534 total views, 1 views today

قلم، کائنات کی پہلی تخلیق تھی۔ اہلِ زمین نے رابطے کا ذریعہ اِسے ہی بنایا۔ بطورِ قرطاس، ہڈیاں، پتھر، درختوں کی چھالیں، ہاتھی دانت اور کپڑا استعمال ہوتا رہا۔ چینیوں نے کاغذ ایجاد کیا، تو لکھنے میں آسانی ہوگئی۔ سب سے پہلی کتاب مصریوں کی ’’الاموات‘‘ یا پھر چینیوں کی ’’ڈائمنڈ سوترا‘‘ تھی۔ دنیا کا سب سے پہلا چھاپا خانہ پندرہویں صدی میں ایجاد ہوا، تو کتاب کی اشاعت کو پر لگ گئے۔ مخطوطوں اور ہاتھ سے نقل کرنے کا کاروبار مندا پڑ گیا۔ پریس کے ذریعے چھپنے والی کتب معیار میں عمدہ اور پائیداری میں لاثانی ہوتیں۔ مغل بادشاہ کے دربار میں کسی نے دنیا کا پہلا ٹائپ رائٹر پیش کیا، تو اُسے ردّ کر دیا گیا۔ کیوں کہ بادشاہ کے مطابق اس کی لکھائی، شاہی خوش نویس کی تحریر سے کم خوبصورت تھی۔ پھر امریکہ کے کرسٹوفر لاتھم شولز نے انیسویں صدی میں ٹائپ رائٹر کا جدید تصور پیش کیا، تو پریس کی دنیا میں انقلاب برپا ہو گیا لیکن یہ انقلاب بھی کمپیوٹر کی ایجاد سے قبل سست تھا۔ 1975ء میں جدید کمپیوٹر ایجاد ہوا اور پریس، پتھروں کی تختیوں سے اتر کر سکرینوں میں آ گیا۔ کتاب کی تصاویر کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے جوڑی جانے لگیں۔ سنہ 2000ء میں اسٹیفن کنگ نے ایسی ہی ایک کتاب سب سے پہلے انٹرنیٹ پر پیش کی۔ یوں ای بُکس کی ایک نئی دنیا آباد ہونے لگی۔ سنہ 2004ء میں ’’سونی‘‘ نے ’’ای ریڈرز‘‘ نامی مشین ایجاد کی، جو ’’ای بکس‘‘ پڑھنے کے لیے تھی۔ اس کے پیچھے پیچھے ’’کینڈل‘‘، ’’کوبو‘‘ اور ’’نوک‘‘ ایجاد ہوئے۔ 2007ء میں جب ’’ایمزون‘‘ دنیائے انٹرنیٹ میں اپنے ’’کینڈل‘‘ کے ساتھ اترا، تو ڈیجیٹل لائبریریز کی قطاریں لگ گئیں۔ بڑی بڑی ویب سائٹس ای ڈیجیٹل کے لیے مختص ہونے لگیں۔ ’’انٹرنیٹ آرکائیو‘‘ نامی ویب سائٹ پر تیس لاکھ سے زائد کتب دستیاب ہیں۔ یہ کتب اردو، انگریزی، عربی، فارسی، چینی اور دیگر زبانوں میں ہیں۔ ’’یونیورسل ڈیجیٹل‘‘ اور ’’اوپن لائبریری‘‘ پربیس لاکھ سے زیادہ کتب موجود ہیں۔ ’’گوگل بُکس‘‘ اور ’’پراجیکٹ کٹن برگ‘‘ بھی ای کتب کی بڑی ویب سائٹس ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ آپ جس موضوع پر کتب پڑھنا چاہتے ہیں، وہ یہاں موجود ہیں۔ مذہب، سائنس، تحقیق، تنقید، گلیمر، شاعری، تجارت، سیاست، معیشت، تاریخ اور ادب غرض ہر موضوع پر کتب دستیاب ہیں۔ یہ کتب عام طور پر پانچ طرح سے ملتی ہیں۔




گوگل بکس (Photo: Knowers Tech)

٭ سکین شدہ کتب:۔ جنہیں اصل کتاب کی تصاویر لے کر پی ڈی ایف بنایا جاتا ہے۔ اس سلسلے کی عربی کتب کی سب سے بڑی ویب سائٹ ’’مکتبہ وقفیہ‘‘ اور اردو کتب کی ’’اہل حق‘‘، ’’کتاب و سنت‘‘، ’’ محدث لائبریری‘‘ اور ’’اردو نامہ‘‘وغیرہ ہیں۔
٭ ٹیکسٹ کی صورت میں:۔ یہ کتب یونی کوڈ میں ہوتی ہیں اور انھیں ویب سائٹ سے کاپی کر کے اپنے پاس پیسٹ کیا جا سکتا ہے۔
٭ سوفٹ ویئر:۔ بعض کتب کے سوفٹ ویئر بنا کر ویب سائٹ پر رکھا جاتا ہے۔ بعد میں وہاں سے ڈاؤن لوڈ کر کے انھیں آف لائن پڑھا جا سکتا ہے۔ اپنی مرضی کا مطلوبہ لفظ تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح تحقیق کرنے والوں کو حوالہ تلاش کرنے میں بہت آسانی رہتی ہے۔ اس طرح کے سافٹ ویئر عربی میں ’’مکتبہ شاملہ‘‘ اور اردو میں ’’مکتبہ جبریل‘‘ اور ’’مکتبہ مکنون‘‘ وغیرہ ہیں۔
٭ ایپس:۔ کسی ایک یا چند کتب کی ایپ بنا دی جاتی ہے۔ پھر انہیں ٹیبلٹ یا موبائل پر آن لائن یا آف لائن پڑھا جا سکتا ہے۔
٭ انسائیکلو پیڈیا:۔ یہ مختلف موضوعات پر مشتمل صفحات کی ویب سائٹ ہوتی ہے۔ اپنی مرضی کا عنوان منتخب کرکے اسے ایک صفحہ کی صورت میں پڑھا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ کی مشہور ویب سائٹ ’’وکی پیڈیا‘‘ ہے جو کئی زبانوں پر مشتمل ہے۔
ای بکس یا برقی کتب نے دنیا کو ایک نئے تصور سے روشناس کرایا۔ وہ نایاب کتب جنہیں حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کے جتن کیے جاتے، لائبریریز کے چکر لگائے جاتے، بڑی بڑی رقوم خرچ کی جاتیں، سب کچھ قصۂ پارینہ بن کر رہ گیا۔ چھوٹی سی ڈیوائس میں لاکھوں سما سکتی ہیں۔ یوں پوری لائبریری جیب میں رکھنا ممکن ہو گیا۔ اس طرح وقت اور رقم کی بچت کے ساتھ ساتھ بوجھ اٹھانے کی مشقت سے جان چھوٹ جاتی ہے اور کسی کتاب کے گم ہونے کا خدشہ بھی نہیں رہتا۔ تبلیغِ دین کا فریضہ سرانجام دینے والوں کے لیے برقی کتب (ای بُکس) کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہیں ہیں۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ برقی کتب کے عام ہونے سے ذوقِ مطالعہ کم ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ مطبوعہ کتب کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ کتاب کھنگالتے ہوئے کئی نادر اور اہم باتوں کا پتا چل جاتا ہے جو برقی کتاب نہیں دے سکتی۔ اسی طرح برقی کتب پر مکمل انحصار حافظہ پر بُرا اثر ڈالتا ہے۔ سکرین بینی سے نظر کمزور اور دماغ سست ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کتب کی تلاش کرتے ہوئے کئی اہلِ علم سے ملاقات ہو جاتی ہے جو بیشتر کتب کے مطالعے سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ گھر بیٹھ کر انٹرنیٹ سے کتاب تلاش کرتے ہوئے ایسا ہونا ممکن نہیں۔
درج بالا نقصانات کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن سرِ دست برقی کتب کی اِفادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔کیوں کہ یہ محقق، عالم، مفتی، سکالر اور مطالعہ کا شوق رکھنے والے ہر انسان کی ضرورت بنتی جا رہی ہیں۔ نیز آنے والا وقت نہ جانے ان میں کتنی جدتیں لے آئے، جنہیں اپنائے بنا کوئی چارہ نہ رہے اور ان کی اہمیت کے منکرین، وقت کی اس دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں۔

…………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے