328 total views, 1 views today

ماشااللہ آج کل ملک میں سوموٹو نوٹسوں کا جو کلچر پروان چڑھ رہا ہے، ایسا شائد دنیا کی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے۔ تعلیم سے لے کر صحت تک، وی سی اپوائنٹمنٹ سے لے کر صاف پانی تک، ریلوے سے لے کر میڈیکل کالجز تک اور جلسوں سے لے کر میڈیائی رپورٹس تک ہر چیز پر سوموٹو لیا جا رہا ہے، بلکہ اب تو ایسے سوموٹو بھی لیے جا رہے ہیں کہ جو صبح لے کر شام کو نمٹا دیے جاتے ہیں۔ شاید چیف جسٹس صاب سوموٹو کا ورلڈ ریکارڈ بنانا چاہتے ہیں۔
پانامہ لیکس کے کمزور فیصلے کے بعد سے پاکستان کی اعلیٰ عدالت شدید دباؤ میں ہے۔ کیوں کہ متاثرہ فریق سمیت بہت سے قانونی ماہرین نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کورٹ کے پاس دو راستے تھے کہ یا تو سترہ ججوں پر مشتمل فل بنچ بنا کر اس معاملے کو از سرِ نو دیکھتی یا اس کمزور فیصلے کے دفاع میں کھڑی ہوتی۔ بدقسمتی سے معزز جج صاحبان نے اس تنقید کو دل پہ لے لیا اور حکومت سے محاذ آرائی پہ اتر آئی۔ اب جب کہ 38 ہزار کیس سپریم کورٹ، 3لاکھ ہائیکورٹس اور 12 لاکھ کیس ماتحت عدلیہ میں زیر التوا پڑے ہیں، چیف جسٹس صاحب انتظامیہ کے اختیارات لے کر ملک ٹھیک کرنے نکل پڑے ہیں۔ پہلے تو عدلیہ نے صاف پانی فراہمی سے شروع کرکے واٹر کمیشن بنا دیا جس کے سربراہ کو توہینِ عدالت کا اختیار بھی دے دیا۔ اب اگر سابق جج صاحب پانی تک محدود رہتے، تو ٹھیک تھا لیکن اب سندھ کے کسی بھی ہسپتال میں ان کی اجازت کے بغیر کسی ’’ایم ایس‘‘ کا تبادلہ بھی نہیں ہوسکتا۔ جیسے ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بحران میں اضافہ ہوتا چلا گیا، تو سوموٹو نوٹسوں میں بھی شدت آتی گئی اور اب تو روزانہ کی بنیاد پر اعلیٰ پایہ کے ڈاکٹر صاحبان، پروفیسر صاحبان اور افسران، ججوں کے شدید غصے کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔ ایک کیس میں تو چیف صاحب نے ڈاکٹر فیصل مسعود کی کوالیفکیشن پر سوال اٹھا کر اسے استعفا دینے پر مجبور کر دیا۔ اب یہ سوال بی اے اور ایل ایل بی ڈگری ہولڈر نے اس انسان کی قابلیت پر اٹھائے ہیں جو MBBS گولڈ میڈلسٹ، FRCP-UK، MRCP-UK، FCPS-Pak، ہیڈ ڈینگی ایڈوائزر یونٹ، IMS کے بانی، شوگر مینجمنٹ سنٹر کے بانی اور ہسپتالوں کی خودکاری اور Rehabilitation پروگرام کے بانی جیسے بیشمار اعزازت رکھتا ہے، لیکن کوئی اس کے خلاف بول نہیں سکتا، کیوں کہ ’’توہینِ عدالت‘‘ کا خوف۔




پانامہ لیکس کے کمزور فیصلے کے بعد سے پاکستان کی اعلیٰ عدالت شدید دباؤ میں ہے۔ 

مَیں یہاں پوری سپریم کورٹ کی بات نہیں کر رہا، اعلیٰ عدلیہ کی اکثریت میرٹ پر فیصلے کرتی ہے لیکن 7 جج ایسے ہیں جن کے فیصلے میرٹ کی بجائے ذاتی رنجش پر مبنی نظر آتے ہیں، جس کے خلاف جسٹس دوست محمد اور جسٹس فائز عیسیٰ کھلے عام بول چکے ہیں، لیکن عوام اس بات پر نہیں بول سکتے، کیوں کہ انہیں توہینِ عدالت کا خوف ہوتا ہے۔
حال ہی میں برطانیہ میں جب عدالت نے بریگزٹ ریفرنڈم کے خلاف فیصلہ دینے کی کوشش کی، تو ’’ڈیلی میل‘‘ جیسے شہرہ آفاق اخبار نے تینوں ججوں کی تصاویر کو فرنٹ پیج پر ’’عوام کے دشمن‘‘ کی ہیڈ لائن کے ساتھ چھاپ دیں، لیکن وہاں پر کسی کو بھی توہینِ عدالت کا نوٹس نہیں ملا۔ کیوں کہ 1936ء میں جسٹس لارڈ کرون نے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ جج کو میرٹ پر مبنی ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جن پر بعد میں تنقید کا خوف نہ ہو۔ 1979ء میں ’’سنڈے ٹائمز‘‘ اور برطانوی حکومت کے شہرہ آفاق کیس میں یہ طے پایا تھا کہ فیصلوں پر یا جج کی ذات پر تنقید، توہینِ عدالت کے جرم میں نہیں آتی، جب تک اس سے عدالتی کارروائی میں خلل کا احتمال نہ ہو۔ لیکن صدقے جاواں ہماری عدالتوں کے کہ یہاں پر جلسوں کی تقاریر اور ٹاک شوز کی باتوں پر بھی توہینِ عدالت کی کارروائی ڈال دی جاتی ہے۔ برسبیل تذکرہ، گذشتہ دنوں لاہور رجسٹری میں سماعت کے دوران میں چیف صاحب نے صرف اس بات پر توہینِ عدالت کی کارروائی کی دھمکی دی کہ اگر وزیرِ ریلوے بغیر اجازت کے روس ٹرم چھوڑ گئے، تو توہینِ عدالت کی کارروائی ہوگی۔ دانیال عزیز، طلال چوہدری اور صدیق آل فاروق کے کیسز آپ سب کے سامنے ہیں کہ کس طرح ان کو جلسوں کی تقاریر پر پکڑا گیا ہے۔ انہوں نے تو صرف ’’پی سی اُو‘‘ ججز کو ہٹانے کی بات کی تھی، اور ’’پی سی اُو‘‘ ججز کو ہٹنا بھی چاہیے۔ کیوں کہ وہ شخص کسی بھی طور پر جج کے معزز منصب پر فائز نہیں ہوسکتا، جب وہ ایک ڈکٹیٹر کی مرضی پر حلف اٹھا کر ملکی آئین کو پس پشت ڈال دے۔ صدیق الفاروق سے جب پوچھا گیا کہ تمھیں کس نے متروکہ اوقاف بورڈ کا چیئرمین لگایا ہے؟ تو اس نے برملا جواب دیا کہ اس شخص نے جس نے آپ کو سیکرٹری لگایا تھا۔ جب بات حد سے آگے بڑھے گی، تو پھر کوئی نہ کوئی تو صدیق الفاروق بنے گا۔

فیصلوں پر یا جج کی ذات پر تنقید، توہینِ عدالت کے جرم میں نہیں آتی، سنڈے ٹائمز

ابھی کل ہی میں اخبار پڑھ رہا تھا، تو یہ چیف صاحب کی سرخی بار بار میرا منھ چڑا رہی تھی کہ میں نے ’’کے پی‘‘ میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی، تو اس پر میں انتہائی ادب کے ساتھ عرض کرتا چلوں کہ چیف صاحب تبدیلی ناپنا آپ کا کام نہیں بلکہ صوبے کے عوام کا ہے اور وہ اپنا فیصلہ آئندہ انتخابات میں دے دیں گے۔ آج کل عمران خان صاحب وہی غلطی کر رہے ہیں جو میاں نواز شریف صاحب نے یوسف رضا گیلانی صاحب کے کیس میں کی تھی۔ آج میاں صاب پچھتا رہے ہیں، کل کو خان صاب پچھتائیں گے۔ اور مجھے یقین ہے کہ اگر پشاور رجسٹری میں مزید چند سماعتیں ہوئیں، تو جلد ہی خان صاحب کی آنکھیں بھی کھل جائیں گی کہ سیاست میں عدالت کو گھسیٹنے کا نقصان کتنا زیادہ ہوتا ہے۔ چیف صاحب تو ایک طرف تنقید کرنے والوں کو پکڑتے ہیں لیکن تعریفی مہمات اور جوڈیشل مارشل لا کی باتیں کرنے والوں کو کچھ نہیں کہتے جب کہ حقیقتاً دونوں ایک جیسے ہی عدلیہ کیلئے نقصان دہ ہیں۔
جج کو جتنی بھی عزت اور مراعات دی جاتی ہیں، اس لیے کہ وہ ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہوکر فیصلے کرے اور اِس کام کا اُس سے حلف بھی لیا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی جج ذاتی بات کو سرکاری فرائض کی راہ میں رکاؤٹ محسوس کرے، تو اسے کیس سے الگ ہونا چاہیے۔ کیوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمانِ مبارک کا مفہوم ہے کہ قاضی غصے کی حالت میں ہو، تو اسے چاہیے کہ غصہ ختم ہونے تک کسی بھی مقدمے کا فیصلہ نہ کرے۔ اب یہ فیصلہ تو آپ لوگ کریں کہ کیا موجودہ فیصلے میرٹ کی بنیاد پر ہورہے ہیں؟ اور کیا اعلیٰ عہدیداروں کو روزانہ بے عزت کرنے کی روش ٹھیک ہے؟ لوہے کے چنے چبانے جیسی باتیں کرنے سے عدلیہ خود ہی اپنے آپ کو ایکسپوز کر رہی ہے۔
اب تو سپریم کورٹ نے اپنے فنڈز کا حساب بھی پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو دینے سے انکار کردیا ہے۔ عمر چیمہ کے بقول جو ادارے خود احتسابی کے دعوے کرتے ہیں، وہ خود ہی اپنے حساب کتاب کی رپورٹس جاری کرکے سب کا منھ بند کردیں۔ اب تو ایک اور بات بھی متنازعہ بنتی جارہی ہے کہ چیف صاحب کو جس خالد انور کی سفارش پر میاں صاحب نے سیکرٹری قانون اور بعد میں ہائیکورٹ کا جج مقرر کیا تھا، اب اسی خالد انور کے داماد جسٹس منیب اختر کو جو کہ سندھ ہائیکورٹ میں سنیارٹی میں چوتھے نمبر پر اور اُوور آل سولہویں نمبر پر ہیں، کو سپریم کورٹ کا جج لگایا جارہا ہے جو کہ 2027ء میں چیف جسٹس آف پاکستان بھی بنیں گے۔
سوالات تو بہت ہیں، لیکن خاموشی میں ہی عافیت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک توہین عدالت کا نوٹس راقم کو بھی مل جائے۔

…………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے