1,734 total views, 1 views today

دوپہر کے وقت نمازِ ظہر ادا کرنے کی غرض سے میں گھر سے نکلا۔ مسجد پہنچا، تو چچا نے چابی دے کر تالا کھولنے کو کہا۔ قدرتی طور پر چچا کے غصیلے انداز سے خائف بھی ہوں، تو اسی لئے اُس وقت گھبراہٹ کی وجہ سے تالا کھل نہیں رہا تھا۔ یک دم میرے ہاتھ سے چابی لے کر ’’تم کیا خاک وکیل بنو گے؟‘‘ والے فقرے کی سوئی لگائی۔
خیر! نماز ادا کی، میں یہ سوچتے سوچتے کہ ’’تالا کھولنے کا وکالت سے کیا تعلق ہے؟‘‘ گھر پہنچ گیا۔ کھانا کھایا اور کچھ دیر بعد اپنے بڑے بھائی کی دکان پر تشریف لے گیا۔ چوں کہ دیہی علاقوں میں لوگ ’’ڈیجیٹل سکیل‘‘ سے ناآشنا ہوتے ہیں، اسی لئے میں بھی اس کے صحیح استعمال سے قاصرہوں۔ بڑے بھائی نے ایک کلو سجّی تولنے کا حکم دیا۔ پہلے تو سکیل ’’آن‘‘ کرنے کا بٹن کہیں گم ہو گیا تھا۔ تاہم کچھ دیر جدوجہد کے بعد بٹن ہاتھ لگ گیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ کون سا ہندسہ کہاں لکھنا ہے؟ تھوڑی بہت کوشش کے بعد وزن اور قیمت والی جگہوں کو پُر کیا۔ جیسے ہی میں نے ایک کلو سجّی میزان پر رکھی، تو قیمت سیدھا بارہ سو سے تجاوز کرگئی۔ اس موقع پر بڑے بھائی کا رنگ غصّے سے لال پیلا ہو رہا تھا، جبکہ ڈر کے مارے میرا رنگ اُڑ گیا۔ انھوں نے بھی وہی چچا والا فقرہ دہرایا کہ ’’تول نہیں سکتے، تو کیا خاک وکیل بنو گے؟‘‘ میں چونک گیا کہ کہیں یہ دونوں میرے خلاف سازش تو نہیں کر رہے ہیں؟ اک مسئلے میں دوسرا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ قانون کی کتابوں میں تالا کھولنے اور وزن تولنے کا ہنر کہیں بھی موجود نہیں۔ ہاں! تالہ توڑنے اور وزن کم تولنے والوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلانے کا فارمولا ضرور موجود ہے ۔
بہرحال خاموشی کے عالم میں اسی مسئلے پہ سوچ سوچ کر نتیجے تک پہنچا ہی تھا کہ اچانک گاؤں کے سب سے فارغ آدمی نے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے جلتی پر تیل کا کام یوں دیا کہ ’’خاموش کیوں بیٹھے ہو، اگر اسی طرح خاموش رہو گے، تو خاک وکیل بنو گے؟‘‘ اک لمحے کیلئے میں نے سوچا کہ اس کو ایسی کھری کھری سناؤں کہ ہوش ٹھکانے آجائیں، لیکن پھر سے دل پر پتھر رکھا۔ پتا نہیں لوگوں کو کیا ہوگیا ہے؟ وکیل سے ہر کام کی توقع کیوں رکھی جا رہی ہے؟ سبزی خریدتے وقت اگر دس روپے خسارہ ہوگیا،تو اس میں بھی وکالت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ سفید کپڑے پہنو، تو کالے کوٹ کا پوچھتے ہیں۔اور اگر کوٹ بھی پہنو، تو اس کی ورائٹی اور استری کو چیک کیا جاتا ہے۔
دوہزار سترہ میں مکمل کی گئی میری چار سالہ تحقیق اور تجربے کے مطابق لوگ اس شخص کو اچھا وکیل مانتے ہیں جو فرفر انگریزی بولنے کے ساتھ دوسروں کے معاملات میں بلا وجہ ٹانگ اڑانا جانتا ہو۔ گاڑی کے نمبر پلیٹ پہ ایڈووکیٹ لکھ کر بنا پوچھے بولتا رہتا ہو۔ انگریزی کو وکالت سے منسوب کرنے کی تک کم از کم میری سمجھ سے بالاتر ہے۔
بے جا تنقید کسی کو بے موت مارنے کے مترادف ہے۔ خدارا، تعمیری تنقید کیجیے، کسی کو بے موت مارئیے!

…………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری اور نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا لازمی نہیں۔




تبصرہ کیجئے