39 total views, 1 views today

1215ء میں کسانوں نے نوابوں اور جاگیردارانہ مظالم کے خلاف احتجاجی دھرنے دیے۔ یورپ میں طاعون کی وبا (بلیک ڈیتھ) کے 3 عشروں بعد 1381ء میں طبقاتی نظام اور کسانوں کے استحصال کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا جسے ہم ’’پیزنٹ ریولٹ‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔
1517ء میں مارٹن لوتھر کنگ نے سیاہ فام لوگوں کے حقوق اور کیتھولک چرچ کی اجارہ داری کے خلاف دھرنے دیے۔
1773ء میں بوسٹن ٹی پارٹی کے نام سے ہونے والے دھرنے نمائندگی کے بغیر ٹیکسوں کی ادائیگی کے خلاف دیے گئے۔
1778ء تا 1799ء میں انقلابِ فرانس، 1812ء میں لیدیٹس احتجاج مزدوروں کے حقوق اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے جنم لینے والی بے روزگاری کے خلاف کیا گیا جس نے بعد میں ’’برطانوی مزدور تحریک‘‘ کی شکل اختیار کرلی۔
1913ء میں سفر ریگیٹس احتجاجی دھرنے خواتین کو ووٹ کا حق دلانے کی خاطر دیے گئے۔
1960ء کی دہائی میں سول رائٹس کے لیے احتجاجی دھرنے دیے گئے۔ اس کے مقاصد میں سیاہ فاموں کو امریکہ میں ووٹ، نوکری اور دیگر بنیادی حقوق کا حصول شامل تھا۔
1964ء اور 1989ء میں جمہوریت کی بحالی کے لیے احتجاجی دھرنے دیے گئے۔
1980ء اور 1990ء کے دوران میں معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے احتجاجی دھرنے دیے گئے۔
سوشل میڈیا کی آمد کے ساتھ 2011ء میں حسنی مبارک کے خلاف احتجاج ہوا اور پھر یہ سلسلہ یوں چل پڑا جس کاماضی میں خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔
پاکستان میں جنرل سکندر مرزا کے دورِ حکومت میں 1956ء تا 1958ء کے دوران میں احتجاجی دھرنے دیے گئے جو 1958ء میں مارشل لا کا سبب بنے۔
1965ء کی جنگ کے بعد مہنگائی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے احتجاجی دھرنے دیے گئے۔
1968ء میں مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ کی وجہ سے یہ تحریک زور پکڑ گئی اور ذوالفقار علی بھٹو بھی اس تحریک کا حصہ بنے۔ 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ’’پاکستان نیشنل الائنس‘‘ نے احتجاج شرو ع کیا۔ اگرچہ بھٹو صاحب معاملات طے کرنے ہی والے تھے مگر جنرل ضیاء الحق نے تختہ الٹ دیا۔
1981ء میں ایک مرتبہ پھر جمہوریت کی بحالی کے لیے تحریک شروع ہوئی جو 1985ء کے جنرل الیکشن کے اعلان کے ساتھ ختم ہوگئی۔
1992ء میں محترمہ بینظیر بھٹو نے نوازشریف حکومت کی الیکشن میں دھاندلی کے خلاف تحریک چلائی۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک بار پھر احتجاج کیا جس کے نتیجے میں جنرل کاکڑ نے نواز شریف صاحب کو استعفا دینے پر مجبور کیا۔
2008ء میں جنرل مشرف نے ججوں کو برطرف کر دیا، تو ججوں اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک حتجاجی تحریک شروع ہوئی۔
2013ء میں ہزارہ برادی نے کوئٹہ بم دھماکے کے شہدا کی لاشیں رکھ کر احتجاجی دھرنا دیا۔
2013ء اور 14ء میں گم شدہ افراد کے حق میں احتجاجی دھرنے دیے گئے۔ اس طرح 2013ء اور14ء کو دھرنوں کا سال ہی کہا جاسکتا ہے۔ اس عرصے میں پاکستان عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہر القادری نے ماڈل ٹاؤن سانحہ اور آئینی ترمیمات کے لیے دھرنا دیا۔ پی ٹی آئی نے الیکشن میں دھاندلی اور کرپشن کے خلاف ایک بڑا اور لمبا دھرنا دیا۔ پی ٹی آئی کے حکومت میں آنے کے بعد یہ سلسلہ یوں چلتا رہا، اور دیگر سیاسی پارٹیوں نے الیکشن دھاندلی کے الزامات لگا کر دھرنے دینا شروع کر دیے۔
مولانا خادم حسین رضوی صاحب نے ختمِ نبوت کے لیے دو سے زیادہ مرتبہ اسلام آباد میں دھرنے دیے۔
سیاسی پارٹیوں نے پی ڈی ایم کے نام سے مشترکہ محاذ بنا کر ملک بھر میں احتجاجی دھرنے اور جلسوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ہزارہ برادری نے دوسری بارلاشیں رکھ کر دھرنا دیا جو کے مطالبات تسلیم ہونے پر ختم کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ بے شمار چھوٹے دھرنے بھی ہوتے رہے اور ابھی کچھ مقامات پر ہو بھی رہے ہیں۔
اب تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے گذشتہ کچھ دنوں سے پھر مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔ مختلف مقامات پر افسوس ناک واقعات بھی پیش آئے جن کا اِزالہ کر نا ناممکن ہے۔ پُرامن احتجاج کے لیے جگہ فراہم کرنے کا اعلان کرنے والی پی ٹی آئی اب کنٹینر لگانے، خندقیں کھودنے اور رینجر بلانے پر مجبور ہو چکی ہے۔ نیٹ ورک اور سڑکوں کی بندش کی وجہ سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کورونا کی وجہ سے تعلیمی ادارے پہلے ہی بہت متاثر ہو چکے ہیں۔ اب اس احتجاج کے نام پر تعلیم اداروں کی بندش سمجھ سے باہر ہے۔ پاکستان میں ہر دھرنا عام آدمی کی بہتری کے نام پر دیا جاتا ہے، مگر اپنی جیبیں گرم کرنے کے بعد معاہدے ہو جاتے ہیں اور عام آدمی جوں کا توں روتا پیٹتا رہ جاتا ہے۔ مذہبی جماعتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور مذہب کے نام پر عوام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا دونوں کو کسی بھی لحاظ سے درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تمام پارٹیاں اپنے مفادات کے لیے مارچ کرتیں، دھرنے دیتیں اور احتجاج کرتی ہیں…… ملک اور عوام کی خاطر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ محکمۂ صحت اپنی تنخواہیں بڑھانے، الاونس بڑھانے اوردیگر مراعات کے لیے دھرنے دیتا ہے مگر ہسپتال بنانے، ہسپتالوں میں بہتری لانے، مریضوں کے لیے سہولیات کی فراہمی کے لیے دھرنے نہیں دیتا۔
محکمۂ بلدیہ دھرنے دیتا ہے، تو اپنی تنخواہوں کے لیے دیتا ہے۔ ملک میں صفائی کا نظام بہتر بنانے کے لیے نہیں دیتا۔
واپڈا ملازمین اپنی نوکریاں پکی کروانے، تنخواہیں بڑھانے، الاؤنس لینے اور دیگر سہولیات کے لیے دھرنے دیتے ہیں، مگر بجلی کی کمی پوری کرنے، بجلی کا نظام درست کروانے، لوڈ شیڈنگ ختم کرنے، نئے ڈیم بنوانے، بلوں میں غلطیوں کا ازالہ کرنے کے لیے تو کبھی دھرنے نہیں دیے۔
واسا والے بھی ذاتی مفادات کے لیے دھرنے دیتے ہیں مگر ملکی اور قومی مفادات کے لیے کبھی گھر سے باہر نکلنا گوارا نہیں کیا۔
اساتذہ اپنی تنخواہیں بڑھانے، سکیل اَپ گریڈ کروانے، مراعات، سہولیات اور الاؤنس کے لیے دھرنے دیتے ہیں۔ انہوں نے کبھی نظامِ تعلیم میں بہتری، اساتذہ کی کمی پوری کرنے، سکولوں میں سہولیات کی فراہمی، آبادی کے تناسب سے سکولوں کی تعمیر کے لیے، سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ سکولوں کے مقابلے میں لانے، طریقہ تدریس میں بہتری لانے اور حاضری کویقینی بنانے کے لیے کبھی دھرنا نہیں دیا۔ یہ سب ذاتی اور مفاداتی دھرنے ہیں۔
سیاست دانوں نے دوسری حکومت ڈھانے اور اپنی حکومت لانے کے لیے دھرنے بھی دیے ہیں، احتجاج بھی کیے ہیں…… مگر عوام کی بہتری کے لیے صرف ’’لولی پاپ‘‘ ہی انہیں تھمایا ہے۔ عوامی نام پر دیے جانے والے دھرنے بھی ذاتی مفادات کے لیے ہوتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں نے مہنگائی، ناانصافی، بے روزگاری، بدامنی، دہشت گردی، ناخواندگی او ر صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف نہ تو کبھی اتحاد بنایا اور نہ دھرنے دیے۔ ہم لاقانونیت کے خلاف دھرنے کیوں نہیں دیتے؟ ہم ظلم و جبر کے خلاف دھرنے کیوں نہیں دیتے؟ ہم بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف دھرنے کیوں نہیں دیتے؟ کیوں کہ یہ عوام کا مسئلہ ہے۔ مراعات یافتہ طبقہ جو موروثی سیاست کے ذریعے عوام پر مسلط ہے یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ نسل در نسل حکمرانی کرنے والے تو مہنگائی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ امیروں کے کتے موج کر تے ہیں جب کے غریب کی دہلیز پربھوک و افلاس کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ جنہوں نے کبھی بھوک دیکھی ہی نہیں، وہ بھوکوں کا غم کیسے سمجھیں گے؟ جنہوں نے کبھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر ہی نہیں کیا، وہ عوام کی سفری مشکلات کو کیسے سمجھ سکتے! جنہوں نے کبھی زندگی میں خود سبزی یا فروٹ منڈی جا کرخریداری نہیں کی، ان کو مہنگائی کا کیسے علم ہوگا! جنہوں نے کبھی مزدور کی طرح دیہاڑی لگائی ہی نہیں، وہ مزدور کے مسائل کو کیسے سمجھ سکتے! عوامی ٹیکسوں سے بنے ذاتی محلات میں رہنے والے کرائے کے مکانوں میں گزارہ کرنے والوں، بے گھر جھگیوں میں بسنے والوں اور بے آسرا فٹ پاتھوں پر سونے والوں کے مسائل کو کیسے سمجھ سکتے ہیں! یہ سب غریب، بے بس، مظلوم عوام، ملک و قوم، مذہب و برابری کے نام پر دھرنے دیتے، اپنی جیبیں بھرتے، مراعات لیتے، الاونس میں اضافہ کرواتے، سکیل اپ گریڈ کرواتے اور پھر رفو چکر ہو جاتے۔
پاکستان میں دھرنا مافیا ایک ہتھیار بن چکا ہے، اگر اسے بروقت نہ روکا گیا…… تو ملک ان دھرنا پرستوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتا رہے گا، اور یہ دھرنا پرست مافیا محض اپنے مفادات کے لیے دھرنے دیتا ملکی یا قومی مفاد سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے