257 total views, 1 views today

“بلاگ، کالم، آرٹیکل، فیچر لکھنا کون سا مشکل کام ہے؟ بس موضوع منتخب کریں۔ موضوع کی مناسبت سے ہر سال کے حوالے سے دو لائنیں لکھیں اور تحریر مکمل۔ مثال کے طور پر پاکستان کے سیاسی حالات پر کالم لکھنا ہے، تو 47ء سے شروع کریں اور 17ء پہ ختم کریں۔ ہر سال کی مناسبت سے ایک لائن بھی لکھیں، تو تحریر کم و بیش دو صفحات پر مشتمل ہوگی۔ اپنی تحریر کو مزید بہتر کرنا ہو، تو ہر تین لائنوں کے بعد ایک پیراگراف بنا دیں، پھر دیکھیں کیا خوبصورت کالم بنتا ہے۔ کچھ دانشوری کا موڈ ہو، تو بس کچھ ضرب المثل یا اشعار تحریر کی زینت بنا دیں۔ لوگ عش عش کر اُٹھیں گے۔ مزید برآں جی بھر کر غیر ملکی متنازعہ شخصیات کو اپنی تحریر کی زینت بنائیں اور بے شک ان سے ایسی ایسی باتیں بھی منسوب کر دیں جن کا اُن سے دُور کا بھی واسطہ نہ ہو۔ دو فائدے ہیں، آپ کی تحریر متنازعہ ہو کر پڑھی جائے گی۔ دوسرا ہتک عزت کے دعوے کا احتمال نہیں۔ کیوں کہ آپ کے کالم پاکستان میں کوئی نہیں پڑھتا، تو غیر ملکی جو اُردو سے بھی نابلد، وہ کیسے پڑھیں گے؟”

سب باتیں پلو سے باندھ لیں۔ ہمیں کامیاب لکھاری جو بننا تھا۔ یہ خیالات وقت کے ایک مشہور کالم نگار کے ہیں (بصد معذرت، خود کو مشہور کالم نگار صاحب خود کہتے ہیں)۔ انہوں نے جب اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے یہ فرمودات ہمارے گوش گزار کیے، تو اپنی عقل پہ ماتم کیا کہ ہم پچھلے سات سال سے کیوں خود کو ایک طالبعلم ہی گردان رہے ہیں؟ کیوں نہ ہم نے بھی ایک کالم نگاری سکھانے کا ادارہ کھول لیا اور اس ادارے کی تفصیلات میں وہ قلابے بھی ملا لیے جن کا حقیقت سے تصور بھی ثابت نہیں ہو پاتا۔ دو ہاتھ خود ہی خود کو جڑے کہ ہم صحافت میں ’’ناکام عاشق‘‘ کی طرح ہیں۔ بدھو کے بدھو رہے۔ ورنہ نوک دار مونچھوں والے کالم کم سیلز مین والے صاحب یقینا آج ہمارے استادوں میں شمار ہوتے۔ (اُن کو بھی یہی احساس ستاتا رہا کہ ایک ہونہار لکھاری بدھو رہ گیا اور اُ ن کے دامِ قلم میں نہیں آپایا، ہونہار ہم اپنے منہ میاں مٹھو کے مصداق خود کو کہہ رہے ہیں)۔

’’بیٹا، لکھنا بہت مشکل کام ہے۔‘‘ بزرگوار کی یہ بات اُس لمحے صادق آئی جب کالم نگاری کے فن میں طبع آزمائی کرنے کا ارادہ کیا اور اپنی عقل پہ ماتم کیا۔ جب زیدی صاحب اور عون صاحب کی روش اپناتے ہوئے مختصر کہانیاں لکھنے کو آسان سمجھ لیا۔ سوچا تھا مونچھوں والے بابا کہتے ہیں کہ لکھنا تو مشکل ہے ہی نہیں۔ لیکن ادراک ہوا کہ ہزار تحریریں لکھنے کے بعد بھی ایک اچھی تحریر اپنی تلاشنے پہ آئیں، تو نہیں ملتی۔ ایک حقیقی اُستاد نے کہا کہ لکھنے کے لیے پڑھو۔ غلطی سے بابا یحییٰ خان صاحب کی ’’پیا رنگ کالا‘‘ ہاتھ لگ گئی۔ یوں لگا کہ لفظ اب نوکِ قلم میں آئیں گے ہی نہیں، پڑھنا ہی اس قدر مست تو لکھنے کا کیا حال ہوگا؟ صحافت کی نئی نئی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب عملی میدان میں قدم رنجہ فرمائے، تو خوشی سے پھولے نہ سمائے کہ اب نام کے ساتھ صحافی کا لاحقہ لگ جائے گا اور صحافت کی مخصوص صنف کے طور پہ کالم نگاری کو اپنا لیا لیکن بھیڑوں کے ریوڑ میں گدھے کی سی حالت ہوگئی جب کالم نگاری میں گالم گلوچ، عزتوں کا سرِبازار نیلام ہونا، ذاتیات کو موضوعِ بحث بنانا عام دیکھا۔ سوچا ایک صاحب کی روش اپناؤں۔ پڑھا تو یوں لگا جیسے بات کا آغاز ہی گالی سے ہو رہا ہے۔ توبہ کرکے دوسرے لکھاری کی جانب رُخ کیا، تو سہم گیا کہ بس آج ہی روزِ قیامت ہونا ہے۔ایک درویش صفت لکھاری، سوچا اُن کی تحریروں سے سیکھنے کی کوشش کروں، لیکن ان کے لفظوں کا حال بھی کچھ ایسا تھا کہ بس طوائف کو برقع پہنانے کی کوشش کی گئی ہو۔ کہیں کوئی ناصح کے روپ میں نقب زن نظر آیا، تو کہیں عالم کے بھیس میں انسانیت سے بھی نیچے انسان۔ وسعت اللہ خان جیسے گوہر نظر تو آئے لیکن آٹے میں نمک کے برابر۔




وسعت اللہ خان جیسے گوہر آٹے میں نمک کے برابر ہیں (photo: Daily Pakistan)

پڑھایا گیا تھا کہ صحافت غیر جانبداری سکھاتی ہے لیکن اس حمام میں ہر کوئی کسی نہ کسی ’’صاحب‘‘ کے کپڑے تھامے نظر آیا۔ عزیر دوست سے رونا رویا تو جواب سے اندازہ ہوا کہ نصابِ صحافت کا حال بھی گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی جیسا ہی ہے کہ جسے محبوب، کائنات کا حاصل لگتا ہے اور جب دس روپے کی دہی خریدنا مشکل ہو جائے، تو عقل ٹھکانے آ جاتی ہے۔ نصاب، خیالِ ناقص میں یہی سمجھ آیا کہ اُس وقت ترتیب دیا گیا تھا جب تحریر درخت کی چھالوں سے کاغذ پہ آئی۔ زمانہ غضب کی چال تو چلتا گیا لیکن نصاب وہیں کا وہیں رہا۔ اسی لیے تو مونچھوں والے بابا بھی دانشور ہیں۔ کالم، آرٹیکل، بلاگ یا کوئی بھی تحریر لکھتے ہوئے سوچیں۔آج تک صرف ایک ہستی کی راہنمائی بہتر محسوس ہوئی جنہوں نے کہا تھا کہ کالم لکھنا ہے تو تین باتیں ذہن میں رکھیے۔ ابتدائیہ: کہ کالم کی ابتدا کیا ہے؟ اس ابتدا کو آپ کیسے لفظوں سے نکھارتے ہیں؟ تفصیل: یعنی ابتدا میں دوڑائے گئے گھوڑوں کی لگامیں کیسے کستے ہیں کہ وہ قابو سے باہر نہ ہوں۔ اختتامیہ: لفظوں کے گھوڑے سر پٹ دوڑانے کے بعد ان کی لگامیں نرم کر دیں یعنی ابتدائی لفظوں کے بعد کی تفصیل سے اختتام میں اپنی تحریر کا مکمل نتیجہ سامنے رکھیں، مسائل کے حل تجویز کریں یا تمام حقائق سامنے رکھ کر لوگوں کو نتیجہ اخذ کرنے دیں۔ اور کوئی تحریر ابتدائیہ، تفصیل، اختتام کے بغیر ہوگی تو اسے تحریر کہنا زیادتی ہو گا۔ لہٰذا مونچھوں والے بابا جی کے ارشادات سے بچ کے رہیے گا۔

………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے