645 total views, 1 views today

کوئی چاہے یا نہ چاہے، پختونوں کی پرآشوب تاریخ میں منظور پشتین کا نام ایک لیجنڈ کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ البتہ یہ فیصلہ وقت ہی کرے گا کہ وہ ایک ہیرو کے طور پر امر ہوں گے یا ایک ولن کی حیثیت سے؟ یہ اس لیے بھی کہ پختونوں کے حقوق کے نام پر’’اکٹیوازم‘‘ میں منظور پشتین پہلا نام نہیں۔ اس راستے میں کیسے کیسے لوگ ایسے ویسے ہوگئے، اور ایسے ویسے لوگ کیسے کیسے ہوگئے۔ اور اس لیے بھی کہ اباسین میں آنے والے سیلاب عموماً خود پختونوں کا ہی نقصان کرکے گزر جاتے ہیں۔ خدا نہ کرے کہ یہ اٹھتا ہوا شورکسی اور طوفان بلاخیز کی خبر دے دے۔ ایک ایسا طوفان جو بچے کھچے چمن کو بھی اجاڑ کے رکھ دے۔ منظور جو مقدمہ لڑ رہا ہے ، اور جس انداز سے لڑ رہا ہے، وہ ہمیں کلی حیثیت سے منظور نہیں۔ یہ مانتے ہوئے بھی کہ منظور کی بہت ساری باتیں غلط بھی نہیں، ریاست اور فوجی اداروں کے حوالے سے بات ایسی بھی نہیں جس طرح منظور بیان کرتا ہے۔ مقدمہ ہے کیا؟ منظور پشتین کی ویڈیوز اور باتوں کا لب لباب یہ ہے کہ ریاست دیدہ و دانستہ پختونوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔ انہیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ان کی تذلیل کر رہی ہے۔ اب یہ سلسلہ مزید برداشت نہ ہوگا۔ تمام پشتونوں کو اس پالیسی کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔
٭ پہلی بات، اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ اس بیانیے کے اثبات میں کوئی ٹھوس ثبوت کبھی پیش نہیں کیا جاتا۔ یہ حالات اور واقعات کی محض ایک تعبیری رائے پر مبنی بیانیہ ہے، جس سے وہ لوگ خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں جنہیں کسی نہ کسی موقع پر ریاستی اہلکاروں (خاص طور پر فوج) کی طرف سے کسی نقصان، سختی یا نامناسب طرزِ عمل کا سامنا کرنا پڑا ہو، لیکن اگر یہ تعبیر ایک لمحے کے لیے درست مان بھی لیا جائے، تو سوال یہ بنتا ہے کہ آخر ریاست (اور بالخصوص فوج) کو کیا ضرورت ہے کہ کسی خاص قومیت کی نسل کشی اور تذلیل کرکے خود ہی اس وفاق کو کمزور کرے، جس کے دفاع کے لیے ریاست اور فوج ہر قسم کی قربانی کی بات کرتی ہے؟ آخر وہ تمام پختون افسران، ملازمین، تجار اور سیاست گر وغیرہ جو ریاست پاکستان کا حصہ ہیں، انہیں وہ ظلم اور توہین کیوں نظر نہیں آ رہے جو منظور کو نظر آرہے ہیں؟ کیسے ممکن ہے کہ قوم پرست رہنماؤں سمیت تمام پختون اپنی اجتماعی نسل کشی اور تضحیک پرخاموش رہ کر شریکِ جرم رہیں، مگر صرف منظور پشتین کو تحریک شروع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی؟ منظور پشتین کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے۔ جہاں تک ’’کامن سینس‘‘ کی بات ہے، تو دانستہ نسل کشی اور اجتماعی توہین کی اس تعبیرکا کوئی ’’سینس‘‘ ہی نہیں بنتا۔
٭ دوسری بات، اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ کیا خطے میں جاری عسکری اور سیاسی کشمکش کی ذمہ دار اول و آخر پاکستان ہی پر عائد ہوتی ہے؟ کیا افغانستان نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کے خلاف ’’پختونستان‘‘ کے مسئلے پر دشمنی کی بنیاد نہیں رکھی تھی؟ اس کے بعد کیا روس، امریکہ، ہندوستان، ایران اور سعودی عرب سمیت پوری دنیا افغانستان میں ’’پراکسی وار‘‘ میں ملوث نہیں ہوئی جس کے نتیجے میں افغانستان ایک قبرستان بن کر رہ گیا؟ پچھلے چالیس پچاس سالوں کے واقعات کے نتیجے میں جو حالات آج پختون بیلٹ میں بنے ہوئے ہیں، منظور پشتین ان سب کو پسِ پشت ڈال کر سارا ملبہ ریاست پاکستان اور عساکرِ پاکستان پر ڈال کر اپنا مقدمہ جذباتی طور پر دلفریب تو بنا رہا ہے لیکن حقیقت سے متصادم اس دلفریب بیانیے میں مجھے پختونوں کے لیے خیر کی شہد کی بجائے شرکا زہر زیادہ نظر آ رہا ہے۔




پچھلے چالیس پچاس سالوں کے واقعات کے نتیجے میں جو حالات آج پختون بیلٹ میں بنے ہوئے ہیں، منظور پشتین ان سب کو پسِ پشت ڈال کر سارا ملبہ ریاست پاکستان اور عساکرِ پاکستان پر ڈال کر اپنا مقدمہ جذباتی طور پر دلفریب بنا رہا ہے۔

٭ تیسری بات، اس سلسلے میں تیسری بات یہ ہے کہ اگر مسئلہ واقعی پختونوں کے قتل و غارت اور انہیں ریاستی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کا ہے، تو یہی پختون، افغانستان میں بھی مر رہے ہیں، وہاں بھی ریاست پر کچھ غیر ریاستی عناصر کی سرپرستی کا الزام ہے۔ امریکہ، روس اور ہندوستان پر بھی یہی الزام ہے کہ وہ بلوچوں اور پختونوں کو استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔ پھر اس بیانیے میں ان تمام ریاستوں کا تذکرہ ہونا چاہیے تھا، جن پر الزام ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے لیے پختونوں کو استعمال کرکے مروا رہے ہیں۔ پی ٹیم ایم کے بیانیے میں صرف پاکستان کو ہی کیوں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے؟
٭ چوتھی بات، چوتھی بات یہ ہے کہ آخر یہ کیسے پختون دشمن پالیسی ہے جس میں مطلوبہ قومیت (یعنی پختونوں) کے ساتھ ساتھ ریاست پاکستان کی تمام قومیتیں متاثر ہوئی ہیں؟ کیا خودکش حملے، بم دھماکے، گرفتاریاں اور ناکے صرف فاٹا اور خیبر پختونخوا میں تعمیر ہوئے ہیں یا پاکستان کے دیگر شہروں اور علاقوں میں بھی ہیں؟ ہم خود بھی خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ساتھ فاٹا میں بھی جائیدادیں اور رشتہ دار ہیں اور دہشت گردی سے شدید طور پر متاثر بھی ہوئے ہیں، لیکن ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ پاکستان کا شہر شہر، قریہ قریہ دہشت گردی سے متاثر ہوا۔ لاشیں صرف پختونوں کی نہیں گریں، ہر قومیت اور ہر صوبے سے تعلق رکھنے والوں کا خون بہا۔ صرف عوام ہی نہیں کٹ مرے، ہزاروں فوجی، پولیس اور ایف سی کے افسر اور جوان بھی شہید ہوئے۔ مزارات، بازار، سکولز اور پبلک مقامات صرف کے پی اور فاٹا میں نشانہ نہیں بنے۔ یہ حقیقت ہے کہ پختونون کا علاقہ اور پختون زیادہ متاثر ہوئے لیکن اس جنگ کے شعلے پورے پاکستان اور ہمسایہ ریاستوں تک پہنچے ہیں۔ اس آگ نے ہر طبقے کو متاثر کیا اور اس آگ کو لگانے کی ذمہ داری کسی ایک ملک یا اس کی فوج پر لگانا درست نہیں۔
٭ پانچویں بات! اس وقت مشرق وسطی میں علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مابین اسی نوعیت کی ’’پراکسی وار‘‘ زوروں پر ہے۔ نہ وہاں کوئی خاص قومیت نشانے پر ہے ، نہ یہاں۔ ہمارے ہاں کے جنگی اکھاڑے میں، ہمارے علاقے میں رواں جنگ میں کئی علاقائی اور عالمی طاقتیں ملوث ہیں۔ اب یا توعالمی برادری جنگ اور دشمنی کے اسباب کا سدباب کرے یا پختونوں سمیت تمام متاثرہ قومیتوں کو چاہیے کہ وہ ریاستوں کے باہمی کشاکش میں کسی کا آلہ کار نہ بنیں۔
٭ چھٹی بات، میں کسی عوامی تحریک یا شخصیت کے سحر میں گرفتار ہوں، نہ منھ زور ریاستی اداروں کے ظلم و زیادتی کے سامنے سرنڈر ہوں۔ میں پاکستان دشمنوں کی طرح ریاست پاکستان کو اپنے قول و فعل سے کمزور بھی نہیں کرنا چاہتا، لیکن ڈیپ سٹیٹ کے تجاوزات کا بھی قائل ہوں نہ وکیل۔ میں بھی پختونوں کے ساتھ ساتھ تمام قومیتوں کے لیے مساوی آئینی حقوق، قانون کی حکمرانی، بنیادی آزادی اور عزت و توقیر کا مطالبہ کرتا ہوں۔ ہر شخص اور تحریک کے اس حق کو تسلیم کرتا ہوں کہ وہ آئین اور قانون کے اندر رہ کر اپنے جمہوری اور آئینی حقوق کے لیے جد و جہد کرے۔ میں ہر ظالم کی مذمت کرتاہوں۔ ہر ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونے کو دین اور ضمیر کا فرمان سمجھتا ہوں۔ ہر مظلوم کی مدد کو اسلام اور پاکستان سے وفاداری کا تقاضا سمجھتا ہوں۔ اس سلسلے میں مقدور بھر کوشش کو بھی ناگزیر سمجھتا ہوں۔
٭ آخری بات، لیکن میں ہر اُس تحریک اور شخص سے برأت کا اعلان کرتا ہوں جو بغاوت کا انداز اختیار کرے۔ میں کسی ایسی تحریک یا شخصیت کو سپورٹ نہیں کرسکتا جو حقائق کی بجائے اندازوں اور مبالغوں پرمیرے پیارے پاکستان کے وجود کو کمزور کرے، جوحکمت و دانائی کی بجائے بے بصیرتی اور نادانی پر اڑی رہے اور جس کی بظاہر خیر کی جستجو بھی مہلک شر کا سبب بنے ۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین!

…………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے