447 total views, 2 views today

میں اکثر راہ چلتے لوگوں کو دیکھتا ہوں۔ ان کے چہرے پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سب سے زیادہ آسانی دنیا سے بے خبر دیوانوں بالفاظ دیگر پاگلوں کے چہرے پڑھنے میں ہوتی ہے۔ یہ دنیا کی مصائب، دکھوں اور پریشانیوں سے ماورا اپنی ایک الگ دنیا بسائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں پر وہ بے چینی اور وہ اضطراب نہیں ہوتا جو ہم عام انسان بسا اوقات اپنے چہروں پر لئے گھومتے ہیں۔

کملیش بھائی کا فائل فوٹو۔

پیدائشی ذہنی معذوروں کے علاوہ انواع و اقسام کا نشہ کرنے والے بھی اس دنیا سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ ان کے گھر والے تو کچھ عرصہ اذیت میں گزار کر ان کی یادوں سے چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہ خود جیتے جی روز موت کی تصویر بنے ہوتے ہیں۔ پیلے دانت، بکھرے بال، بے ترتیب داڑھی، سراپا میل اور بدبو۔ ان لوگوں کی کوئی زندگی ہی نہیں ہوتی۔ یوں کہیں کہ یہ شعر ان پر صادق آتا ہے :
اب اٹھائے مزار پھرتا ہوں
ایک انسان مرگیا مجھ میں
یہ لوگ دو دو وجودوں کا بوجھ لے کر گھومتے ہیں۔ انہی لوگوں کی صف میں ایک ہمارا ’’کملیش بھائی‘‘ بھی کھڑا ہے۔ کملیش بھائی سے میرا تعارف سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا۔




کملیش بھائی کون ہے؟ یہ ہمارے معاشرے کی تصویر کا دوسرا رُخ ہے۔ کملیش کا شمار بھی ان ہزاروں بچوں میں ہوتا ہے جو حالات کے مارے بھٹک جاتے ہیں۔ نشہ کرنے لگ جاتے ہیں۔ (Photo: thefix.com)

طنز و مزاح کے طور پر کملیش بھائی اب بھی فیس بک کی زینت بنا ہوا ہے۔ ’’اس حمام میں سب ننگے ہیں‘‘ کے مصداق میں نے بھی اس نوجوان کا مذاق اڑایا۔ اپنے چند لمحات کو اس کا تمسخر اڑا کر گزارا۔ رفتہ رفتہ میں اسے بھول گیا۔ محسوس کیا ہمارے فیس بک کے دوست اتنی آسانی سے کسی کو نہیں بھولتے۔ ہر پوسٹ، کمنٹ حتیٰ کہ روزانہ کی بات چیت میں اس کی بے خودی کو لے کر اس کا مذاق اڑایا گیا۔ اس کی بے خودی کے عالم میں کہی گئی ہر بات کو زینتِ محفل بنایا جانے لگا۔
کملیش بھائی کون ہے؟ یہ ہمارے معاشرے کی تصویر کا دوسرا رُخ ہے۔ کملیش کا شمار بھی ان ہزاروں بچوں میں ہوتا ہے جو حالات کے مارے بھٹک جاتے ہیں۔ نشہ کرنے لگ جاتے ہیں۔ انہیں زندگی کے اتار چڑھاؤ کی پرکھ نہیں ہوتی۔ یہ دنیا کی اُن رنگینیوں اور خود کو اندھیرے میں پاکر حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ ان کو کوئی سمجھ نہیں ہوتی کہ اب کرنا کیا ہے؟ کسی کو باپ کا سایہ نصیب نہیں ہوتا، تو کوئی چھت سے محروم ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں یہ راہِ فرار چاہتے ہیں اور سستا نشہ ہی ان کے لیے راہِ فرار بن جاتا ہے ۔ پھر سکول جانے کی عمر والے یہ بچے پیٹ کی پوجا پاٹ کریں یا نہیں نشے کا بندوبست ضرور کرتے ہیں۔

میڈیا ایسے حساس معاملات میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ (Photo: mediaconsummit.com)

ہم نے سنا تھا کہ میڈیا ایسے حساس معاملات میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ یہ لوگوں کو ان بے سہارا بچوں کی مدد کی دعوت دے سکتا ہے۔ یہ آگہی و شعور پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کملیش کے معاملہ میں بھی میڈیا کے ایک رپورٹر نے لوگوں میں آگاہی پھیلانے کی ایک کوشش کی۔ لوگوں کو بتایا کہ کل کو آپ کا بچہ بھی کملیش بن سکتا ہے۔ انہیں سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ ایسے بچے کس طرح کسمپرسی کی زندگی جیتے ہیں۔ انہیں دعوت دی گئی کہ اپنے علم اور پیسے کا استعمال کرکے ایسے بچوں کا مستقبل بچانے کی کوشش کریں۔ ہم نے مگر اس کو انٹرٹینمنٹ کے طور پر لیا۔ گانے بنائے، پھبتیاں کسیں اور ایک دوسرے کو ٹیگ کرکے اپنے لیے ہنسی کا سامان پیدا کیا۔ ایک سوال کرنا چاہوں گا، کل کو اگر آپ کا بیٹا یا بھائی کسی کملیش کی طرح بیچ چوراہے، بے خودی کے عالم میں برہنہ ہوکر گھومے، تو کیا تب بھی آپ اپنے بند کمرہ میں پاپ کارن کا مزا لیتے ہوئے سوشل میڈیا پر اس کا مذاق اڑائیں گے؟

……………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے