484 total views, 1 views today

“گل بانڈئی” نام ہے ایک چھوٹے سے خوبصورت سے نامی گرامی قصبے کا، جو خیبر پختونخوا کے وادئی سوات میں سیدو شریف مرغزار روڈ پر ایک ندی کی بائیں پشت صفحۂ ہستی پر موجود ہے۔ ’’گل‘‘ پھول اور بانڈئی ’’پوشاک‘‘ کو کہتے ہیں یعنی پھولوں کی پوشاک۔ واقعی ، کائنات کے اِس قطعۂ زمین نے پھولوں، پھلوں اور سبزے کا جامہ حساب کتاب سے کچھ زیادہ زیبِ تن کیا ہوا ہے۔ پھولوں کے رنگ بھرے اس قصبے کے طول و عرض پر اس وقت ’’خزان کی بہار‘‘ چھائی ہوئی ہے۔ اس کی یہ شان بھی نرالی اور دل پذیر ہے،جو حسرت و یاس کی کیفیات میں بھی اُمیدوں کی دلالی کا سماں باندھ رہی ہے۔ علینا رضوی کی ایک غزل کا یہ شعر یہاں کے ماحول سے کتنی مطابقت رکھتاہے! ’’سینگ اِز بیلیونگ‘‘۔
خزاں کی زرد سی رنگت بدل بھی سکتی ہے
بہار آنے کی صورت نکل بھی سکتی ہے

لیکن معاف کیجئے گا اس دور میں بھی اِس بستی کی پستی دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ پاکستان کے ریاستی ریکارڈ اور جغرافیائی حدودِ اربعہ میں شائد شامل نہیں، ووٹ ووٹ کے کھیل کود کے علاوہ۔ ہوتی تو آدھی صدی کی ریاستی محکومی کے بدلے اور کچھ نہیں ، آمد و رفت کے لئے کوئی ڈھنگ کی سڑک تو بنی ہوتی۔ تیرہ نومبر 2017ء کی شام یہاں پراتنی گرد آلود ہے، جتنی اِس مہینے اور طویل خشک سالی کے موسم میں عمومی طور پر ہونی چاہئے۔ آج کی شام اِس دیہہ میں تاریخ کے اوراق میں کوئی سوا سو سال سے گم پڑی، بڑی عمدہ نازک دلچسپ اور سچی کہانی کے مختلف پہلوؤں پربحث و مباحثہ ہونا ہے۔ جس پر طویل تحقیق کی گئی، کتاب لکھی گئی، مخصوص زاویوں پر لاتعداد آرٹیکلز اور خبریں بھی شائع ہوئیں۔ 15 ستمبر 2017ء کواس متنازعہ تعلق پرفلم بھی بنی، جس نے اب تک ساٹھ ملین ڈالرز سے زیادہ بزنس کیا۔ یہ کہانی ہے ایک ملکہ کا اپنے مُنشی کے ساتھ انوکھے رشتے کی، زمین کے ساتھ آسمان کے قلابے ملنے کی انہونی کی، تخت اور تختے کے آپس میں گٹھ جوڑ کی۔ اِس واقعے کے پس پردہ محرکات کی کڑی سے کڑی ملانی ہے اور ہندوستان کی مجموعی حالت و سیاست، وہاں کے مسلمانوں کے طرزِ معاش، معاشرت، سماج اورسیاست پر اس تعلق کے اثرات کا سرسری جائزہ لینا ہے۔ آیا یہ تعلق آقا اور غلام کی کسوٹی پر ہی پرکھا جائے؟ اسے حاکم اور محکوم کی نظر سے دیکھا جائے یامحبت وعقیدت کے پلڑے میں تولا جائے؟ یاری اور دلداری کی شکل میں جانچا جائے یا اِن تمام پہلوؤں کے تناظر میں اس کی کھچڑی پکائی جائے ۔کئی عالم و فاضل دوست اس بحث و مباحثہ کے بہانے سے اکھٹے ہو رہے ہیں، شوکت شرار کے مہمان بن کر۔ پروفیسر محمدروشن اور ہم بہ نفس نفیس سب سے پہلے یہاں پہنچنے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ کچھ مہمانوں سمیت میزبان کی آمد کا انتظار بھی کرنا ہے، تو وقت گزاری کے لئے گرد و پیش پرنظر ڈالتے ہیں، اپنی آنکھ سے۔ ہماری ناک کے عین نیچے درۂ مرغزار سے آنے والی ندی کاآلودہ پانی کہیں رُکا ہوا کہیں متحرک سا نظر آ رہا ہے۔ جو اِن دنوں اتنا کم ہے کہ انسانوں کی پھیلائی گئی گندگی کا بوجھ دریائے سوات تک پہنچانے کی سکت بھی نہیں اس میں۔ کبھی کبھاربرسات کے موسم میں یہ ندی غضبناک بھی ہو جاتی ہے، تو مینگورہ کے اسرار و رموز کو اُلٹتی پلٹتی ہے اور پھر مارے ڈر کے دریائے سوات میں چھپ کر اپنی جان ’’جانِ دریا‘‘ کے حوالے کر دیتی ہے۔ اپنی پیشانی کے عین سامنے مرغزار سڑک کے اُس پارننگی سی بے ڈھنگی سی پہاڑی پڑی دکھائی دیتی ہے، جو تاحال عمران خان کی سونامی شجرکاری منصوبے سے محروم لگتی ہے۔ غور سے دیکھیں تو لگتا ہے جیسے قدرت نے اس گلوبل ولیج میں ہمیں دنیا سے باپردہ اور بے خبررکھنے کے واسطے خواہ مخواہ اس پہاڑی کی ڈیوٹی لگائی ہو۔ لیکن مجھے بادی النظر میں اس کا اور کوئی کام نظر نہیں آ رہا۔ دائیں جانب گلے کی سٹیئرنگ موڑتے ہیں، تو ایک پہاڑی ٹیلے پرہزار سال سے قائم و دائم سپل بانڈئی گاؤں، جو قریب قریب پانچ چھے سوگھروں پر مشتمل ہے، پوری وادی پر قدیم قدو قامت کاراج جتاتا نظر آتا ہے۔ لوگ یہاں کے بڑے وسیع النظر اور روشن خیال ہیں لیکن گردشِ ایام یہاں اب بھی آگے نہیں پیچھے کی طرف سرکتے لگتے ہیں یا ’’سٹینڈ سٹل‘‘کی گرفت میں ہیں، سوائے جامع مسجد شہید بابا کی عمارت کے، جس میں ایک دو بار توسیع کی گئی ہے۔ وہ بھی اپنی مدد آپ کے تحت۔ یا سوائے پلاسٹک کے ’’نازکی اس کے لب کی کیا کہئے‘‘ والے پائپوں کے، جو ’’ٹوٹ بہ ٹوٹ‘‘ کے عمل کا شکار ہوئے یہاں کی گلیوں میں بے حساب اور برہنہ و بے نقاب لگے پڑے ہیں، تاکہ گھروں میں پہنچنے کی بجائے گلیوں ہی میں قیمتی پانی ان پائپوں کے ’’کونوں کھدروں‘‘ سے رستا رہے۔ گویاسرکار کے فنڈز کے بے دریغ ضیا ع کے لئے پانی کا یوں ضیاع بھی ضروری ہے؟ اور تو یہاں کچھ بھی نہیں بدلا۔ ہندوؤں کے زمانے کی ہٹیاں اور گلے کوچے اب بھی موجود ہیں یہاں۔ دودھ اس پنڈ میں خالص ملتا ہے نہ ملاوٹی بلکہ بناوٹی ملتا ہے کہ زمانہ ملک پیک کا ہے۔ ہاں، گھروں کی دیواروں پر لگے گوبر کے اُپلے سوکھ جائیں، تو وہ خالص ملتے ہیں، لیکن فروخت کے لئے نہیں، اپنے گھروں میں جلانے کے لئے۔ یہاں کی زمینیں کیا، پتھر اورپہاڑ کیا، دیواریں بھی پیداواری نظام میں اپنا رول پلے کرتی ہیں۔ جنوبی منظر کی کیا بتائیں۔ آپ جانتے ہوں گے اس علاقے پر مرغزار نام کا ایک گاؤں ایک عرصے سے قابض، اپنی ’’معاشی و معاشرتی مسکن‘‘ میں ساکت و جامد ہے۔ سابقہ ریاست کے والی کا یہ گرمائی ہیڈ کوارٹر اب کیا منظر پیش کرتا ہے؟ یہ جاننے سے نہ جاننا بہتر ہے۔ تاہم اس کے ’’کھنڈر اب بھی بتاتے ہیں کہ عمارت عظیم تھی۔‘‘

گاؤں گل بانڈئی کا ہمسایہ گاؤں سپل بانڈئی جو ایک پہاڑی کے اوپر واقع ہے (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

گل بانڈئی، جہاں سے ہم نے گرد و پیش کا جائزہ پیش کیا، دراصل گاؤں سپل بانڈئی کا ’’ایکس ٹینشن‘‘ لگتا ہے، لیکن ہمارے اس بات پر مہرِ تصدیق ثبت کروانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ یہ میاں دولت بابا کی اولاد جانیں یا اُن کے اہل و عیال۔ ہم اتنا ضرورجانتے ہیں کہ اپنے دوست ’’میاں‘‘ شوکت شرار کا بسیرا ہے یہاں۔ ہم، جس کے ڈیرے پر اس وقت براجمان ہیں۔ دن بھر سورج کی پژمردہ کرنیں شرار کے کاشانہ سے مٹھاسوں اور کڑواہٹوں کی ملی جلی کیفیات ہتھیا کر ابھی ابھی بوریا بستر لپیٹ کر بہکتے چکراتے خدا کی پناہ میں چلی ہیں، خدا کاشکر ادا کرکے! ایسے میں گاہے بہ گاہے آنے والے مہمانوں کی کوئی گاڑی کچی سڑک کی طویل آسمانی موڑچڑھتے چڑھتے خاموش ماحول میں ارتعاش پیدا کر دیتی ہے اور گرد و غبار اُڑاتی ہے۔ میرے ساتھ بیٹھا پروفیسریہ گرد و غبار سگریٹ کے دھویں کے جلو میں آنتوں، پھیپھڑوں اور گردہ کلیجی کی گہرائی سے گزارتا ہوا کچھ عرصے بعدواپس نتھنوں کے ذریعے سے برآمدکرتا ہے ۔ کچھ گرد اور دُھواں مل جل کر مشترکہ طور پر اُس کے جسدِ خاکی اور سر کے چند نمائشی بالوں سے فلٹر ہوتا ہوا، آنکھوں کو بھی ودیعت ہوتا ہے۔ نتیجے میں اُن کی آنکھوں میں وقفے وقفے کے ساتھ آنسو کے قطرے بن پاتے ہیں، جو کچھ چھلکتے ہیں کچھ آنکھوں کے کونوں میں ’’ریزرو‘‘ رہ جاتے ہیں۔ لگتا ہے گویا کسی کے اس شعر کی تفسیر ہو۔
میں شور زدہ اِک خاک تھا، مِرا وارث مجھ میں آ بسا
مِرے آنسو میٹھے ہو گئے، میں اتنا رویا عشق میں
تاریکی چھا گئی ہے۔ ہم ایک نہ ختم ہونے والی بحث میں اُلجھ گئے ہیں۔ اکثر عاشق مزاج دوست پہنچ گئے ہیں اور ڈیرے کے ایک ہال میں فرشی نشستوں پر براجمان بھی ہو چکے ہیں۔ عشق و محبت کی توجیح و تشریح پر ’’اِنفارمل‘‘ گفتگو کی باتیں بیرونِ دیوار آنی شروع ہوتی ہے۔ ہم بھی ٹہلتے ٹہلتے ہال میں قدم رنجہ فرماتے ہیں۔ جہاں ایک طرف انگیٹھی میں جلتی ہوئی آگ کے الاؤ کی وجہ سے بڑی آرام دہ گرمی محسوس ہوتی ہے۔ باقی تین اطراف میں بچھے فوم اور تکیے خود ہی مہمانوں کو بیٹھنے کی دعوت دے رہے ہیں۔’’زائرینِ گل بانڈئی‘‘ کو خور و نوش کی توانائی بہم پہنچانے کے لئے بیچ میں ایک وسیع دسترخوان بھی بچھی پڑی ہے۔ محی الدین غازی اپنے ایک مضمون میں ایک کہاوت کی بات کرتے ہیں کہ دسترخوان نہ بچھے، تو ایک عیب اور بچھے تو سو عیب۔ جب کہ وہ اور ہم ’’دونوں‘‘ اس بات پر متفق ہیں کہ دسترخوان بچھے تو بہت خوب، نہ بچھے تو کوئی عیب نہیں۔ کیونکہ یہ کھانے پینے کا معاملہ توبغیر دسترخواں بچھائے بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔ بس ’’بھوکے کو کیاچاہئے؟ بتیس دانت‘‘، تاکہ وہ اس کا استعمال بھرپور انداز میں کرسکے۔ موضوع پر بات کی شروعات سے پہلے پہلے بستی کے تازہ پرسیمن و ناشپاتی ، کولڈ سٹورکے سیب، پنجابی پاپ کارن اور امرود، افغانی و گلگتی ڈرائی فروٹس اور مشروباتِ شرقی، غربی و عجمی سے دسترخوان کو سجایا جاتا ہے۔ یو این ڈی پی کے رشید اخوند صاحب نے قدرے اونچی تکئے والی نشست سنبھالی ہے۔ کسی بولنے والے کے لئے اونچی جگہ سے بات کرنا زیادہ آسان اور سننے والوں کے لئے سمجھناآسان تر ہوتا ہے۔ وہ اس ’’ڈیبیٹ‘‘ کے تجویز کنندہ بھی ہیں اور ’’ماڈریٹر‘‘ بھی۔ جب کہ حاضر دیگر معاملہ جات کے منتظم و نگران ہے۔ شوکت شرار، طالع مند، افتخار خان، محمد روشن، ڈاکٹر نعیم، سلطان حسین، عثمان اولسیار، حاضر گل ،امجد خان، عمران خان عرف ساز خان کے علاوہ کئی اور دوست تشریف فرما ہیں۔ کچھ دیر کے لئے ہم بھی اس نشست کے ’’مندوبین‘‘ میں شمار ہونے کے مستحق ٹھہرے۔ رحیم شاہ اچانک عازمِ لندن ہوئے اور افضل شاہ باچا پاپین خیلوی نجی گرام میں’’نجی‘‘ مصروفیات کی وجہ سے نہ آ سکے۔ پچھلے ایک عرصہ سے اُن کی ’’خانگی‘‘ معاملوں میں قدرے غیر ضروری اضافہ ہوا ہے۔ ہم دُعا گو ہیں کہ وہ اس مرحلہ سے بخیر نمٹیں۔ ویسے بچے سب کے پیارے ہوتے ہیں، لیکن باچا کو اپنے والے کچھ زیادہ پیارے لگنے لگے ہیں، خاص کر چھوٹے۔ بحث میں مزید دوست بھی شامل ہیں، لیکن یا تو اُن کے ساتھ ہماری پہچان نہیں یا وہ اتنے تاخیر سے آئے کہ ہم جائے وقوعہ سے ’’نَس‘‘ چکے۔

موضوع پر حرفِ آغازسے پہلے رشید خان ’’ڈی بیٹ‘‘ کے عمومی فوائد اور مثبت اثرات سے متعلق بتاتے ہیں۔ بحث سے علم میں اضافے کے علاوہ دماغی ورزش ہوتی ہے، میل جول بڑھتا ہے، فکرو خیال میں تازگی اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور آپس میں ایک دوسرے کے متعلق کچھ نہ کچھ جاننے کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ یقینا اس وطن میں مختلف ایشوز اور موضوعات پر گہرے فکری بحث و مباحثوں کی شدید ضرورت ہے۔ ملکہ اور منشی کی کہانی اس سرگرمی کا نقطۂ آغاز ہے۔ کہانی کے سرسری خد و خال پیش کرتے ہوئے رشید خان تاریخ کے ا وراق پلٹاتے ہوئے سب دوستوں کو اس بابت اپنی معلومات شیئر کرنے اور اُن پر تبصروں کی دعوت دیتے ہیں۔ اس دوران میں جو ہم نے سنا، سیکھا اور جانا، اُس میں سب کو شریک کرتے ہیں۔

آج سے تقریباً ایک سو تیس سال پہلے یعنی1887ء میں انڈیا کے آگرہ شہر کے چوبیس سالہ مسلمان نوجوان عبدالکریم جو ایک معمولی کلرک تھا، کا انتخاب ہوتا ہے کہ وہ ملکہ کے عہد کی گولڈن جوبلی منانے کے موقع پر لندن جا کر ان کے ذاتی خدمت گار کی حیثیت سے کام کرے اور ملکہ کی خواہش کے مطابق ہندوستانی مہمانوں کی خصوصی خاطر تواضع بھی کرے۔ خادموں، خادماؤں اور سیکڑوں ملازمین کی جھرمٹ میں ’’عبدل‘‘ کچھ ہی دنوں میں ملکہ کی آنکھوں کا تارا بن جاتا ہے۔ اسے دربارِ عالیہ میں منشی کا متبرک عہدہ ملتا ہے اور اس کو “حافظ محمد عبدالکریم منشی” کا خطاب ملتا ہے۔

حافظ عبدالکریم منشی کا فائل فوٹو (Photo: Alchetron)

معاملہ یہاں کہاں رُکتا ہے، حتیٰ کہ وہ ملکہ کا پہلا ہندوستانی سیکریٹری بنتا ہے۔ محل میں اس کو عالی شان رہائش فراہم کر دی جاتی ہے۔ محل میں قیام کے دوران میں وہ ملکہ کو قرآن مجید کے ساتھ ساتھ برصغیر کی زبانوں اور ثقافت کی تعلیم دیتا ہے۔ عبدل انہیں ہندوستانی پکوانوں خاص کر ’’کڑھی‘‘ کے ذائقے سے آشنا کراتا ہے۔ شاہی دربار میں ملکہ وقت بے وقت عبدالکریم کے ساتھ تنہائی میں وقت بھی گزارتی ہیں۔ راز و نیاز کی سطح اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ عبدل ہر وہ خط بھی پڑھنا اور پرکھنا شروع کرتا ہے جو ملکہ کسی کو لکھتی ہیں۔ ایک ہی محل میں ایک دوسرے سے دو چار قدم کی دوری اور ایک دیوار کے آر پار بیٹھے اور بار بار ملنے جلنے کے باوجود بھی ملکہ دن میں پانچ پانچ چھے چھے دفعہ منشی کو خطوط بھی لکھتی ہیں۔ قربت کا یہ عالم، یہ تشنگی اس حد سے بھی کئی قدم آگے تجاوز کرتی ہے، جب ملکہ عبدل کی رفاقت میں شاہی محل سے کافی فاصلے پر واقع مرغزاروں میں ایک دیہی کاٹیج میں چھٹیاں گزارنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو شاہی اہلکار اس کی سخت مخالفت میں انتہا پر پہنچ جاتے ہیں اور دھمکی بھی دیتے ہیں کہ اگر وہ عبدل کے ساتھ چھٹیاں منانے جاتی ہیں، تو وہ اجتماعی طور پر مستعفی ہو جائیں گے، لیکن ضدی ملکہ کسی بھی دھمکی پر کان نہیں دھرتی اور تمام تہمتوں سے بے نیاز عبدل کی رفاقت پر اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے پر تُلتی نظر آتی ہیں۔ ملکہ اور شوکت شرار دونوں کا پکا عقیدہ ہے کہ ’’محبت،محبت ہوتی ہے۔ خواہ وہ جس بھی شکل میں ہو، جس بھی رشتے میں ہو، جس بھی ارادے سے ہو اور جس بھی یا جتنے بھی لیڈیز یا جینٹس سے ہو۔‘‘




ملکہ وکٹوریا اور عبدالکریم کی تاریخی تصویر (Photo: twitter.com)

عبدالکریم ملکہ کے لیے ایک کتابچہ تحریر کرتا ہے،جس میں روزمرہ کی باتوں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ ہوتا ہے۔ بنگالی صحافی اور مؤرخ شربانی باسو بی بی کے مطابق کتابچہ میں کچھ الفاظ شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں، جیسے ایک جگہ لکھا ہے: ’’تم چاہو، تو گھر جا سکتے ہو۔‘‘ جیسا کہ ’’تم منشی کو بہت یاد کرو گے‘‘ اور ’’مجھے مضبوطی سے تھامو۔‘‘ ملکہ جو خطوط عبدل کو لکھتی ہیں ان میں جب بھی کریم کی بیوی کو مخاطب کیا جاتا ہے، تو ملکہ ’’تمھاری عزیز ماں‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرتی ہیں۔ عبدل کے مشوروں سے ہندوستان کے وائسرائے کو جو احکامات صادر ہوتے ہیں، وہ اکثر مسلمانوں کی حمایت میں ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ خود ایک مسلمان ہے۔ آہستہ آہستہ وہ ملکہ کو یہ بھی مشورے دینے لگتا ہے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے؟ 1906ء میں مسلم لیگ کا بننا، 1909ء میں پہلا مسلم اقلیتی ایکٹ اور ہندوستان جیسے ملک میں مسلمانوں کی زندگی میں آسانیوں کا آنا، اُن کا کسی حد تک اختیار و اقدار تسلیم کرنا، منشی ہی کی ’’فرمائش‘‘ پر ہندوستان میں انتخابی کونسل کے طریقۂ کار پر ملکہ کا کئی دفعہ تحفظات کا اظہار کرنا، جس کی وجہ سے اُس میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہو سکتی تھی۔ وہ سفارش کرتی ہے کہ اس انتخاب کے لئے ایسا غیر متنازعہ طریقہ وضع کیا جائے جو مسلمان اقلیت کے لئے باعثِ اعتراض نہ ہو۔ عبدل ہی کی وجہ سے انگلستان میں مسلمانوں کو پہچان بھی ملی اور اُن کو تسلیم بھی کیا گیا۔ ملکہ ہی کی مسلسل مداخلت اور وائسرائے پر دباؤ کی وجہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ نفرتوں اور عداوتوں کا بڑھتا ہواخلیج کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

ملکہ وکٹوریا اور عبدالکریم کی ایک اور تاریخی تصویر۔ (Photo: bouquetsbrickbatsreviews.com)

برطانیہ کی ملکہ وکٹوریا اور اُس کے ایک ہندوستانی ملازم کی یہ داستان بالکل افسانوی لگتی ہے۔ صحافی شربانی باسو، شاہی آرکائیو برٹش لائبریری، وکٹوریہ کی ڈائری اور اس دور کے برطانوی اخبارات کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد اپنی کتاب بہ عنوان ’’وکٹوریا اور عبدل‘‘ میں یہ انکشاف کرتی ہے کہ دونوں کی عمروں میں خاصا فرق ہونے کے باوجود ملکہ اور عبدل ایک دوسرے کے بے حد قریب آ گئے تھے۔ برطانیہ کی تاریخ میں ملکہ وکٹوریہ سے طویل عہد حکومت کسی اور حکمران کا نہیں ہے۔ ملکہ وکٹوریہ نے تاج برطانیہ اس وقت سر پرسجایا جب انگلینڈ محض ایک مضبوط ریاست تھا لیکن جب اُن کی وفات ہوئی، تو اس وقت انگلینڈ کی سلطنت میں سورج غروب نہ ہوتا تھا۔ ملکہ وکٹوریہ سلطنت برطانیہ کی ملکہ تھی۔ اُس کے دور میں سلطنت برطانیہ اپنی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ میں اپنی انتہا پر تھی اور یہ دور بہت تبدیلیوں کا دور تھا۔ گورے دنیا میں جہاں بھی گئے اپنی اس ملکہ کو نہ بھولے۔ آسٹریلیا کے ایک صوبے کا نام وکٹوریا ہے۔ افریقہ میں ایک جھیل کا نام وکٹوریہ ہے۔ للی کے خاندان میں ایک بڑے پتوں والے پودے کا نام وکٹوریہ ہے۔ برطانیہ کے سب سے بڑے فوجی اعزاز کا نام وکٹوریہ کراس ہے۔

برطانیہ کی تاریخ میں ملکہ وکٹوریہ سے طویل عہد حکومت کسی اور حکمران کا نہیں ہے۔ (Photo: Wikipedia)

منشی عبدالکریم کے ساتھ چودہ سالہ رفاقت کے بعد 1901ء میں ملکہ کا انتقال ہو جاتا ہے اور اُن کے انتقال کے ساتھ ہی یہ رشتہ بھی دفن ہو جاتا ہے۔ وصیت کے مطابق عبدل ہی وہی آخری شخصیت ہوتا ہے جو اُن کی میت کا آخری دیدار کرتا ہے۔ ملکہ کے ’’تنگ نظر اور قدامت پسند‘‘ یا دوسرے الفاظ میں ’’فنڈا منٹلسٹ‘‘ بیٹے اس رشتے کے ثبوت اور ہر قسم کے باقیات کا نام و نشان مٹا دیتے ہیں، جلا دیتے ہیں۔ عبدل کو تمام عہدوں سے محروم کرکے واپس ہندوستان بھیج دیا جاتا ہے اور اس باب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کیا جاتا ہے۔ تاہم عبدل اپنی ایک خاص ڈائری، کئی خطوط اور دیگر اشیا کسی نہ کسی طرح چھپا کر محفوظ کر لیتا ہے، جو تحقیق کے دوران باسو کے ہاتھوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ برطانیہ سے واپسی کے آٹھ سال بعد 46 سال کی عمر میں عبدل وفات پا جاتا ہے لیکن اُس چودہ سالہ دور میں پورے بر صغیر کے لئے عموماً اور مسلمانوں کی حالت میں بہتری کے لئے خصوصاً عبدالکریم کا کردار اور کوششیں قابلِ داد بھی ہیں اور یاد رکھنے کے قابل بھی۔ انہوں نے خصوصی طور پر نسل پرستی کی شدت میں کمی لانے اور بین المذاہبی ہم آہنگی کے لئے اپنی توانائی، طاقت اور اختیار کا استعمال کیا۔ انہوں نے ہر طرف سے شدید مخالفت کے باوجود مسلمانوں، ہندوؤں اور عیسائیوں کے بیچ تعلقات کو نئی جہتیں دیں اور مسلمانوں کو ایک امن پسند، وفادار، باوقار اور نڈر قوم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جس میں وہ خاصا کامیاب بھی ہوا۔
بیٹھک میں تجویز کیا گیا کہ مسلمان آج بھی عبدل کے 130 سال پرانے مثالی کردار کو مذاہبوں کے بیچ میں ہم آہنگی لانے کیلئے ایک واضح مثال کے طور پرپیش کر سکتے ہیں، جس کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا ستعمال کرنا چاہئے۔ جیساکہ ابتدائی قدم کے طور پر حافظ عبدالکریم کے نام پر فیس بک پیج بنانا چاہئے، جس میں اُن کے مثبت کردار کو آشکارا کرکے دنیا کے سامنے لایا جائے۔ اس کرشماتی تعلق کی وجہ سے مذاہبوں کے درمیان میں موجودوسیع دراڑوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے مزید تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ وقت کا سوال یہ نہیں کہ عبدالکریم کی ملکہ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی میں کیا آسانیاں آئیں بلکہ بہت بڑا سوال یہ ہے کہ عبدل جیسا ایک عام سا ملازم وہ بھی ایک مسلمان ، نسل پرستی کی آلودگی میں اس سطح تک کیسے پہنچا کہ وہ ایک ایسے ملکہ کے دل ودماغ پر اتناچھا گیا جس کے سامنے جانا یا بات کرنا ممنوع تھا، جس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی اجازت نہیں تھی، جس کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے دُنیا بے تاب و بے قرار رہتی، جس کے منھ سے نکلی ہوئی بات پورے ملک کے لئے حکم کا درجہ رکھتی تھی، جو ملک و قوم کے لئے طاقت کا سرچشمہ تھی اورجس کی حکمرانی میں سورج غروب نہ ہوتا تھا۔ ایسے میں شوکت شرار سوال کرتے ہیں کہ کیا ملکہ اور عبدل کے ملاپ کا عجوبہ اور محبت کی انتہا، مسلمانوں کی حالت میں بہتری لانے کے لئے ’’قدرت کی کوئی سازش‘‘ تو نہ تھی؟ کیونکہ یہ معجزہ رونما نہ ہوتا، تو شائد وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو آج کے دور سے بھی کئی گنا زیادہ برے، زیادہ رو بہ زوال اور زیادہ گئے گزرے دن دیکھنے پڑتے ۔
آغازِ محبت سے انجامِ محبت تک
گزرا ہے جو کچھ ہم پر تم نے بھی سنا ہوگا
نوٹ:۔اس بیٹھک میں وکٹوریا اور عبدل کے تعلقات اور اس کے مابعد جامع اثرات پرتفصیلی گفتگو ابھی جاری تھی لیکن مجھے وہاں سے مجبوراً جلدی جاناپڑا۔ مضمون کی تیاری میں اُن دوستوں کے تبصروں اور معلومات کے علاوہ کئی انگریزی و اردو مضامین سے استفادہ کیا گیا۔ معلومات زیادہ تر شربانی باسو کی کتاب کے گرد گھومتی ہیں جس کا حوالہ اس مضمون میں دیا گیا ہے، شکریہ۔

………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے