86 total views, 2 views today

یوں تو سال میں دو عیدیں ہوتی ہیں، مگر ہم ٹریکرز کی ایک تیسری عید "Annual Trekkers Meet up” بھی ہوتی ہے۔
قارئینِ کرام! ہم پہاڑوں سے عشق کرنے والوں کی برادری بھی بڑی عجیب ہے۔ اس نفسا نفسی کے دور میں ایک دوسرے پر جان چھڑکتے ہیں۔ ہمیشہ ہماری ایک عام سی دعوت پر ڈاکٹر شاہد اقبال بورے والا ’’لاؤ لشکر‘‘ کے ساتھ بورے والا سے سوات پہنچ جاتے ہیں۔ مگر اب کی بار جب ان کی کال پر ہم نے چیئرمین ایس پی ایس ٹریکنگ کلب کی اجازت سے بورے والا کے لیے رختِ سفر باندھاا ور خدا خدا کرکے جب وہاں پہنچے، تو احساس ہوا کہ 689.3 کلومیٹر یعنی (تقریباً) 9 گھنٹے کی مسلسل مسافت جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ اس سے بورے والا ٹریکرز کی سوات سے محبت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
٭ ’’ٹریکرز میٹ اَپ‘‘ (Trekkers Meet up) کیا ہے؟
پچھلے 11 سالوں سے تقریباً ہر سال قومی سطح پر ایک پروگرام کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں ملک کے کونے کونے سے وہ ٹریکرز (خواتین و حضرات) شرکت کرتے ہیں جنہوں نے ملک کے اندر کسی نہ کسی سیاحتی علاقے میں ٹریک کیا ہو۔ اس موقع پر پریزنٹیشن، ویڈیو یا تصاویر کے ذریعے ہر ٹریکر اپنا اپنا تجربہ حاضرین کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔
٭ میٹ اَپ کی تاریخ:۔
اس نوعیت کی اولین تقریب کب، کہاں اور کیسے ہوئی؟ اس حوالہ سے دو مختلف دعوے ہیں۔ ہماری ٹریکرز کمیونٹی میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے والے ڈاکٹر عبد الہادی (ہارٹ سپیشلسٹ) کا ماننا ہے کہ اولین ’’میٹ اَپ‘‘ کا انعقاد عمیر حسن صاحب نے 2010ء میں اسلام آباد میں کیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے عمیر حسن صاحب کا فون نمبر دیا اور ساتھ یہ تاکید کی کہ سال ان سے کنفرم کیا جائے۔واضح رہے کہ ’’ایس پی ایس ٹریکنگ کلب، اینول میٹ اَپ کے حوالہ سے اپنا بھرپور حصہ پانچ بار (2014ء، 2016ء، 2018 ء، 2019ء اور 2020ء) ڈال چکا ہے۔ عمیر حسن کے ساتھ رابطہ کیا، تو انہوں نے کچھ وقت مانگا ۔ تقریباً کوئی پانچ منٹ بعد ان کا برقی پیغام ملا جس کا لب لباب یہ ہے: ’’جنوری 2011ء کو ہم نے ’’اینول ٹریکرز میٹ اَپ 2010ء‘‘ کا اہتمام کیا تھا۔‘‘

اُس تقریب کی تصویر جسے عمیر حسن اولین میٹ اپ مانتے ہیں۔  (فوٹو: عمیر حسن)

دوسری طرف ’’بورے والا ٹریکرز‘‘ کے روحِ رواں ڈاکٹر شاہد اقبال کا دعوا ہے کہ اولین ’’ٹریکرز میٹ اَپ‘‘ کا اہتمام بورے والا میں 2010ء میں کیا گیا تھا۔ امسال جس پروگرام میں ہم شریک ہوئے، اُس کے بینر پر جلی حروف میں یہ الفاظ درج تھے: "BUREWALA TREKKERZ 11th MEET UP 2021” جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ اس نوعیت کا 11 واں پروگرام تھا۔
عمیر حسن کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو (جس کا ریکارڈ موجود ہے) میں انہوں نے اس بات کی وضاحت کی: ’’ایک سال رمضان میں ہم نے کچھ لوگوں کو اکھٹا کیا تھا، جو کے ٹو بیس کیمپ اور ایک اور ٹریک کرکے آئے تھے۔ ہم نے ان کو افطار پر اکھٹا کیا اور ان سے درخواست کی کہ اپنی تصاویر دکھائیں۔ اس کے بعد ہمیں خیال آیا کہ کیوں نہ ایک سال بعد اسے ہم ایک ’’میٹ اَپ‘‘ کی شکل دیں۔ ٹھیک ایک سال بعد ہم نے ’’G 8 مرکز‘‘ میں ایک ہوٹل میں 30، 40 لوگوں کو اکھٹا کیا جس میں سوات سے ڈاکٹر عبد الہادی صاحب بھی شریک تھے۔ یہ آئیڈیا خالصتاً میرا تھا اور کسی سے مستعار نہیں لیا گیا تھا۔ ‘‘
دوسری طرف ڈاکٹر شاہد اقبال (بورے والا ٹریکرز) کے مطابق اُن کا پہلا میٹ اَپ 2010ء میں ہوا تھا۔ ڈاکٹر شاہد اقبال صاحب کے بقول: ’’2006ء میں، مَیں نے دوبارہ ٹریکنگ شروع کی۔ 2006 ء تا 2010ء جس بھی ٹریک سے واپس آتے، تو دس دس، بارہ بارہ دوستوں کو اکھٹا کرکے ان کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کرتے۔ 2010ء میں کے ٹو بیس کیمپ سے واپسی کے بعد ’’فارمل میٹ اَپ‘‘ کا پروگرام بنایا۔ تب سے لے کر آج تک ہر سال ’’بورے والا ٹریکرز‘‘ کی جانب سے ہر سال ’’میٹ اَپ‘‘ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔‘‘
’’میٹ اَپ‘‘ کی تاریخ بارے دونوں معززین کی گفتگو کو الفاظ کا جامہ پہنانے کے بعد یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیتے ہیں کہ کس نے ’’اولین میٹ اَپ‘‘ کا انعقاد کیا تھا……؟ اور ہم آگے بڑھتے ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ دونوں حضرات کی ٹیلی فونک گفتگو ’’فون میموری‘‘ میں ’’امانتاً‘‘ محفوظ پڑی ہے۔ ذکر شدہ صاحبان کی اجازت کے بغیر کسی کے ساتھ انہیں شیئر نہیں کیا جاسکتا۔

2014ء میں بورے والا ٹریکرز کی جانب سے منعقدہ ٹریک کی تصویر۔ (فوٹو: ڈاکٹر شاہد اقبال بورے والا)

٭ کچھ بورے والا شہر کے بارے میں:۔
تقریباً 9 گھنٹے کی صبر آزما مسافت کے بعد ہم جنوبی پنجاب کے ضلع وہاڑی کے شہر ’’بورے والا‘‘ پہنچ گئے۔ اسے ’’کھیلوں اور تعلیم کا شہر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ بقولِ فضل خالق (’’دی ڈیلی ڈان‘‘ کا نمائندہ): ’’مَیں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر وقار یونس کی وجہ سے پہلی بار اس شہر کا نام سنا تھا۔ وقار یونس کو کمنٹیٹر حضرات ’’بورے والا ایکسپریس‘‘ کہتے تھے۔‘‘
شہر کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں وہاں کے لوگوں سے بات ہوئی، تو انہوں نے لمبی داستان سنائی۔ آزاد دائرۃ المعارف (وکی پیڈیا) پر مذکورہ کہانی کا لب لباب یوں ہاتھ آیا: ’’جہاں آج ریلوے اسٹیشن کی عمارت موجود ہے، اس کے ساتھ ایک شخص کی جھگی ہوا کرتی تھی۔ اس کا نام ’’بورا سنگھ‘‘ تھا۔ اس کے ساتھ ایک تالاب تھا جس کا پانی مخلوقِ خدا کے کام آتا تھا، 1927ء میں انگریز نے یہاں رائے ونڈ، قصور، پاکپتن اور لودھراں تک ریلوے لائن بچھائی۔ پھر ریلوے اسٹیشن تعمیر کیا، تو اس جگہ کا نام اُسی بورا سنگھ کے نام کی نسبت سے ’’بورے والا‘‘ رکھا گیا۔‘‘
٭ بورے والا ٹریکرز الیونتھ میٹ اَپ، 2021ء:۔
امسال بورے والا میں ایک خوب صورت شادی ہال میں ’’میٹ اَپ‘‘ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پروگرام کی اولین پریزنٹیشن نے مجھے جھومنے پر مجبور کردیا۔ موسیقی سے بھرپور ویڈیو میں بابا مدثر، عرفان منیر اور اشفاق احمد بائیکس کے ذریعے کیلاش، چترال، کرومبر جھیل، وادیِ شمشال وغیرہ کی سیر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں کئی بار دیکھنے کو ملا کہ بابا مدثر کی جہاں بائیک خراب یا پنکچر ہوتی، تو وہ بجائے پریشان ہونے کے ناچنا شروع کر دیتے۔ جیسے ’’منا بھائی ایم بی بی ایس‘‘ میں میڈیکل کالج کے ڈین (مووی کے ویلن) جیسے ہی پریشان ہوتے ہیں، تو زور زور سے ہنسنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ بلا شبہ پروگرام کی سب سے بہترین پریزنٹیشن تھی۔




بورے والا ٹریکرز الیونتھ میٹ اَپ، 2021ء کا ایک منظر (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

اس کے بعد اشرف ابو مسعود کی باری آئی جنہوں نے کنکارڈیا ٹریک کیا تھا۔ بلال اور امجد تاجوانہ نے وادیِ کھلتورو کے ٹریک کے ساتھ پہلی بار 4,700 میٹر بلند "Hadul Pass” کراس کرنے کا اعزاز بھی اپنے نام کیا تھا۔ بقا شیخ نے اپنی پریزنٹیشن ’’نیلم ویلی‘‘ پر دی۔ مزمل عمران (موٹا بھائی) اور کمال حیدر کی پریزنٹیشن ’’موسمِ سرما میں شندور پاس‘‘ (بائیک کے ذریعے) کے حوالہ سے تھی۔ عتیق الرحمان کی پریزنٹیشن’’شمشال پاس‘‘ کے حوالہ سے تھی۔ سید حسین علی گیلانی کی پریزنٹیشن "Lupgar Pass” کے حوالہ سے تھی۔ عرفان اللہ (انفارمیشن سیکرٹری، ایس پی ایس ٹریکنگ کلب) نے پریزینٹیشن اپنے حالیہ ٹریک ’’وادیِ شریال‘‘ کی خوب صورتی کے حوالہ سے کی۔ اُن کے اسٹیج سے اترتے ہی فضل خالق صاحب کو ’’سوات کے آثارِ قدیمہ‘‘ پر پریزنٹیشن دینے کے لیے بلوایا گیا، جس کی کافی پذیرائی ہوئی۔ حاضرین میں سے ایک کا کہنا تھا کہ مَیں آج تک سوات کو اس کی فطری خوب صورتی کی وجہ سے جانتا تھا۔ پہلی بار اس کی تاریخ کا پتا چلا۔

بورے والا ٹریکرز الیونتھ میٹ اَپ، 2021ء کا ایک اور منظر (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

اظہر الدین نے سوات میں ’’ونٹر سروایول‘‘ کے حوالہ سے اپنی پریزنٹیشن کی۔ ڈاکٹر مزمل نے "Hidden Heritage Treasures of Multan”کے نام سے اپنی پریزنٹیشن کی۔ میاں یاسین، محب شیخ اور مظہر فرید نے "Skam la and Sim la around Snow Lake” پر پریزنٹیشن کی۔ سب سے آخر میں ڈاکٹر عبدالجبار بھٹی صاحب نے "Safety in Wilderness & at High Altitude” کے حوالہ سے پریزنٹیشن کی۔

بورے والا ٹریکرز الیونتھ میٹ اَپ، 2021ء میں شریک ہونے والے ایک ٹریکر کو شیلڈ دیا جا رہا ہے۔ (فوٹو: امجد علی  سحابؔ)

٭ محاسن و معائب:۔
قارئینِ کرام! ہر پروگرام میں کچھ خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور خامیاں بھی۔ اس طرح حالیہ تقریب کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس میں دُور سے بلوائے گئے تمام مہمانوں کو اہلِ بورے والا نے ہوٹلوں کی بجائے اپنے گھروں میں رکھا اور ان کی مہمان نوازی میں اہلِ سوات کی طرح کوئی کثر اٹھا نہ رکھی۔ ایک اور خوبی یہ تھی کہ تمام شرکا کو اپنے تجربات شیئر کرنے کا بھرپور موقع دیا گیا۔ بہتر ماحول، تقریب میں تمام مہمانوں کو ’’ریسیو‘‘ کرنے کا نرالا انداز، خوب صورت شیلڈز اور آخر میں اچھی ضیافت مذکورہ تقریب کا لطف دوبالا کرگئی۔ دو کمیاں جو مجھے شدت سے محسوس ہوئیں، پہلی یہ کہ پروگرام بروقت شروع نہ ہوسکا۔ دوسری، جو پریزنٹیشن نسبتاً کم زور ہوتی…… ہال میں موجود ٹریکرز اُٹھ کر گپ شپ میں مشغول ہوجاتے، جس سے حاضرین میں بے زاری کی لہر دوڑ جاتی۔
اُمید ہے اگلی بار ’’بورے والا ٹریکرز‘‘ کے ’’قائدِ اعظم‘‘ ڈاکٹر شاہد اقبال ذکر شدہ دو کمیوں کو دور کرنے کے حوالے سے کام کریں گے۔
……………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے