411 total views, 1 views today

کسی ملک کے بادشاہ کے قابل مشیر تھے جن کے صائب مشوروں سے اُس بادشاہ کی حکومت کامیابی سے چل رہی تھی۔ ایک دن دربار میں پھل کاٹتے ہوئے بادشاہ کے ہاتھ کو اچانک زخم لگا، تو ایک مشیر نے الحمد اللہ پڑھا۔ اس پر بادشاہ ناراض ہوگیا۔ وہ سمجھا کہ مشیر اُس کے زخمی ہونے پر خوش ہوا ہے۔ بادشاہ نے الحمد اللہ پڑھنے کی وجہ پوچھی، تو مشیر نے سنجیدگی سے کہا کہ بادشاہ حضور چھوٹی تکالیف بڑی تکالیف سے انسان کو بچاتی ہیں۔ آپ کی یہ چھوٹی تکلیف آپ کو کسی بڑی تکلیف سے بچانے کا اشارہ اور سبب ہے، لیکن بادشاہ کی ناراضگی دور نہ ہوئی اور مشیر کو جیل میں ڈال دیا۔ دوسرے دن بادشاہ شکار کے لیے نکلا اور چند ساتھیوں سمیت جنگل میں راستہ بھول گیا اور بھٹک گیا۔ اچانک وحشی جنگلی لوگوں نے اُن کو آگھیرا۔ بادشاہ کے سب ساتھیوں کو قتل کیا اور بادشاہ کو اپنے ساتھ لے گئے، تاکہ اُسے اپنی دیوی پر قربان کرے۔ بادشاہ نے اُن سے کہا کہ اُسے چھوڑا جائے، تو جنگلیوں نے اُس کو بتایا کہ آج ہماری دیوی کے لیے قربانی کا دن ہے اور اس کے لیے ہم کسی اجنبی کو ذبح کرتے ہیں۔ تم جو بھی ہو بادشاہ ہو یا مسافر، ہم نے تم کو قربان کرنا ہے۔ یہ کہہ کر جب انہوں نے بادشاہ کے کپڑے اتارنا شروع کئے، تو اُس کے ہاتھ کو زخمی پایا اور فوراً رُک گئے اور بادشاہ کو کپڑے واپس پہنا کر یہ کہتے ہوئے چھوڑا کہ ہم کسی داغدار شخص کی قربانی نہیں دیتے۔ یوں بادشاہ بچ گیا۔ گھر آتے ہوئے اُسے اپنے مشیر کی بات یاد آگئی۔ دربار میں پہنچ کر اُس نے مشیر کو اپنے سامنے پیش کروا کر پوچھا کہ تیرے کہنے کے مطابق مجھے اس زخم کی وجہ سے زندگی ملی، لیکن تمہیں اس قید کی تکلیف سے کیا فائدہ ہوا؟ تو مشیر نے جواب دیا کہ حضور مجھے بھی اس معمولی تکلیف سے نئی زندگی ملی۔ اگر آپ مجھے جیل میں نہ ڈالتے، تو میں شکار میں آپ کے ساتھ ہوتا اور جنگلی لوگ آپ کے ساتھیوں کے ساتھ مجھے بھی مار ڈالتے، لیکن جیل میں بند ہونے کی وجہ سے میں بھی بچ گیا۔
خیر، یہ تو ایک عمدہ کہانی ہے لیکن اس کو اگر روحانی نکتۂ نظر سے سامنے رکھا جائے، تو اس سے انسان کو کافی راحت ملتی ہے۔ ہم اسلام پر ایمان کے دعویدار ہیں لیکن ہم نے اسلام کے دونوں حصوں کی تعلیمات اور احکامات کو بھلادیا ہے، جس میں ایک دنیاوی (مادی) معاملات سے متعلق ہیں اور دوسری تعلیمات روحانی معاملات سے متعلق ہیں۔ پاکستان میں ہماری تعلیم و تربیت کا معیار ناقص ترین ہے، جس کی وجہ سے ہم دونوں یعنی مادی اور روحانی معاملات میں ناکامی کا سامنا کرتے ہیں۔
قرآن کے غیر روایتی طریقے سے مطالعہ کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تعلیمات کا ایک بڑا حصہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی نفسیات (روحانی) کو ٹچ کرتا ہے۔ صبر، عدل اور رب الکریم کی ذات پر مستحکم یقین، توکل، توبہ، سچ اور سچائی، احسان اور تعاون، نفقہ، خیرات، صدقات اور زکوٰۃ برائی کے سامنے ڈٹ جانا اور اُسے ختم کرنا (جہاد) اس مقصد میں نقصانات اٹھانا (قربانی)، نیکی کرنا اور بھلائی کو پھیلانا، روزِ قیامت ذرے ذرے کے حساب و کتاب اور جزا و سزا پر یقین کرنا وغیرہ یہ سب روح کی پاکیزگی کی باتیں اور اعمال ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے ایسے ماحول اور طور طریقوں کو اپنے ارد گرد پیدا کیا ہے جن سے ہمارے روحانی خواص ختم اور ہمارے حیوانی خواص ابھر کر آگئے ہیں۔ اور حیوانی خواص ہر مسئلے کا حل پیش نہیں کرتے۔ برسبیل تذکرہ، یہاں مولانا ابوالکلام آزاد صدر جمعیت العلمائے ہند، مشہور مصنف اور مفسر قرآن و صدرِ مملکت جمہوریہ ہند کے پُرحکمت فقرے نقل کرتا ہوں: ’’مذہب کے دکانداروں نے جہل و تقلید اور تعصب و ہوا پرستی کا نام مذہب رکھا ہے اور روشن خیالی و تحقیقِ جدید کے عقل فروشوں نے اتحاد کو حکمت و اجتہاد کے لباسِ فریب سے سنوارا ہے۔ نہ مدرسہ میں علم ہے، نہ محراب و مسجد میں اخلاص، نہ میکدہ میں رندانِ بے ریا۔ اربابانِ صدق و صفا ان سب سے الگ ہیں اور سب سے پناہ مانگتے ہیں۔ ان کی راہ دوسری ہے۔‘‘ (حوالہ: صفحہ نمبر 35کتاب ’’مولانا ابوالکلام آزاد نے پاکستان کے بارے میں کیا کہا‘‘مرتب، احمد حسین کمال، ناشر یہ مکتبہ جمال حسن مارکیٹ اردو بازار لاہور)۔




قرآن کے غیر روایتی طریقے سے مطالعہ کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تعلیمات کا ایک بڑا حصہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی نفسیات (روحانی) کو ٹچ کرتا ہے۔ صبر، عدل اور رب الکریم کی ذات پر مستحکم یقین، توکل، توبہ، سچ اور سچائی، احسان اور تعاون، نفقہ، خیرات، صدقات اور زکوٰۃ برائی کے سامنے ڈٹ جانا اور اُسے ختم کرنا (جہاد) اس مقصد میں نقصانات اٹھانا (قربانی)، نیکی کرنا اور بھلائی کو پھیلانا، روزِ قیامت ذرے ذرے کے حساب و کتاب اور جزا و سزا پر یقین کرنا وغیرہ یہ سب روح کی پاکیزگی کی باتیں اور اعمال ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے ایسے ماحول اور طور طریقوں کو اپنے ارد گرد پیدا کیا ہے جن سے ہمارے روحانی خواص ختم اور ہمارے حیوانی خواص ابھر کر آگئے ہیں۔ اور حیوانی خواص ہر مسئلے کا حل پیش نہیں کرتے۔

پاکستانیوں میں سے اہلِ نظر نے سن 1965ء کی جنگ میں بہت کچھ دیکھا تھا۔ یہ اُس وقت کے اخبارات و رسائل میں شائع ہوئے تھے۔ 1971ء کی جنگ میں بہت کچھ دیکھا۔ عوام کے اقتدار نے بہت سارے سبق سکھائے۔ تحریک طالبان اور پرویزی شبخوں نے بہت کچھ واضح کردیا۔ تمام سیاسی لیڈران صاحبان، تمام سیاست پسند علمائے کرام، تمام تبلیغی حضرات آئیں، ذرا رب کریم کی طرف! آئیں، اُس عظیم رب کے دامنِ رحمت کو پکڑتے ہیں جو ایک اچھے مسلمان اور ایک مکمل بت پرست سب کو کھلاتا اور پلاتا ہے۔ آئیں، اُس رحیم ذات کی طرف جو چھوٹے چھوٹے تھپڑوں کے ذریعے ہم سب کو بڑی تباہیوں سے بچاتا ہے۔ نواز شریف، زرداری اور دوسرے ’’مالدارانِ وطن‘‘ آپ کو خدا نے بہت کچھ دیا ہے اور آپ کو اس قوم کی رکھوالی بھی سونپتا رہتا ہے۔ اُس ماں اور باپ کا سوچیں جن کی گود میں اُن کا بچہ دوا نہ ملنے کی وجہ سے تڑپتا ہے۔ اُس مسائل کا سوچیں، جس کا جائزہ کام بھی بغیر رشوت کے نہیں ہوتا۔ اُس مرتشی کا سوچیں، جو اپنے ہر ناجائز کام کو رشوت دے کر کرواتا ہے۔
میرے تاجر ہم وطنو، جو اپنے منافع کے لیے خلاف شرع و قانون کام کرتے ہو، سوچو! ایک اور دنیا بھی ہے جس کا نام ہے روحانی دنیا۔ اُس میں کامیابی صرف نیکی سے ملتی ہے۔ خدا کے چھوٹے چھوٹے تھپڑ بڑی مصیبتوں سے بچاتے ہیں، تم بھی خدا کے ساتھی بنو۔ شیطان کا راستہ چھوڑدو، رحمان کا راستہ اپنا کر رحم کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔




تبصرہ کیجئے