227 total views, 1 views today

1947ء میں جب ہمارے بزرگوں نے مملکتِ خداداد پاکستان کی بنیاد رکھی، تو یہ دنیا کے نقشے پر نظریے کے نام پر بننے والی پہلی ریاست تھی۔ اُس وقت قائداعظم نے پوری قوم کو اُمید، حوصلے اور جرأت کا پیغام دیا اور انہوں نے پاکستان کی دنیا کے ساتھ آزادانہ، منصفانہ اور برادرانہ تعلقات کی بنیاد رکھ دی۔ شروعات میں ہمارے ملک کے مسائل، وسائل کے مقابلے میں بہت زیادہ تھے لیکن ہماری پوری قوم نے ان مسائل پر عزم و ہمت کے ساتھ قابو پا لیا اور انہوں نے کبھی بھی وسائل کی کمی کو اپنے مظبوط ارادے کے سامنے رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ 1958ء میں جب پہلی بار ہمارے ملک میں مارشل لا نافذ کیا گیا، تو شروع کے دنوں میں ایوب خان واقعی لوگوں کے مسائل حل کرتے نظر آ رہے تھے لیکن خان عبدالغفار خان کے بقول “نزدیکی فائدے کے بجائے دور کے نقصان پر زیادہ توجہ دینی چاہئے۔” اس قول کے مصداق ایوب خان کا مارشل لا نزدیکی فائدہ تو لایا، لیکن ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نظام کی بربادی کا سبب بنا۔ اُس دور تک جب ہمارے حکمران باہر ممالک کو دوروں پر جاتے تھے، تو پوری پوری کابینہ مع صدور و وزرائے اعظم ان کے استقبال میں کھڑے ہوتے تھے۔ اُس زمانے میں پاکستان مسلم ممالک کے اُمیدوں کا مرکز تھا جبکہ دوسرے ممالک بھی ہمیں عزت کے نگاہ سے دیکھتے تھے۔




جنرل ایوب کے مارشل لا کے بارے میں باچا خان نے کہا: “نزدیکی فائدے کے بجائے دور کے نقصان پر زیادہ توجہ دینی چاہئے۔” (Photo: The Express Tribune)

ہمارے لوگوں نے شروعات میں چائینہ کو امداد دی تھی لیکن آج ہم چائینہ کی امداد کے بغیر گزارا نہیں کرسکتے۔ پی آئی اے کی ٹیم نے ہی چائینہ ائیرلائن کی بنیاد رکھی تھی، پاکستان کے چائینہ کو تحفے میں دئے گئے جہاز آج بھی اُن کے عجائب گھروں میں ہماری شاندار ماضی کی گواہی دے رہے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف کے پہلی وزارت عظمیٰ کے دور میں جب سنگاپور کے وزیر اعظم “لی کی آن یو” پاکستان کے دورے پر تھے، تو میاں صاحب نے اُن کے اعزاز میں دیئے گئے ایک عشائیے میں اُن سے سنگاپور ایئرلائن کی ترقی کا راز پوچھا اور اُن سے پی آئی اے کیلئے ماہرین بھیجنے کی درخواست کی۔ یہ سن کر “لی کی آن یو” نے قہقہہ لگایا جو کہ سفارتی آداب کے خلاف تھا اور وہاں پر موجود شرکا کیلئے باعثِ حیرت بھی تھا۔ “لی کی آن یو” نے پہلے اپنے قہقہہ لگانے پر معذرت کی اور پھر میاں صاحب کو کہا کہ “جناب عالی! ہماری ایئرلائن تو پاکستانیوں نے ڈیولپ کی ہے اور آج بھی اس کے سربراہ ایک پاکستانی ہی ہیں۔” یہ سن کر میاں نواز شریف شرمندہ ہوگئے۔ 60ء کی دہائی میں ملائشیا اور عرب شہزادے پاکستان تعلیم حاصل کرنے کیلئے آتے تھے، اور اُن دنوں یہ بحث چل رہی تھی کہ بیسوی صدی کے اختتام تک کراچی، پیرس، لندن اور نیویارک میں کون سا شہر زیادہ ترقی یافتہ ہوگا۔
جنوبی کوریا کے وزیرِخارجہ نے حال ہی میں پاکستانی ہم منصب کو کہا تھا کہ 1960ء میں آپ ہمارے رول ماڈل تھے اور آپ کے پانچ سالہ منصوبے ہی تھے جن کے لاگو کرنے پر ہم نے اتنی ترقی ہے، اس نے کہا کہ ان دنوں پاکستان جو کرتا تھا، وہ ہم فالو کرتے تھے۔ اس نے طنزاً یہ بھی کہا کہ پاکستان آج بھی ہمارا رول ماڈل ہے لیکن اس لحاظ سے کہ جو چیزیں پاکستان فالو کرتا ہے، ہم اسے فالو نہیں کرتے۔
لیکن کیا ہم نے سوچا ہے کہ وہ ملک جو کبھی پورے دنیا کے ممالک کیلئے ایک مثال تھا، وہ کیوں اتنا گر گیا کہ پوری دنیا آج اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے؟ یہ اس لئے کہ ہم نے پہلے عیاشیوں میں پڑ کر ملک کو دو لخت کر دیا۔ پھر بچے کھچے ملک کو حکمرانوں نے تجربات کی آماجگاہ بنا دیا۔ ہر ایک حکومت اپنے ساتھ ایک نیا نظام نافذ کرتی جو پہلے والے سے یکسر مختلف ہوتا، جس سے ہمارا ملک شدید سیاسی و معاشی عدم استحکام کا شکار ہوگیا۔ بھٹو کی نیشنلائزیشن سے پہلے 200 کی قریب بیرونی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی تھیں، لیکن نیشنلائزیشن کے بعد ہمارا اعتماد کبھی بھی بیرونی سرمایہ کاروں کی نظروں میں بحال نہیں ہوا۔

بھٹو کی نیشنلائزیشن سے پہلے 200 کی قریب بیرونی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی تھیں۔ (pakistanpoint.com)

اس کے علاوہ جس بیماری نے ہمیں تباہ کر رکھا ہے، وہ یہ کہ ہم نے محنت کے بجائے قرضوں پر انحصار شروع کردیا ہے۔ آج ہم قرضوں میں اتنا جھکڑ چکے ہیں کہ کسی ملک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات کرنے کے قابل نہیں۔ دو ڈکٹیٹروں ضیا اور مشرف نے ہمارے ملک کو پرائے جنگوں میں اتنا گھسیٹا کہ ہم آج 130 ارب ڈالر نقصان اُٹھانے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ طعنہ سن رہے ہیں کہ ہم نے 3 3 ارب ڈالر مفت میں کھائے ہیں۔ اب تو امریکہ نے ہمارے ساتھ سیکورٹی تعاون معطل کرکے پاکستان کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کے واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا۔ بقول شاعر
نہ ادھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے
نہ خدا ہی ملا، نہ وصال صنم
پاکستان کے پاس اب بھی اپنی غلطیاں سدھارنے کا وقت ہے۔ ہمیں سب سے پہلے سیاسی اختلافات کو بھلا کر (جس کی وجہ سے پاکستان آج کل شدید عدم استحکام کا شکار ہے) پورے ملک کی ترقی اور کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے 2009ء کی تعلیمی پالیسی پر مکمل عمل کرکے GDP کا 7 فیصد تعلیم کیلئے مختص کر دینا چاہئے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ عہد کرنا چاہئے کہ آج کے بعد ایک پائی کا قرض نہیں لیں گے، کیوں کہ قرض دار کی عزت ہمیشہ داؤ پر لگی رہتی ہے۔ ہمیں قرض سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد پوری دنیا کے ساتھ کاروباری تعلقات برابری کی بنیاد پر استوار کرنے چاہئیں۔ کیوں کہ اگر آج بھی ہم نے اپنی غلطیوں کو نہیں سدھارا، تو خدانخواستہ ہم کبھی بھی اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔

………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے