659 total views, 1 views today

غیر مسلسل جمہوری نظام کی وجہ سے ہمارے ملک میں معاشی نظام نے کبھی استحکام نہیں پایا ہے۔ سابقہ ادوار میں مختلف حکومتوں یا آمریتوں نے ہمیشہ یکسر مختلف معاشی پالیسیاں چلانے کی کوشش کی۔ کبھی کسی نے پنج سالہ ترقیاتی منصوبے بنائے، کبھی نیشنلائزیشن نے معیشت کا بیڑا غرق کیا، کبھی دوسرے ملکوں کی جنگیں اپنی سرحدوں کے اندر لڑکر انفراسٹرکچر کو تباہ کیا گیا اور کبھی پرائیوٹائزیشن کی پالیسیوں کو مسلط کیا گیا۔ عالمی سطح پر جتنی بھی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، آپ نے کبھی یہ نہیں سنا ہوگا کہ ترقیاتی ممالک میں کوئی اُتارچڑھاؤ آیا ہو۔ یہ اس لئے کیوں کہ وہاں پر معاشی پالیسیاں سیاسی وابستگیوں سے بالاتر بنائی جاتی ہیں اور ایسی پالیسیوں نے ان کی معیشتوں کو لازوال استحکام بخشا ہے ۔
پاکستان کو اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے بیشمار انعامات سے نوازا ہے۔ ہندوستان کے بعد جس ملک میں سب سے زیادہ مختلف پس منظر رکھنے والی اقوام آباد ہیں، وہ پاکستان ہے۔ پاکستان میں صرف پنجابیوں کی آبادی پورے جاپان کی آبادی کے برابر ہے۔ سندھ کی آبادی انگلینڈ سے زیادہ ہے، پشتونوں کی آبادی پورے سعودی عرب سے زیادہ ہے، بلوچیوں کی آبادی سوئٹزر لینڈ کے برابر، فاٹا کی آبادی ڈنمارک سے جبکہ کشمیر اور گلگت کی آبادی پورے سنگاپور کی آبادی سے زیادہ ہے، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ اقوام کیوں ترقی یافتہ ہیں؟ اور کیا ہمارے ملک کی ساری آبادی ان میں سے کسی ایک ملک کا مقابلہ کر سکتی ہے؟ مجھے یقین ہے کہ آپ سب کا جواب نفی میں ہوگا۔ ان مسائل کا حل کبھی ہم نے سوچا ہے؟ کیا ہم اپنے ملک میں ایک پائیدار سیاسی نظام کو راہ دے کر معیشت کو اپنی اوّلین ترجیح نہیں بنا سکتے؟ کیا ہم نے یہ سوچا ہے کہ ہم سے بدتر ماضی رکھنے والی یہ اقوام ایک جتنے وقت میں ہم سے آگے کیسے نکل گئیں؟ کیا ہم ان میں سے کسی ایک ملک کا ماڈل اپنا اور نافذ نہیں کرسکتے؟ ان سب مسائل کا حل موجود ہے، قومیں ہمیشہ اپنے ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر اپنے مستقبل کا تعین کرتی ہیں۔ باقی باتیں ایک طرف، اگر ہم صرف ان ممالک جیسا ٹیکس نظام ہی لاگو کریں، تو یقین مانیں ہم انتہائی قلیل مدت میں ان ممالک کے برابر آ جائیں گے۔




پاکستان میں صرف پنجابیوں کی آبادی پورے جاپان کی آبادی کے برابر ہے۔ سندھ کی آبادی انگلینڈ سے زیادہ ہے، پشتونوں کی آبادی پورے سعودی عرب سے زیادہ ہے، بلوچیوں کی آبادی سوئٹزر لینڈ کے برابر، فاٹا کی آبادی ڈنمارک سے جبکہ کشمیر اور گلگت کی آبادی پورے سنگاپور کی آبادی سے زیادہ ہے، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ اقوام کیوں ترقی یافتہ ہیں؟ (فوٹو بشکریہ سی این این ڈاٹ کام)

اگر ہم ان ممالک کا تقابلی جائزہ پاکستان کے ساتھ کریں، تو یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان اپنی ’’جی ڈی پی‘‘ (وہ آمدنی جو ہر سال کمائی جاتی ہے) کا صرف دس فیصد ٹیکسوں کے ذریعے وصول کرتا ہے جبکہ ہمارے مقابلے میں سنگاپور 14.5 فیصد، سوئٹزرلینڈ 35 فیصد، انگلینڈ 34 فیصد، جاپان 35.9 فیصد جبکہ ڈنمارک تقریباً 50 فیصد جی ڈی پی کا حصہ ٹیکسوں کے ذریعے کماتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ہم دوسرے ممالک پر نظر دوڑائیں، تو سری لنکا 15 فیصد، بھارت 17فیصد، ترکی 24 فیصد اور امریکہ 28 فیصد جی ڈی پی کا حصہ ٹیکسوں کی صورت میں ہی جمع کرتا ہے۔
اگر ہم اپنے ملک کی ترقی چاہتے ہیں، تو ہمیں بھی اپنا ٹیکس نظام مربوط بنا کر صحیح معنوں میں نافذ کرنا ہوگا۔ اگر ہم اپنی ٹیکس آمدنی کو 1 0فیصد سے 12 فیصد پر لے جائیں، تو ہمیں سالانہ 300 ارب روپے زیادہ جمع ہوں گے جس سے ہم تعلیم اور صحت کے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم اپنی ٹیکس آمدنی کو 15 فیصد یعنی سری لنکا کے برابر لے آئیں، تو اس سے ہم اپنے دفاعی بجٹ کو دُگنا کرسکتے ہیں جس سے امن و امان کے متعلق سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ ویسے تو ہم اپنے پڑوسی ملک بھارت سے ہر میدان میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں، لیکن اگر ہم اپنی ٹیکس وصولی کو ان کے برابر 17 فیصد پر لے آئیں، تو ہم اپنے روزمرہ خرچ کے بجٹ کو 25 گنا بڑھا سکتے ہیں جس سے مہنگائی کا جن قابو ہوجائے گا، تو اگر آپ ایک ترقی پسند ملک ہیں اور غریب کی مدد کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو ٹیکس بڑھانے کی حمایت کرنی چاہیے۔ اگر آپ ایک بزنس مین ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو، تو آپ کو ٹیکس بڑھانے کی حمایت کرنی چاہیے۔ اگر آپ ملازمت پیشہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ پولیس اچھا کام کرے اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو، تو آپ کو ٹیکس بڑھانے کی حمایت کرنی چاہیے۔ اگر آپ مضبوط فوج کے حامی ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہماری فوج جدید ہتھیاروں سے لیس ہو، تو آپ کو ٹیکس بڑھانے کی حمایت کرنی چاہیے۔ اگر آپ مغرب کے خلاف ہیں اور اُن کی امداد کو حرام سمجھتے ہیں، تو آپ کو ٹیکس بڑھانے کی حمایت کرنی چاہیے۔ صرف وہ لوگ ٹیکس بڑھانے کی حمایت نہیں کریں گے، جو سمجھتے ہیں کہ ملک کی موجودہ صورتحال ٹھیک ہے۔

پاکستان اپنی ’’جی ڈی پی‘‘ کا صرف دس فیصد ٹیکسوں کے ذریعے وصول کرتا ہے جبکہ ہمارے مقابلے میں سنگاپور 14.5 فیصد، سوئٹزرلینڈ 35 فیصد، انگلینڈ 34 فیصد، جاپان 35.9 فیصد جبکہ ڈنمارک تقریباً 50 فیصد جی ڈی پی کا حصہ ٹیکسوں کے ذریعے کماتا ہے۔ (فوٹو بشکریہ: ٹویٹر ڈاٹ کام)

ٹیکس وصولی ہماری بہت بڑی امید رہ گئی ہے اور اس صورتحال کو ٹھیک کرنے کے لئے باہر سے کوئی نہیں آئے گا بلکہ ہمیں خود ہی ان چیلنجز سے نمٹنا ہوگا۔ اور اس کیلئے بہترین نظام ’’جمہوریت‘‘ ہی ہے۔ کیوں کہ ہم اپنے نمائندے خود منتخب کرتے ہیں اور اگر کوئی کرپٹ ہے اور یا کام نہیں کر رہا، تو ہمیں چاہئے کہ اگلے انتخابات میں صحیح نمائندے کو منتخب کریں۔ہم اکثر حکمرانوں کی کرپشن کا رونا روتے ہیں لیکن کیا ہم نے یہ خیال کبھی کیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم خود کتنے کرپٹ ہیں؟ ہر بار جب ہم کسی جعلی رسید کو قبول کرتے ہیں، یا زمین کے انتقال کے وقت مارکیٹ سے کم قیمت سرکاری کاغذوں میں درج کرواتے ہیں یا اپنی صحیح آمدنی کے ذرائع حکومت سے چھپاتے ہیں، تو ہم ملکی خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں اور کرپشن کر رہے ہوتے ہیں۔
ایک بہتر مستقبل ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ بشرط یہ کہ ہم خود اپنے ہاتھوں سے اسے تعمیر کریں۔ کیوں کہ علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

…………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے