306 total views, 2 views today

جہاز نے ’’بدیس‘‘ سے کراچی اُڑان بھرنے کے لیے پَر ’’پڑپڑا نے‘‘ کی تیاری کی اور ’’دلِ اناڑی‘‘ نے جسم کے قالب سے اُچھل کر نیچے ’’جمپ‘‘ مارنے کی۔ بہ یک وقت ہم ہوا میں معلق ہوئے اور بہ یک وقت دل بحرِ ہند کے بیچ رواں دواں زندگی سے’’غریقِ لطف‘‘ ہونے چل پڑا۔ ہم دل کی بیرونی نقلِ مکانی کا یہ عمل مائنڈ بھی نہ کرسکے کہ مائنڈ بھی دل کی معیت میں ’’کھوپڑے‘‘ سے ’’محوِ پرواز‘‘ ہوا تھا۔ ویسے اپنے ’’جسمانی اعضا‘‘ پر ناجائز قبضہ کے ہم خواہاں بھی نہیں۔ خدا بچائے ہم کوئی پاکستانی سیاسی مافیا یا سرکاری قبضہ مافیا تھوڑی ہیں جس عضو کی جہاں مرضی ہو، دہشت کے اس دیس سے بلاتوقف زندہ بھاگے اور خود کو ’’شہید‘‘ ہونے سے بچ بچا کر غازی بن جائے۔ اس کو اجازت ہے لیکن ہمارے جسم میں ’’فریجائل‘‘ جان کچھ لمحوں کے لیے مستعار چھوڑ دیں، تاکہ شہادت کے رتبہ پر سرفرازی کے ضمن میں کچھ ہڈیاں کچھ گوشت تو ریزہ ریزہ ہونے کے لیے ’’ریزرو‘‘ رہے۔ شکر ہے، جسمانی ڈھانچہ کی طرح دل اور دماغ کی کہیں جانے پر کوئی قید، کوئی پابندی نہیں۔ پابندی تو دراصل پاؤں پر عاید ہے، اسی لیے تو اس کو’’پا‘‘ ’’بندی‘‘ کہتے ہیں۔ کبھی آپ نے کسی ملک کے قوانینِ سفر میں ’’دل بندی‘‘ یا ’’دماغ بندی‘‘ کے الفاظ پڑھے یا سنے ہیں؟ ان کو پاسپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے نہ ویزے کی حاجت، ٹکٹ کی فکر، نہ سیاسی پناہ کی رکاؤٹ، نہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ اس کاغذی کرنسی کی جستجو جس کو پیش کرنے پر وہ ’’حاملِ ہذا‘‘ کو کیش بھی دلواتی رہتی ہے۔ رہی خالی جسمانی ڈھانچہ کی بات، تو اس پر مملکتِ خداداد کا ٹھپہ لگا ہے، جس کو حسبِ قانون یہاں منتقل اور اسٹور کرنا ضروری تھا۔ سو ہم نے اللہ تعالیٰ کا پاک نام لے کر اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔ دوسرے لمحہ میں ’’اچھے‘‘ اور ’’برے‘‘ دہشت گردوں کے شر سے پناہ مانگی اور توکل کرکے رختِ سفر باندھ لیا مگر ایئرہوسٹس کے اعلان اور پھر ضد کے باوجود سیٹ بلٹ باندھنے سے انکار کر دیا۔ اس جسم کو باندھنے کا فایدہ کیا، جس میں دل ہو نہ دماغ، بس ایک متحرک سا ڈھانچہ ہو۔
ویسے ’’خودلگتی‘‘ کہیے، بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے ’’مسلح جتھوں‘‘ کے اس ملک میں بموں اور توپوں کا نشانہ بننے کے لیے خالی جسمانی ڈھانچہ کافی نہیں……؟ مسلح جتھوں سے یاد آیا کہ ابھی حال ہی میں ہمارے حالیہ حکمرانوں (نام جن کا لینا قلم کو گوارا نہیں) نے ان جتھوں کو کھلے عام گھومنے پھرنے سے منع فرمایا ہے اور باقاعدہ طور پر ٹی وی، اخبار، فیس بک، ٹویٹ، ای میل اور یہاں تک کہ فون شون پر بھی ان کو بے رحمی سے للکارا ہے۔ ان کو تنبیہ اور ’’عوام الناسوں‘‘ کو تلقین کی ہے کہ اب کسی کو ایسا کرنے کی مزید اجازت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا ’’ہے گا۔‘‘ تمام لوگ، چاہے مسلح ہوں یا غیر مسلح، سب اپنی اپنی جغرافیائی حدود کے اندر رہ کر بھلے وقتوں کا انتظار کریں۔ انھوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور کے واقعہ پر جتھوں کی سرزنش کرتے ہوئے بچوں کے والدین کو کہا ہے کہ وہ بچوں کو اسکول نہ جانے دیں، تو نہ آئیں گے جتھے نہ شہید ہوں گے بچے۔ انھوں نے جتھوں سے نمٹنے کی خاطر اخبار میں بہت بڑا اشتہار بھی دیا تھا جس پر لاکھوں روپے کا خرچ برداشت کرنا پڑا تھا۔ چوں کہ بجٹ میں اس کے لیے فنڈ کی گنجایش نہ تھی، لیکن لوگوں کی جان بچانے کی خاطر تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکہ، ورلڈ بنک اور ’’انڈر ورلڈ‘‘ بنک کو جھولی پھیلانا پڑی تھی۔ تو اس اشتہار میں لوگوں کو طریقے سمجھائے گئے تھے کہ اُن سے کیسے فوراً نمٹیں؟ اپنا تو اب پکا عقیدہ ہے کہ یہ ملک بنا ہی اسی لیے ہے کہ اس کے باسی ’’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘‘ نامی ڈریکولے کی توند کی خوراک بننے تک زندگی کی بے چینی ’’اِنجوائے‘‘ کریں۔ اس فری اِنجوائمنٹ کے عوض وہ ’’جامِ حورا‘‘ کے مفاد کی خاطر، بموں کے بحرِ بیکراں میں ’’بھرسٹ‘‘ ہونے کی قربانی دینے کے لیے ہر پل ’’ریڈی‘‘ رہیں اور اسے اپنا ’’فرضِ اولین‘‘ تصور کریں۔ اس قربانی کے طفیل ’’ریاستِ ہذا‘‘ کا ’’فرضِ آخرین‘‘ ہے کہ وہ بم ’’کھانے‘‘ والے کی پیشانی پر ’’بعد از بم بلاسٹ‘‘ شہادت کا جام نوش کروانے کا اسٹیکر چسپاں کریں اور اس کو نڈر، بہادر اور دلیر کے ’’خطابات و تمغات و میڈلز و سرٹیفیکٹس‘‘ کا اجرا کرے۔ اس کو جنت الفردوس میں پہنچنے کی ’’پاور آف اٹارنی‘‘ دے۔ اس کو حوروں کے جمگھٹے میں جا بیٹھنے کی بشارت کرے، اور، اور، اور…… بس چھوڑیں جی یہ بھی کوئی باتیں ہیں کرنے کی؟ ’’ریاست میں رہنا اور شہادت سے بیر‘‘ کسی نے ’’اپنی‘‘ کیا خوب دُرگت بنائی ہے……! طنزیہ لہجہ، منافق دل، جھوٹے وعدے، لفظوں کے جال اور دلوں سے کھیلنے کا فن، اے ابنِ آدم……! کیا تو واقعی اشرف المخلوقات ہے؟
عجب ہے، جہاز سے شروع کیے گئے سفر کی بھلی چنگی گل، جسم سے دل کی بے دخلی سے ہوتی ہوئی جتھوں کی ’’چندری گل‘‘ میں کیسے جکڑی؟ آپ خود سوچیں، قصور ماحول کا ہے یا اپنا؟ ہم بات کر رہے تھے جہاز کی، جو پاکستان کی طرف محوِ پرواز رہا اور دل،’’دل کُشی‘‘ کرنے نیچے بحرِ ہند میں ڈوبنے کی طرف گامزن۔ (جاری ہے)

…………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے