1,523 total views, 2 views today

جب شدید حبس اور گرمی کے بعد موسم معتدل ہونا شروع ہوجاتا ہے، جھاڑوں کی آمد آمدہوتی ہے، تو ایسے موسم میں باغ باغیچوں، لانوں اور کیاریوں کی رونق بڑھانے گیندے کا پھول آجاتا ہے۔ جو سرمئی شام کے اندھیروں میں خود کو روشن رکھ کر دھند میں لپٹی صبح و شام کو ایک منفرد خوشبو سے معطر کرکے آپ کو تازگی کا خوشگوار احساس فراہم کرتا ہے۔
گیندے کا پھول نہ صرف ہمارے چمن کو خوبصورتی بخشتا ہے بلکہ یہ مشرقی تہذیب و روایات میں بھی ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ غمی خوشی ہر موقع پر اس پھول کو عقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ شادی، رسمِ حنا، بارات، رخصتی، سیج، سٹیج، حجلہ عروسی، گھر، در و دیوار سب کی رونق بڑھانے کیلئے گیندے کے خوبصورت وخوش رنگ پھول استعمال ہوتے ہیں۔ خواتین ہارسنگھار کیلئے اپنے جوڑے میں گیندے کے پھول سجاتی ہیں جو اُن کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔ شادی بیاہ، مہندی و مایوں اور دیگر تقریبات میں خواتین اس پھول کو خوب بناؤسنگھار کیلئے استعمال کرتی ہیں اور خاص کر مہندی مایوں کے موقع پر دلہن کو خاص طور پر گیندے کے پھول کے ہار، بالیاں اور گہنے پہنائے جاتے ہیں۔ اگر غم کی بات کی جائے، تو جنازوں اور قبروں پر بھی اس کو نچھاور کیا جاتا ہے۔ اُردو کا ایک خوبصورت گانا ’’سسرال گیندہ پھول‘‘ تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا۔

شادی، رسمِ حنا، بارات، رخصتی، سیج، سٹیج، حجلہ عروسی، گھر، در و دیوار سب کی رونق بڑھانے کیلئے گیندے کے خوبصورت وخوش رنگ پھول استعمال ہوتے ہیں۔ (Photo: Getty Images)

اس پھول کے کئی طبی خواص بھی ہیں۔ جہاں یہ ہماری تقریبات کا اہم جزو ہے، وہاں یہ کئی ایک ادویات کا بھی لازمی جزو ہے۔ گیندے کا پھول ایک بہترین اینٹی بایوٹک پودا ہے، جلدی امراض کیلئے اس کے اجزا بہترین تصور کئے جاتے ہیں۔ اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دیگر خواص کے ساتھ ساتھ وٹامن سی کی بھرپور مقدار بھی رکھی ہے۔ یہ پھول باریک وپتلی خون کی رگوں کی نشوونما کیلئے بھی اہم ہے۔ “اینٹی انفلی میٹری” خصوصیات کی وجہ سے “ایگزیما” اور کئی ایک “الرجیز” میں بھی کارگر ہے۔ یہ پھول اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کی وجہ سے جلد، کینسر اور دل کی موذی امراض کی ادویات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے پودے میں ایک مخصوص قسم کی خوشبو پائی جاتی ہے اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خوشبو مچھروں کو بھگانے کیلئے کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔ لانز، صحن اور دیگر اُٹھنے بیٹھنے والی جگہوں پر ان پودوں کی موجودگی مچھروں کو بھگانے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔




یہ پھول اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کی وجہ سے جلد، کینسر اور دل کی موذی امراض کی ادویات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ (Photo: biolib.cz)

گیندے کا پودا نرسریوں میں آسانی سے دستیاب ہے جبکہ اس کے بیجوں سے بھی اس کو بڑی آسانی سے اُگایا جاسکتا ہے۔ اس کے بیج وزن میں انتہائی ہلکے اور لمبوترے ہوتے ہیں۔ ان سے بھی مخصوص قسم کی خوشبو ٓآتی ہے جو اس کی پہچان ہے۔ بیج کسی بھی زرعی ؍ پودوں کی دکان سے آسانی سے مل جاتے ہیں۔ گملوں، کنٹینرز یا زمین پر کیاریوں کی مٹی نرم کرکے مناسب فاصلے پر گیندے کے پھول کے بیج بکھیر دیں اور اُوپر سے ہلکی مٹی ڈال دیں۔ زیادہ گہرائی میں بیج نہ لگائیں اور نہ ہی اُوپر سے زیادہ مٹی کی تہہ لگائیں۔ مٹی میں اگر قدرتی کھاد کی مناسب مقدار پہلے سے ڈال دی جائے، تو پودے کی نشوونما بہتر انداز سے ہوگی اور پھول بھی خوب صحتمند ہونگے جو اگلی نسل کے بیج کی صحت پر بھی اثرانداز ہونگے۔ میدانی علاقوں میں اس کے بیج اگست کے اواخر میں لگائے جاتے ہیں اور ستمبر کے درمیان تک پنیری دوسری جگہ منتقل کرنے کے قابل ہوجاتی ہے۔ بیج لگانے کا سیزن مختلف علاقوں میں اگست، ستمبر کے درمیان مختلف ہوسکتا ہے۔ آج کل پنیری دستیاب ہے۔

گیندے کا پودا نرسریوں میں آسانی سے دستیاب ہے جبکہ اس کے بیجوں سے بھی اس کو بڑی آسانی سے اُگایا جاسکتا ہے۔ (Photo: Chalet Nursery)

گیندے کا پودا قیمت میں نہایت ہی سستا ہے اور تقریباً پانچ دس روپے میں مل جاتا ہے، لیکن جو پودے گملوں میں ہوتے ہیں، اُن کی قیمت تھوڑی سی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ پودا تقریباً سارا سال سرسبز رہتا ہے اور اس میں پھول بھی لگتے رہتے ہیں۔ اس کے پودے کی اُونچائی چھے انچ اور چار فٹ کے درمیان ہوسکتی ہے جبکہ پھیلاؤ تین فٹ سے چھ فٹ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کا پودا جھاڑی نما، پتے نوکدار اور نازک ہوتے ہیں۔ پتوں کا رنگ گہرا سبز ہوتا ہے۔ پھولوں کا رنگ عموماً زرد ہوتا ہے جبکہ یہ نارنجی، ہلکے زرد، گہرے زرد، میرون اور سرخی مائل زرد کے حسین امتزاج میں پائے جاتے ہیں۔ پھولوں کے سائز مختلف ہوتے ہیں اور اس کی پتیاں تہہ دار بھی ہوتی ہیں اور سنگل لیئر بھی۔ یہ تیزی سے بڑھوتری کرنے والے پودوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ قدرتی طور پر پائے جانے والے پودوں کا سائز بڑا جبکہ پھولوں کا سائز چھوٹا ہوتا ہے۔ اس طرح “ہائبرڈ کوالٹی” کے پودوں کا سائز چھوٹا اور پھولوں کا سائز بڑا ہوتا ہے۔ اُردو میں اس کو گیندے کا پھول، پشاور کے علاقے میں زیڑگُلے، سوات اور ملحقہ علاقوں میں “ہمیشہ” یعنی صدا بہار کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ انگریزی نام میری گولڈ اور سائنسی نام “ٹگیٹ ایس پی” ہے۔ سوات کے پرانے گھروں کی منڈیروں پر گملوں، ناکارہ برتنوں اور دیگر کنٹینرز میں تلسی (بیسل) کے ساتھ گیندے کا پودا عام طور پر لگایا جاتا تھا۔ اب پکی تعمیرات اور باغبانی کے شوق میں کمی کی وجہ سے منڈیروں پر پودے لگانے کا رواج بھی کم بلکہ ختم ہوگیا ہے۔

اُردو میں اس کو گیندے کا پھول، پشاور کے علاقے میں زیڑگُلے، سوات اور ملحقہ علاقوں میں “ہمیشہ” یعنی صدا بہار کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ انگریزی نام میری گولڈ اور سائنسی نام “ٹگیٹ ایس پی” ہے۔ (Photo: wallpaperswide.com)

نرسریز میں گیندے کے پھول کی اب ہائبرڈ اقسام دستیاب ہیں جن میں پودے کا سائز کم ہوتا ہے، اُس پر پھول بڑے اور تعداد میں زیادہ لگتے ہیں۔ گھروں کے لانز، پارکس، تفریحی مقامات اور گملوں میں لگائے جاتے ہیں جو گہرے سبز رنگ پر خوبصورت زرد رنگ کے پھول بہار بکھیر رہے ہوتے ہیں، وہ ہی گیندے کے پھول ہیں۔ گیندے کے پھول کی طلب کی وجہ سے اس کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کی جاتی ہے۔ کاشتکاروں کیلئے یہ آمدنی کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے پھول جلدی نہیں مرجھاتے، اس وجہ سے تادیر تازہ رہتے ہیں۔ اس کی فصل تقریباً سارا سال لگی رہتی ہے۔ صرف شدید موسم کے کچھ دنوں میں اس کے پھول کم ہوجاتے ہیں۔ باقی سارا سال اس کے پودے پھول دیتے ہیں۔ جن کو باغبان؍ کاشتکار ایک یا دو دن کے وقفے سے اکٹھے کرکے بڑے بڑے گٹھوں کی شکل میں بازار میں فروخت کیلئے لاتے ہیں اور پھر دوکاندار ان کے خوبصورت ہار اور لڑیاں بنا کر بیچتے ہیں جو ہماری تقریبات کوقدرتی خوبصورتی بخشتے ہیں۔

……………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے