360 total views, 1 views today

سری لنکا کے زیادہ تر لوگ کھانا پینا کٹلری کے بجائے ہماری طرح ہاتھوں کے’’سپورٹ‘‘ سے معدہ کو سپلائی کرتے ہیں۔ اسی لیے تو عجز و انکساری کا پیکر ہیں۔ کھانے سے پہلے پانی کا گلاس پینا ضروری سمجھتے ہیں۔ چاول اور مچھلی اس لیے ان کی مرغوب غذا ہے کہ یہی فراوانی سے میسر ہے۔ پکنک پارٹی کے لیے خصوصی ڈش کیلے کے پتوں میں بنائی جاتی ہے۔ گوشت، مرچیں، مصالحے اور چاول کیلے کے بڑے بڑے سبز پتوں میں ایک خاص طریقے سے فولڈ کرتے ہیں اور بھاپ کے ذریعے اسے پکاتے ہیں۔
کیری باتھ ایک ڈش ہے جس میں چاول کو دودھ میں ملا کر پکاتے ہیں۔ مہمانوں کی ’’آمد و رفت‘‘ کے ڈش بھی مخصوص ہیں۔ کوکونٹ سے مشروب کے علاوہ بہت ساری چیزیں مثلاً کوکنگ کریم، دودھ، پاوڈر اور سرکہ بھی بناتے ہیں۔ یہ تو خدا بھلا کرے مسز انڈریا کا جو کہ جوزف کی ’’چنغلہ‘‘ ہے، وقتاً فوقتاً ہمیں سوپ بنانے کے گُر بتاتی اور ہم کاغذ پر وہ گُر منتقل کرتے تھے۔ سبزیوں اور دالوں کا یونیک سوپ اب ہم گھر میں بناتے ہیں۔ مزے دوست لیتے ہیں اور نیک نامی بیوی کے حصے میں آتی ہے۔ عمومی طور پر مردوں کے چہروں کو ہم نہیں دیکھا کرتے تھے۔ سو اُن کا رنگ یاد نہیں۔ تاہم اکثر خواتین کا رنگ چائے کی کچی پتی کے رنگ سے مشابہت رکھتا ہے۔ بعض کا ہماری طرح پکی ہوئی چائے کے رنگ سے۔
یاد رکھیں کہ چائے، قہوہ، کافی وغیرہ کی پیکنگ، ذائقہ اور پراڈکٹس میں اتنی فراوانی اور تنوع ہے جتنا یہاں کی خواتین میں۔ یہاں کی خواتین بدیسی گوریوں سے مقابلتاً زیادہ باپردہ ہیں یعنی کپڑے پہنتی ضرور ہیں لیکن مردوں کے مقابلے میں کچھ کم۔ اُن کا پیٹ اور پیٹھ تو ویسے بھی دیدہ زیب ہوتی ہے۔ اس لیے ان کو کپڑے کی قید سے آزاد رکھا جاتا ہے۔ دیدہ زیب چیزوں کو مزید دیدہ زیب بنانے پر پیسہ خرچ کرنے کا کیا فائدہ؟ یہ حقیقت وہاں کی خواتین بہتر سمجھتی ہیں۔ لہٰذا اُن کو اپنے نیچرل حال پر ڈسپلے کرکے دیکھنے والوں کی نظروں کو راحت کا سامان فراہم کرنے میں بُخل سے کام نہیں لیتیں۔ اور یہ سنو، دیہی علاقوں میں بچوں کی شادیاں والدین کی مرضی سے بھی ہوتی ہیں جب کہ ’’لو میرج‘‘ میں بھی کوئی قباحت نہیں سمجھتے۔ تاہم اکیس سال سے کم عمر کے بچوں کو شادی کے لیے والدین سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ عورت اور مرد اس چلتے پھرتے نظام کے دو متحرک پہیے ہیں۔ اس وجہ سے جب بھی کہیں نکلتے ہیں، تو ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلتے ہیں۔ عورتیں زیادہ تر نرسنگ، ٹیچنگ، پیکنگ، شاپنگ، گارمنٹس، ہوسٹس اور زرعی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں اور ہر کام میں اپنے مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔ آپ دیہی علاقوں میں مویشیوں کے رجحان سے پتا چلا سکتے ہیں کہ یہاں کون لوگ رہ رہے ہیں؟ مثلاً کہیں مرغیاں نظر آئیں، تو سمجھ لیں کہ یہاں “بدھسٹ” رہتے ہیں۔ بکریاں ہوں، تو جان لیں کہ اپنے لوگ یہاں کے سجادہ نشین ہیں اور اگر کسی علاقہ میں پِگ (پالتو) دیکھیں، تووہ کرسچن ہوں گے۔ ایوئیشن، شپنگ، کامرس اور انرجی سیکٹر کو بہت توجہ دی جا رہی ہے۔ انھی میں روزگار کے مواقع بھی بڑھ رہے ہیں۔




خواتین کا رنگ چائے کی کچی پتی کے رنگ سے مشابہت رکھتا ہے۔ بعض کا ہماری طرح پکی ہوئی چائے کے رنگ سے۔ (Photo: Acme Travels)

سری لنکا کا جھنڈا بھی عجیب ہے۔ اس میں ہر قسم کے رنگ بھر ے ہیں۔ ہر رنگ کی ’’وکری‘‘ داستان اور مقصد ہے۔ فلیگ کے بیچ میں سنہرا شیر اور اس کے دائیں پاؤں میں تلوار کا نشان طاقت اور بہادری اور “کرِج” کا سمبل جانا جاتا ہے۔ تلوار کا ہینڈل پانی، زمین، ہوا اور آگ کی نشان دہی کرتا ہے۔ شیر کی داڑھی کے بال لفظوں کی “پیوریٹی” کی نشانی ہے، جب کہ اس میں موجود مختلف رنگ وہاں کی قوموں کا دُکھڑا سناتے ہیں، جس کی تفصیل اُس ڈائری میں درج نہیں جس کو بڑے مشکل سے ہم نے ڈھونڈ کر یہ باتیں آپ تک پہنچائیں۔

سری لنکا کا جھنڈا جس میں شیر اور تلوار نمایاں نظر آ رہے ہیں۔ (Photo: Shutterstock)

چائے کی پیداوار میں سری لنکا دنیا کا چوتھا بڑا پروڈیوسر ہے۔ بین الاقوامی طور پر کافی، کوکین، کول، کوکونٹ اور ربڑ کی پیداوار میں اس کا سکہ چلتا ہے۔ دنیا میں موجود ہیرے جواہرات کی پچاسی اقسام میں یہی کوئی آدھی سری لنکا میں پائی جاتی ہیں، جن میں روبی، کیٹ آئی، ٹوپاز، زرقون، سیلون بلو وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ہم نہیں کہتے “مسٹر جوزف” کہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ ہیرے جواہرات کی تراش خراش کے ماہر اور خرید و فروخت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی بیگم “اینڈریا” مختلف ہیلنگ اسٹونز (Healing Stones) کے ذریعے کافی بیماریوں کے علاج میں اسپیشلسٹ ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ اسٹون زندہ ہوتا ہے اور اس کا بہ طریقِ احسن استعمال زندگی کو شفا بخشتا ہے۔ انور حیات فوری طور پر ان کا کہا “اِنڈورس” کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ بھی ’’اسی دشت کی سیاحی‘‘ میں بال سفید کرچکے ہیں۔ بیماریوں کے علاج کے لیے وہ اسٹونز کی کیمیائی خصوصیات کی وسیع علم رکھتی ہیں اور کولمبو کے کئی لوگ باقاعدہ طور پر ان سے مفت مشورہ اور علاج کے لیے آتے ہیں۔ اس بارے اُن کا مشاہدہ بہت گہرا ہے۔ اس طریقۂ علاج میں مخصوص پتھر، مخصوص مقدار میں، مخصوص وقت کے لیے پانی میں رکھا جاتا ہے۔ پھر اس پانی کو پیا جاتا ہے۔
ٹپ:۔ کسی کی کڈنی میں پتھر ہو، تو وہ ہم سے رجوع کر سکتا ہے۔ کیوں کہ اس بابت بہت سارے راز ہم نے اپنے ساتھ خفیہ طور پر پاکستان اسمگل کیے ہوئے ہیں۔ اب آپ کے سوات میں ہیلنگ اسٹون کے دو ’’ممتاز ماہر‘‘ موجود ہیں۔
اس سفر کے لیے تیاری کے دوران میں پروفیسر محمد روشن بتا رہے تھے کہ سری لنکا کو بحرِ ہند کا آنسو بھی کہتے ہیں۔ کیوں کہتے ہیں؟ وہاں پہنچتے ہوئے ائر ہوسٹس نے جب لینڈنگ کے لیے سیٹ بِلٹ باندھنے کا اعلان کیا، تو جہاز کی کھڑکی سے نیچے کی طرف دیکھتے ہوئے بحرِ ہند میں اس کا محلِ وقوع ایسا لگ رہا تھا جیسے کہیں پانی کا ایک ’’ڈراپ‘‘ گر کر آہستہ آہستہ پھیل رہا ہو۔ وہاں پتا چلا کہ 1980ء کے بعد شدید اندرونی خلفشار اور خانہ جنگی کی وجہ سے وہاں کے شاعروں نے اپنی نظموں میں اسے بحرِ ہند کے گرے ہوئے ا ٓنسو سے تعبیر کیا۔
اب سری لنکا سمندر کی موتی کی طرح شفاف اور چمکدار ملک کی حیثیت سے اُبھر رہاہے۔
کیا گزری ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
بات ہوتی ہے اتفاق کی، مضبوط اور مخلص “لیڈر شپ” اور “کومٹمنٹ” کی جس کا پاکستان میں شدید فقدان ہے۔ بس اس کو اللہ ہی رکھے۔
احمد ندیمؔ قاسمی کے ان اشعار میں اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہاں کی طرح پاکستان کو بھی امن و سکون کا گہوارا بنائے، آمین۔
خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
خدا کرے کہ مرے اِک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے