342 total views, 1 views today

ایک رومن کہاوت ہے کہ’’اگر خواہش گھوڑا ہوتی، تو بھکاری ہی اس کی سواری کرتا۔‘‘
آئینِ پاکستان کے مطابق پارلیمنٹ ہی ملک کا سب سے بڑا اور سپریم ادارہ ہے۔ باقی ادارے جیسا کہ عدالتیں، وفاقی محکمے اور افواجِ پاکستان آئینے ادارے ہیں لیکن پارلیمنٹ واحد ادارہ ہے جسے آئین سازی کی وجہ سے ممتاز حیثیت حاصل ہے اور یہی واحد ادارہ ہی ہے جو ملک چلانے کے قوانین مرتب کرتا ہے۔ اس اہم خصوصیت کے باوجود لوگوں کی نظروں میں پارلیمنٹ کی وہ عزت و حرمت نہیں ہے جس طرح وہ دوسرے اداروں کی کرتے ہیں۔ اور اس کی وجہ سیاسی جماعتوں میں موروثیت ہے۔ اسی موروثیت کے نتیجے میں ان کا پارلیمنٹ کی نشستوں پر قبضہ شامل ہے۔
ہماری سیاسی جماعتوں، حکومتی اور اپوزیشن ارکان کا رویہ قانون سازی کے وقت بہت غیر ذمہ دارانہ رہتا ہے۔ ہمارے ملک کا ہر سیاسی لیڈر چاہتا ہے کہ اس کی سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرے، لیکن اکثریت حاصل کرنے کے بعد وہی لیڈر چاہتا ہے کہ پارلیمنٹ فوت ہی ہوجائے، تو بہتر ہے۔ ہر سیاسی جماعت کو پارلیمنٹ کی اہمیت کا احساس تب تک ہوتا ہے، جب تک وہ اپوزیشن میں ہوتی ہے لیکن جیسے ہی وہ پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرلیتی ہے، تو وہ اس کو پیچھے پھینک دیتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کا اعتبار اس مقدس ادارے سے اُٹھ جاتا ہے اور عوام اپنی امنگوں کی ترجمانی کیلئے اِدھر اُدھر دیکھنے لگتے ہیں۔




آئینِ پاکستان کے مطابق پارلیمنٹ ہی ملک کا سب سے بڑا اور سپریم ادارہ ہے۔

ہمیں اپنے معاشرے سے جو پہلی چیز ختم کرنی ہوگی، وہ موروثیت ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کسی کا والد لیڈر ہے، تو اس کے بیٹے یا خاندان کے دوسرے افراد کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ اُنہیں ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر ایک شہری کو یہ حق یکساں حاصل ہے کہ وہ الیکشن میں کھڑا ہو اور اگر زیادہ ووٹ لے، تو پارلیمنٹ کا ممبر بھی بن جائے۔ اعتراض اس نکتے پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ جو مواقع کسی لیڈر کے بچے کو پارٹی میں آگے بڑھنے اور ٹکٹ دیتے وقت فراہم ہوتے ہیں، کیا وہی مواقع کسی عام آدمی کو دئے جاتے ہیں یا نہیں؟ اور اسی خرابی کو سمجھتے ہوئے مغربی اقوام نے اسے اپنے بیچ میں سے نکال دیا ہے۔ وہاں پر چاہے کوئی بھی بندہ سیاسی جماعت بنائے، اُس میں ترقی پانے کیلئے سب کو یکساں جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ ’’ژرندہ کہ د پلار دہ خو پہ وار دہ‘‘ یعنی اگر چکی تمہارے والد کی ہے، تب بھی تمہیں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اگر پشتو کی اس کہاوت کو بنیاد بناتے ہوئے ہم سیاسی جماعتوں کے اندرونی انتخابات کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی زیر نگرانی منعقد کروائیں، تو سیاسی جماعتوں پر عوام کا اعتماد بحال ہوسکتا ہے۔ ورنہ آج کل انٹرا پارٹی الیکشن کے نام پر جو ڈھونگ رچایا جاتا ہے، وہ عوام کو قطعاً قبول نہیں۔ کیونکہ لوگوں کو پتا ہوتا ہے کہ اگر ن لیگ میں انتخابات ہوں گے، تو نواز شریف ہی پارٹی صدر بنیں گے۔ چاہے اس کیلئے قانون سازی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اگر پیپلز پارٹی کا چیئرمین بننا ہوتا ہے، تو ’’بھٹو‘‘ کے لاحقے کے بغیر نہیں بنا جاسکتا۔ چاہے اس کیلئے نام ہی کیوں نہ تبدیل کرنا پڑے۔ اسی طرح تحریک انصاف میں بھی چیئرمین عمران خان کی موجودگی میں کوئی اور یہ شرف حاصل نہیں کر سکتا۔ اس طرح پارٹی کے اہم عہدوں پر ارب پتی جہانگیر ترین اور جدی پشتی جاگیردار شاہ محمود قریشی ہی فائز ہیں۔ جمیعت علمائے اسلام میں مولانا فضل الرحمان کا خاندان ہی حرف آخر ہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی والے باچا خان سے ایمل ولی تک کے اصولوں کو کامیابی سے اپنائے ہوئے ہیں۔ یہی وہ بیماری ہے جس نے عوام کو جمہوریت سے متنفر کر دیا ہے۔
اگر انٹرا پارٹی الیکشن میں صاف و شفاف طریقے سے ہر کسی کو یکساں مواقع حاصل ہوں اور تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کارکن ہی منتخب کریں اور پارٹی ٹکٹ کو ذات پات سے بالاتر ہو کر میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے، تو تب ہی پارلیمنٹ کے اندر اہل لوگ منتخب ہو کر عوام کی صحیح معنوں میں خدمت کریں گے اور تب ہی پارلیمنٹ عوامی امنگوں کی ترجمان بنے گی۔پھر پارلیمنٹ کو لوگ حقیقی معنوں میں پیار کریں گے اور یہ مقدس ادارہ آئین کے صفحات کے باہر بھی صحیح معنوں میں بھی سپریم بنے گا۔

…………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے