296 total views, 1 views today

شمالی یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک ’’فن لینڈ‘‘ بھی ہے جو رقبے کے لحاظ سے 65 جب کہ آبادی کے اعتبار سے دنیا میں 114 ویں نمبر پر ہے۔ ملک کی کل آبادی 55 لاکھ کے لگ بھگ ہے، لیکن آپ کمال دیکھیں اس وقت تعلیمی درجہ بندی کے اعتبار سے فن لینڈ اولین نمبروں میں شمار ہوتا ہے جب کہ ’’سپر پاور‘‘ امریکہ اس درجہ بندی میں اس سے کہیں پیچھے ہے۔ 2020ء تک فن لینڈ دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں مضمون (سبجیکٹ) نام کی کوئی چیز اسکولوں میں نہیں پائی جائے گی۔ فن لینڈ کا کوئی بھی اسکول زیادہ سے زیادہ 195 بچوں پر مشتمل ہوتا ہے جب کہ 19 بچوں کے لیے ایک ٹیچر ہے۔ دنیا میں سب سے لمبی بریک بھی فن لینڈ میں ہی ہوتی ہے۔ بچے اپنے اسکول ٹائم کا 75 منٹ بریک میں گزارتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر 57 منٹ کی بریک نیویارک کے اسکولوں میں ہوتی ہے جب کہ ہمارے یہاں اگر والدین کو پتا چل جائے کہ کوئی اسکول بچوں کو ’’پڑھانے ‘‘ کی بجائے اتنی لمبی بریک دیتا ہے، تو وہ شاید بچے اسکول سے نکلوالیں۔




فن لینڈ کی تعلیمی درجہ بندی۔ (Photo: Adam Smith Institute)

دراصل فن لینڈ میں تعلیم کو آسان بنا کر فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور تعلیم کے معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاتا۔ خیر، آپ دلچسپ بات ملاحظہ کریں کہ پورے ہفتے میں اسکولوں میں محض 20 گھنٹے ’’پڑھائی‘‘ ہوتی ہے جب کہ اساتذہ کے دو گھنٹے روز اپنی ’’اسکلز‘‘ بڑھانے پر صَرف ہوتے ہیں۔
فن لینڈ میں ٹیچر بننا ڈاکٹر اور انجینئر بننے سے زیادہ مشکل اور اعزاز کی بات ہے۔ پورے ملک کی یونیورسٹیوں کے اعلیٰ ترین نمبروں کے ساتھ ماسٹرز کیے ہوئے طالب علموں کو ایک خصوصی امتحان کے بعد اسکولوں میں بطورِ استاد رکھا جاتا ہے۔ بچوں کے سکول جانے کی عمر سات سال ہے اور پندرہ سال سے پہلے کسی بھی قسم کا کوئی باقاعدہ امتحان بھی نہیں لیا جاتا۔ ایسا کوئی امتحان جس کے دوران میں ماں باپ اور بچوں کی نیندیں حرام ہو جائیں۔ ان کے کھیلنے اور بھاگنے دوڑنے پر پابندی لگ جائے، دروازے کھڑکیاں بند کر کے انہیں گھروں میں ’’نظر بند‘‘ کر دیا جائے۔ گھر میں آنے والے مہمانوں سے ملنے تک پر پابندی عائد کردی جائے اور گھر میں مارشل لا اور کرفیو کا سا سماں بندھ جائے۔
اس طرح پورے ملک میں تمام طلبہ و طالبات کے لیے ایک ہی امتحان ہوتا ہے۔ ریاضی کے ایک استاد سے پوچھا گیا کہ آپ بچوں کو کیا سکھاتے ہیں؟ تو وہ مسکراتے ہوئے بولے: ’’میں بچوں کو خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا سکھاتا ہوں، کیونکہ اس طرح وہ زندگی کے ہر سوال کو بآسانی حل کرسکتے ہیں۔‘‘
آپ جاپان کی مثال لے لیں ابتدائی طور پر بچوں کو صرف اخلاقیات اور آداب سکھائے جاتے ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں۔‘‘ ہم ابھی تک ان کے اس قول پر عمل کیوں نہیں کر پائے! ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔ یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔ معروف شخصیت اشفاق احمد کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے۔ اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے۔ آپ یقین کریں استادوں کو عزت وہی قوم دیتی ہے جو تعلیم کو عزت دیتی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں سے پیار کرتی ہے۔
جاپان میں معاشرتی علوم ’’پڑھائی‘‘ نہیں جاتی ہے۔ کیوں کہ یہ سکھانے کی چیز ہے اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔ جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں۔ صبح اسکول آنے کے بعد پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔

جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں۔

دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں جو بدقسمتی سے زیادہ تر نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے۔ جو کتاب کوئی ایک یا زیادہ افراد لکھتے ہیں، اسی کو بورڈ پر نقل کیا جاتا ہے۔ بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر اتار لیتے ہیں۔ اسی مواد کو امتحان میں دیا جاتا ہے۔ اس کی بنیاد پر آنے والے نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گائے جاتے ہیں۔ جن کے بچے فیل ہوجاتے ہیں، وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو کند ذہن کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔ اسکول میں سائنس ’’رٹتے‘‘ گزرتا ہے، لیکن ملک میں سائنس دانوں کی کمی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس سیکھنے کی اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہے اور ہم اسے بھی ’’رٹّا‘‘ لگواتے ہیں۔
میٹرک کلاس کا پہلا امتحان 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمارے پاس پاسنگ مارکس 65 ہیں، تو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کردیے گئے اور یہ آج بھی وہی ہیں۔ ہمیں بوسیدہ نظامِ تعلیم سے چھٹکارا پانا ہوگا اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ ایسا نہیں کہ ہمارے نظامِ تعلیم میں سب غلط ہے، لیکن بہت کچھ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بچوں کو ’’توتا‘‘ بنانے کی بجائے ’’قابل‘‘ اور ’’تخلیقی‘‘ بنانے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

(نوٹ: یہ تحریر dunya.com.pk سے منتخب شدہ ہے جس کے لکھاری رانا مبشر صدیق ہیں)

…………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے