605 total views, 4 views today

وطنِ عزیز میں سب سے سستا جو چورن بیچا جاتا ہے یا پھر آپ کسی کو خاموش کرانا چاہتے ہوں، یا دبانا چاہتے ہوں، تو آپ اس پر ’’غدار‘‘ ہونے کا الزام لگا دیں۔ اس طرح اگر کوئی بندہ جرأت کرکے اپنے حقوق کی بات کرنے لگتا ہے، تو کبھی اسے ’’سی آئی اے‘‘ کا ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے، تو کبھی اسے ’’را‘‘ کا۔ یہ دنوں لیبل کام نہ کریں، تو افغانستان تو کہیں گیا نہیں ہے۔آج کل ایک اور لیبل اسرائیل کے ایجنٹ ہونے کا بھی خاصا مشہور ہے۔ اس عمل کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہاں پر ایجنٹوں کی اتنی بہتات ہے کہ اگر مردم شماری میں اس کے لیے ایک الگ خانہ بنا دیا گیا، تو یقینا ٓآدھی آبادی پکے ایجنٹوں پر مشتمل قرار دی جائے گی۔ مطلب، ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور ہم پاکستانیوں نے ہر چیز میں حد کراس کی ہوئی ہے۔ اگر کوئی دینی معاملے پر بحث کرنا چاہے، تو منٹوں کے اندر اندر وہ کافر قرار پاتا ہے۔اگر کوئی خارجہ پالیسی پہ بات کرنے کی کوشش کرے اور کسی ملک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بات کرے، تو وہ مذکورہ ملک کا پکا ایجنٹ قرار دیا جاتاہے۔ اب تو سیاسی مخالفت میں بھی غداری ٹھپا لگانا معمول بنتا جا رہا ہے۔ لیکن کیا کبھی ہم نے یہ بھی سوچا ہے کہ ایجنٹ اور غدار کے اس کھیل میں ہم نے ملک کا کتنا بیڑا غرق کر دیا ہے؟ ہم نے اس گھناؤنے کھیل میں اپنے ملک کو ایک مضبوط قلعے کی بجائے شیشے کے مکان میں تبدیل کر دیا ہے، جو معمولی سی تنقید پر بھی ٹوٹنے لگتا ہے یا کم از کم ٹوٹنے کا شور شروع ہوجاتا ہے۔
تکلیف دینے یا سہنے کی جو حد ہے، وہ بندہ خود متعین کرتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص اتنا نازک طبع ہوتا ہے کہ وہ معمولی مذاق والی بات کو بھی دل پہ لے لیتا ہے جب کہ کچھ لوگ بڑی سے بڑی بات کو بھی ہنسی خوشی ٹال دیتے ہیں۔ ملکوں کی برداشت کی حد بھی ہم نے خود مقرر کی ہوئی ہے، مثلاً ہمارے ملک میں کسی شخصیت یا ادارے کے غیر آئینی کردار پر تنقید کا مطلب سنگین نتائج بھگتنا ہوتا ہے اور یہ شعر چیخ چیخ کر اس صورتحال کی عکاسی کرتا ہے کہ
یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسی تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری




یہاں پر ایجنٹوں کی اتنی بہتات ہے کہ اگر مردم شماری میں اس کے لیے ایک الگ خانہ بنا دیا گیا، تو یقینا ٓآدھی آبادی پکے ایجنٹوں پر مشتمل قرار دی جائے گی۔ (Photo: Dawn News)

لیکن اگر اسی تنقید کو آپ کسی ترقی یافتہ ملک میں کریں، تو بجائے سنگین دھمکیوں کے وہ شخص یا ادارہ اپنے آپ میں بہتری لانے کی کوشش کرے گا۔ اس کے علاوہ اگر ہم حقوق کے بارے میں بات کریں، تو وہ ممالک اپنے شہریوں کے حقوق کی جس انداز میں ضمانت دیتے ہیں، وہ قابلِ رشک ہے۔ جب کہ پاکستان میں تو جتنی کوشش حقوق کو دبانے میں صرف ہوتی ہے، اگر اتنی ہی اپنے آپ میں بہتری لانے میں صرف ہو، تو یہاں کی آگ بھی اندازِ گلستان پیدا کرسکتی ہے۔ قارئین، ہمارے اس معاشرے کی عکاسی حبیب جالبؔ نے کچھ اس انداز میں کی ہے کہ
یہاں سوچوں پہ تعزیریں ہیں
یہاں نفرت کی زنجیریں ہیں
ذاتوں کے گورکھ دھندے ہیں
یہاں نفرت کے یہ پھندے ہیں
ایسے معاشرے میں ترقیاتی سوچ رکھنا آ بیل مجھے مار کے مترادف ہوتا ہے اور قدم قدم پر راستے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق مانگنا کوئی جرم نہیں۔ اس کا جواب آپ اس طرح سے دے سکتے ہیں کہ آپ اپنی برداشت کے مادے کو بڑھا کر جینے کی آزادی، سوچنے کی آزادی، نقل و حمل کی آزادی اور بولنے کی آزادی کو یقینی بنائیں۔
الحمد اللہ، پاکستان ایک ناقابلِ تسخیر ایٹمی قوت ہے اور کسی کی باتوں یا احتجاج سے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے والا بلکہ اُلٹا اس کی دیواریں اور مضبوط ہوں گی۔ ہم اگر ایسی صورتحال میں یکساں پالیسی بناتے، تب بھی ٹھیک تھا، لیکن قوم جب دیکھتی ہے کہ 126 دن کے دھرنے کو تو کچھ نہیں کہا جاتا، اور نہ ہی دارالحکومت کے لاک ڈاؤن پر ریاست کوئی کارروائی کرتی ہے بلکہ فیض آباد دھرنوں کی تو مالی معاونت کروائی جاتی ہے، تو پھر لوگوں کے ذہنوں میں سوال تو اُٹھیں گے۔ اور یہ سوالات آئے دن لاجواب بنتے جا رہے ہیں۔ کیوں کہ ہمارا رویہ ایک شخص کے ساتھ اس ملک میں ایک جیسا ہوتا ہے جب کہ دوسرے شخص کے ساتھ بالکل اس کے برعکس۔ اب جب کہ ایک شخص جائز مطالبات کرتا ہے اور ان مطالبات کی حمایت بلاول بھٹو، نواز شریف اور عمران خان نے بھی کی ہے، تو پھر مجھے اس کی مخالفت کی منطق سمجھ میں نہیں آتی۔ ہمیں اپنے اندر برداشت کی قوت پیدا کرنا ہوگی۔ تب کہیں جاکر ہمارا یہ ملک ایک مضبوط قلعے میں تبدیل ہوگا۔اس دن کی نشان دہی فیض احمد فیضؔ صاحب نے بہت پہلی کی تھی:
’’لازم ہے کہ ہم وہ دن دیکھیں گے‘‘
اور حبیب جالبؔ مرحوم نے بھی کہا تھا کہ
میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے
میرے سر پہ ظلم کا پھندا ہے
میں مرنے سے کب ڈرتا ہوں
میں موت کی خاطر زندہ ہوں
میرے خون کا سورج چمکے گا
تو بچہ بچہ بولے گا
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
شیشے کے مکان میں رہتے ہوئے ہر وقت کا ڈر ختم کرنا ہوگا اور مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ فیض احمد فیضؔ اور حبیب جالبؔ کے خون کا سورج جلدی چمکے گا اور وہ دن دور نہیں جب خلقِ خدا کا راج ہوگا اور کوئی بھی شخص اس ملک میں ’’غدار‘‘ نہیں کہلائے گا۔

……………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے