347 total views, 1 views today

ہم آئی ہاؤس میں مختلف سرگرمیوں میں مصروف تھے کہ ایک دن جاپانی فیلو آیاکو نے ہم سے کہا کہ اس کی ایک جاننے والی امریکن خاتون جاپان آئی ہے، جو جاپان کے جنگی ہیروز والے میوزیم جانا چاہتی ہے۔ اس لیے وہ ہمیں بھی ساتھ لے جانا چاہتی ہے۔ نتیجتاً میں، سمیتا اور شین نے رضا مندی ظاہر کی۔ مقررہ وقت پر جب ہم ’’کدنشیتا‘‘پہنچے، تو امریکن خاتون نہیں پہنچی تھی، تاہم وہ کچھ دیر بعد ہم میں شامل ہوگئی۔ وہ درمیانی عمر کی پُرکشش خاتون تھی جس کا نام نینسی تھا۔ نینسی اوسط درجہ کی ایک امریکی خاتون تھی جو تاریخ و ثقافت میں انتہائی دلچسپی رکھتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ٹوکیو میں اس “Yushukan War memorial museum” کا دورہ کرنا چاہتی تھی۔ ہم جب میوزیم کے اندر داخل ہوئے، تو پتا چلا کہ یہ بہت بڑا میوزیم ہے جو مختلف حصوں پرمشتمل ہے۔ یہاں ایک طرف اگر جاپان کے جنگی ہیروز کے بارے میں تفصیلاً ذکر تھا، تو اس میں شاہی خاندان کا الگ حصہ بھی مختص تھا اور جنگی اصلحہ بھی رکھا گیا تھا۔ میوزیم میں 1894ء سے لے کر دوسری جنگ عظیم کے اختتامیہ تک کی تاریخ و تصاویر بھی دیواروں پر درج تھی۔ ہم ان تمام چیزوں کو سر سری انداز میں دیکھ کر آگے بڑھ رہے تھے، مگر نینسی میوزیم کے ہر حصے میں کافی وقت گزار کر مطالعہ کرتی تھی۔ ہم جب دوسری جنگ عظیم میں مرنے والے فوجیوں کے ہال میں پہنچے، جہاں ہزاروں کی تعداد میں تصاویر لگی تھیں، تو ہمیں بہت افسوس ہوا۔ کیوں کہ ان میں زیادہ تر تصاویر اُن افراد کی تھی جو ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والے تھے جب کہ ان میں اچھی خاصی تعداد کم عمر لڑکوں کی بھی تھی۔

1894ء سے لے کر دوسری جنگ عظیم کے اختتامیہ تک مختلف جنگوں میں زندگیاں ہارنے والوں کی تصاویر۔ (Photo: weirdjapan.org)

یہاں سے ہم جنگی جہازوں، توپوں، ٹینکوں وغیرہ کے حصے میں گئے جہاں نینسی میرے قریب آئی اور مجھ سے جنگ کے بارے میں بات چیت شروع کی۔ ہم دونوں کے خیالات ایک جیسے تھے۔ ہم اس بات پر متفق تھے کہ جنگوں میں صرف تباہی ہی ہوتی ہے اور یہ کہ امن ہی سے دنیا قائم رہ سکتی ہے۔ اسی دوران میں اس نے مجھ سے میرا ای میل ایڈریس بھی لے لیا۔ تقریباً تین گھنٹے گزارنے کے بعد ہم واپس ہوئے، تو راستے میں چینی فیلو ’’شین‘‘ نے کہا کہ چین میں اس میوزیم کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ کیوں کہ اس میں زیادہ تر جاپانی فوجی چین کے ساتھ طویل جنگ میں مرے ہیں، جو چین کے لیے ’’ویلن‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں نے ٹکڑا لگاتے ہوئے کہا کہ آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ کیوں کہ ایک قوم کے ہیرو، دوسری قوم کے ویلن ہوتے ہیں اور جاپانی فوجی جنہوں نے چین کے ساتھ جنگ میں جان کی قربانیاں دی ہیں،وہ جاپانیوں کے لیے ہیرو اور چینیوں کے لیے ویلن ہیں۔ اس طرح چینی فوجی چینیوں کے لیے ہیروز اور جاپانیوں کے لیے ویلن ہیں۔ شین نے کہا کہ جاپان کے اس میوزیم کو چین میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس لیے وہ یہاں تصویر بھی نہیں بنا سکتی۔ کیوں کہ اس کے ہم وطن اسے برا سمجھیں گے۔
ہم تھوڑی دیر میں سب وے یعنی میٹر وٹرین سٹیشن پہنچے، تو نینسی ہم سے جدا ہوئی۔ شام ہوچکی تھی اور جب ہم آئی ہاؤ س پہنچے، تو اندھیرا چھا چکا تھا۔ میں نے کھانا کھانے کے بعد لیپ ٹاپ کھولا، تو نینسی کا ای میل دیکھا جس میں اس نے لکھا تھا کہ اس کو مجھ سے مل کر خوشی ہوئی۔ یوں ہمارے درمیان مختلف موضوعات پر ای میل کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسی دوران میں ہماری ایک ہفتہ کے لیے چھٹی تھی، جس میں ہمیں آزادی تھی کہ ہم اپنی مرضی سے جاپان کے کسی بھی حصے میں جا سکتے ہیں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ ’’ہیروشیما‘‘ کے لیے رختِ سفر باندھا جائے۔ کیوں کہ سکول کے دنو ں میں ہیروشیما پر پہلے ایٹم بم کا تذکرہ بار بار سنا اور پڑھا تھا۔اتفاقاً نینسی نے مجھے ای میل کیا اور مجھے سے آئندہ ہفتے کی مصروفیات کے بارے میں پوچھا۔ میں نے اُسے جواباً کہا کہ میں ہیروشیما جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اس نے جھٹ سے کہا کہ وہ بھی کیوٹو، اوساکا اور نارا کے دورے پر جا رہی ہے۔ اس لیے اگر ممکن ہو، تو ہیروشیما دیکھنے کا پروگرام ساتھ ہی بناتے ہیں۔ میں نے اسے ہیروشیما جانے کا اپنا شیڈولڈ پلان بتا دیا ۔ نینسی نے کہا کہ مَیں اسی دن کیوٹو میں ہوں گی۔ اگلے دن ہیروشیما پہنچ کر ہیروشیما پارک اور میوزیم دیکھنے ساتھ ہی چلیں گے۔

ہیروشیما جانے کے لیے میں نے جاپان کی بس سروس کا ٹکٹ لیا، تاکہ دیکھ سکوں کہ لمبے سفر پر جاپان کی بسیں کیسی سروس دیتی ہیں۔ ہیروشیما ٹوکیو سے تقریباً 676 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، جس کے لیے ہوائی جہاز، بلٹ ٹرین اور بسیں چلتی ہیں۔ چوں کہ بس سروس سب سے سستی ہے اس لیے ان میں بھیڑ لگی رہتی ہے۔ زیادہ تر بسیں رات کو چلتی ہیں۔ میں نے بس کا ٹکٹ لیا اور مقررہ وقت یعنی رات کو دس بجے’’شین جوکو‘‘ بس سٹیشن پہنچا اور بس میں سوار ہوا تو دیکھا کہ بس میں سیٹو ں کا انتظام مختلف تھا۔ مطلب ہماری بسوں میں دونوں طرف دو بندوں کی سیٹیں ہوتی ہیں اور درمیان میں راستہ مگر ان بسو ں میں ایک مسافر کے لیے سنگل سیٹ تین قطاروں میں لگی تھی، یعنی ایک طرف کھڑکی والی سائیڈ پر سنگل سیٹوں کی قطار پھر راستہ، درمیان میں سنگل سیٹ والی قطار پھر راستہ اور دوسری طرف کھڑکی والی سائیڈپر سنگل سیٹوں کی قطار۔ ہر سیٹ بٹن کے ذریعے بیڈ کی شکل میں ’’ایڈجسٹ‘‘ ہوسکتی تھی، جس کے چاروں طرف پردوں کا نظام تھا۔




جاپانی بسوں کی آرام دہ سیٹیں۔ 

میں اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا جو انتہائی آرام دہ تھی۔ بس میں ’’وائی فائی‘‘ اور لیٹرین کی سہولت بھی موجو د تھی۔ جب ایک گھنٹا کا سفر طے ہوا، تو میں نے اپنی سیٹ کو بیڈ میں تبدیل کیا اور کمبل اوڑھ کر لیٹ گیا۔ لیٹتے ہی میری آنکھ لگ گئی اور ڈرائیور کے اس اعلان پر کھلی کہ تھوڑی ہی دیر میں بس ہیروشیما سٹیشن پر پہنچنے والی ہے۔ لہٰذا اترنے والے مسافر تیار رہیں۔ بس جب سٹیشن پہنچی، تومیں اترا اور اپنے ہوٹل کی طرف چلا گیا۔ میرا قیام ہوٹل فلیکس میں تھا جو ہیروشیما سٹیشن کے قریب ’’کایا بوشی‘‘ اور ’’اینکو‘‘ دریاؤں کے کنارے واقع تھا۔ میں نے سامان رکھا اور سٹیشن واپس آیا۔ کیوں کہ نینسی نے مجھے سٹیشن پر انتظار کرنے کو کہا تھا۔ کچھ دیر کے بعد نینسی پہنچ گئی اور ہم نے ہوٹل جا کر اس کا سامان رکھا اور باہر نکل آئے۔ ہماری پہلی منزل ہیروشیما کا امن پارک اور میوزیم تھا، جس کے لیے ہم مقامی برقی ریل میں بیٹھ گئے۔ ہیروشیما شہر میں برقی ریلوے جسے ’’سٹریٹ کار‘‘ کہتے ہیں، کا انتہائی منظم اور مستند نظام موجود ہے۔ سٹریٹ کار میں بیٹھ کر میں کھڑکی سے باہر ہیروشیما شہر کو دیکھنے لگا، تو یہ ایک جدید اور تمام تر سہولیات سے آراستہ شہر تھا،جس کی سڑکیں کشادہ اور صاف ستھری تھیں۔ میری سوچوں میں تو ہیروشیما شہر کا منظر کچھ اور تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ وہ بدنصیب شہر جس پر دنیا کا پہلا ایٹم بم گرایا گیا تھا،ابھی تک اپنی بدقسمتی اور انسانیت سوزی کی داستان سناتا ہوگا، مگر یہاں تو کوئی بھی ایسی نشانی نہیں تھی کہ اُس سے اندازہ لگایا جاسکے کہ یہاں دنیا کا خطرناک ترین بم گرایا گیا ہوگا۔ خیر، ہمکی طرف آگے بڑھ رہے تھے اور کچھ ہی دیر بعد ہماری ریل گاڑی سٹاپ پر رکی۔ ہم نیچے اترے، تو ہماری بائیں جانب پارک کا احاطہ شروع ہوا۔

ہیروشیما میموریل پارک کا احاطہ (فوٹو: لکھاری)

جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئے، تو ایک سیاہ ماربل کے پتھر پر اس پارک کے بارے میں جاپانی اور انگریزی زبان میں مختصر تحریر کندہ تھی۔ ہم آگے بڑھے، تواس ٹوٹی پھوٹی عمارت کے پاس پہنچے جو 6 اگست 1945ء کو ایٹم بم گرانے کے بعد سے اب تک اپنی اصلی حالت میں کھڑی ہے۔ اس عمارت کے اوپر گول گنبد کا ڈھانچہ بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے ایٹم بم ڈوم کہتے ہیں۔ یہی وہ واحد عمارت ہے جو اس شہر میں ایٹم بم کی تباہ کاریوں کو برداشت کرکے باقی رہی۔ ایٹم بم گرانے سے پہلے اس عمارت کو چیک ریپبلک کے معمار نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس کی تعمیر 1915ء میں مکمل ہوئی تھی اور تب سے بم گرانے کے وقت تک یہ عمارت ہیروشیما کمرشل ایگزبیشن ہال کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ یہ عمارت یونیسکو کے عالمی ورثہ میں بھی شامل ہے۔ ہم نے یہاں تصویریں کھینچیں اور اس عمارت کی طرف گئے جس پر بم گرایا گیا تھاجو تھوڑے ہی فاصلے پر تھا۔ ہمیں وہاں ہیروشیما کے ایک رہائشی ’’میٹوکوسائے‘‘ نامی شخص لے گیا۔ ’’میٹو کوسائے‘‘ کے مطابق بم گرائے جانے کے وقت وہ ماں کی حمل میں تھا اور جب پیدا ہوا، تو ایٹم بم کے اثرات کی وجہ سے نہایت کمزور تھا۔ اس کی ماں کو کینسر ہوا جب کہ اس کے دادا کے جسم پر عجیب قسم کے دانے نکل آئے اورقے دست میں خون نکلنا شروع ہوا۔ بعد میں اس کی قے میں گندگی نکلنی شروع ہوئی جس میں انتڑیوں کے ٹکڑ ے شامل ہوتے تھے۔ وہ 27 دن تک نہ کچھ نہیں کھا سکا تھا اور آخر مر گیا تھا۔ اس کی داستان بہت دردناک تھی جس کے لیے پوری کتاب لکھنی پڑے گی، تاہم وہ ہمیں اُس جگہ لے گیا جہاں انسانی تاریخ کا خطرناک ترین بم گرایا گیا تھا۔ یہ عمارت اصل میں ایک ہسپتال کی تھی۔

وہ عمارت جس پر ایٹم بم گرایا گیا تھا۔ (فوٹو: لکھاری)

اس پر ٹھیک آٹھ بج کر پندرہ منٹ کو امریکن جنگی جہاز ’’بوئنگ بی 29، دا اینولا گے‘‘ سے ’’لِٹل بوائے‘‘ نامی ایٹم بم گرایا گیا تھا۔ یہ انسانی تاریخ کا سب سے پہلا ایٹم بم تھا جس نے پورے ہیروشیما شہر کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا تھا۔ نتیجتاً ایک لاکھ چالیس ہزار لوگ لقمۂ اجل بن گئے تھے۔ (جاری ہے)

…………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے