286 total views, 1 views today

انجینئر امیر مقام



سوئی گیس اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اس طرح اگر ایک طرف بل کی مد میں حاصل شدہ رقم حکومت کے خزانے میں چلی جاتی ہے، تو دوسری طرف عوام بھی اس نعمت سے خوب استفادہ کرتی ہے۔ اس وقت سوات کے کئی علاقوں کوگیس کی سپلائی جاری ہے۔ بیشتر علاقوں کو ’’لوپریشر‘‘ کا سامنا بھی ہے۔ سوات میں سوئی گیس کا مرکزی پلانٹ ’’زولاڈھیر‘‘ جو بلوگرام، تختہ بند اور قمبر کے سنگم پر واقع ہے اور قمبر اور تختہ بند کی جائیداد پر تعمیر کیا گیا ہے، جس سے سوات کے کئی علاقے بشمول مینگورہ شہر کو گیس کی سپلائی کی جاتی ہے، لیکن اس عظیم نعمت سے تختہ بند کے عوام آج بھی محروم ہیں۔
قارئین، اس محرومی کی کئی وجوہات ہیں۔ اس تحریر میں کچھ حقائق سامنے لانے کی کوشش کروں گا کہ وہ کون سی وجوہات اور عوامل ہیں جن کی بنا پر تختہ بند کو سوئی گیس جیسی نعمت سے دور رکھا جا رہا ہے۔
قارئین، تختہ بند کو گیس کی سپلائی کا مطالبہ کوئی نیا مطالبہ نہیں ہے۔ ۲۰۰۸ء کے جنرل الیکشن سے پہلے یہاں کے باسیوں نے سوئی گیس کنکشن کیلئے باقاعدہ جدوجہد کا آغازکیاتھا اور اس ضمن میں اس وقت کے مسلم لیگ ق کے امیدوار برائے صوبائی اسمبلی میانگل اسفندیار امیرزیب شہید نے اقتدار میں آنے کے بعد یہ دیرینہ مطالبہ پورا کرنے کا وعدہ بھی کیاتھا، لیکن بدقسمتی سے اسفندیارامیرزیب جومنگلور میں انتخابی جلسہ کرنے کے بعد گھر واپس لوٹ رہے تھے کہ سڑک کنارے نصب بم کا نشانہ بنے اور شہید ہوگئے۔ نتیجتاً حلقہ پی کے اکاسی میں انتخابات ملتوی ہوئے جو بعد میں کرائے گئے اور اس حلقے سے عوامی نیشنل پارٹی جو اس وقت کی حکومتی پارٹی تھی، کے امیدوار شیرشاہ خان کامیاب ہوئے۔ حسب سابق تختہ بند کے عوام نے اپنا یہ دیرینہ مطالبہ ان کے گوش گزار کیا، تو موصوف نے وعدہ کیا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی، لیکن بعد میں سوات کے مخدوش حالات اور ملٹری آپریشن کی وجہ سے یہ وعدہ وفا نہ ہوسکا۔ ملٹری آپریشن کے بعد تختہ بند کے عوام کی طرف سے یہ مطالبہ دوبارہ اٹھایاگیا۔ ابھی شیرشاہ خان نے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے کوششیں شروع ہی کی تھیں کہ سوات پر ایک اور آزمائش سیلاب کی صورت میں نازل ہوئی اور یوں یہ منصوبہ دوبارہ سردخانے کی نذر ہوا۔ اب چند دنوں پہلے تختہ بند کے نوجوان شاہد خان نے اس مسئلے کو سوشل میڈیا پر اٹھایا، تو چند ہی گھنٹوں میں ایک پوسٹ نے تحریک کی صورت اختیار کرلی۔ میں نے شاہدخان سے سوشل میڈیا پر رابطہ کیا اور کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح اس مسئلے سے منسلک دیگر افراد سے بھی رابطہ کیا، جن میں سابقہ ایم پی اے شیرشاہ خان قابل ذکر ہیں۔ کیوں کہ مجھے اس بات کا علم تھا کہ تختہ بند کے عوام کے اس دیرینہ مطالبے کو پورا کرنے کے لئے شیر شاہ خان نے اپنے دورِ اقتدار میں کافی کوششیں کی تھیں۔ جب میں نے سابقہ ایم پی اے سے رابطہ کیا اور تختہ بند سوئی گیس سپلائی منصوبے کے با رے میں گفتگو کی، تو شیرشاہ خان نے کچھ اہم معلومات میرے ساتھ شیئر کیں۔
قارئین، شیرشاہ خان کے بقول اس منصوبے کے لئے انہوں نے ۲۰۱۲ء میں اپنے فنڈ سے پچاس لاکھ روپے سوئی گیس ڈیپارٹمنٹ کو جمع کئے تھے۔ تاکہ سوئی گیس ڈیپارٹمنٹ ایمرجنسی بنیادوں پر کام کا آغاز کرے، لیکن سوئی گیس ڈیپارٹمنٹ کی لاپروائی اور نااہلی کی وجہ سے یہ منصوبہ ایک بار پھرتعطل کا شکار ہوا۔
۲۰۱۳ء میں جب مقامی جرگہ نے شیرشاہ خان اور سوئی گیس ڈیپارٹمنٹ کے سامنے سوئی گیس سپلائی کا مسئلہ دوبارہ اٹھایا، تو سوئی گیس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے مزید پچاس لاکھ روپے جمع کروانے کا کہا گیا۔ اس بار جرگہ نے فیصلہ کیا کہ اب ایم پی اے کو مطلوبہ پچاس لاکھ روپے جرگہ کے ہاتھوں سوئی گیس ڈیپارٹمنٹ کو جمع کرانے ہوں گے، لیکن ایم پی اے صاحب کیلئے قانوناً یہ ناممکن تھا۔ چوں کہ جرگہ بضد تھا، تو شیرشاہ خان نے اسی میں عافیت جانی کہ جرگہ کی موجودگی میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر کو چیک تھمادیاجائے اور ایسا ہی ہوا۔ جس وقت پچاس لاکھ کا چیک جمع کیاجارہا تھا، تو محترم مشر مہرونیش خان اور کاظم باچا کی سربراہی میں جرگہ کے باقی نمائندے بھی موجود تھے۔ اور یوں چیک جرگہ کے ذریعے جمع ہوا۔ لیکن کسی تکنیکی وجوہات کی وجہ سے وہ چیک سوئی گیس کے ہیڈ آفس سے واپس کر دیا گیا۔ اسی دوران میں حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور الیکشن کا میدان سج گیا۔ عوام نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عزیز اللہ گران کو صوبائی اسمبلی کا ممبر اور قومی اسمبلی کیلئے مراد سعید کا انتخاب کیا۔ عزیزاللہ گران کی عدم توجہ کی بنا پر یہ منصوبہ تعطل کا شکار رہا۔ موصوف نے یہ بھی گوارا نہیں کیا کہ سوئی گیس ڈیپارٹمنٹ سے پوچھا جائے کہ وہ ایک کروڑ روپے جو سابقہ ایم پی اے نے جمع کئے تھے، کہاں خرچ ہوئے یا اگر خرچ نہیں ہوئے تو اَب کہاں ہیں؟
قارئین، یوں پچھلے چار سالوں سے تختہ بند کے غیور عوام سوئی گیس کنکشن کے حصول کیلئے ذلیل و خوار ہوتے چلے آرہے ہیں۔ بلدیاتی الیکشن میں مسلم لیگ ن کا امیدوار برائے تحصیل کونسلرنثار احمد خان اور پیپلزپارٹی کا امیدوار ضلع کونسل عرفان حیات چٹان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے بھرپور کوشش کریں گے۔ دونوں نے اپنی اپنی جگہ بہت کوشش کی اور بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل کی۔ میں نثار احمد، فریدخان اور عرفان حیات چٹان کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے دن رات ایک کرکے اس منصوبے کی منظوری کیلئے جدوجہد کی اور آٹھ ماہ قبل تختہ بند سوئی گیس سپلائی منصوبہ منظور ہوا، لیکن اب انجینئر امیرمقام صاحب کی بے جا مداخلت کی وجہ سے پچھلے آٹھ ماہ سے یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔
قارئین، باوثوق ذرائع سے پتا چلا ہے کہ امیرمقام صاحب ۲۰۱۸ء کے الیکشن میں پی کے اکاسی سے الیکشن لڑنے کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ تختہ بندکی گیس سپلائی کا منصوبہ اور پی کے اکاسی میں وفاق کے جاری تمام منصوبوں کو طول دے کر اس عمل کو الیکشن مہم کیلئے استعمال کیا جاسکے۔ یعنی اب تختہ بندکے عوام کو ایک طرح سے بلیک میل کیا جا رہا ہے کہ وہ یہ یقین دہانی کروا دیں کہ تختہ بند کاسارا ووٹ امیرمقام اور مسلم لیگ کے حصے میں آئے گا۔ لیکن یہاں میں یہ بات ضرور بتانا چاہوں گا کہ امیرمقام صاحب کواپنے ذہن سے یہ خیال نکال دینا چاہیے کہ تختہ بند کے غیور عوام کو وہ بلیک میل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
امیرمقام صاحب کویہ بھی سوچنا چاہئے کہ اگر آج وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرکے احتساب سے بچ سکتے ہیں، تو روزِ محشر وہ اپنے رب کو کیا جواب دیں گے کہ ا پنے اختیارات کا ناجائزاستعمال کرکے اپنے لوگوں سے خوشیاں اور سہولیات چین لی تھیں۔ اور اپنی اس قوم کو جس نے انہیں اقتدار کے ایوانوں میں پہنچایا تھا؟
آخر میں ان تمام افراد کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس مسئلے کو سوشل میڈیا پر اٹھایا اور گھرگھر جاکرتختہ بند کے عوام کو اس اہم مسئلے پر متحد کرنے میں اپنا کردار ادا کیا یا اس منصوبے کی منظوری میں اپنا کردار اداکیا۔




تبصرہ کیجئے