250 total views, 1 views today

پشاور سے شائع ہونے والے ایک بڑے اور مشہور روزنامے کی چودہ فروری 2018ء کی اشاعت میں صوبائی سرکار کا ایک بچکانہ حکم شائع ہوا ہے کہ ’’میڈیکل بلوں اور سفری اخراجات (ٹی اے ڈی اے) کے بلوں کا آڈٹ ہو۔ اب صوبائی سرکار کی کارکردگی کے معیار کو دیکھئے کہ کتنی چھوٹے اخراجات پر توجہ مرکوز ہو رہی ہے۔ میڈیکل بلز کے بارے میں یہ واضح ہے کہ اب یہ (خرچہ ہو یا نہ ہو) ملازمین کو ماہوار تنخواہ کے ساتھ ملتے ہیں۔ صرف اُن اخراجات کو حکومت بڑی مشکلوں سے ادا کرتی ہے جو ہسپتالوں میں بستروں پر پڑے داخل مریض چند مخصوص خریداریوں پر کرتے ہیں۔ اس مد میں اخراجات پورے صوبے میں شاید چند لاکھ سے زیادہ نہ ہوں۔ اس طرح ٹی اے، ڈی اے کی حقیقت بھی یہی ہے کہ جعلی بلز بہت کم مقدار میں ہوں گے۔ ملازمین بسوں کے کنڈیکٹر نہیں ہوتے کہ روزانہ سفر کرتے ہیں، البتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ دور افتادہ اداروں اور دفتروں کے کلرکوں کو مہینے میں ایک دو دفعہ خزانے کے دفتر میں آنا پڑتا ہے اور جیب سے خرچہ کرکے بعد میں بلز بناتے ہیں۔ پہلے تو ان میں ناجائز بلز کم ہوں گے، لیکن جائز ناجائز ملاکر یہ بہت کم رقم بنتی ہے جب کہ اصل فراڈ تعمیرات اور خریداریوں کی مدات میں ہوتے ہیں۔ یہ فرض وزرا کا ہوتا ہے کہ وہ دیکھیں کہ قوم کے خزانے سے جو اخراجات ہوتے ہیں، کیا وہ درست طریقے اور جائز کاموں پر ہوتے ہیں اور کیا ان اخراجات کے بدلے جو کام ہوئے ہیں یا جو اشیا خریدی گئی ہیں وہ معیاری اور مناسب و جائز قیمت کی ہیں؟ یہ خالصتاً وزرا اور دوسرے منتخب سرداروں کا فرض ہے۔ سرکاری ملازمین کا بھی یہی فرض ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جنت کے طلبگاروں کے اس معاشرے میں چور اور چوکیدار ملے ہوئے ہیں۔ اگر اوپر سے منتخب نمائندوں کی نگرانی اور پوچھ ہو، تو پھر چور اور چوکیدار کا اِکا کمزور ہوتا ہے اور بجٹ کا استعمال کافی درست ہوتا ہے۔ شاید چیف منسٹر یا چیف سیکرٹری نے اخراجات کی آڈٹ کا حکم دیا ہو اور یار لوگوں نے اُسے میڈیکل اور ٹی اے کے بلوں تک محدود کیا ہو۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ ان دو مدات کا دوبار آڈٹ غیر ضروری ہے۔ کیوں کہ ان کی ادائیگی ’’پری آڈٹ‘‘ کے بعد ہوتی ہے۔ اصل ضرورت کام (ورکس) اور خریداریوں (سپلائز) کی چیکنگ ہے۔ ایک سرکاری عمارت سو سال کی مدت کے لیے بنتی ہے لیکن ہمارے یہاں کمیشن (رقومات میں حصہ داری) کی وبا اور لعنت کی وجہ سے سرکاری عمارات میں سو دن میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ہم سب روز دیکھتے ہیں۔
سرکاری ٹنڈر چھپتے یعنی شائع ہوتے ہی ٹھیکیدار یا سپلائرز حضرات آپس میں اِکا کرلیتے ہیں (یعنی آپس میں لے دے کر اتفاق کے ساتھ ایک شخص اور ایک نرخ پر متفق ہوجاتے ہیں، یوں ٹھیکیداروں کا من پسند ٹنڈر ہوجاتا ہے)۔ عموماً یہ دیکھا اور پایا جاتا ہے کہ ٹنڈر کمیٹی کو جو نمونہ دکھایا جاتا ہے، سپلائی اُس سے بدتر اشیا کی کی جاتی ہے۔ موجودہ صوبائی سرکار کے صرف چند ماہ رہ گئے ہیں۔ اس عرصے میں بڑے اخراجات کا آڈٹ تو دور کی بات ہے لیکن حکومت کا اپنا حدف بھی پورا نہ ہوگا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ پی ٹی آئی اقتدار میں آتے ہی یہ حکم جاری کرتی۔ اب اس تھوڑے عرصے میں اگر یہ سرکار قوانین سازی کرکے ایسے قواعد و ضع کرے کہ دورِ جدید جو اخلاقی گراؤٹ اور بدکرداری کا دور ہے، میں وقوع پذیر ہونے والے وائٹ کلر جرائم کا سدباب کرسکے۔ آڈٹ اور اکاؤنٹس کے معاملے میں ہم ایک صدی سے زیادہ انگریزوں کی بنائی ہوئی معیارات کے ساتھ چل رہے ہیں، جن میں بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے۔
احتساب قدرت کا مطالبہ ہے۔ ظلم اور چوری چکاری جو بھی کرے اور جیسا بھی کرے، اُس کا مناسب احتساب ہو۔ پاکستان میں بہت زیادہ کام اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔ خدا خوفی کا جذبہ ہماری خود غرضیوں نے بہا کر رکھ دیا ہے۔ دفاتر خود قیمتی بجٹ کے ضیاع میں لگے ہوتے ہیں، اب حکومت ایک اور بڑے ضیاع کی تیاری کر رہی ہے کہ صوبے میں سرکاری سکولوں کو سولرائیز کرنے جا رہی ہے۔ حالاں کہ ہمارا بد کردار اور اخلاقی گراؤٹ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس اقدام سے سپلائرز اور کمیشن مافیا ہی کا فائدہ ہوگا۔ ہمارے یہاں تو شہروں کے اندر چوریاں ہوتی ہیں بلکہ بسا اوقات محکموں والے خود اشیا وغیرہ کو چرا کر غائب کردیتے ہیں۔ اب جب کہ ہمارے اکثر سکولز آبادیوں سے باہر ہوتے ہیں، وہاں ان قیمتی اشیا کو کون چھوڑے گا؟ اس وقت مینگورہ سمیت صوبے کے تمام علاقوں میں شمسی نظام ناکارہ کر دیا گیا ہے۔ پشاور شہر کے سولر سسٹم کا سٹریٹ لائٹس نظام کام نہیں کررہا ہے۔ مینگورہ میں جہاں جہاں حکومت نے یہ سہولت دی ہے، اُس کو دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ یہ بھی ناکارہ ہوچکا ہے۔ بہت ساری جگہوں میں قیمتی اشیا غائب ہیں۔
مینگورہ میں یہ نہایت ضروری ہے کہ نالیاں ایسی سربند (کورڈ) ہوں کہ میونسپل لوگ صفائی آسانی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ کرسکیں۔ تاج چوک اور مکان باغ میں نالیاں سرکاری اداروں نے گو بہتر کردیں، لیکن اُن کو اس انداز سے پکی چھتیں ڈال کر بند کیا کہ اُن کی صفائی ناممکن ہوگئی۔ ضرورت ٹی اے ڈی اے بلوں کی آڈٹ کی نہیں بلکہ پرفارمنس آڈٹ کی ہے اور جعلی بیوروکریسی کے خاتمے کی ہے۔

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے