403 total views, 1 views today

بے حسی اس قدر ہے کہ جب تک کوئی واقعہ “نیوز بلیٹن” کا حصہ نہیں بن جاتا، یہ قوم نما ہجوم واقعات کو معمول قرار دے کر معمولی سی اداسی کے ساتھ واقعہ کو محو کر دیتی ہے۔ قصور میں ہونے والا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ آئے روز ایسے واقعات کی شرح سے معاشرہ جس تنزلی کی جانب رواں دواں ہے، مؤثر حل کے بغیر صورتحال نہیں بدلنے والی۔ سماج تعفن زدہ ہوچکا ہے۔ پریشانیوں اور ڈپریشن کے شکار نوجوان اور دیگر افراد ذہنی آسودگی کا واحد حل جنسی تسکین ہی کو سمجھتے ہیں اور اس کیلئے معصوم بچے بچیوں کو جنسی زیادتی کا شکار بناتے ہیں۔

قصور کی سات سالہ زینب کے واقعہ نے مجھے ایک اور معصوم 7 سالہ بچی کا واقعہ یاد دلایا۔ یہ کہانی مجھے ایک ماہرِ نفسیات نے کچھ ماہ قبل سنائی تھی۔ وہ حسب معمول گھر سے باہر ٹافیاں خریدنے گئی تھی کہ محلہ کا ایک شخص جو سب کیلئے قابل بھروسا تھا، نے اسے اپنے گھر لے جاکر اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ جنسی زیادتی کا شکار بننے والی بچی کا کہنا تھا کہ اسے اس وقت پتا نہیں چل رہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا، لیکن اُسے یہ احساس ضرور ہوا تھا کہ اس دن سے پہلے ماں کے علاوہ کسی نے بھی اُس کے کپڑے نہیں اتارے تھے۔ بچی کے بقول: “ماں تو کپڑے اتارنے کے بعد نہلاتی تھی لیکن اس وقت میں چوں کہ بڑی ہوچکی تھی، تو اس لئے شاذ و نادر ماں میرے کپڑے بدلتی تھی، لیکن اس مرد نے کپڑے کیوں اتارے؟ جو پھر مجھے خود ہی پہننے پڑے تھے۔”




اُسے یہ احساس ضرور ہوا تھا کہ اس دن سے پہلے ماں کے علاوہ کسی نے بھی اُس کے کپڑے نہیں اتارے تھے۔ (Photo: Youth Connect)

ماہر نفسیات نے جب بچی سے دریافت کیا کہ آپ نے مزاحمت کیوں نہیں کی؟ تو اس نے کہا: “کیوں کہ مجھے روزِ اول سے سکھایا گیا تھا کہ بڑوں کے آگے نہں بولتے۔ وہ جو کہتے ہیں بس خاموشی سے کرنا ہے۔ اس لئے مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔ ہاں، میں خوف زدہ ہوگئی تھی کہ کچھ برا ضرور ہونے جا رہا ہے۔ بعد میں جب مَیں دوڑتی ہوئی گھر آئی، تو میری ماں نے ڈانٹا کہ دن بھر سہیلیوں سے کھیلتی ہو۔ ساتھ ہی ایک تھپڑ بھی رسید کر دیا۔ وقت گزرتا گیا لیکن وہ واقعہ اس قدر خوفناک تھا کہ میرے ذہن میں بیٹھ گیا اور میری مسکراہٹ چھن گئی۔”

ماہرِ نفسیات کو اشک بار آنکھوں سے بچپن میں جنسی درندگی کی شکار ہونے والی لڑکی نے بتایا کہ مجھے اس روز سے مرد ذات سے نفرت ہوگئی ہے۔ اس واقعہ کو 20 سا ل گزر چکے ہیں۔ بچپن ختم ہونے کے بعد بلوغت میں گرلز ہاسٹل میں روم میٹ کے ساتھ مووی دیکھ رہی تھی۔ اس میں کچھ قابلِ اعتراض سین دیکھے، تو بچپن میں جو کچھ ہوا تھا، دماغ میں ایک کوندا سا لپکا اور احساس ہوا کہ جو کچھ اس وقت ہوا تھا، واقعی بہت برا ہوا تھا۔ یوں زخم ہرے سے ہوگئے۔

بچپن میں ہونے والے واقعہ کو کئی سال گزر چکے تھے لیکن اس کے ذہن پر نہایت برے اثرات مرتب ہوئے تھے۔ اسے مرد سے نفرت کے ساتھ ساتھ جنسی تعلقات سے کوفت سی محسوس ہوتی۔ نتیجتاً اس نے ہمیشہ کیلئے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بقول: “20 سال گزرنے کے باوجود اب تک مرد کے پاس بھٹکنے سے بھی ڈرتی ہوں۔ بے دلی، اداسی اور مایوسی گویا زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔”

“مرد” جو وقتی تسکین کیلئے کسی معصوم بچی سے جنسی تسکین حاصل کرتا ہے، اصل میں اس پھول سی کلی کو ہمیشہ کیلئے نفسیاتی طور پر قتل کر جاتا ہے۔

……………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے