425 total views, 1 views today

علامہ سید سلیمان ندویؒ فرماتے ہیں: ’’دنیا کی قسم قسم مخلوقات کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔ جمادات سے لے کر انسان تک اس میں احساس، ادراک اور ارادے کامادہ بتدریج ترقی کرتا نظر آتا ہے۔ جمادات کی بالکل ابتدائی قسم یعنی ’’ایٹم‘‘ احساس، ادراک اور ارادے سے بالکل خالی ہے۔ جمادات کی اور اقسام میں ایک طرح زندگی کا ہلکا سا نشان ملتا ہے۔ نباتات میں احساس کی غیر ارادی کیفیت نشوو نما پانے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ حیوانات میں احساس کے ساتھ ارادے کی حرکت بھی ہے جبکہ انسان میں احساس،ادراک اور ارادہ پورے کمال کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ یہی احساس، ادراک اور ارادہ ہماری ذمہ داریوں کا اصلی سبب ہے۔ مخلوق کی کس صنف میں جس حد تک یہ چیزیں کم ہیں، اسی قدر ان کی ذمہ داریاں بھی کم ہیں۔ اسی بنا پر جمادات ہر قسم کی تکلیف سے آزاد ہیں۔ نباتات میں زندگی اور موت کی کچھ مجبوریاں یا فرائض پیدا ہوجاتے ہیں۔ حیوانات میں کچھ اور فرائض بڑھ جاتے ہیں اور انسان تو فرائض کی جال میں جکڑا ہوا ہے۔ پھر انسانوں میں بھی عمر اور عقل کی تفاوت کے ساتھ ذمہ داریوں کی کمی بیشی پائی جاتی ہے۔‘‘

سید صاحب کی ان باتوں میں غور کرتے ہوئے اگر ہم اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں، تو ہمیں احساس، ادراک اور ارادے کی کیفیات کا عجیب سا حال نظر آئے گا۔یہ حال اور جال جس میں ہم پھنس کر رہ گئے ہیں، ہم سے کچھ تقاضے کررہا ہے۔ ہمیں ذمہ داریوں کا احساس دلا رہا ہے کہ اس دنیا میں محض سیر وتفریح کے واسطے انسان کو نہیں بھیجا گیا۔ ذاتی منافع کی تحریک اور اپنی ذات کے خول میں بند ہوکر رہ جانا کسی طور بھی انسانیت کا معراج نہیں۔ نہ اس سے انسان کو حقیقی انسانیت کا ثمر مل سکتا ہے۔ زندگی کے تقاضے کسی کھیل کود کے اصول نہیں بلکہ مالک حقیقی کی طرف سے کیے گئے وہ فیصلے ہیں جن پر عمل کرنا ہر ذی شعور کا خاصہ اور اس کی اہم ذمہ داری ہے۔ خدائی احکام کی بجا آوری کی وجہ سے انسان حقیقی انسانیت کے فریم میں کھٹاک سے فٹ ہوسکتا ہے۔ ورنہ قیامت کے دن یہی انسان اپنی کوتاہیوں کے احساس سے دب کر اپنے خول میں چھپنے کی ناکام کوشش کرے گااور اس وقت ہر عذر، عذرِ لنگ ثابت ہوگا۔

1987ء میں ٹوکیو جاپان میں ایک کتاب چھپ گئی جس میں جاپانی اقوام کے مزاج کا تعارف ہے۔ Chie Nakane نامی اس خاتون نے اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ جاپانیوں کا ذہن (Mental mak-up) کیا ہے؟ خاتون مصنفہ کی طویل کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ جاپانی انسان کی ذہنی ساخت کو مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ: ’’جاپانی اس بات کی مسلسل خواہش رکھتے ہیں کہ وہ اوسط سے اوپر کی طرف اٹھ سکیں۔‘‘(The constant desire to rise a little higher than the average) جاپانیوں نے اپنے اس اصول کو مذہبی اقدار کی طرح اپنایا۔ انہوں نے جان رکھا ہے کہ زندگی میں ٹھہراؤ نہیں ہے۔ آدمی یا تو اوپر کی طرف اٹھے گا یا نیچے گرے گا۔ یہ قطعی اصول، دین ودنیا میں یکساں طور پر درست ہے۔ اگر کوئی مؤمن اپنے ایمان میں اضافے کے لیے عملی اقدامات نہیں کرے گا، تو وہ ایمانی تنزل کی طرف اپنا سفر شروع کرے گا اور تنزل کی طرف آنے کے لیے مزید کسی کوشش اور محنت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ارتقا کا عمل اس دنیا کا خاصہ ہے۔ یہاں ٹھہراؤ نہیں ایک مسلسل سفر ہے اور اس سفر میں جیت اس کی ہوتی ہے جو اسپِ تازی اور تند جولانی کا مالک ہو۔ جس کے پاس حوصلہ ہو اور کچھ کرگزرنے کا پکا دھن ہو۔ بے فکری کے خوابوں اور دوسروں پر تکیہ کرکے بیٹھ جانے سے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ ماضی کی شخصیات کے تعاقب میں کہیں اپنے حال سے بھی ہاتھ نہ دھونے پڑیں
میرِ سپاہ ناسزا لشکریاں شکستہ صف
آہ وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف




جاپانی انسان کی ذہنی ساخت کو مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ: ’’جاپانی اس بات کی مسلسل خواہش رکھتے ہیں کہ وہ اوسط سے اوپر کی طرف اٹھ سکیں۔‘‘(Photo: GaijinPot Blog)

احساس ذمہ داری ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں آدمی کسی کام کے کرنے اور اسے بروقت سرانجام دینے کی فکر کرتا ہے۔ انسان پر کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا دھن سوار رہتا ہے اور اسے مکمل کیے بنا چین نہیں آتا۔ یہ دولت ان لوگوں کو ہی نصیب ہوتی ہے جنہیں وقت کی قدر و قیمت معلوم ہو۔ وقت کے صحیح استعمال کا گُر جانتے ہوں۔ وقت جیسی دو دھاری تلوار کو مثبت مقاصد کے لیے ہی بے نیام کرتا ہو۔ اسے سینت سینت کر، چھپا چھپا کر رکھتا ہو اور اسے ضیاع سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہو۔ زندگی کو غور سے دیکھا جائے، تو یہ مصروف بھی ہے، بے حد منصف بھی اور بے انتہا ظالم بھی۔ اسے مصروف رکھیں گے، تو اس سے انصاف ملے گا۔ اس کو بے کار ضائع کریں گے، تو بعید نہیں کہ یہ تمہیں بھی کہیں کا نہ چھوڑے۔ ہاں، اس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ حقیقت پسند ہے۔ زندگی میں خواب بُننے اور پھر انہی خوابوں کے سہارے زیست کو بِتانے کا رویہ غیر دانشمندانہ ہے جس کا خمیازہ ہر آنے والے قدم پر بھگتنا پڑتا ہے۔ خواب دیکھنا کوئی بری بات بھی تو نہیں، تاہم خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے والے مردانِ کار کم کم ہی ہوتے ہیں۔ صادق و امین ذات کے دہن مبارک سے نکلے ہوئے یہ الفاظ کتنی اہمیت کے حامل ہیں کہ:’’صحت اور فراغت دو ایسی نعمتیں ہیں جن کے سلسلہ میں بے شمار لوگ خسارہ میں رہتے ہیں۔‘‘ (بخاری شریف)۔

نیز یہ بھی فرمایا: ’’ایک اچھے مسلمان کی خوبی یہ ہے کہ وہ بے کار اور فضول چیزوں کو چھوڑ دے۔‘‘(ترمذی)

ضیاعِ وقت کیا ہے؟ میرے خیال میں تو اس کی بہتر تشریح آج کے دور میں یہ ہوسکتی ہے کہ اپنا کام چھوڑ کر دوسروں کے کام میں خواہ مخواہ ٹانگ اڑانا۔ اپنے فیلڈ کے علاوہ دوسرے شعبوں میں مہارت کے کھوکھلے دعوے کرنا۔ عجیب ہوا چلی ہے کہ لوگ سالہا سال اپنے مخصوص شعبے میں مہارت حاصل کرنے کے واسطے ریاضتیں کرتے ہیں، مشقتیں جھیلتے ہیں لیکن جیسے ہی کمال حاصل کرکے کر معاشرے میں آتے ہیں، تو بجائے اس کے کہ وہ قوم کو کسی تعمیری راہ پر ڈال دیں، الٹا مذہب اور نظریاتی مباحث میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ بلاشبہ ہر کسی کو یہ حق ہے کہ وہ کسی بھی شعبۂ علم میں اپنے خیالات پیش کرے لیکن ساتھ ساتھ اس قید کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ آدمی جو بھی بات کرے دلیل کے ساتھ کرے۔ اس کے پیچھے ایک گہرا مطالعہ ہو اور مطالعے کا نچوڑ منضبط انداز میں ہو۔ سرسری انداز اور محض اٹھکیلیوں کے واسطے مباحث کو چھیڑنا اس تیز رفتار دور میں حماقت کی سب سے بڑی دلیل بتائی جاتی ہے۔

بلاشبہ ہر کسی کو یہ حق ہے کہ وہ کسی بھی شعبۂ علم میں اپنے خیالات پیش کرے لیکن ساتھ ساتھ اس قید کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ آدمی جو بھی بات کرے دلیل کے ساتھ کرے۔ (Photo: abc.net.au)

مذہب ایک مقدس چیز ہے جس کا کام انسان کو دنیا کے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کا تابع بنانا ہے۔ اسلام دیگر ادیان کی طرح صرف عبادات کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ کار ذاتی زندگی سے شروع ہوکر خاندان، سوسائٹی اور گلی محلے سے ہوکر ریاست اور معیشت کے ایوانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اگر آپ کا واسطہ کسی ایسے کم فہم سے پڑا ہو جو آپ کو مذہب کی تشریح ایک خاص فکر تک ہی محدود رکھنے پر تلا ہوا ہو، تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کے طلسم سے نکل کر حق بات کی تلاش میں اپنی طاقت صرف کریں۔ ہم اس رواجی ذہن سے نکلنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے جو ہم نے برسہا برس سے خود پر مسلط کیا ہے؟ ہم نے جب اسی ذہن کو مزید جمود کا عادی بنا دیا، تو تحقیق کی ضرورت کا احساس بھی ختم ہوگیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم اپنی کم علمی اور کم فہمی کی وجہ سے اکثر دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرا کر خود پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اپنی محرومی کی ذمہ داری دوسروں کے سر تھوپ کر خود کو ذمہ سے فارغ سمجھتے ہیں۔

مولانا وحید الدین خاں بجا کہتے ہیں: ’’دنیا میں جب بھی کسی کو کچھ ملتا ہے، تو اس کی صلاحیت کی بنا پر ملاتا ہے۔ اسی طرح جب بھی کسی سے کچھ چھنتا ہے، تو خود اپنی کوتاہی کی بنا پر چھنتا ہے۔ اس دنیا میں اگر کچھ لوگ محرومی کا شکار ہوجائیں، تو انہیں چاہئے کہ دوسروں کی شکایت میں اپنا وقت ضائع نہ کریں بلکہ خود اپنے اندر اس کے اسباب تلاش کریں اور اس کے مطابق اپنی عملی جدوجہد کا نقشہ بنائیں۔‘‘

………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے