607 total views, 1 views today

یوں تو دنیا میں ہر حکومت عوام کے فائدے کے لیے نئے قوانین وضع کرتی ہے لیکن مملکتِ خداداد میں خاص طبقہ حکومت کو اندھیرے میں رکھ کر اور عوام کی بھلائی کا ڈھنڈورا پیٹ کر قانون وضع کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح کے پی کے میں نئے ڈرگ رولز کو نافذ کرکے میڈیسن کمیونٹی سے وابستہ لوگوں کو ہراساں اور عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
پاکستان بننے کے بعد اس ملک میں نہ تو اتنے سارے فارماسسٹ موجود تھے اور نہ ہی بی فارم اور سی فارم۔ پاکستان بننے سے لے کر اب تک میڈیسن سے وابستہ لوگوں نے نصف صدی سے زیادہ انہی میڈیسن لائسنسوں کے تحت کاروبار کیا ہے۔ اب چوں کہ فارماسسٹ حضرات ملک کے مختلف درسگاہوں سے فارغ التحصیل ہیں اور اکثریت میں ہیں، تو حکومت کو اندھیرے میں رکھ کر اور حقائق کے بر عکس ’’میڈیسن کمیونٹی‘‘ اور ان سے منسلک لوگوں کے رزق پر ڈاکا ڈالا جا ر ہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے اور کہاں کا انصاف ہے کہ اتنے بڑے عرصے پر محیط کاروبار کو بیک جنبش قلم روک دیا جائے۔
عوام حکومتِ وقت، فارماسسٹ ایسوسی ایشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے اس سوال میں حق بجانب ہیں کہ اس سے عام آدمی کیسے مستفید ہو سکتا ہے؟کیا اس سے عوام کو معیاری اور سستے داموں ادویہ مل پائیں گی؟
پاکستان میں میڈیسن کے حوالے سے ایک اختصار ’’اُو ٹی سی‘‘ زبان زدِ عام ہے، لیکن نہ تو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور نہ متعلقہ ادارے ہی عوام الناس کو یہ آگاہی دے رہے ہیں کہ یہ ’’اُو ٹی سی‘‘ دراصل ہے کیا چیز؟ ’’اُو ٹی سی‘‘ کا مطلب ہے ’’اُوور دی کاؤنٹر۔‘‘ یعنی وہ روزمر ہ کی ادویہ جو ترقی یافتہ ممالک میں آپ بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے بھی خرید سکتے ہیں، جن میں دافع الرجی، دافع تیزابیتِ معدہ، پیراسیٹامول، آیبوپروفن وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن پاکستان میں ’’اُو ٹی سی‘‘سمیت جان بچانے والی ادویہ بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے کہیں سے بھی خرید ی جاسکتی ہیں۔ اب المیہ یہ ہے کہ ان جان بچانے والی ادویہ کو بھی ’’اُو ٹی سی‘‘ کا نام دے کرملک کے مختلف میڈیسن مارکیٹوں میں انتہائی کم ریٹس یعنی دس روپے سے لے کر ایک سو روپے میں سپلائی کیا جاتا ہے جب کہ ان پر خوردہ قیمت سیکڑوں روپے درج ہوتی ہے۔ اس دھندے میں مالی طور پر مستحکم اور غیر مستحکم دونوں کمپنیاں شامل ہیں۔ اب عوام یہ سوال بھی پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ اگر فارما سیوٹیکل کمپنیاں اپنے پراڈکٹس اتنے کم ریٹس میں بیچ رہے ہیں، تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ کمپنیاں اتنا کم منافع بھی کما رہی ہیں، تو حکومت اور متعلقہ ادارے ان کمپنیوں کو اُن ریٹس کا پابندکیوں نہیں بناتے، جس قیمت پر وہ اوپن مارکیٹ میں بیچ رہے ہیں؟ یوں براہِ راست عوام کو فائدہ اور کم قیمت ادویہ میسر ہوں گی اور ان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا عمل بھی رُک جائے گا۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کے پی کے حکومت اور متعلقہ ادارے ایسے پراڈکٹس پر قدغن لگا سکیں گے؟ اگر نہیں، تو اس حالت میں ڈاکٹر صاحبان کو جینرک نام سے لکھنے کا پابند بنانا قوم کے صحت کے ساتھ ایک او ر بھونڈا مذاق ہوگا اور اس سے ان لوگو ں کے ہاتھ اور بھی مضبوط ہوں گے، جس نے حکومت کو حسد کی بنیاد پر اندھیرے میں رکھا۔
میڈیسن کمیونٹی حکومت کے اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور بھرپور تعاون کا اعادہ بھی کرتی ہے کہ جعلی ادویات کا خاتمہ ہو۔ متعلقہ اداروں کی اولین ترجیح بھی یہی ہونی چاہیے لیکن حکومت کو حقائق کے بر عکس و رغلا کر ملاکنڈ ڈویژن میں بالعموم اور سوات میں بالخصوص میڈیسن کمیونٹی یعنی ’’ہول سیل‘‘ اور ’’ری ٹیلرز‘‘ کو جعلی ادویات کے نام پر آئے روز ہراساں کیا جا رہا ہے۔




ملاکنڈ ڈویژن میں بالعموم اور سوات میں بالخصوص میڈیسن کمیونٹی یعنی ’’ہول سیل‘‘ اور ’’ری ٹیلرز‘‘ کو جعلی ادویات کے نام پر آئے روز ہراساں کیا جا رہا ہے۔ (Photo: samaa.tv)

میڈسن کمیونٹی میں ہول سیل ادارے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پورے ملک اور خاص کر ملاکنڈ ڈویژن میں انتہائی کٹھن حالات میں چاہے سیکورٹی آپریشنز میں ادویات کی قلت ہو، سیلاب ہو، برف باری اور سلائیڈنگ سے ہفتوں روڈ بند ہو، یعنی ہر حالت میں عوام کو ان کی دہلیز پر روزمرہ کی جان بچانے والی ادویہ فراہم کی جاتی ہیں۔ یہی ادویہ وہ کمپنیوں کے مجاز ایجنٹس سے ہی خرید تے ہیں۔ چوں کہ کمپنی کے مجاز ایجنٹس ملاکنڈ ڈویژن کے سیٹل ایریا تک ہی سپلائی دے سکتے ہیں، کیوں کہ کمپنی کے مجاز ایجنٹس یا ڈسٹری بیوٹرز کوکمپنیوں کی طرف سے انتہائی کم مارجن ملتا ہے جس کی وجہ سے ان کے لیے دوردراز علاقوں میں سپلائی کی گنجا ئش نہیں ہوتی۔ حکومت خیبر پختون خوا نے سالوں سے وابستہ میڈیسن کمیونٹی یعنی ہول سیل اور ری ٹیلر کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ایک اچھا اقدا م کیا اور 2013ء میں میڈیسن کے تھوک اور پرچون کے کاروبار کرنے والوں کے لیے فارمیسی (سی) کے نام سے ایک امتحان کا انعقاد کیا۔ امتحان میں بیٹھنے کے لیے جن میڈیسن لائسنسوں پر وہ کام کر رہے تھے، جس پردو سال کے پروپرائٹر شپ کی شرط رکھی اور اس شرط پر پورا اترنے والے ہر امیدوار نے مبلغ 2800 روپے بنام فارمیسی کونسل پشاور امتحان فیس ادا کی۔ اس سے خیبر پختون خوا کو کروڑوں روپے ریوینیو بھی حاصل ہوا، لیکن اس امتحان کے نتائج کا اعلان 2016ء میں کیا گیا، اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ دنیا کے وہ کون سے ادارے اور درسگاہیں ہیں جو امتحان لے کر تین سال بعد نتائج کا اعلان کرتے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ تین سال بعد جب کامیاب امیدواروں کو سر ٹیفکیٹ دینے کا وقت آیا، تو امیدواروں سے پھر مبلغ 3000 روپے فی سرٹیفکیٹ بنام فارمیسی کونسل پشاور ادا کرنے کو کہا گیا۔ اس طرح ایک دفعہ پھر کے پی کے حکومت کو کروڑوں روپے ریوینیو حاصل ہوا۔ پھر جب فارم(9) اور (10) کے الاٹمنٹ کا وقت آیا، توہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس کیٹیگری کے لائسنس پر امتحان لیا گیا تھا، اس کو اس کیٹیگری کا لائسنس الاٹ کیا جاتا، لیکن زیادہ تر کو ہول سیل کا لائسنس عطا کیا گیا، یوں ہول سیل کے کاروبار میں اضافہ ہوا۔ اس کے بعد ہرضلعی ڈرگز آفس میں فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے ایما پر ان کامیاب امیدواروں کو ہراساں کرنے کا عمل شروع ہو ا اور ان کے لائسنسوں کے الاٹمنٹ میں روڑے اٹکائے جانے لگے۔ ان لائسنسوں کی تنسیخ کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ کو حقائق کے بر عکس آمادہ کیا گیا۔ صرف اس حسد کی بنیاد پر اگر ان سالوں پر محیط میڈیسن کمیونٹی کو کاروبا ر کی اجازت دے دی گئی، تو فارماسسٹ کا مستقبل کیا ہوگا؟ یوں کے پی کے حکومت کے اچھے اقدام کو ایک اور رنگ دیا جانے لگا، یعنی ہول سیل کو ناکام بنانے کے لیے ان کو قصوروار ٹھہرایا گیا۔
فارماسسٹ ایسوسی ایشن کی دلی خواہش ہے کہ وہ فارغ التحصیل برادری کو پرائیویٹ سیکٹر ہول سیل،ڈسٹری بیوشنز، ری ٹیلر میں کھپائیں اور بھاری تنخواہیں مقرر کر کے سالوں پر محیط کاروبار کرنے والے ہزاروں اور ان سے منسلک لاکھوں لوگوں سے نوالہ چھینا جائے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ حکومت کواپنی شناخت برقرار رکھنے کے لیے ہاسپٹل فارمیسی میں اپنی اہمیت اور ہر ضلع میں تحصیل کی سطح پر ڈرگ انسپکٹر کی تعیناتی کا مشورہ دیتے، تو عوام کو مناسب علاج، جعلی ادویات اور لاکھوں لوگوں کوبیروزگارنہ کرنے میں مدد ملتی اور برادری کو سرکار میں کھپانے کے مواقع ملتے۔ اسی طرح فارما سیوٹیکل انڈسٹر ی میں فارما سسٹ کی اہمیت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر دیکھا جائے، تو ان کی آمدنی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے فیلڈفورس کی آمدنی سے بھی کم ہے۔ لہٰذا وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ، وزیر صحت، چیف سیکریٹری، فارمیسی کونسل اور فارماسسٹ ایسوسی ایشن سے میڈیسن کمیونٹی اپیل کرتی ہے کہ ان کو ہراساں کرنے کے بجائے حقائق کو مدنظر رکھ کر ان لائسنس ہولڈرزکے لائسنس ری نیو کیے جائیں، جو التوا میں پڑے ہوئے ہیں، تا کہ حکومت خیبر پختون خواہ کے ریوینو میں اضافہ ہو اور عوام معیاری اور سستی ادویات سے بھی مستفید ہو ں۔
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں

……………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے