268 total views, 1 views today

تعلیم کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی کا بنیادی جزو ہے۔ جو معاشرے آج شکست و ریخت کا شکار ہیں، بغور جائزہ لیجیے، تو تعلیم ان معاشروں میں بہت بعد میں آتی ہے۔ ان معاشروں کی ترجیحات میں ہی تعلیم نہیں ہے۔ ایشیا سے یورپ، مشرقِ وسطیٰ سے افریقہ تک کسی بھی طرف نگاہ دوڑائیے، آپ کو باعلم دماغ ہی اعلیٰ عہدوں پہ بھی نظر آئیں گے اور معاشرے میں ایک ممتاز مقام بھی رکھتے ہوں گے۔ جن معاشروں نے تعلیم کو اولین ترجیح گردانا ان کے اعلیٰ علمی دماغ گوگل، فیس بک، ٹویٹر، ایپل اور دیگر صف اول کے عالمی اداروں میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اور جن معاشروں میں تعلیم کا نمبر بہت بعد میں آتا ہے، وہ آج بھی بہت سے حوالوں سے اغیار پہ انحصار کرنے پہ مجبور ہیں۔ جن معاشروں میں درسگاہیں آباد اور تعمیری سرگرمیوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ان معاشروں میں کوئی شک نہیں کہ تخریب کا عنصر لمحہ بہ لمحہ کم ہوتا جاتا ہے۔




جن معاشروں نے تعلیم کو اولین ترجیح گردانا ان کے اعلیٰ علمی دماغ گوگل، فیس بک، ٹویٹر، ایپل اور دیگر صف اول کے عالمی اداروں میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ (فوٹو بہ شکریہ Techora)

پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ یہاں تعلیمی ادارے تو لاتعداد ہیں مگر ان تعلیمی اداروں میں تعلیم کا معیار اور درسگاہوں کی انتظامیہ کا حال ایسا ہے کہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے مزید جانچ کی چھلنی سے گزرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی ادارے معاشرے میں تعمیر کا سبب بننے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسی سمت جا رہے ہیں کہ جہاں یہ درسگاہیں کم اور سیاسی نرسریاں زیادہ ثابت ہو رہے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی میں حالیہ طلبہ و اساتذہ کا آمنے سامنے آنا ہو یا این ای ڈی یونیورسٹی کے اعلیٰ دماغوں کا تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، کسی بھی طرح سے پاکستان میں تعلیم کے فوائد سامنے اس سطح پہ نہیں آ رہے جس حد تک توقعات ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے کچھ عرصہ قبل معلمین کے ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے کہ جس سے معاشرے میں بربادی پھیلنے کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا، لیکن ہم شاید کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کو ہی کارکردگی سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسی لیے حالیہ دنوں میں وفاق کے قلب میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے نام سے منسوب درسگاہ قائد اعظم یونیورسٹی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور بعد ازاں ایک طالب علم یونین کی طرف سے احتجاج اور ہڑتال کی راہ اپنانے پہ بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہیں لیے۔ آج حالات اس نہج پہ ہیں کہ پاکستان کی بڑی درسگاہوں میں شمار ہونے والی یہ یونیورسٹی رسہ کشی کا میدان بنی ہوئی ہے۔

پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی ادارے معاشرے میں تعمیر کا سبب بننے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسی سمت جا رہے ہیں کہ جہاں یہ درسگاہیں کم اور سیاسی نرسریاں زیادہ ثابت ہو رہے ہیں۔ (بہ شکریہ ڈان)

چند ماہ پہلے دو گروہوں میں ہونے والے تصادم کے بعد سے اس درسگاہ کے حالات سدھر نہیں پائے۔ اس ہنگامے کے نتیجے میں ایک ہی گروہ کے طالب علموں کو درسگاہ سے نکال دیا گیا (جنہیں ہفتوں کے احتجاج کے بعد اب جا کے بحال کیا گیا ہے) جنہوں نے احتجاج کو ہوا دی ۔ چاہے نکالے جانے والے طالب علم قصوروار تھے یا نہیں، اس بحث سے قطعِ نظر انتظامیہ نے اس پورے معاملے کو اس طرح سے حل کرنے کی کوشش کی کہ یہ ایک مخصوص طلبہ تنظیم کے خلاف کارروائی ہی محسوس ہوئی۔ ہڑتالی طالب علموں سے بے شک بطور لکھاری اختلاف، مگر جس طرح نوروز جان اور صدام بلوچ جیسے طالب علم بھوک ہڑتال کے ہاتھوں ہسپتال تک جا پہنچے ہیں، اس سے یہ کہنا ہرگز خام خیالی نہیں کہ انتظامیہ اس پورے معاملے کو لسانی و قومیت کا رنگ دینے میں برابر کی ذمہ دار ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ طالب علموں کا باہمی اختلاف ایک ایسی نہج پہ پہنچ گیا کہ اس کو صوبائیت کا رنگ ملنا شروع ہوگیا۔ جس طرح سے طالب علموں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا اور جس انداز سے کامران بلوچ کی سربراہی میں طلبہ تنظیم بلوچ طلبہ کونسل کو الگ تھلک اور مٹھی بھر ظاہر کیا گیا، اس سے معاملات حل ہونے کے بجائے ایک ایسا رخ اختیار کر گئے تھے کہ ایسا محسوس ہو رہاتھا کہ انتظامیہ مکمل طور پر اس نازک معاملے سے بے خبر رہی کہ کس طرح درسگاہ کے اندر کا ایک اختلاف صوبوں کی محرومیوں کا سایہ محسوس ہونے لگا۔ ثناء اللہ بلوچ صاحب کی صدر پاکستان سے ملاقات، ایوان میں اس معاملے کی گونج، رضا ربانی صاحب کا اس معاملے کا نوٹس لینا سب عوامل ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی بنیادوں پر اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں کیا دن دکھاتی ہیں؟
اس پورے معاملے میں جہاں قصوروار طالب علم تھے، وہیں قدرے زیادہ قصور انتظامیہ و صاحبانِ اختیار کا تھا کہ انہوں نے دو گروہوں کے درمیان جھگڑے میں اس قدر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا کہ ابتدا سے ہی تمام کارروائی مخصوص گروہ کے خلاف محسوس ہونا شروع ہوگئی اور طلبہ بھوک ہڑتال جیسے انتہائی قدم تک پہنچ گئے۔ اور وہ اپنے حقوق درسگاہ کا طالب علم ہونے کے ناطے نہیں بلکہ بلوچ ہونے کے ناطے مانگنا شروع ہو گئے۔ نہ جانے کیسے لوگ اختیارات پہ بٹھا دئیے گئے ہیں کہ جو پاکستان کی درسگاہوں میں پاکسانیت کا پرچار کرنے کے بجائے صوبائیت کو ہوا دینے کا سبب بن رہے ہیں، جس سے پہلے ہی وطن کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔

…………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے