1,023 total views, 1 views today

جدید مطالعۂ پاکستان میں جمعہ خان صوفی کا نام ایک نئے عہد کا عنوان ہے۔ پاکستان مخالف قوم پرستی کا قبل از جمعہ خان عہد، اور بعد از جمعہ خان عہد۔ انہوں نے جس ’’فریب ناتمام‘‘ کی نشان دہی کی ہے، اس کا مناسب حل پاکستان اور افغانستان دونوں اور خاص طور پر خطے کے پختونوں کے لیے خوشحالی کے ایک نئے دور کی ضمانت ہے۔

جمعہ خان صوفی کی کتاب “فریب ناتمام” کا ٹائٹل۔ (فوٹو: احسان حقانی)

جمعہ خان صوفی ایک نظریاتی سیاسی کارکن، تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے ایک اہلِ نظر دانشور، افغان امور میں خاص مہارت رکھنے والے ایک بلندپایہ ماہرِ سماجیات اور سب سے بڑھ ایک بے لحاظ راست گو انسان ہیں۔ اسلامیہ کالج سے انگریزی کے لیکچرر کی حیثیت سے کیرئیرکا آغاز کیا۔ ضمیر کی آواز پر نوکری چھوڑ کر نظریہ کے لیے زندگی وقف کر دی۔ پاکستان مخالف تحریک کی اعلیٰ ترین قیادت کے قریب رہے۔ بیس سالہ جلاوطنی کے دوران میں کابل میں افغان صدور تک کے ساتھ مل کر کام کیا۔
پھر پاکستان مخالف قوتوں کا شیرازہ منتشر ہوگیا۔ نئی صف بندی شروع ہوگئی۔ ایک موہوم نظریہ کی تلاش میں نکلنے والے کمیونسٹ اور قوم پرست واپس پاکستان کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہوگئے۔ کابل او ر جلال آباد میں جمعہ خان صوفی کے ساتھ کام کرنے والے اکثر احباب پاکستان کی قومی وصوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے رکن بن گئے۔ پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھایا، لیکن انہوں نے پوری زندگی افغانستان میں پاکستان کے خلاف نفرت کی فصل اُگانے کا جو جرم کیا تھا، اس پر شرمندہ ہونے اور پاکستان مخالف بیانیہ پر ندامت کی بجائے، بلواسطہ اس کی وکالت جاری رکھی۔ صوفی صاحب اتنی بڑی غلطی پر خاموش رہنے والوں میں سے نہیں تھے۔




جمعہ خان صوفی کی عبدالغفار خان بابا کے ساتھ ایک یادگار تصویر۔

جمعہ خان صوفی نے اُن تمام غلطیوں کی نشان دہی کی ہے جو پاکستان کے حق میں افغانستان اور اس کے زیرِاثر پختون قیادت سے ہوئی ہیں۔ اس کام کے لیے بہت بڑی جرأت درکار تھی۔ صرف ایک نظریاتی آدمی جان سکتاہے کہ نظریاتی رشتے اور دوستیاں کتنی عزیز ہوتی ہیں۔ جمعہ خان صوفی نے زندگی بھر کی کمائی ہوئی محبتیں اور دوستیاں داؤ پر لگادیں۔ اس بنیاد کو ہی غلط قرار دے دیا، جس پر یہ دوستی اور تعلق قائم تھے۔ جو لوگ صوفی صاحب کی ادبی، تاریخی، سفارتی اور سیاسی صلاحیتوں کی دل سے قدر کرتے تھے، فریب ناتمام لکھنے کے بعد وہی لوگ جمعہ خان صوفی کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ صوفی صاحب نے قوم پرست حلقوں میں پاکستان کے حق میں ایک توانا آواز بلند کی۔ ذاتی مشاہدہ، تاریخی دلائل اور منطقی اسلوب صوفی کی آواز کو مزید توانا کرتی ہیں۔ ان کی تحریروں سے پاکستان مخالف سیاسی فکر میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ انہوں نے پختونوں کو ترقی کے لیے پاکستان کا راستہ دکھایا ہے۔ انہوں نے دہلی اور کابل کی طرف جانے کی کوششوں کا بے لاگ تجزیہ کیا ہے اورثابت کیا ہے کہ پختونوں کا مستقبل پاکستان سے وابستہ ہے۔

جمعہ خان صوفی کی ولی خان کے ساتھ ایک یادگار تصویر۔

صوفی صاحب کہتے ہیں کہ پختونستان کا نعرہ پختونوں سے اتنا تعلق نہیں رکھتا جتنا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی اور افغانستان کی اندرونی سیاست سے تعلق رکھتا ہے۔ چوں کہ پاکستان کے پختون قوم پرست کابل کے زیراثر رہے ہیں، اس لیے جمعہ خان صوفی افغانستان کی پختون قیادت کو بھی تاریخی حقائق کی روشنی میں مخاطب کرتے ہیں۔ انہوں نے ڈیورنڈ لائن پر سو صفحات کی ایک مختصر کتاب لکھی ہے۔ یہ (زیرطبع) کتاب ڈیورنڈ لائن کی بنیاد پر پاکستان مخالف فکر کی دھجیاں اڑاتی ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر بندہ حیران رہ جاتاہے کہ کس طرح تاریخی اور زمینی حقائق اور بین الاقوامی قوانین کے برعکس افغانستان پاکستان کی علاقائی سالمیت پر اعتراض کر سکتا ہے؟
جمعہ خان صوفی اس سرزمین کے ایک قابلِ فخر فرزند ہیں۔ جب ان کا نظریہ تھا کہ پختون پاکستان میں محکوم ہیں، تو پوری جرأت اور بہادری کے ساتھ پاکستان کے خلاف جدوجہد میں حصہ لیا۔ ان کے کئی دوست اس جدوجہد کے دوران میں مالدار ہوگئے لیکن جمعہ خان جد و جہد کے دوران میں صوفی قرار پائے۔ انہوں نے کوئی جائیداد نہیں بنائی۔
1990ء میں جب روس کا شیرازہ بکھر گیا اور پاکستان سے ناراض ہوکر افغانستان جانے والے سب ہی رہنما واپس پاکستان آئے، تو ظاہر ہے جمعہ خان صوفی بھی ان میں شامل تھے۔ باقی دوستوں نے تو نئے حالات کے ساتھ سمجھوتا کرلیا لیکن جمعہ خان صوفی عشروں تک کی جانے والی غلطی کا ازالہ کرنے کے چکر میں تھے۔ پہلے انہوں نے پشتو میں ایک ضخیم کتاب لکھی۔ چوں کہ پشتوکے نام پر سیاست کرنے والوں نے پشتونوں کو پشتو نہیں سکھائی تھی، اس لیے پشتو میں چھپنے والی کتاب کسی کی توجہ حاصل نہ کرسکی۔ جوں ہی کتاب کا اردو ترجمہ مارکیٹ میں آیا۔ ایک عرصہ کے بعد کتابوں کی دنیا میں بھونچال آگیا۔
جمعہ خان صوفی کی انگریزی کتاب Gaffar Khan – Reluctant Nationalist ’’غفارخان ۔ ایک بے دل قوم پرست‘‘ بھی بہت دلچسپ پیرائے میں پاکستان کے حق میں پختون قوم پرست قیادت کی سیاسی غلطیوں کا احاطہ کرتی ہے۔ وہ خان عبدالغفار خان کے گرد تقدس کا دائرہ کھینچنے کی کوشش کرنے والوں کو چیلنج کرتے ہیں۔ پاکستان مخالف جذبات کی جڑیں تلاش کرتے ہیں، سیدھے پنڈت نہرو، موہن داس کرم چند گاندھی اور آل انڈیا نیشنل کانگریس تک پہنچتے ہیں۔ جمعہ خان صوفی یہ بھی بتاتے ہیں کہ خان عبدالغفار خان کا تحریک پاکستان کے دوران میں کانگریس کا ساتھ دینے، بعد میں افغانستان کے ساتھ قربت اور پاکستان مخالف رویہ کی وجہ سے پختونوں کو کتنا نقصان پہنچا۔انہوں نے پاکستان کے مقدمہ میں ایسی جان ڈالی ہے جس پر وہ اعلیٰ ترین اعزازات کے مستحق ہیں۔ لیکن میری یہ تحریر نامکمل ہوگی اگر میں ان نتائج کا ذکر نہ کروں جو سچ لکھنے کی پاداش میں جمعہ خان صوفی صاحب کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔

جمعہ خان صوفی کی ایک اور کتاب “Gaffar Khan – Reluctant Nationalist”

ظاہر ہے کہ جب جمعہ خان صوفی کی فکر میں تبدیلی رونما ہورہی تھی، تو انہوں نے اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا ہوگا۔جس مقصد کے لیے بظاہر سب نے اپنی زندگی داؤ پر لگائی تھی، وہ مقصد لاحاصل ثابت ہوا۔ غلطی کا اعتراف اپنے سیاسی مستقبل کو ختم کرنے کے مترادف تھا، لیکن صوفی سیاسی نہیں، نظریاتی تھے۔ ان کی نظر انتخابات پر نہیں، اپنی قوم کے مستقبل پر تھی۔ انہوں نے تیس سال سے جو سمجھانے کی کوشش کی تھی، اب یہ کہنا چاہتے تھے کہ یہ سب غلط تھا۔ پاکستان صحیح تھا۔ پاکستان درست ہے۔ پاکستان دوست ہے۔ دوستی ہی میں پاکستان، افغانستان اور دونوں ملکوں کے پختون فائدے میں ہیں۔
صوفی اپنی نئی فکر کے ساتھ پرانے حلقوں میں اجنبی ہوگئے۔ ان کے بہت سے قدردان انہیں کاٹ کھانے کے لیے تیار ہوگئے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسی صورت میں پاکستان دوست قوتیں صوفی کو ہاتھوں ہاتھ لیتیں، لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا ہے۔ انہیں اپنی پہلی ہی کتاب پر پی ایچ ڈی کی باقاعدہ ڈگری ملنی چاہیے تھی، لیکن یہ بھی نہیں ہوا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک کی یونیورسٹیاں صوفی کے لیکچر منعقد کرنے کے لیے ہجوم کرتیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملکی میڈیا صوفی کے ساتھ ٹاک شوز کرتیں کہ کس طرح کابل، دہلی اور ماسکو کے گٹھ جوڑ سے پاکستان میں تعصب کی آبیاری ہوتی تھی؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومتِ پاکستان صوفی کو اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازتی۔ صوفی کو اپنا تحقیقی کام آگے بڑھانے کے لے دفتر اور عملہ دیتی، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔ صوفی بڑی مشکل سے اسلام آباد میں اپنی رہائش کا انتظام کیے، عزت افزائی کے ان تمام امکانات سے بے نیاز، پاکستان کے مقدمہ میں جان ڈال رہے ہیں۔ کیوں کہ وہ ایک بے لوث نظریاتی تھے اور ایک بے لوث نظریاتی ہیں۔
صوفی کے پرانے دوستوں کے مؤقف کے بغیر بھی یہ تحریر نامکمل ہی ہوگی۔ میرے ایک قوم پرست دوست کو پورا یقین ہے کہ صوفی صاحب جو کچھ کررہے ہیں وہ آئی ایس آئی کا کیا دھرا ہے۔ پہلے مجھے بھی ایسا لگا کہ آئی ایس آئی ان کی سرپرستی کر رہی ہوگی۔ ’’فریب ناتمام‘‘ کی تقریب رونمائی میں آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل (جنرل اسد درانی) کی شرکت کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ اس تقریب سے صوفی صاحب کے ساتھ میرا نیاز مندی کا تعلق قائم ہوا۔ تقریب کے بعد سے آئی ایس آئی کا کوئی پتا نہیں چلا۔ مسلسل صوفی صاحب کی مشکلات کا نظارہ کر رہا ہوں۔ بغیرنوکروں کا چھوٹا سا گھر، بغیر ڈرائیور چھوٹی سی کار۔ وہ آدمی جو افغان صدرسردار داؤد، ببرک کارمل اور نجیب اللہ کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا، اپنی کتابوں کی اشاعت کے لئے خود چھاپہ خانوں کے چکر لگاتے ہیں،لیکن ان کی بڑی پریشانی یہ ہے کہ افغانستان کے غیرمنطقی رویہ کی وجہ سے خطے کے پختونوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہیں خوشی ہے کہ پختونوں نے قوم پرستی کے نعرے کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ، مجلس عمل اور اب تحریک انصاف پر اعتماد کیا ہے۔ پاکستان مخالف جذبات سے عملاً بے زاری کا اظہار کرتے ہیں جو ایک درست سمت کی طرف سفر کی نشان دہی کرتے ہیں۔
میں نے جمعہ خان صوفی سے پوچھا کہ آپ کو آخر ضرورت کیا تھی یہ سب لکھنے کی؟ خواہ مخواہ میں عمر بھر کی دوستیاں دشمنی میں بدل گئیں۔انہوں نے جواب میں ایک سرد آہ بھری۔ کہنے لگے، کسی نہ کسی کو تو سچ بولنا تھا۔ افغانستان کے پختونوں سے پاکستان کے پختون زیادہ پڑھے لکھے، زیادہ خوشحال، زیادہ آزاد اور زیادہ خوش ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کو کینسر بنانے والے غلطی پر ہیں۔ پاکستان کو کھلے دل سے تسلیم کرنے میں افغانستان ہی کا فائدہ ہے۔ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات سے دونوں ممالک فائدے میں رہیں گے۔ سب سے زیادہ فائدہ پختونوں کو ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک پاکستان کے باباتھے جنہوں نے اپنی جائیداد کا کچھ حصہ اسلامیہ کالج پشاور کے لیے وقف کیا۔ ایک پختون قوم پرستوں کے بابا ہیں جنہوں نے بھارت سے گاندھی ایوارڈ میں لی ہوئی رقم کے بارے میں وعدے تو بہت کیے کہ پختونوں کی فلاح پر خرچ کریں گے،لیکن ایساکیا نہیں۔
پختونوں کو آنکھیں کھول دینی چاہئیں۔ ان کا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے۔ جمعہ خان صوفی اس نظریہ کے حق میں تین ناقابل تردید کتابیں لکھ چکے ہیں اور ان شاء اللہ مزید لکھیں گے۔

………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے