297 total views, 1 views today

2 نومبر 1917ء کو برطانوی وزیرِ خارجہ آرتھر جیمز بالفور کی جانب سے صیہونی راہنما والتھر اوتھ چائلڈ کو لکھا گیا خط ’’اعلانِ بالفور‘‘ کے نام سے معروف ہے، جس کے ذریعے برطانوی سامراج نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک یہودی ریاست کے قیام کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ یہ راہ ہموار ہوتے ہی 1948ء میں امریکہ سمیت بڑی طاقتوں نے اسرائیلی ریاست کی عملی قیام کا اعلان کرکے عربوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔ چناں چہ اس وقت سے لے کر اب تک دنیا کی سپر طاقتوں کا کاشت کردہ یہ زہریلا پودا اپنی زہریلی جڑیں ارد گرد پھیلاتا رہا ہے۔ فلسطینی سرزمین پر امریکہ اور بڑی طاقتوں کی اشیرباد سے قائم ہونے والی ریاست کا اعلان ہوتے ہی دنیائے اسلام میں ہلچل مچ گئی۔ اس وقت کے مسلمان حکمرانوں نے مگرمچھ کے آنسو بہائے اور ان کا ردِ عمل زبانی مذمت تک محدود رہا۔ اس وقت بھی مسلمان حکمرانوں میں یک جہتی اور ہم آہنگی کا فقدان تھا۔ قیامِ اسرائیل کے وقت دنیا کی انصاف پسند اقوام نے امریکہ کے اس ناجائز اقدام کی سخت مذمت کی۔ قیامِ اسرائیل کے وقت عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔ بدقسمتی سے عرب یہ جنگ ہار گئے۔ اس کے بعد 1967ء اور 1973ء میں بھی عربوں اور اسرائیل کے درمیان دو جنگیں ہوئیں جن میں اسرائیل کو امریکہ کی پوری اقتصادی اور فوجی امداد حاصل رہی۔ عربوں نے ان جنگوں میں اپنے علاقے کھو دیئے۔ دنیائے اسلام کے بیشتر حکمران عربوں کی کچھ مدد نہ کرسکے جبکہ پاکستان نے ان جنگوں میں عربوں کی عملی مدد کی۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے تحت مصر نے اسرائیل کو تسلیم کیا جس کے بدلے میں امریکہ نے مصر کے قرضے معاف کئے اور اپنی پانچ ہزار افواج مصر میں تعینات کیں۔




(Photo: Catholics for Israel)

ابتدا ہی سے تل ابیب اسرائیل کا دارالخلافہ رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یروشلم، بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ بنانے کا منصوبہ بھی زیرِ غور رہا کہ 9 نومبر 1995ء کو امریکی کانگرس نے امریکہ کو بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ بنانے کا اختیار دے دیا۔ یہ فیصلہ اور اس پر عمل درآمد معطل تھا کہ 6 دسمبر 2017ء کو موجودہ صدرِ امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کا اعلان کرکے دنیا کو حیران کردیا۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ بہت جلد امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کیا جائے گا۔ صدرِ امریکہ کے اس اعلان سے دنیائے اسلام میں غم و غصہ اور نفرت کی لہر دوڑ گئی۔ خدانخواستہ اگر صدرِ امریکہ کے اس اعلان پر عمل درآمد کرکے اسے اسرائیل کا مستقل حصہ بنایا گیا، تو تاریخ اسلام میں سقوطِ غر ناطہ، سقوطِ بغداد اور سقوطِ ڈھاکہ کے بعد یہ چوتھا سقوط یعنی سقوطِ یروشلم ہوگا۔ ہمارے خیال میں اس عظیم سانحہ پر مسلمان حکمران حسبِ معمول وہی وقتی مذمت کریں گے اور عملی طور پر یہ لوگ کچھ بھی نہیں کرسکیں گے۔ 11 دسمبر 2017ء کے پاکستان کے بعض روزناموں نے سعودی عرب حکومت کا ’’ہم نہ مانیں گے‘‘ کے نعرہ کی سرخی لگائی تھی جبکہ اخبارات نے عرب لیگ کا امریکہ سے معاشی بائیکاٹ کی لیڈ بھی لگائی تھی۔ ہم حیران ہیں کہ یہ لوگ امریکہ کا معاشی بائیکاٹ کیسے کرسکتے ہیں جبکہ عرب حکمران اور رؤسا و بیوروکریٹس مغربی ممالک خصوصاً امریکہ کے طفیلیے ہیں اور یہ لوگ تمام لوازماتِ زندگی امریکہ اور یورپ سے منگواتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض عرب حکمرانوں، شہزادوں اور امرا کی سکیورٹی بھی امریکی کرتے ہیں اور بعض عرب ریاستوں میں امریکہ کے مستقل فوجی اڈے بھی ہیں۔
دنیا کو معلوم ہے کہ ایک دو کے علاوہ تقریباً عالم اسلام کے تمام حکمرانوں، امرا اور بیورو کریٹس کے امریکہ اور یورپ کے ممالک میں اربوں ڈالرز وہاں کے بینکوں میں انویسٹ ہیں، اربوں ڈالرز کی جائیدادیں، بنگلے اور اپارٹمنٹس ہیں۔ یہاں تک کہ مسلمان حکمرانوں اور رؤسا نے یورپ میں اپنی عیاشی کے لیے جزیرے تک خرید رکھے ہیں۔ ان کے پاس یورپ کے ویزے، اقامے اور شہریت بھی ہے جبکہ بعض کی اولاد یورپ اور امریکہ میں مستقل رہائش اختیار کی ہوئی ہے اور بزنس کررہی ہے۔ ان امرا، حکمرانوں اور بیوروکریٹس کو خوب معلوم ہے کہ اگر انہوں نے امریکہ کے کسی غلط فعل کے خلاف عملی اقدام کئے، تو قوی خطرہ ہے کہ یہ تمام ممالک اپنے مربی امریکہ کے حکم پر ان کے یہ تمام اثاثے اور مراعات ضبط کرے۔

تقریباً عالم اسلام کے تمام حکمرانوں، امرا اور بیورو کریٹس کے امریکہ اور یورپ کے ممالک میں اربوں ڈالرز وہاں کے بینکوں میں انویسٹ ہیں، اربوں ڈالرز کی جائیدادیں، بنگلے اور اپارٹمنٹس ہیں۔ یہاں تک کہ مسلمان حکمرانوں اور رؤسا نے یورپ میں اپنی عیاشی کے لیے جزیرے تک خرید رکھے ہیں۔ (Photo: Olomoinfo – blogger)

عرب لیگ اور او آئی سی وغیرہ کے اجلاس حسب معمول منعقد ہوں گے۔ سیون سٹار ہوٹلوں میں موٹے کھانے اور شاندار ڈنرز ہوں گے۔ زبانی مذمتیں اور قرار دادیں پاس ہوں گی۔ مستقبل کا صیغہ استعمال ہوگا کہ یہ کریں گے، وہ کریں گے، یہ ہوگا اور برداشت نہیں کیا جائے گا وغیرہ بلکہ دوسرے الفاظ میں ’’نشستن، گفتن و برخاستن والی بات ہوگی۔
خدا لگتی کہوں، تو یہ سب لوگ کاغذی شیر بن کر مصنوعی طور پر دھاڑیں گے اور کھوکھلی مذمتیں کریں گے۔باقی اللہ، اللہ خیر صلا!

…………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے