872 total views, 3 views today

احمد بشیر جیسا سچا ادیب بہت ہی کم پیدا ہوتا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں اُن کی تحریریں زندگی کی سچائیوں اور معاشرے کے جبر کی عکاس تھیں۔ صحافت اُن کے خون میں رچی بسی تھی۔ صدر ایوب خان کے دور میں اُنہیں وزارت اطلاعات کی طرف سے سندھ کے دیہی علاقوں کے بارے میں ڈاکومنٹری فلم بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ اپنی کتاب میں احمد بشیر نے اپنے کردار کو جمال کے نام سے پیش کیا تھا۔ جمال نے پہلے بہاولپور اور بلوچستان کے صحراؤں کی فلم بندی کا پروگرام بنایا۔ بہاولپور کے اردگرد کی شوٹنگ کے بعد جمال یزمان سے بگڑاؤں کے صحرا کی طرف نکل گیا۔ گرمی شدید تھی، کیوں کہ یہ مئی کامہینہ تھا مگر صحرائی بچے اب بھی جلا دینے والی ریت پر ننگے پاؤں چلتے تھے۔ ٹمپریچر 115 کے قریب تھا اور اس ٹمپریچر میں کچی مچھلی بھی پک جاتی ہے۔




احمد بشیر کا فائل فوٹو (Photo: The Friday Times)

جمال پر کام کا بھوت سوار تھا۔ اب اس کی کلفتیں دور ہونے والی تھیں۔ دوسری قسط میں منافع ہی منافع تھا جس میں وہ نصف کا حقدار تھا۔ اب اُس کی بیٹی کو پیدل کالج جانے کی ضرورت نہ ہوگی۔ اس فلم میں اُسے صرف یہ دکھانا تھا کہ صحرائی لوگ کتنے سچے، کتنے بہادر اور صابر ہوتے ہیں۔ کیمرہ مین ایکٹرسوں کی طرح نخرے دکھا رہا تھا اور گرمی سے بدحال تھا۔ رات کو کچھ دور انہیں صحرائی خانہ بدوشوں نے چارپائیاں بچھادیں۔ رات کو اتنے سارے موٹے اور روشن ستاروں کو دیکھ کر جمال کو بہت حیرت ہوئی۔ چاند نکل آیا تھا اور چاندنی رات پر سستانے لگی۔ صبح اٹھ کر جمال نے ڈھاب سے گھڑے بھرلئے۔ پانی گدلا تھا مگر نمکین نہیں تھا۔ ڈھاب کا مالک دو آنے فی گھڑا لیتا تھا اور چار آنے فی جانور۔ ڈھاب سے ہٹ کر وہ ٹیلوں اور ٹبوں کے شاٹ بنانے لگا۔ اتنے میں سورج سر پر آدھمکا اور زمین سے گرمی کی لرزشیں نکلنے لگیں۔ پانچ آدمی بارہ بجے تک پانی کے تین گھڑے پی چکے تھے۔ گرمی کی شدت نے سب کے احساسات اور توازن بدل ڈالے تھے۔ آخری شاٹ جمال نے غروب ہوتے ہوئے سورج کا بنایا۔ افق کے اوپر ہی اس کی روشنی غائب ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پیتل کی طرح لال تھال بن گیا۔ جمال کی اگلی منزل حیدر آباد تھی۔ وہاں اُس نے پرانے یار میندرو کو ڈھونڈ نکالا جس کی پوسٹنگ اب وہاں تھی۔ اُس کے ہمراہ جمال مٹھی کے صحراؤں کی طرف چلا۔ ایک ریتلے کھیت میں ہل کے آگے ایک گدھے کے ساتھ ایک عورت جتی تھی۔ اس کا میاں دونوں کو ڈنڈے سے ہانک رہا تھا۔ ’’ہلوں،ہلوں‘‘۔ جمال کو حیران دیکھ کر میندرو بولا: ’’ادھر گدھا بہت مہنگا ہے اور ہاری غریب کی قوت خرید سے باہر۔ دوسرا گدھا وہ کدھر سے لائے گا، تم خود سوچو، سائیں۔‘‘ جمال نے کہا: ’’اگر ایسی بات ہے، تو مرد کو خود گدھے کے ساتھ جتنا چاہئے، یہ تو ظلم ہے۔‘‘ ’’سائیں جب عورت ہے، تو مرد کیا واسطے جتے گا؟ اور جو گدھا نہیں خریدسکتے وہ دوسری شادی کرلیتے ہیں۔ ایک بیوی گھر کا کام کرتی ہے، دوسری ہل کھینچتی ہے۔ پھر اس میں فائدہ بہت ہے۔ دوسری عورت جوان ہوتی ہے۔ ہل چلانے کے بعد وہ اپنے مرد کو بستر میں بھی خوش رکھتی ہے اور عورت اتنا نہیں کھاتی جتنا گدھا کھاتا ہے۔ اب کیا کرے گا جب پیسہ نہیں ’’گریب‘‘ کے پاس۔ ملک بہت گریب ہے اور وڈیرے کو بٹائی پوری دینی پڑتی ہے۔ پھر پولیس والا ہے، تپے دار ہے، مختیارِ کار ہے اور دوسرے افسر۔‘‘
’’اور تم بھی ان سے کچھ لیتے ہوگے؟ میندرو!‘‘
’’ہم ہاری سے کچھ نہیں لیتا سائیں۔ ہم صرف ہندو دکانداروں سے لیتا ہے۔ سالے بڑے امیر ہیں اور کسی سے شکایت بھی نہیں کرتے۔ یہ ادھر کا رواج ہے سائیں۔ اُدھر پنجاب میں کیا افسر کچھ نہیں لیتے کسی سے؟‘‘
جمال نے جواباً کہا: ’’وہ بھی بہت کچھ لیتے ہیں۔‘‘
جیپ کو دیکھ کر گدھے کے آگے جتی ہوئی عورت بھاگ گئی۔ ہل رُک گیا۔ ہاری نے ہاتھ جوڑ کر جمال کو سلام کیا۔
میر پور سے مٹھی کا راستہ بہت دلچسپ تھا۔ ریت کی بڑی بڑی دیواریں، کانٹے دار جھاڑیوں میں چرتی بکریاں، کہیں کہیں ٹوبوں اور ڈھالوں میں پچھلی برسات کا پانی کھڑا تھا جو وڈیروں کی ملکیت تھے۔ ان کے اپنے جانور اور اپنے ہاری اس کا پانی پی سکتے تھے مگر کوئی راہگیر چلو بھر پانی نہ لے سکتا تھا۔ پانی کی جاگیر داری جمال نے بگڑاؤں کے صحرا میں بھی دیکھی تھی۔ مگر وہاں کا پانی اتنا گندہ نہ تھا۔ مٹھی رن کچھ کے حاشیے پر سندھ کا آخری قصبہ ہے۔ اس کی ساری آبادی ہندوؤں پر مشتمل تھی۔ وہاں کی عورتیں اجنبیوں کو دیکھ کر لمبا گھونگھٹ نکال لیتی تھیں جن سے اُن کے سانولے سینے اور کھل جاتے تھے۔ حیا کا تصور صرف اُن کے چہروں تک محدود تھا۔ ستر پوشی ہی کے خیال سے کلائی سے کاندھے تک انہوں نے سفید مصالح کی منقش چوڑیاں پہن رکھی تھیں۔ پیٹ اور جوبن کا پردہ ان کے نزدیک اہم نہ تھا۔ مٹھی میں ایک کنواں بھی تھا جس سے پانی نکالنے کے لیے عورتوں کو ایک لمبا چرسہ کھینچنا پڑتا تھا۔ جو امیر تھے، وہ چرسے کے آگے اونٹ جوت لیتے تھے مگر اس کنویں کا پانی کھارا تھا۔ پینے کے لیے مٹھی میں ایک گندا جوہڑ تھا جو میٹھا تھا۔ اس میں سے کسی کو بھی دو گھڑے سے زیادہ بھرنے کی اجازت نہ تھی۔
جمال ان عورتوں کی فلم بنانا چاہتا تھا مگر کیمرے کے سامنے آنا ان کی حیا داری کے خلاف تھا۔ میندرو نے جیپ کو کینوس سے ڈھانپ دیا، تاکہ اس کے اندر کسی کی نظر نہ جائے۔ کیمرہ ایک سوراخ میں فٹ کرلیا گیا تھا۔ پھر میندرو اکیلا جیپ سے باہر نکلا اور بونٹ اُٹھا کر پرزوں کو چھیڑنے لگا۔ عورتوں کی طرف اُس نے کوئی توجہ نہ دی۔ انہوں نے گھونگھٹ کھینچ لئے تھے مگر تھوڑی دیر بعد یہ سوچ کر کہ جیپ میں کوئی خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ وہ پانی کھینچنے اور گاگریں بھرنے میں مصروف ہوگئیں۔ جمال نے اُن کے پانی کھینچنے کے تال میل میں کھنچے اور ڈھلکے ہوئے آنچل سفید چوڑیوں میں چھپے گول بازؤں کی تصویریں اطمینان سے اُتاریں۔
سندھ کے بعض میروں اور کلہوڑوں کو سونف کی شراب پینے، امرد پرستی اور بھنگ ترنگ میں رہنے اور ہاریوں اور ساہوکاروں کی عورتوں کے استحصال کے سوا زندگی سے کوئی سروکار نہ تھا۔ لوگ ایوب خان کو مٹھی میں بادشاہ سمجھتے تھے۔ دو میل کے فاصلے پر ریت کے ایک پہاڑ کے دامن میں کوہلی ہندوؤں کے پندرہ چھپر جمال کو بہت دلچسپ لگے۔ انہوں نے ریت پر ڈنڈے گاڑ کر جھگیاں بنالی تھیں۔ مرد مٹھی میں جاکر مزدوری کرتے۔ عورتیں جھونپڑوں میں راہ تکتی رہتیں۔ بچے ریت پر لوٹ لوٹ کر جوان ہوجاتے، تو خاک چھاننے لگ جاتے۔ چھپروں میں لو آر پار چلتی، گرمی سے جسم جھلستے رہتے۔ اُنہیں جوہڑ سے کوئی پانی پینے نہیں دیتا تھا۔ اُنہیں کنویں کے کڑوے اور بدبودار پانی پر زندہ رہنا پڑتا۔ جو اونچی جاتی کی ہندو عورتیں بڑی اونچائی سے اُن کی گاگروں میں اُنڈیل دیتیں۔
اس روز سارے گاؤں میں کوئی مرد نہ تھا۔ جمال کی کیمرہ ٹیم کو دیکھ کر بچے ماؤں کی گودیوں میں چھپ گئے۔ عورتوں نے جمال کو افسر سمجھ کر گھونگھٹ کاڑھ لئے اور کسی ناگہانی کے لیے جو افسروں کے ساتھ آتی ہے، تیار ہوکر بیٹھ گئیں۔ کون سا زنانہ مانگتا ہے؟ بولو یہ ہمارے ملک کا رواج ہے؟ میندرو نے جمال سے پوچھا، مگر جمال کے کہنے پر میندرو نے کہا: ’’ہمارا افسر ’’گریبوں‘‘ کا دوست ہے۔ تمہارے لیے پانی کا بندوبست کرنے کے لیے اسلام آباد سے آیا ہے۔‘‘
جمال جب ان کی خالی چاٹیوں میں ریت ڈال کر دودھ بلونے کے شاٹ لے چکا، تو اُس نے کہا: ’’ایک عورت اپنی بیٹی کی جوئیں نکالے اور ایک بچہ چنگیر میں سے روٹی کھائے۔ کیمرہ ریڈی۔ ‘‘ اس نے کہا۔ مگر بچہ روٹی پر ٹوٹ ہی پڑا اور شاٹ ختم ہونے سے پہلے ہی چنگیر خالی ہوگئی۔ جمال نے ایک روٹی اور لانے کو کہا۔ عورتوں نے سر جھکالئے اور کھسر پھسر کرنے لگیں۔ میندرو دانائی سے مسکرایا اور بولا: ’’چلو سائیں، بہت کام ہوگیا۔ اس گاؤں میں آج ایک ہی روٹی تھی کسی بھی گھر میں دوسری نہیں……‘‘

……………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے