40 total views, 2 views today

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں انجمن کی حیثیت رکھتے ہیں اور اپنی خداداد صلاحیتوں سے تاریخ کا رُخ موڑنے کا فن جانتے ہیں۔ ان کی قابلیت، ذہانت اور محنت سے دنیا میں نہ صرف خوشحالی، ترقی اور امن کو فروغ ملتا ہے…… بلکہ یہ لوگ تمام دنیا کے انسانوں کا مسیحا سمجھے جاتے ہیں۔ شاعرِ مشرق حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا شمار ایسی ہی عظیم اور عہدساز شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی لازوال شاعری اور دانشمندانہ اقوال کے ذریعے نہ صرف انسانیت کو اس کی حقیقت اہمیت سے آگاہ کیا…… بلکہ خصوصی طور پر عالمِ اسلام کے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے جگا کر دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ جینے کا حوصلہ اور شعور عطا کیا۔
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اپنے عہد کی سیاسی تحریکوں کو ان کے صحیح پس منظر میں سمجھتے تھے۔ سیاست درحقیقت ان کی زندگی کا ایک اہم اور روشن باب ہے، جس کی بدولت انہوں نے قیامِ پاکستان سے 17 برس پیشتر ہی اپنی بصیرت سے مستقبل کے دھندلے نقوش میں ایک آزاد اسلامی مملکت کا نقشہ ابھرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔
شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی شخصیت کے وہ تخلیقی عناصر جنہوں نے اقبال میں ایک مخصوص قسم کی گو نا گو نی رنگا رنگی پیدا کی اوراقبالؒ کو اس کے ہم عصروں سے زیادہ دل آویز، باعثِ کشش اور جاذبِ نظر بنا دیا، اس کاباعث اقبال کی علمی و ادبی اور تعلیمی کوششوں سے زیادہ مذہبی رجحان بنا۔ اور یہی ان کی طاقت و قوت اور حکمت و فراست کا منبع اور سرچشمہ ہے۔
لیکن اقبالؒ کا وہ یقین و ایمان اس خشک جامد ایمان کی طرح نہیں، جو بے جان تصدیق یا محض جامد عقیدہ ہے…… بلکہ اقبالؒ کا ’’یقین‘‘ عقیدہ و محبت کا ایک ایسا حسین امتزاج ہے جو اس کے قلب و وجدان، اس کی عقل وفکر، اس کے ارادہ و تصرف، اس کی دوستی و دشمنی غرض یہ کہ ساری زندگی پرچھایا ہوا تھا۔ آپ نے مسلمانوں کو پیغام دیا کہ تم دنیا کی امامت کے لیے پیدا کیے گئے ہو…… اٹھو اور اپنا فرض ادا کرو……!
سبق پھر پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیاکی امامت کا
دورِ مادیت اور مغربی تہذیب و تمدن کی ظاہری چمک و دمک سے اقبالؒ کی آنکھیں خیرہ نہ ہو سکیں۔ حالاں کہ انہوں نے جلوۂ دانشِ فرنگ میں زندگی کے طویل ایام گزارے۔ اس کی وجہ بھی رسولؐ کے ساتھ اقبال کی والہانہ محبت، جذبۂ عشق اور روحانی وابستگی تھی۔ جب سارا عالم خوابِ غفلت میں پڑا سوتا رہتا…… اس آخیر شب میں اقبالؒ کا اُٹھنا اور اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو جانا، پھر گڑگڑانا اور رونا، یہی وہ چیز تھی جواس کی روح کو ایک نئی نشاط، اس کے قلب کو ایک نئی روشنی اور ایک نئی فکرکی غذا عطا کرتی۔ پھر وہ ہر دن اپنے دوستوں اور پڑھنے والوں کے سامنے ایک نیا شعر پیش کرتے، جو انسانوں کو ایک نئی قوت، ایک نئی روشنی اور ایک نئی زندگی کی راہ دکھاتا…… اور مسلمانوں کو ایک اللہ تعالا کے آگے جھکنے، محمدؐ کی پیروی اور ان سے محبت کرنے، اور قرآنِ پاک کو مضبوطی سے پکڑ کر زندگی کو اس کے مطابق اپنانے کی ضرورت پر زور دیتا۔
آپؒ نے فرمایا:
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
غرض یہ کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی پوری زندگی قرآنِ مجید میں غور و فکر اور تدبر و تفکر کرتے گزاری۔ قرآنِ مجید پڑھتے، قرآنِ مجید سوچتے، قرآنِ مجید ان کی وہ محبوب کتاب تھی جس سے انہیں نئے نئے علوم کا انکشاف ہوتا۔ اس سے انہیں ایک نیا یقین اور ایک نئی قوت و توانائی حاصل ہوتی۔ جوں جوں ان کا مطالعۂ قرآن بڑھتا گیا…… ان کی فکر میں بلندی اور ایمان میں پختگی ہوتی گئی۔ اس لیے کہ قرآن ہی ایک ایسی زندہ جاوید کتاب ہے جو انسان کو لدنی علم اور ابدی سعادت سے بہرہ ور کرتی ہے۔ یہ زندگی کا ایک واضح دستور اور ظلمتوں میں روشنی کا مینار ہے…… جب کہ رسولؐ اللہ کے ساتھ اقبالؒ کی محبت، شغف اور ان کا اخلاص انتہا درجے کا تھا۔ ان کے نزدیک اسلام ہی ایک ایسا دین ہے کہ اس کے بغیر انسانیت فلاح و سعادت کے بامِِ عروج تک پہنچ ہی نہیں سکتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم رشد و ہدایت کے آخری مینار ہیں۔
اقبالؒ فرقہ واریت، ظلم و جبر، استحصال، بے انصافی، اقربا پروری، ذات پات اور جھوٹ و منافقت کے سخت خلاف تھے جب کہ آپ ہر انسان کو آزاد، خوش حال اور تحفظ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ نے مسلمانوں کو بیدار کرکے انہیں بھولا ہوا سبق یاد دلایا اور رسالت مآبؐ کی تعلیمات کو اپنانے پر زور دیا اور خود اس کی عملی تصویر بنے۔
اقبالؒ کا تصورِ شاہین محض ایک شاعرانہ تخیل نہیں بلکہ اس میں اسلامی فقر کی تمام صفات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ طالب علم کو شاہین کا نام دے کر اقبالؒ جہاں اس میں رفعتِ خیال، جذبۂ عمل، وسعت نظری اور جراتِ رندانہ پیداکرنا چاہتے تھے، وہیں جہانِ فکر وعمل میں اپنی دنیا پیدا کر نے کی تلقین کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقبالؒ کو یگانے اور بیگانے سب نے خراج تحسین پیش کیا۔ یگانوں نے مسیحائے ملت حکیم الامت، شاعرِ مشرق اور مصورِ پاکستان کے القابات و اعزازات سے نوازا، تو بیگانوں نے انہیں ’’علامہ اقبال‘‘ اور ’’سر‘‘ کے خطاب ارزانی سے سرفراز فرمایا۔
…………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے