332 total views, 1 views today

ہیامی جنگل اور ورلڈ ہرٹیج ٹریک کے بعد ہم بس میں بیٹھ گئے اور اوساکے لئے روانہ ہوئے، جہاں ہم نے مختلف سیمینار میں شرکت کرنا تھی۔ بس پہاڑوں اور گھنے جنگلوں میں سے گزرتی ہوئی ہائی وے پر چل رہی تھی۔ میں کبھی دائیں تو کبھی بائیں جانب دیکھتا تھا اور یہاں کی ناقابل یقین ترقی، صفائی اور مہذب پن کے بارے میں سوچ میں پڑ جاتا تھا۔ راستے میں بے شمار چھوٹی بڑی سرنگیں بھی آئیں جو مجھے حیران کرنے کے لئے کافی تھیں۔ کیوں کہ پاکستان میں تو صرف نو کلومیٹر سرنگ بنانے کے لئے تیس تیس سال انتظار کرنا پڑتا ہے، چاہے ایک پورا ضلع ہر سال چار چار مہینے کے لئے پور ے ملک سے منقطع ہی کیو ں نہ ہو جبکہ جاپان میں درجن بھر مکانوں پر مشتمل چھوٹے سے گاؤں کے لئے بھی کئی پہاڑوں میں سرنگ نکالے گئے ہیں۔ بس یہی فرق ہے ہماری اور جاپان کی حکومت میں۔
ہم تین گھنٹوں کی مسافت کے بعد شام کو اوساکا پہنچے، تو ہوٹل ’’سن روٹ‘‘ میں ہمارا قیام تھا۔ ہمیں کہا گیا کہ کل کو ہمارا سیمینار اور ’’کاماگا ساکی‘‘علاقے کا دورہ بارہ بج کر پینتالیس منٹ پر شروع ہوگا۔ اس لئے تمام ساتھی بارہ بج کر دس منٹ پر ہوٹل لابی میں ملیں گے۔ ہم ٹھیک وقت پر لابی میں جمع ہو کر ٹرین کے ذریعے کاماگا ساکی علاقہ پہنچے۔ مجھے یہ علاقہ تھوڑا عجیب سا لگا۔ یہاں بوڑھے مردوں کی تعداد زیادہ تھی اور بھیڑ بھی نہیں تھی۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ علاقہ جاپان کے بے گھر مردوں کے لئے مشہور ہے جن میں زیادہ تعداد عمر رسیدہ لوگوں کی ہے۔ ان افراد کے لیے یہاں کا مشہور کارٹونسٹ ’’آریموراسن‘‘کام کر رہا ہے جو ان کے حقوق کے لیے لڑرہا ہے۔

کاما ساگی جہاں بوڑھے افراد رہتے ہیں۔ (Photo: @libcom.org)

ہم جب ’’آریموراسن ‘‘سے ملے، تو وہ خود درمیانی عمر کا سنجیدہ آدمی تھا۔ وہ ہمیں دوسری منزل پر ایک ہال میں لے گیا اور اس علاقہ کی تاریخ اور یہاں آباد بے گھر لوگوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس کے بعد وہ ہمیں ان بے گھر افراد کے رہن سہن کام کاج اور سہولیات کی جگہوں پر لے گیا۔ جاپان حکومت نے ان سیکڑوں بے گھر بوڑھوں کے لیے ٹھیک ٹھاک کام کاج کا بندوبست کیا ہوا ہے جس کے ساتھ ان کی رہائش، طبی سہولیات اور خوراک کا بھی انتظام ہے۔ یہ بے گھر افراد صبح سرکاری بسوں میں تعمیراتی کام والی جگہ پر جاتے ہیں، جہاں یہ لوگ دیہاڑی کرتے ہیں اور شام کو بسوں میں یہاں واپس آتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جاپان میں شہریوں کے لئے سوشل ویلفیئراور سیکورٹی کا بہترین نظام موجود ہے، جس میں تمام لوگ جو بیمار ہوں یا بوڑھے ہوگئے ہوں، اپلائی کرسکتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ان کی رہن سہن، خوراک اور علاج کی مد میں ٹھیک ٹھاک مالی معاونت کی جاتی ہے۔ اہلِ جاپان کا ظرف دیکھیں کہ انتہائی بوڑھے ہوکر بھی سوشل سیکورٹی نظام سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ کیوں کہ ان کو ایسا کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے اور اپنے ہاتھوں سے کما کر کھانا ہی عظمت سمجھتے ہیں۔ یوں یہاں پر میں نے اسّی اسّی سال کے بوڑھے افراد کو بھی کام کرتے ہوئے دیکھا، تاہم ان افراد کی آنکھوں میں تنہائی کا روگ صاف جھلکتا ہوا دکھائی دیا۔




آریموراسن جاپان کے بوڑھے لوگوں کے حوالے سے بریفنگ دے رہے ہیں۔ (فوٹو: لکھاری)

مجھے جاپان میں یہ بات اچھی نہیں لگی کہ یہاں ہزاروں کی تعداد میں عمر رسیدہ افراد بے گھر تھے، جو اوساکا کے ’’کاماگاساکی‘‘ علاقہ میں برسوں سے رہائش پذیر تھے۔ ان کے اہل و عیال میں کسی نے ان سے رابطے کی کوشش نہیں کی تھی۔ تاہم مسٹر ’’آریموراسن ‘‘نے ہمیں کہا کہ بعض اوقات ان کے بھائی یا بچے صرف اس لئے رابطہ کرتے ہیں کہ اگر ان کی فوتگی ہوگئی ہو، تو ان کے نام پر جو جائیدادیں ہیں، وہ اپنے نام کرسکیں۔ عجیب بات ہے یہاں سب کچھ تہذیب کے دائرے میں ہے، انفراسٹرکچر بہترین ہے، ترقی اعلیٰ پایہ کی ہے اور لوگ با اخلاق ہیں مگر اپنوں کی پرواکسی کو نہیں۔ خاندان، والدین اور بچوں کے درمیان ہم جیسا میل ملاپ اور محبت و یگانگت کا جذبہ نظر نہیں آتا۔ اس لیے یہاں بے گھر بوڑھوں کی تعداد حد سے تجاوز کرگئی ہے جو جاپان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
یہاں سے ہم جاپان کے ایک اور مسئلے یعنی کورین پناہ گزین کے مسائل کو سمجھنے کی خاطر سمینار کے لئے ’’اومیدا‘‘ نامی جگہ میں کانفرس سنٹر گئے۔

کورین ٹاؤن کا ایک منظر۔ (فوٹو: لکھاری)

سمینار کے لئے پروفیسر لی سوئن نامی خاتون آئی تھی جو خود بھی کورین تھی، مگر جاپان میں پیدا ہوئی تھی اور یہاں بوڑھی ہوگئی تھی۔ تاہم اس نے شادی ایرانی نژاد امریکی مسلمان سے کی تھی۔ یہ کبھی جاپان اور کبھی امریکہ میں رہتی تھی۔ اس نے کہا کہ جاپان میں کورئن کی پانچویں نسل رہ رہی ہے۔ کیوں کہ سال 1910ء سے جاپانی حکومت نے کوریا کو اپنی کالونی بنایا تھا اور اپنی سلطنت کو مزید وسعت دینا چاہتی تھی۔ اس لیے اس نے جبراً ہزاروں کوریائی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو جاپان لایا جن سے کام لیا جاتا تھا اور یوں یہ کورین لوگ یہاں آباد ہوئے جو جاپانیوں کی خدمت کرتے تھے۔ اس طرح لائے گئے لاکھوں کوریائی باشندے یہاں کے ہوکر رہ گئے۔ ان کی اولاد نے یہاں آنکھ کھولی اور یہیں پلے بڑھے۔ اس طرح اب ان کی پانچویں نسل آباد ہے اور اس کا کوریا سے مکمل طور پر رابطہ ختم ہے۔ یہاں تک کہ اس نسل کو کوریائی زبان بھی نہیں آتی، جاپانی بولتے ہیں مگر پھر بھی ان کو نہ صرف بعض جاپانیوں کی طرف سے نفرت کا سامنا ہے بلکہ حکومت بھی ان کو شہریت نہیں دیتی۔ ان کے سکول اور علاقے بھی الگ ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے بازار بھی جدا ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں جاپانی لڑکوں نے اپنے والدین کی مرضی کے خلا ف کورئن لڑکیوں سے شادیاں بھی کرلی ہیں اور نوجوان جاپانیوں کے دلوں میں نفرتیں بھی ختم ہو رہی ہیں۔

پروفیسر لی سوئن، کورین پناہ گزین کے مسائل پر روشنی ڈال رہی ہیں۔ (فوٹو: لکھاری)

سیمینار ختم ہوا، تو ہم واپس ہوٹل آئے اور اوساکا شہر کے بازاروں میں گھومنے نکل گئے۔ اوساکا جاپان کا ایک مصروف شہر ہے، جہاں سیاحوں کی بھی بڑی تعداد ہر وقت موجود ہوتی ہے۔ یہاں رات کو بھی خوب رونق لگی رہتی ہے۔ یہاں کے فوڈ سٹریٹ کافی مشہور ہیں۔ میں جب واپس ہوٹل گیا اور کمرے میں لیٹ گیا، تو غیر ارادی طور پر موبائیل میں ’’وی چیٹ‘‘ مسنجر کھولا۔ چند لمحوں میں مجھے کئی برقی پیغامات موصول ہوئے جو لڑکیوں کے تھے۔ ان سب پیغامات میں ایک بات مشترک تھی کہ وہ سب کال گرل تھیں اور ہر ایک نے ملاقات کے لئے جگہ اور اپنی قیمتیں بھی بتائیں جو دس ہزار ’’ین‘‘ سے شروع ہوکر چالیس ہزار تک تھیں۔ انہوں نے اپنی تصاویر بھی بھیجیں جو انتہائی حسین اور فیشن ایبل کم عم لڑکیوں کی تھیں۔ ان کو دیکھ کر مردوں پر ہیجانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ خیر، میں نے تجرباتی طور پر ایک جس کا نام یا وی چیٹ آئی ڈی” “Pimme کے نام سے تھا، کو جواب دیا۔ اس نے کہا کہ وہ کال گرل ہے اور اپنا ایڈریس بھیج کر پندرہ ہزار ین ایک ملاقات کے لئے فیس مانگ رہی تھی۔ آدھی رات گزر چکی تھی۔ نجانے کب میری آنکھ لگی اور جب واپس کھلی، تو صبح ہوچکی تھی۔ علی الصباح Pimme کے دو تین برقی پیغامات موبائل میں پڑھے جس میں اس نے دس ہزار تک فیس کا تقاضا کیا تھا۔ صبح ناشتہ کرنے کے بعد ہم کوریا ٹاؤن گئے، جہاں زائنچ کورین رہتے ہیں۔ کوریا ٹاؤن میں ہم ایک کورین این جی او چلانے والے نوجوان ’’کوین کوانگ مین‘‘ سے ملے جس نے ہمیں کورین ٹاؤن کا دورہ کرایا۔ سکول اور بازار دکھائے اور جاپانی حکومت کی طرف سے ان کے ساتھ جو زیادتیاں ہوتی تھیں، سے ہمیں آگاہ کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ جاپانی شہریت ان تمام کورین کا حق ہے جس کے لئے وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم نے کوریا ٹاؤن کے ایک ریسٹورنٹ میں کورین کھانا کھایا اور واپس ہوٹل گئے۔ (جاری ہے)

………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے