاہ نظر افواجِ پاکستان، ایف سی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں سے آنکھیں چرا کر احسان فراموشی کر رہے ہیں۔ ہم محسوس کر رہے ہیں کہ بہت سے پاکستان دشمن عناصرپی ٹی ایم سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ کچھ قوم پرستوں کی یہ بھی خواہش ہوگی کہ اس تحریک کی آڑمیں پختونوں کے اندر ریاست پاکستان کے خلاف نفرت کو ہوا دی جائے لیکن ایسے تیرہ نصیب لوگوں کو شائد معلوم نہیں کہ گلے شکوے اور سوالات و اشکالات رکھنے کے باوجود پختون اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دفاع اور سلامتی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔
کرم ایجنسی کا حالیہ واقعہ پاکستان کی مٹی سے پختونوں کی غیر معمولی محبت کی ایک معمولی علامت ہے۔ پاکستان کی سلامتی ہمیں اسلام کے بعد سب سے زیادہ عزیز ہے۔ اپنی جان سے بھی بڑھ کرعزیز اس بحث سے قطع نظرکہ منظور پشتین دشمن کا آلہ کار ہے یا مظلوموں کی داد رسی کے لیے اٹھنے والی ایک بے لوث آواز، مسئلے کا حل الزامات اور کاؤنٹرپروپیگنڈا نہیں بلکہ ان سوالات کے جواب اور ان مسائل کے حل پر موقوف ہے جو ایک عرصے سے ہر پختون بچے، بوڑھے، جوان، مرد وعورت کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔اگرچہ وقت تیزی سے نکلتا جا رہا ہے مگر اب بھی عمل کا وقت موجود ہے۔ فریادی لوگوں کی داد رسی کا وقت، غمزدہ خاندانوں کی اشک شوئی کا وقت، دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے یہی فیصلے کی گھڑی ہے!

……………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے