1,201 total views, 1 views today

مملکت خدادا پاکستان میں سیاسی اور سماجی حالات امریکہ اور پڑوسی ممالک میں جاری بحران سے پیوستہ ہیں۔ پاکستان پر گذشتہ دو تین دہائیاں بہت ہی تلخ گزری ہیں۔ آج کی غیر یقینی صورتحال کا اندازہ کئی سال پہلے شورشوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ آپریشن ضربِ عضب اور رد الفساد کے نام سے دہشت گردی کی روک تھام کی خاطر تاحال کارروائی جاری ہے۔ امریکہ کی درپردہ سازشوں کے تانے بانے کھل کر سامنے آچکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا بیان اور امریکہ بہادر کی وسطی ایشائی ممالک کے متعلق پالیسی نے خطے کی بے چینی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ امریکی شہریوں نے پے درپے اپنے ہی ہم وطنوں پر حملے کئے جس کو صدر ٹرمپ نے امریکیوں کی نفسیاتی بیماری سے تشبیہ دیا ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ کے تین بلین ڈالرز سے اسلحہ کے معاہدوں نے اک نیا محاذِ جنگ کھول دیا ہے۔ اس طرح سعودی عرب میں یورینیم افزودہ کرنے کے لئے ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور اس پر ابتدائی کام کی شروعات ہوچکی ہے۔ دوسری طرف روس، ایران اور آذربائیجان نے تہران میں صدر روحانی کا سہ فریقی ملاقات میں شکریہ ادا کیا اور خطے میں امن اور استحکام کے لئے ایران کی کاوشوں کو سراہا۔ پاکستان کے آرمی چیف کا دورۂ ایران خطے میں موجودہ صورتحال کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اُدھر جاپان، امریکہ اور انڈیا کے سہ فریقی اجلاس میں چین کے جارحانہ رویے پر جاپان میں ملاقات کی گئی اور حالیہ دورے کے نتیجے کے طور پر انڈیا نے بحیرۂ عرب میں چین کے جارحانہ رویے کے خلاف مستقل طور پراپنی نیوی کے بیڑے کھڑے کردئیے۔

سعودی عرب اور امریکہ کے تین بلین ڈالرز سے اسلحہ کے معاہدوں نے اک نیا محاذِ جنگ کھول دیا ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں پاکستانی کی ترقی میں سی پیک کا کردار اور چینی سرمایہ کاری البتہ خطے میں امید کی ایک کرن ضرور ہیں، لیکن جہاں تک پڑوسی ممالک کا کردار ہے، وہ مبہم اور غیر یقینی صورتحال کا غماز ہے۔ افغانستان میں امریکہ نے اختیارات کی تقسیم کا دور مکمل کیا اور اب افغانستان ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہا ہے۔ مطلب ا ب وہاں پر ادارے بن رہے ہیں اور تیز تر ترقی کے منصوبے عمل میں لائے جا رہے ہیں۔ امریکہ اور انڈیا افغانستان کی ترقی کے نئے منصوبوں پرکام کرنے جا رہے ہیں۔ البتہ ان ممالک کا مقصد پاکستان کے متعلق کچھ نیک نہیں ہے۔ امریکہ ’’ڈو مور‘‘ کے مطالبے پر زور دے رہا ہے اور پاکستان بھی اس کے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس کی تائید کرتا جا رہا ہے۔ اس مد میں حالیہ دورہ میں امریکی وزیر خارجہ کے بیانات سے اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ موصوف کہہ رہے ہیں کہ ہمیں خالی خولی باتیں نہیں دہشت گردوں کی پوری معلومات دی جائیں۔ دراصل امریکہ اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔ مزید اس نے یہ کہا کہ پاکستان، افغانستان میں امن قائم کرنے کے لئے امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے۔

امریکہ اور انڈیا افغانستان کی ترقی کے نئے منصوبوں پرکام کرنے جا رہے ہیں۔ البتہ ان ممالک کا مقصد پاکستان کے متعلق کچھ نیک نہیں ہے۔

عالمی طاقتوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کا بھی پاکستان پر اثر ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور میزائل ٹیکنالوجی میں کھل کر مدد کی ہے اور تقریباً دس سال تک یہ امداد جاری رکھی ہے۔ اب سعودی میں بڑے پیمانے پر کرپشن کے خلاف گرفتاریاں عمل میں لائی جا رہی ہیں جس میں تادم تحریر نو شہزادوں اور اعلیٰ افسران کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سعودی، ایران تنازعہ میں اول الذکر پاکستان سے فوجی امداد کا خواہاں ہے۔ سعودی عرب ریاض میں یمن حوثی قبائل نے ائیرپورٹ کے آس پاس بیلسٹک میزائل فائر کیا ہے جس کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ ادھر یمن میں اتحادی افواج نے ایک ہوٹل پر حملہ کرکے چھبیس یمنیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ اس صورتحال میں ایران پر الزام ہے کہ وہ حوثی قبائل کی مدد کر رہا ہے۔ اس طرح ایران بھی اس صورتحال کو باریک بینی سے دیکھ رہا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ پاکستان، ایران کو برادر اسلامی پڑوسی ملک اور خیر خواہ جانتا ہے۔ اس لئے سعودی کے کسی قسم فوجی اتحاد کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور نہ اس میں کوئی کردار ہی ادا کرسکتا ہے۔ عرب بہار کے انقلابات کے پیشِ نظر مشرق وسطی کے انہی ممالک پر داعش اور القاعدہ کی دوستی کا الزام ہے جو کہ اب کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ سعودی کے مصر اور عرب امارات کے قطر کا مقاطعہ اگرچہ خالصتاً اقتصادی ہے لیکن اس کے ڈانڈے بھی دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی سے جا ملتے ہیں۔




یمن میں اتحادی افواج نے ایک ہوٹل پر حملہ کرکے چھبیس یمنیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ اس صورتحال میں ایران پر الزام ہے کہ وہ حوثی قبائل کی مدد کر رہا ہے۔

اس طرح لیبیا، عراق اور شام میں شورش اب نئی شدت اختیار کیے ہوئی ہے۔ شام کے زمینی اور روس کے ہوائی حملوں میں تعاون کی وجہ سے داعش سے کئی علاقے چھین لئے گئے ہیں۔ ترکی نے عراق میں کرد علاقوں کو حاصل کرنے کیلئے اپنی فوجیں داخل کی ہیں اور کسی نئی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ عراق میں نیا ملک بنانے کے لئے پارلیمنٹ میں ریفرنڈم کرانے تک نوبت آئی ہوئی ہے۔ سپین کیٹالونیا میں عوام کے ریفرنڈم کے واضح اثرات یورپ پر پڑنے جا رہے ہیں۔ کیونکہ فرانس میں بھی اس قسم کی چنگاریاں سلگ رہی ہیں۔ یونان کے بیل آوٹ پیکیج کو دیکھیں جبکہ اٹلی بھی اپنے مستقبل کے حوالے سے پیش بندی کر رہا ہے۔ فلسطین کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے۔ فلسطین اور اسرائیل میں زیرِ زمین جنگ جاری ہے۔ روس اپنے مفادات کے حصول کے لئے شام سے کسی صورت نہیں نکلنے والا۔ امریکہ کے درپردہ یوکرائن کی حمایت کا حساب روس شام میں برابر کر رہا ہے۔

ترکی نے عراق میں کرد علاقوں کو حاصل کرنے کیلئے اپنی فوجیں داخل کی ہیں اور کسی نئی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔

دنیا کے اس نئے منظر نامے میں پاکستانی ریاست، روہنگیا میں مسلمانوں پر جاری ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتی اور اس طرح روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و جبر کا بازار گرم ہے۔ شنید ہے کہ برما کے پاکستان سے فوجی ٹریننگ، اسلحہ اور جہازوں کے متعلق معاہدات ہوچکے ہیں۔ یوں سوڈان میں تنظیم بوکوحرام، حکومت کو ہروقت زچ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ امریکہ نے داعش کے خلاف اپنا پہلا فضائی حملہ صومالیہ میں مکمل کرلیا ہے۔ نائجیریا کے بم دھماکے اور بحران روزمرہ کے امور ہیں۔ امریکہ، جنوبی کوریا اورجاپان کو شمالی کوریا کے سامنے لانے کے لئے بہانے تراش رہا ہے۔ برطانیہ اور اسکاٹ لینڈ کا ریفرنڈم حالیہ دور کی کہانی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جلد یا بدیر اس میں نئی جان آئے گی۔ لیبیائی وزیر اعظم نے جان کے خطرے کے باعث استعفا دے دیا ہے۔ اس سے پہلے بھی لیبیا کے وزیر اعظم کے والد رفیق الحریری کو قتل کیا گیا ہے۔

لیبیائی وزیر اعظم نے جان کے خطرے کے باعث استعفا دے دیا ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں معاشی سرگرمیاں اور تیزی سے عام ہونے والی گرانی نے عوام کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ نئی پیراڈائز لیکس نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے جس میں دنیا کی نامور شخصیات جیسے ملکۂ برطانیہ، سابق وزیراعظم شوکت عزیز، ایران کے پارلیمنٹرین، سعودی شاہ سلمان، کنیڈا کے وزیر اعظم کے مشیر وغیرہ کے نام اور چھپے اثاثے ظاہر کئے گئے ہیں۔ انڈیا نے پیراڈائز لیکس کے لئے تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح دنیا ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات، جاری کساد بازاری،دہشت گردی کی جنگ، انجن، پٹرول اور جنگلات کی کٹائی سے نبرد آزما ہے۔ دنیا ئی درجہ حرارت میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے لیکن سب حکمت عملی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ سیارۂ زمیں جنگ و جدل، آفات اور عذاب کی شدت سے گزر رہا ہے۔ جنگوں کے زور پر غریب ممالک کے منھ کا نوالہ چھیننا عالمی طاقتور ممالک کا شیوہ ہے۔ مشرق میں نیشن اسٹیٹ بناکر حجاز مقدس اور خلافت عثمانیہ کا شیرازہ اس لئے بکھیرا گیا تھا کہ ان کی افرادی قوت کو کچلا جا سکے اور ان کے وسائل پر قبضہ کیا جاسکے۔ برصغیر کو توڑنے میں بھی مغربی ممالک نے اپنا اثر دکھایا ہے۔ الغرض، پوری دنیا کو بے دست و پا بنانے کے لئے تقسیم کے عمل سے گزارا گیا ہے۔ انسانوں کو طبقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ طبقاتی نظامِ تعلیم اور نظامِ انصاف بنایا گیا ہے، تاکہ آسانی سے دوست اور دشمن کی پہچان ہوسکے۔ جمہوریت کا پودا تناور کیا گیا اور غریب ممالک کے وسائل کا بے دریغ استحصال کرکے معیشت کو کمزور چھوڑ دیا گیا۔

نئی پیراڈائز لیکس نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے جس میں دنیا کی نامور شخصیات جیسے ملکۂ برطانیہ، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، ایران کے پارلیمنٹرین، سعودی شاہ سلمان، کنیڈا کے وزیر اعظم کے مشیر وغیرہ کے نام اور چھپے اثاثے ظاہر کئے گئے ہیں۔

یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ ساری دنیا طاغوت کے شکنجے میں آئی ہوئی ہے۔ یہ ماننا پڑے گا کہ یونی پولر امریکہ اب بلا کی حیثیت رکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معروضی حالات کے تناظر میں غیر طبقاتی نظام کی داغ بیل ڈالی جائے اور عالمی استعمار کے پروپیگنڈوں اور جنگوں سے حتی الامکان بچا جائے۔

…………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے