385 total views, 1 views today

وائس آف امریکہ، مشال ریڈیو اور سوشل میڈیا کے مختلف صفحات کے مطابق 2009ء کے آپریشن کے دوران اور بعد میں سوات میں سیکڑوں افراد لاپتا ہوئے ہیں۔ ان میں کچھ کا تعلق تحریکِ طالبان سے تھا لیکن بیشتر لوگ ایسے بھی ہیں جن کے خاندان اب بھی اس بات سے انکاری ہیں کہ ان کے لاپتا ہونے والے رشتہ داروں کا تعلق تحریک طالبان سے تھا۔ وہ خاندان مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر ان کے لاپتا عزیزوں کا تعلق تحریک طالبان یا کسی اور دہشت گرد تنظیم سے تھا، تو ریاستی اداروں کو چاہیے کہ انہیں عدالتوں کے ذریعے مجرم ثابت کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائیں۔
اگر دیکھا جائے، تو متاثرہ خاندانوں کا یہ مطالبہ حق بجانب ہے۔ دس سال پورے ہونے کو ہیں۔ سیکڑوں خاندانوں کو اپنے عزیزوں بارے تاحال کوئی پتا نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا مرچکے ہیں؟ ان دس سالوں میں کئی بچے یتیم ہوگئے ہوں گے، سیکڑوں خواتین بیوہ ہوگئی ہوں گی، لیکن مذکورہ تمام بچے اور خواتین میں سے بیشتر کو اس بات کا اب تک علم نہیں ہوگا۔ ان میں سے ایسے خاندان بھی ہیں جو دس سال سے انتہائی کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ ان خاندانوں کے بچے تاحال اپنے والدین کی راہ تک رہے ہیں۔ ان بچوں نے تعلیم حاصل کرنا تھی۔ ایک طرح سے ان کا حق بنتا ہے کہ انہیں یتیم خانوں میں داخل کرایا جاتا، لیکن یہاں ستم ظریفی یہ ہے کہ کسی یتیم خانے میں داخلے کے لیے سب سے پہلے والد کی موت کا سرٹیفکیٹ (ڈیتھ سرٹیفکیٹ) کی شرط لازمی ہے۔ اب اگر ایک بچے کو اپنے والد کے زندہ یا مردہ ہونے کی خبر تک نہ ہو، تو وہ یہ سرٹیفکیٹ کیسے حاصل کرے گا؟ اکثر بچے دس سالہ محرومی کی زندگی کاٹ کر آج جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہے ہیں۔ ان متاثرہ خاندانوں کے بارے میں ریاست کی پہلو تہی کہاں کا انصاف ہے؟




اب بھی وقت ہے، ریاست ان سیکڑوں بیواؤں، یتیموں اور بے سہارا لوگوں کی محرومیوں کا ازالہ کرسکتی ہے۔

یہ جو آج کل ایک تحریک، پختون تحفظ مومنٹ (پی ٹی ایم)کی شکل میں موجود ہے، اس کا کوئی وجود نہ ہوتا اگر ریاست آپریشن کے بعد اُن افراد کے اعداد و شمار اکھٹا کرتی اور جو بچے یتیم ہوئے تھے، ان کے سر پر دستِ شفقت رکھتی۔ اس کے علاوہ جن بچوں کے والدین ریاست کے خلاف اسلحہ اٹھانے میں ملوث پائے گئے تھے، انہیں یہ باور کرایا جاتا کہ ان کے والدین مجرم تھے، اپنی ریاست کے خلاف تھے، لیکن ریاست نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ اس طرح بیوہ ہونے والی خواتین کو اندھیرے میں رکھنا بھی ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ یہی وجہ کہ آج منظور پشتین کے حماتیوں میں صفِ اول میں وہی بچے، وہی بھائی، وہی والدین اور وہی بیوائیں موجود ہیں، جنہیں اپنے پیاروں کا کوئی علم نہیں ہے کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں؟
اب بھی وقت ہے، ریاست ان سیکڑوں بیواؤں، یتیموں اور بے سہارا لوگوں کی محرومیوں کا ازالہ کرسکتی ہے۔ ہم دست بدعا ہیں کہ ملکِ عظیم پر ایک بار پھر کوئی مشکل گھڑی آئے اور نہ عوام ہی مشکلات سے دوچار ہوں، آمین۔

…………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے