39 total views, 1 views today

دنیا بھر میں پھیلنے والا کورونا وائرس (Covid 19) خوف کی علامت بن کر رواں برس بھی چھایا رہا۔ 2019ء سے ظہور پانے والے کورونا وائرس نے عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ تمام ممالک کے اقتصادی اور سماجی ستونوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔
2021ء ختم ہوا لیکن کورونا وبا کی نت نئی اقسام، اشکال بدل کر بدستور چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ اس سے بچاؤ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ویکسین کم ترین مدت میں بنا لی گئی، تاہم اس کے باوجود کورونا کا پھیلاؤ کسی نہ کسی طور بے احتیاطی کے باعث دردِ سر بنا ہوا ہے۔
کورونا کا شکار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 2 ارب 83 کروڑ 23 لاکھ 7912 سے زائد ہوچکی…… جب کہ زندگی کی بازی ہارنے والے افراد کی تعداد 5 کروڑ 43 لاکھ 1 ہزار 448 (تادمِ تحریر) سے زائد ہے۔ 2 ارب 51 کروڑ 91 لاکھ 6 ہزار 91 سے زاید افراد کورونا کے وار سے کسی نہ کسی طرح بچے رہے۔
اب تک کی دستیاب معلومات کے مطابق امریکہ 5 کروڑ 41 لاکھ 48 ہزار 5 سو 44 سے زایدکیسوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ امریکہ میں کورونا 8 لاکھ 42 ہزار 161 افراد کونگل چکا۔ امریکہ کی کل آبادی 33 کروڑ 38 لاکھ 92 ہزار کے قریب ہے۔
بھارت نے اس عالمی وبا میں 34 کروڑ 80 لاکھ 8 ہزار 886 سے زاید کیسوں کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی۔ بھارت میں 4 لاکھ 8 ہزار 592 سے زائد انسانی جانیں کرونا وبا کی بھینٹ چڑھ چکیں۔ بھارت کی مجموعی آبادی 1400 کروڑ کے قریب ہے۔
پاکستان کی مجموعی آبادی 22 کروڑ 72 لاکھ 70 ہزار 644 ہے۔ اس وقت کورونا وبا سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں 12 لاکھ 9 4 ہزار 379 سے زاید کیسوں کے ساتھ 36ویں نمبر پر ہے…… جب کہ 28 ہزار 918 سے زاید انسان اپنی جانوں سے محروم ہوچکے ہیں۔
کورونا وائرس 2021ء کے اختتام تک بے پناہ نقصان پہنچا چکا۔ بالخصوص لاک ڈاؤن نے انسان کی سماجی زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ اب نئے پھیلنے والے ’’اومیکرون وائرس‘‘ (Omicron) نے خوف و ہراس پیدا کر رکھا ہے۔ بقولِ منیر نیازی
اِک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
مَیں ایک دریا کے پار اُترا، تو مَیں نے دیکھا
’’کوویڈ 19‘‘ نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا بھر کے سماجی نظام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ سماجی پابندیوں نے بدترین نفسیاتی مسائل کو جنم دیا، تو دوسری طرف معاشی طور پر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک پر کاری ضرب لگائی۔ مہنگائی کے طوفان نے دنیا کی مضبوط معیشتوں میں ریکارڈ قائم کیے اور اشیائے ضروریہ کی کم یابی اور پہنچ کی دوری کے باعث بحرانوں نے جنم لیا۔
خیال رہے کہ جنوبی افریقہ کے شہر جبرگ کی لیبارٹری لینسٹ میں کورونا وائرس کی نئی قسم ’’اومیکرون‘‘دریافت ہوا اور برطانیہ میں فروغ پانے کے بعد اب تیزی سے دنیا کے پہلے سے متاثرہ ممالک میں پھیلتا جا رہا ہے۔
اومیکرون پاکستان میں بھی برطانیہ سے آنے والوں کی بے احتیاطی کی وجہ سے داخل ہوچکا ہے۔ جب کہ بھارت سمیت یورپ، برطانیہ اور امریکہ میں تیزی سے جڑ پکڑنے لگا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ’’ٹیڈروس ایڈہانوم گیبرائسیس‘‘ کا کہنا ہے کہ ’’عالمی سطح پر ہمیں کم ویکسین شدہ افراد اور کم ٹیسٹوں کے خطرناک ملاپ کا سامنا ہے…… جو کہ نئے ’’ویرینٹس‘‘ کے پیدا ہونے کے لیے موافق ماحول ہے۔‘‘
’’گیبرائسیس‘‘ کے مطابق اب قریب تمام کیس ڈیلٹا ویرینٹ کے ہیں۔’’ہمیں ڈیلٹا کے پھیلاؤ اور اس سے انسانی زندگیوں کو بچانے کے لیے تمام وسائل کو استعمال کرنا ہوگا اور اگر ہم نے ایسا کرلیا، تو ہم اومیکرون کے پھیلاؤ کو بھی روک پائیں گے۔‘‘
ڈبلیو ایچ اُو کے مطابق اومیکرون کی تشخیص اور اس کا تیزی سے پھیلاؤ یہ ضرور ثابت کرتا ہے کہ دو سال سے کورونا وبا سے جاری جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
کورونا وبا نے اقتصادی طور پر مضبوط حکومتوں کو بھی ناکوں چنے چبوا دیے۔ برطانیہ میں مہنگائی کا گذشتہ 10 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ سال کے دوران میں گیس کی قیمتوں میں 28.1 فیصد اور بجلی کے نرخ میں 18.8 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا۔ اس طرح پیٹرول کی قیمتوں میں 25.4 پنس فی لیٹر کا اضافہ ہوا جس سے پیٹرول کی قیمت138.6 پنس فی لیٹر تک پہنچی۔
’’کیپٹل اکنامکس‘‘ کے چیف اکانومسٹ ’’پال ڈیلس‘‘ کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ ’’بینک آف انگلینڈ‘‘ دسمبر میں سود کی شرح میں 0.1 فیصد سے 0.25 فیصد تک اضافہ کردے گا۔ اس کے بعد فروری میں یہ شرح 0.5 فیصد اور اگلے سال کے آخر تک 1 تا 1.25 فیصد تک کردی جائے گی۔ بریگزٹ اور عالمی وبا کورونا وائرس کے بعد سپلائی چین کے بحران نے برطانیہ کو جہاں افرادی قوت کی کمی جیسے سنگین مسائل کی دلدل میں دھکیلا، وہیں مہنگائی کی شرح ایک دہائی میں سب سے بلند ترین شرح پر پہنچی اور زندگی کے اخراجات میں 4.2 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکہ میں افراطِ زر کی شرح 30 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچی۔ بعض ماہرینِ اقتصادیات نے متنبہ کیا ہے کہ اسے اجرتوں میں شامل ہونے کی اجازت دینا ایک ایسا سرپل پیدا کرسکتا ہے جو 1970ء کی دہائی سے برطانیہ میں نہیں دیکھا گیا تھا۔ ستمبر 2021ء تک سال میں 11.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 2021ء میں برطانیہ کے کارخانوں کے ذریعہ تیار کردہ سامان کی قیمتوں میں سال میں 8 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ سال میں 7 فیصد اضافے سے زیادہ ہے۔
’’کوویڈ 19‘‘ کے اثرات نے جاپانیوں کو بھی نہیں چھوڑا اور جاپان کو 40 برس بعد ایک بدترین مہنگائی کا سامنا ہوا۔ ’’بنک آف جاپان‘‘ کے حکام کے مطابق پروڈیوس پرائس اشاریے میں چالیس سال سے زاید عرصے میں سب سے بڑا اضافہ ہوا۔ حکام اس کی وجہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کو قرار دیتے ہیں۔ مرکزی بینک کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کے درمیان اشیا کی لین دین کی لاگت گذشتہ سال کے مقابلے میں 8 فیصد بڑھی۔ یہ جنوری 1981ء کے بعد سب سے بڑا اضافہ رہا۔ مذکورہ اِشاریہ مسلسل کئی مہینوں سے بلند ہے۔ بینک آف جاپان کا کہنا تھا کہ خام تیل کی پہلے سے زیادہ قیمتوں کی وجہ سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں زیادہ مہنگی ہو ئیں۔
سال 2021ء کے آغاز ترک کرنسی لیرا ڈالر کے مقابلے میں اپنی 23 فیصد قدر کھوگ ئی جب کہ سالانہ افراطِ زر کی شرح تقریباً 20 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ شرح حکومتی ہدف سے چار گنا زیادہ بنتی ہے۔ ترک باشندوں نے لیرا کو غیر ملکی کرنسیوں اور سونے میں تبدیل کرنا شروع کردیا، تاکہ گرتی قدر سے اپنی بچت کو نقصان سے بچایا جاسکے۔ لیرا کی قدر کم ہونے کے سبب ملک میں مہنگائی زیادہ سے زیادہ ہوتی گئی۔ اقتصادی ماہرین موجودہ مالیاتی پالیسیاں خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ ترکی کو اپنے ہاں صرف اقتصادی صورتِ حال میں ابتری ہی کا سامنا نہیں…… بلکہ اشیائے صرف کی قیمتیں بھی مسلسل زیادہ ہوتی جا رہی ہیں۔ عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر ایردوآن کے لیے ملک میں افراطِ زر کی بہت اونچی شرح سیاسی طور پر بہت خطرناک ہو سکتی ہے۔
عالمی وبا کے سبب ’’سپلائی چین‘‘ متاثر ہونے اور صنعتی پیداوار میں کمی سے امریکہ میں بھی مہنگائی کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ مہنگائی عروج پر ہونے کی خبروں پر امریکی منڈیوں میں مندی دیکھی گئی۔ تیل، گاڑیوں اور مکانات کی قیمتیں 30 سال کی بلند ترین سطح پر گئیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے تسلیم کیا کہ اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ڈاؤجونز میں 0.7، ایس اینڈ پی میں 0.8 اور نیسڈیک انڈیکس میں 1.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
جائزہ رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں امریکہ میں مہنگائی قابو میں تھی، لیکن ’’سپلائی چین‘‘ متاثر ہونے سے دنیا بھر میں قیمتوں پر فرق پڑا۔ امریکہ میں مہنگائی کی شرح 6.2 فیصد تک پہنچی جو کہ 1990ء کے بعد سب سے بلند ترین شرح ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں دسمبر 1990ء کے بعد پہلی بار 30 سالہ تاریخ میں مہنگائی میں اتنا اضافہ ہوا کہ جب جارج بش کے دورِ حکومت امریکہ عراق اور خلیجی ممالک کے ساتھ جنگوں میں مشغول تھا، اس وقت بھی اتنی مہنگائی نہیں تھی۔ مہنگائی کی شرح میں بہ تدریج اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ گھریلو اشیا کی قیمتوں میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا۔ امریکہ کے محکمہ برائے افرادی قوت کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 5.9 فیصد تک پہنچی۔ مختلف اشیا کی قیمتوں میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا۔ جون میں کورونا پابندیاں ختم ہونے کے باوجود ملک بھر میں مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھی۔ امریکہ میں توانائی کی قیمتوں میں 4.6 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد اگست 1991ء کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔
کرونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون ویرینٹ کے ممکنہ پھیلاؤ نے کرسمس اور سالِ نو کی تقریبات پر بھی اثر ڈالنا شروع کردیا۔ ’’لاک ڈاؤن‘‘ کی خبروں کی وجہ سے کوونا وبا کے باعث شدید نقصان سے دوچار صنعتوں میں خوف پھیلا۔ کورونا کی نئی قسم اومیکرون کے یورپ، امریکہ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں تیزی سے پھیلاؤ کے بعد حکومتوں نے جہاں ایک مرتبہ پھر سخت اقدامات لینا شروع کیے، وہاں عوام پر کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ جرمنی، سکاٹ لینڈ، آیرلینڈ، نیدرلینڈز اور جنوبی کوریا کا شمار ان ممالک میں ہے جنہوں نے جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا اور پھر سماجی فاصلہ رکھنے کی احتیاطی تدابیر کے احکامات جاری کر دیے۔ خیال رہے کہ پہلے ہی کورونا وبا سے متاثرہ سیاحت، ہوا بازی، ہوٹلنگ اور چھوٹے بڑے بازاروں کے دوکان دار اور فیشن انڈسٹری کے ساتھ فلمی صنعت اور تعلیمی اداروں سے وابستہ کروڑوں لوگوں کو ایک بار پھر معاشی پابندیاں، روزگار اور سرمایہ میں نقصان کے خدشات پریشان کر رہے ہیں۔
عالمی کورونا وبا کے مضمرات سے دنیا سنبھل نہیں پائی اور ترقی یافتہ ممالک سمیت غریب حکومتیں اپنے عوام کو ریلیف دینے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کورونا وائرس کے خلاف تیار کردہ ویکسین بھی اب تک دنیا بھر میں ہدف کے مطابق نہیں لگائی جاسکی کہ اب متعدد ممالک ویکسین کی دوسری خوراک اور ’’بوسٹر شاٹ‘‘ کے درمیان وقت کم کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ بالخصوص موسمِ سرما میں یورپ میں تبدیل ہونے والے کورونا وائرس ’’اومیکورون‘ کی شدید لپیٹ میں ہے، جہاں اس وائرس کا تناسب 90 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اسی حوالے سے یورپ پر اومیکرون کے مہیب سائے منڈلارہے ہیں۔ یورپی ممالک میں اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیسوں کی وجہ سے وہاں احتیاطی تدابیر پرعمل شروع ہوا بعض سماجی و تفریحی سرگرمیاں بھی معطل ہونا شروع ہوچکیں اور کرسمس کے بعد اس میں مزید شدت لانے کا امکان ہے۔
پاکستان میں کورونا وبا سے دنیا کے دیگر اور بالخصوص پڑوسی ممالک ایران اور بھارت کی طرح اس طرح متاثر نہیں ہوا…… لیکن کورونا کے کم دباؤ کے باوجود صورتِ حال تسلی بخش نہیں۔ ا سمارٹ لاک ڈاؤن ہو یا کسی بھی شکل میں وبا پر قابوپانے کی کوشش…… اس میں عام عوام کی بڑی تعداد خطِ غربت سے نیچے جاچکی۔ لاکھوں لوگ بے روزگار اور ہزاروں چھوٹے بڑے کاروباری طبقے بری طرح متاثر ہوئے۔ جہاں کتوں کے کاٹنے کی ویکسین ملنا جوئے شیر لانے کے مترداف ہو، وہاں کسی بھی وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی اقدامات تنقید کی زد میں رہے۔ سرکاری اسپتالوں میں کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات عدم تحفظ کا شکار رہے۔ مریضوں کو ناکافی سہولیات کی عدم فراہمی اور بدترین صورتِ حال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کورونا وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے ویکسین مہم عوامی عدم تعاون کا شکار نظر آئی۔ ویکسی نشین پروگرام کا حشر بھی پولیو مہم سے مختلف نہیں کہ ریاست کی تمام تر کوششوں کے باوجود عوام کی طرف سے عدم تعاون دیکھنے میں آیا۔ اسی طرح اومیکرون جیسی خطرناک وبا اگر پاکستان میں پھیلنا شروع ہوگئی، تو اس کے بھیانک نتائج آنا شروع ہوجائیں گے، جس پر قابو پا نا مزید مشکلات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ 2021ء کے آخر تک تمام اہل بالغوں کو مکمل طور پر ویکسین دینا ضروری ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ اُو) کے مطابق کہ غریب ممالک کو ضرورت کے مطابق ویکسین نہ ملنے کی وجہ سے وبا کم از کم مزید ایک سال جاری رہے گی۔ ڈبلیو ایچ اُو کے سینئر اہلکار ڈاکٹر بروس ایلوارڈ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ کووڈ کا بحران ’’آسانی سے 2022ء کے آخر تک جا سکتا ہے۔‘‘ اس وقت دنیا بھر میں اوسطاً ہر 100 افراد کو مجموعی طور پر 52 ویکسین لگائی جا رہی ہیں۔
پاکستان اس وقت بدترین معاشی دشواریوں اور براہِ راست سیاسی عدم استحکام میں الجھا ہوا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کا سلسلہ جاری ہے۔ سماجی فاصلے اور کرونا سے بچاؤ کی تدابیر اختیار نہ کرنے سے اومیکرون کے تیزی سے پھیلاؤ کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان حالات میں عام انتخابات جس طرح عوام کے سیاسی معاملات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، تو طبی طور پر مشکلات میں اضافہ خوف ناک ثابت ہوسکتا ہے۔ سیاسی حالات ملک میں ساز گار نہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی صورتِ حال پر کئی بار بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے ہو تے رہتے ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج کی منصوبہ بندیاں بھی سامنے آچکی ہیں۔ ان حالات میں اومیکرون سے بچاؤ کے لیے حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہر لحاظ سے بڑھ جاتی ہے۔ حکومت اپنی تمام تر مشکلات و عالمی قوتوں کی مداخلت کے سبب داخلی حالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہی ہے، تاہم کورونا وائرس کی وبا نے جس طرح ترقی یافتہ اور محفوظ ترین قرار دیے جانے والے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ اگر اس بار اومیکرون نے پنجے گاڑ دیے، تو حالات کو قابو کرنا مشکل ترین ہوجائے گا۔ پاکستان کو اپنی سرحدوں کی نگرانی سمیت قانونی و غیر قانونی آمد ورفت کو سختی سے مانیٹر کرنا ہوگا۔ سہل پسندی کے نتایج قیامت خیز ہوسکتے ہیں۔ کچھ فضائی و زمینی راستے سے آنے والوں میں کورونا کی بروقت تشخیص نہ کرنے کی وجہ سے وبا نے زور پکڑا تھا۔ اس لیے ملک میں آمد ورفت کی گزرگاہوں پر سخت نگرانی سب کے لیے بھی بہتر ہوگا۔ مذہبی مقامات پر زائرین کی نقل وحرکت، افغانستان سے مہاجرین کی آمد میں عالمی اصولوں کے مطابق پیش بندیاں انتہائی ضروری ہیں، تاکہ انسانی غفلت کی وجہ سے کسی ناگہانی وبا سے بچا جا سکے۔
پاکستان صحتِ عامہ کی سہولیات میں خود کفیل نہیں۔ اہم ادویہ بیرونِ ملک سے منگوانا پڑتی ہیں۔ حفاظتی ماسک اور اہم ادویہ ابھی سے بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو تی رہی ہیں۔ لہٰذا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ کسی مصلحت و بے پروائی کے سبب بڑی آفت سے محفوظ رکھنے کے لیے پاکستان احتیاطی تدابیر اختیار کرے۔ کم زور معیشت میں دنیا کو درکار اہم ضروریات پوری کرنے کے لیے حتمی اہداف کا تعین اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ مضبوط ترقی یافتہ ممالک کو ’’چین سپلائی سسٹم‘‘ میں دقت کا سامنا ہے، جسے حکومت سفارتی چینلوں کو استعمال کرکے وبا کے مضر اثرات سے بچاؤ کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔